اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 22 of 32

1223Sunan Ibne-Majah

بیمار کی نماز

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: كَانَ بِيَ النَّاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ مجھے ناسور ١ ؎ کی بیماری تھی، تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے نماز کے متعلق پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو، اور اگر بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھو ۔

It was narrated that Imran bin Husain said: "I suffered from Nasur, and I asked the Prophet ﷺ SAW about prayer. He said: Perform prayer standing; if you cannot, then sitting; and if you cannot then while lying on your side.(Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: باء اور نون دونوں کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ہوتا ہے، باسور مقعد کے اندرونی حصہ میں ورم کی بیماری کا نام ہے اور ناسور ایک ایسا خراب زخم ہے کہ جب تک اس میں فاسد مادہ موجود رہے تب تک وہ اچھا نہیں ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٩ (١١١٧) (صحیح )
1224Sunan Ibne-Majah

بیمار کی نماز

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَلَّى جَالِسًا عَلَى يَمِينِهِ وَهُوَ وَجِعٌ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے دائیں پہلو پر بیٹھ کر نماز پڑھی، اس وقت آپ بیمار تھے۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: "I saw the Prophet ﷺ SAW performing prayer while sitting on his right side when he was sick." (Daif).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٩، ومصباح الزجاجة: ٤٣٠) (ضعیف) (اس کی سند میں جابر بن یزید الجعفی ضعیف ومتروک، اور ابو حریز مجہول ہیں )
1225Sunan Ibne-Majah

نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلَ الصَّالِحَ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم ﷺ کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ١ ؎۔

It was narrated that Umm Salamah said: "By the One Who took his soul (i.e., the soul of the Prophet ﷺ SAW), he did not die until he offered most of his prayers sitting down. And the dearest of the actions to him was the righteous action that the person does regularly, even if it were a little."(Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: عمل اگرچہ تھوڑا ہو جب وہ ہمیشہ کیا جائے تو اس کی برکت اور ہی ہوتی ہے، اور ہمیشگی کی وجہ سے وہ اس کثیر عمل سے بڑھ جاتا ہے جو چند روز کے لئے کیا جائے، ہر کام کا یہی حال ہے مواظبت اور دوام عجب برکت کی چیز ہے، اگر کوئی شخص ایک سطر قرآن شریف کی ہر روز حفظ کیا کرے تو سال میں دو پارے ہوجائیں گے، اور پندرہ سال میں سارا قرآن حفظ ہوجائے گا، اس حدیث پر ساری حکمتیں قربان ہیں، دین و دنیا کے فائدے اس میں بھرے ہوئے ہیں، نفس پر زور ڈالو اور ہمیشہ کام کرنا سیکھو، اور ہر کام کے لئے وقت مقرر کرو اور کسی کام کا ناغہ نہ کرو، اور تھوڑا کام ہر روز اختیار کرو کہ دل پر بار نہ ہو، پھر دیکھو کیا برکت ہوتی ہے کہ تم خود تعجب کرو گے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ١٧ (١٦٥٥، ١٦٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠٥، ٣١٩، ٣٢٠، ٣٢١، ٣٢٢) (صحیح )
1226Sunan Ibne-Majah

نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ (نفل نماز میں) بیٹھ کر قراءت کرتے تھے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اتنی دیر کے لیے کھڑے ہوجاتے جتنی دیر میں کوئی شخص چالیس آیتیں پڑھ لیتا ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ SAW used to recite Quran sitting down, then when he wanted to bow he would stand up for as long as it takes a person to recite forty Verses." (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: اور اتنی قراءت کھڑے کھڑے کر کے پھر رکوع کرتے، نفل میں ایسا کرنا صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٥١)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٥٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٢)، مسند احمد (٦/٢١٧) (صحیح )
1227Sunan Ibne-Majah

نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ إِلَّا قَائِمًا، حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَجَعَلَ يُصَلِّي جَالِسًا حَتَّى إِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ قِرَاءَتِهِ أَرْبَعُونَ آيَةً أَوْ ثَلَاثُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهَا وَسَجَدَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ہمیشہ رات کی نماز کھڑے ہو کر پڑھتے ہوئے دیکھا، یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہوگئے تو بیٹھ کر پڑھنے لگے، جب آپ کی قراءت سے چالیس یا تیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے (پھر رکوع) اور سجدے کرتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I did not see the Messenger of Allah ﷺ SAW offer any of the night prayers in any way other than standing, until he became old. Then he started to pray sitting down until, when there were thirty or forty Verses left of his recitation, he would stand up and recite them, and prostrate." (Sahih).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٠٣٠، ومصباح الزجاجة: ٤٣١)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ٢٠ (١١١٨)، صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٣)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٢)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٦ (١٦٥٠)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٧ (٢٢)، مسند احمد (٦/٤٦) (صحیح )
1228Sunan Ibne-Majah

نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.

عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq AI-Uqaili said: "I asked Aisha (RA) about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ SAW at night. She said: He used to pray for a long time at night standing up, and for a long time at night sitting down. If he prayed standing, he would bow standing, and if he prayed sitting, he would bow sitting. (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: غرض نفل میں ہر طرح اختیار ہے چاہے بیٹھ کر پڑھے، چاہے کھڑے ہو کر شروع کرے پھر بیٹھ جائے، چاہے بیٹھ کر شروع کرے پھر کھڑا ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٦ (٧٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧٥)، سنن النسائی/ قیام اللیل ١٦ (١٦٤٧)، مسند احمد (٦/٢٦٢، ٣٦٥) (صحیح )
1229Sunan Ibne-Majah

بیٹھ کر نماز پڑھتے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے سے آدھا ثواب ہے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ يُصَلِّي جَالِسًا، فَقَالَ: صَلَاةُ الْجَالِسِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس سے گزرے اس وقت وہ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے ١ ؎۔

It was narrated from, Abdullah bin Amr that the Prophet ﷺ SAW passed by him when he was praying sitting down. He said: "The prayer of one who sits down is equivalent to half of the prayer of one who stands." (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے تندرست اور صحت مند آدمی ہی نہیں بلکہ مریض بھی مراد ہے کیونکہ انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کچھ لوگوں کے پاس آئے جو بیماری کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٣٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٦ ٧٣٥)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥٠)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٨ (١٦٦٠)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٦ (١٩)، مسند احمد (٢/١٦٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٨ (١٤٢٤) (صحیح )
1230Sunan Ibne-Majah

بیٹھ کر نماز پڑھتے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے سے آدھا ثواب ہے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ قُعُودًا، فَقَالَ: صَلَاةُ الْقَاعِدِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ صَلَاةِ الْقَائِمِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر نکلے تو کچھ لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹھ کر پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے مقابلے میں (ثواب میں) آدھی ہے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ SAW went out and saw some people praying while sitting down. He said: "The prayer of one who sits down is equivalent to half of the prayer of one who stands." (Sahih).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٩، ومصباح الزجاجة: ٤٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١٤، ٢٤٠) (صحیح )
1231Sunan Ibne-Majah

بیٹھ کر نماز پڑھتے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے سے آدھا ثواب ہے

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُصَلِّي قَاعِدًا، قَالَ: مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ، وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ، وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ.

عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ زیادہ بہتر ہے، اور جو بیٹھ کر نماز پڑھے تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے، اور جو شخص لیٹ کر نماز پڑھے تو اسے بیٹھ کر پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھا ثواب ہے ۔

It was narrated from Imran bin Husain that he asked the Messenger of Allah ﷺ SAW about a man who prays sitting down. He said, "Whoever performs prayer standing up, that is better. Whoever performs prayer sitting down will have half the reward of one who prays standing. And whoever performs prayer lying down will have half the reward of one who prays sitting." (Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ١٧ (١١١٥)، ١٨ (١١١٦)، ١٩ (١١١٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٩ (٩٥١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٨ (٣٧١)، سنن النسائی/ قیام اللیل ١٩ (١٦٦١)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٣٥، ٤٤٢، ٤٤٣) (صحیح )
1232Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: لَمَّا ثَقُلَ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ تَعْنِي: رَقِيقٌ، وَمَتَى مَا يَقُومُ مَقَامَكَ يَبْكِي، فَلَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا أَحَسَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَأَوْمَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَكَانَكَ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى أَجْلَسَاهُ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مرض الموت میں مبتلا ہوئے (ابومعاویہ نے کہا: جب آپ مرض کی گرانی میں مبتلا ہوئے) تو بلال ؓ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر ؓ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، اور نماز نہ پڑھا سکیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر ؓ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، (تو بہتر ہو) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو ، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے کہا: ہم نے ابوبکر ؓ کو بلا بھیجا، انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں کے سہارے نماز کے لیے نکلے، اور آپ کے پاؤں زمین پہ گھسٹ رہے تھے، جب ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کی آمد کی آہٹ محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، تو آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو ان دونوں آدمیوں نے آپ ﷺ کو ابوبکر ؓ کے بائیں پہلو میں بیٹھا دیا، ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کی اور لوگ ابوبکر ؓ کی اقتداء کر رہے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ SAW fell ill with the sickness that would be his last" - (one of the narrators) Abu Muawiyah said: "When he was overcome by sickness" - " Bilal (RA) came to tell him that it was time for prayer. He said, Tell Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer." We said: O Messenger of Allah! ﷺ Abu Bakr (RA) is a tenderhearted man, and when he takes your place he will weep and will not be able to do it. Why do you not tell "Umar to lead the people in prayer? He said: Tell Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer; you are (like) the female companions of Yusuf. She said: "So we sent word to Abu Bakr, and he led the people in prayer. Then the Messenger of Allah ﷺ SAW began to feel a little better, so he came out to the prayer, supported by two men and with his feet making lines along the ground. When Abu Bakr (RA) realized that he was there, he wanted to step back, but the Prophet ﷺ SAW gestured to him to stay where he was. Then (the two men) brought him to sit beside Abu Bakr, and Abu Bakr (RA) was following the lead of the Prophet ﷺ SAW and the people were following Abu Bakr." (Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٩ (٦٦٤)، ٦٧ (٧١٢)، ٦٨ (٧١٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤١٨)، ن الکبري/الأمانة ٤٠ (٩٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة ٢٤ (٨٣)، مسند احمد (٥/٢٦١، ٦/٢١٠، ٢٢٤)، سنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨٣) (صحیح )
1233Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ، فَكَانَ يُصَلِّي بِهِمْ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً، فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ اسْتَأْخَرَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، وہ لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو باہر نکلے، اس وقت ابوبکر ؓ نماز پڑھا رہے تھے، جب ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے اشارہ کیا: اپنی جگہ رہو پھر رسول اللہ ﷺ ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر ؓ کی اقتداء کر رہے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW told Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer when he was sick, and Abu Bakr (RA) used to lead them in prayer. Then the Messenger of Allah ﷺ SAW began to feel a little better, so he came out, and saw Abu Bakr (RA) leading the people in prayer. When Abu Bakr (RA) saw him, he stepped back, but the Messenger of Allah ﷺ SAW gestured to him to stay where he was. Then the Messenger of Allah ﷺ SAW sat beside Abu Bakr. Abu Bakr (RA) was following the prayer of the Messenger of Allah ﷺ SAW, and the people were following the prayer of Abu Bakr." (Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤٧ (٦٨٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٧٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣١) (صحیح )
1234Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ مِنْ كِتَابِهِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ: أَنْبَأَنَا، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَإِذَا قَامَ ذَلِكَ الْمَقَامَ يَبْكِي لَا يَسْتَطِيعُ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ: مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ أَوْ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، قَالَ: فَأُمِرَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، وَأُمِرَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ خِفَّةً، فَقَالَ: انْظُرُوا لِي مَنْ أَتَّكِئُ عَلَيْهِ، فَجَاءَتْ بَرِيرَةُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنْكِصَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ غَيْرُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.

سالم بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر مرض الموت میں بےہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش میں آئے، تو آپ نے پوچھا: کیا نماز کا وقت ہوگیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا نماز کا وقت ہوگیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: کیا نماز کا وقت ہوگیا؟ صحابہ کرام ؓ نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو عائشہ ؓ نے کہا: میرے والد نرم دل آدمی ہیں، جب اس جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے، نماز نہ پڑھا سکیں گے، اگر آپ ان کے علاوہ کسی اور کو حکم دیتے (تو بہتر ہوتا) ! پھر آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی، پھر ہوش آیا، تو فرمایا: بلال کو حکم دو کہ وہ اذان کہیں، اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ والیوں جیسی ہو بلال ؓ کو حکم دیا گیا، تو انہوں نے اذان دی، اور ابوبکر ؓ سے کہا گیا تو انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا تو فرمایا: دیکھو کسی کو لاؤ جس پر میں ٹیک دے کر (مسجد جا سکوں) بریرہ ؓ اور ایک شخص آئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں پر ٹیک لگایا، جب ابوبکر ؓ نے آپ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، آپ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو پھر رسول اللہ ﷺ آئے، اور ابوبکر ؓ کے پہلو میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ ابوبکر ؓ نے اپنی نماز پوری کی، پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے، نصر بن علی کے علاوہ کسی اور نے اس کو روایت نہیں کیا ہے۔

It was narrated that Salim bin Ubaid said: "The Messenger of Allah ﷺ fainted when he was sick, then he woke up and said: Has the time for prayer come? They said: Yes.’ He said: Tell Bilal (RA) to call the Adhan, and tell Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer: Then he fainted, then he woke up and said: Has the time for prayer come? They said: Yes: He said: Tell Bilal (RA) to call the, Adhan", and tell Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer: Then he fainted, then he woke up and said: Has the time for prayer come? They said: Yes: He said: Tell Bilal (RA) to call the Adhan", and tell Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer: Aisha (RA) said: My father is a tenderhearted man, and if he Stands in that place he will weep and will not be able to do it. If you told someone else to do it (that would be better): Then he fainted, then woke up and said: Tell Bilal (RA) to call the Adhan, and tell Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer. You are (like) the female companions of Yusuf. So Bilal (RA) was told to call the Adhan and he did so, and Abu Bakr (RA) was told to lead the people in prayer. And he did so then the Messenger of Allah ﷺ SAW felt a little better, and he said: Find me someone I can lean on: Barirah and another man came, and he leaned on them. When Abu Bakr (RA) saw him, he started to step back, but (the Prophet ﷺ SAW) gestured him to stay where he was. Then the Messenger of Allah ﷺ SAW came and sat beside Abu Bakr, until Abu Bakr (RA) finished praying. Then the Messenger of Allah ﷺ SAW passed away." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٧، ومصباح الزجاجة: ٤٣٣) (صحیح )
1235Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الوفات کی نمازوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَرْقَمِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ كَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: ادْعُوا لِي عَلِيًّا، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟، قَالَ: ادْعُوهُ، قَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ قَالَ: ادْعُوهُ، قَالَتْ أُمُّ الْفَضْلِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَدْعُو لَكَ الْعَبَّاسَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ فَسَكَتَ، فَقَالَ عُمَرُ: قُومُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ حَصِرٌ، وَمَتَى لَا يَرَاكَ يَبْكِي، وَالنَّاسُ يَبْكُونَ، فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَخَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفْسِهِ خِفَّةً، فَخَرَجَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ سَبَّحُوا بِأَبِي بَكْرٍ، فَذَهَبَ لِيَسْتَأْخِرَ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ مَكَانَكَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْتَمُّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقِرَاءَةِ مِنْ حَيْثُ كَانَ بَلَغَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ وَكِيعٌ: وَكَذَا السُّنَّةُ، قَالَ: فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کی وفات ہوئی، اس وقت آپ عائشہ ؓ کے گھر میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: علی ؓ کو بلاؤ عائشہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم ابوبکر ؓ کو بلا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں بلاؤ حفصہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا عمر ؓ کو بلا دیں؟ آپ نے فرمایا: بلا دو ، ام الفضل نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم عباس کو بلا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں جب سب لوگ جمع ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف دیکھا، اور خاموش رہے، عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس سے اٹھ جاؤ ١ ؎، پھر بلال ؓ آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں عائشہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر ؓ نرم دل آدمی ہیں، پڑھنے میں ان کی زبان رک جاتی ہے، اور جب آپ کو نہ دیکھیں گے تو رونے لگیں گے، اور لوگ بھی رونا شروع کردیں گے، لہٰذا اگر آپ عمر ؓ کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (تو بہتر ہو) ، لیکن ابوبکر ؓ نکلے، اور انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت میں کچھ ہلکا پن محسوس کیا، تو دو آدمیوں پر ٹیک دے کر تشریف لائے اور آپ ﷺ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو آتے دیکھا تو ابوبکر ؓ کو سبحان الله کہا، وہ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، چناچہ رسول اللہ ﷺ تشریف آئے، اور ابوبکر ؓ کے دائیں جانب بیٹھ گئے، اور ابوبکر ؓ کھڑے رہے، ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے، اور لوگ ابوبکر ؓ کی اقتداء کر رہے تھے، عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قراءت وہاں سے شروع کی جہاں تک ابوبکر ؓ پہنچے تھے ٢ ؎۔ وکیع نے کہا: یہی سنت ہے، راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا اسی مرض میں انتقال ہوگیا۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "When the Messenger of Allah ﷺ SAW fell ill with what would be his final illness, he was in the house of Aisha (RA) . He said: Call Ali for me: Aisha (RA) said: O Messenger of Allah, should we call Abu Bakr (RA) for you? He said: Call him: Hafsah said: O Messenger of Allah, should we call Umar for you? He said: Call him. Ummul-Fadl said: O Messenger of Allah, should we call Al-Abbas for you? He said: Yes.’ When they had gathered, the Messenger of Allah ﷺ SAW lifted his head, looked and fell silent. "Umar said: Get up and leave the Messenger of Allah ﷺ SAW. Then Bilal (RA) came to tell him that the time for prayer had come, and he said: Tell Abu Bakr (RA) to lead the people in prayer. Aisha (RA) said: O Messenger of Allah, Abu Bakr (RA) is a soft and tenderhearted man, and if he does not see you, he will weep and the people will weep with him. If you tell Umar to lead the people in prayer (that will be better).’ Abu Bakr (RA) went out and led the people in prayer, then the Messenger of Allah ﷺ SAW felt a little better, so he came out, supported by two men, with his feet making lines along the ground. When the people saw him, they said: Subhan-Allah,’ to alert Abu Bakr, He wanted to step back, but the Prophet ﷺ SAW gestured him to stay where he was. Then the Messenger of Allah ﷺ SAW came and sat on his right. Abu Bakr (RA) stood up, and he was following the lead of the Prophet ﷺ SAW, and the people were following the lead of Abu Bakr. Ibn Abbas said: And the Messenger of Allah ﷺ SAW started to recite from where Abu Bakr (RA) had reached. (Daif).

Notes · وضاحت
١ ؎: کیوں کہ بیماری کی وجہ سے آپ کو ہمارے بیٹھنے سے تکلیف ہوگی۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ نے علی ؓ کو اپنی مرضی سے بلایا تھا، لیکن بیویوں کے اصرار سے اور لوگوں کو بھی بلا لیا تاکہ ان کا دل ناراض نہ ہو، اور چونکہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے اس لئے آپ دل کی بات نہ کہنے پائے، اور سکوت فرمایا، اور ابوبکر ؓ کی فضیلت اور صحابہ پر ثابت ہوئی کہ آپ نے نماز کی امامت کے لئے ان کو منتخب فرمایا، اور امامت صغری قرینہ ہے امامت کبری کا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جماعت میں شریک ہونا کیسا ضروری ہے کہ نبی اکرم ﷺ بیماری اور کمزوری کے باوجود حجرہ سے باہر مسجد تشریف لائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٥٨، ومصباح الزجاجة: ٤٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣١، ٢٣٢، ٣٤٣، ٣٥٥، ٣٥٦، ٣٥٧) (حسن) (سند میں ابو اسحاق مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اس لئے علی کے ذکر کے ساتھ یہ ضعیف ہے، لیکن دوسری حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
1236Sunan Ibne-Majah

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے کسی امتی کے پیچھے نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ، قَالَ: وَقَدْ أَحْسَنْتَ كَذَلِكَ فَافْعَلْ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ایک سفر میں) پیچھے رہ گئے، اور ہم اس وقت لوگوں کے پاس پہنچے جب عبدالرحمٰن بن عوف ؓ انہیں ایک رکعت پڑھا چکے تھے، جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی آمد محسوس کی تو پیچھے ہٹنے لگے، نبی اکرم ﷺ نے ان کو نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے اچھا کیا، ایسے ہی کیا کرو ١ ؎۔

Hamzah bin Mughirah bin Shu’bah narrated that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW lagged behind (on a journey) and we reached the people when Abdur Rahman bin Awf had already led them in one Rakah of the prayer. When he realized that the Prophet ﷺ SAW was there, he wanted to step back, but the Prophet ﷺ SAW gestured to him that he should complete the prayer. He said: You have done well; do the same in the future. (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب نماز کا وقت آ جایا کرے تو نماز شروع کردیا کرو، اور میرے انتظار میں تاخیر نہ کرو، یہ حکم آپ ﷺ نے سفر میں دیا، لیکن حضر میں تو آپ ہر روز نماز کو افضل وقت پر پڑھا کرتے تھے، اور کبھی کبھی لوگ آپ کا انتظار بھی کرتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٤)، سنن النسائی/الطہارة ٨٧ (١٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٤٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٢٤٨، ٢٥١، ١١٢، ١٥٠، ٢١٠، ٢٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨١ (١٣٧٥) (صحیح )
1237Sunan Ibne-Majah

امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُونَهُ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے، تو آپ کے صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ لوگ آپ کی عیادت کے لیے اندر آئے، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام ؓ نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی، آپ ﷺ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اپنا سر اٹھاؤ، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW fell ill and some of his Companions came to visit him. The Messenger of Allah ﷺ SAW performed prayer while sitting down, and they prayed behind him standing up. He gestured them to sit down, and when he finished he said: The Imam is appointed to be followed. When he bows, then bow; when he stands up again, then stand up, and if he prays sitting down then pray sitting down.(Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: مرض الموت والی روایت سے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور لوگوں نے کھڑے ہو کر پڑھی، یہ روایت منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٢)، (تحفة الأشراف: ١٧٠٦٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٥١ (٦٨٨)، تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٣)، ٢٠ (١١١٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٥)، مسند احمد (٦/١١٤، ١٦٩) (صحیح )
1238Sunan Ibne-Majah

امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرِعَ عَنْ فَرَسٍ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَدَخَلْنَا نَعُودُهُ، وَحَضَرَتَ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى بِنَا قَاعِدًا، وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا، فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعِينَ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ گھوڑے سے گرگئے، تو آپ کے دائیں جانب خراش آگئی، ہم آپ کی عیادت کے لیے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، تو آپ ﷺ نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ہم نے آپ کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ الله أكبر کہے، تو تم بھی الله أكبر کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب سمع الله لمن حمده کہے، تو تم لوگ ربنا ولک الحمد کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم سب لوگ سجدہ کرو، اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب لوگ بیٹھ کر نماز پڑھو ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ SAW fell from his horse and he suffered some lacerations on his right side. We went to visit him and the time for prayer came, He led us in prayer sitting down, and we prayed behind him sitting down. When he finished the prayer he said: "The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; and if he prays sitting down then pray sitting down."(Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٨ (٣٧٨)، الأذان ٥١ (٦٨٩)، ٨٢ (٧٣٢)، ١٢٨ (٨٠٥)، تقصیرالصلاة ١٧ (١١١٤)، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١١)، سنن النسائی/الإمامة ١٦ (٧٩٥)، ٤٠ (٨٣٣)، التطبیق ٢٢ (١٠٦٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٣٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥١ (٧٩٣)، موطا امام مالک/الجماعة ٥ (١٦)، مسند احمد (٣/١١٠، ١٦٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٤ (١٢٩١) (صحیح )
1239Sunan Ibne-Majah

امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب وہ الله أكبر کہے، تو تم بھی الله أكبر کہو، اور جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب سمع الله لمن حمده کہے تو تم بھی ربنا ولک الحمد کہو، اور اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: The Imam is appointed to be followed. When he says Allahu Akbar, then say Allahu Akbar; when he bows, then bow; when he says Sami Allahu liman hamidah, then say Rabbana wa lakal-hamd; when he prostrates then prostrate; if he prays standing then pray standing, and if he prays sitting down then pray sitting down." (Sahih).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٨٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٨٢ (٧٣٤)، تقصیر الصلاة ١٧ (١١١٤)، صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٣)، مسند احمد (٢/٣١٤، ٢٣٠، ٤١١، ٤٣٨، ٤٧٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٧١ (١٣٥٠) (صحیح )
1240Sunan Ibne-Majah

امام اس لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يُكَبِّرُ يُسْمِعُ النَّاسَ تَكْبِيرَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْنَا، فَرَآنَا قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْنَا فَقَعَدْنَا، فَصَلَّيْنَا بِصَلَاتِهِ قُعُودًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كِدْتُمْ أَنْ تَفْعَلُوا فِعْلَ فَارِسَ وَالرُّومِ، يَقُومُونَ عَلَى مُلُوكِهِمْ وَهُمْ قُعُودٌ، فَلَا تَفْعَلُوا، ائْتَمُّوا بِأَئِمَّتِكُمْ إِنْ صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھے ہوئے تھے، اور ابوبکر ؓ تکبیر کہہ رہے تھے تاکہ لوگ سن لیں، آپ ہماری جانب متوجہ ہوئے تو ہمیں کھڑے دیکھ کر ہماری جانب اشارہ کیا، ہم بیٹھ گئے، پھر ہم نے آپ کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: اس وقت تم فارس اور روم والوں کی طرح کرنے والے تھے کہ وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اور بادشاہ بیٹھے رہتے ہیں، لہٰذا تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں تو کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو بیٹھ کر نماز پڑھو ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW fell ill, and we prayed behind him while he was sitting down, and Abu Bakr (RA) was saying the Takbir so that the people couId hear them. He turned to us and saw us standing, so he gestured to us to sit down. When he had said the Salam, he said: You were about to do the action of the Persians and Romans, who remain standing while their kings are seated. Do not do that. Follow the lead of your Imam; if he prays standing, then pray standing, and if he prays sitting down, then pray sitting down.(Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ واقعہ مرض الموت والے واقعے سے پہلے کا ہے، مرض الموت والے واقعے میں ہے کہ آپ ﷺ نے بیٹھ کر امامت کرائی، اور لوگوں نے کھڑے ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور آپ نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا، اس لئے یہ بات اب منسوخ ہوگئی، اور نماز میں آپ کا التفات کرنا آپ کی خصوصیات میں سے تھا، امت کے لئے آپ کا یہ فرمان ہے کہ التفات نماز میں چھینا جھپٹی کا نام ہے جو شیطان نمازی کے ساتھ کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٩ (٤١٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٦)، ن السہو ١١ (١١٩٩)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح )
1241Sunan Ibne-Majah

نماز فجر میں قنو ت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ: يَا أَبَتِإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ.

ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ ﷺ پھر ابوبکرو عمر اور عثمان ؓ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی ؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ نئی بات ہے ١ ؎۔

Sad bin Tariq said: "I said to my father: O my father! You prayed behind the Messenger of Allah ﷺ SAW and behind Abu Bakr, Umar and Uthman, and behind Ali here in Kufah for about five years. Did they recite Qunut in Fajr? He said: O my son! That is an innovation." (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: خاص خاص موقوں پر فجر کی نماز میں اور دوسری نمازوں میں بھی قنوت پڑھنا مسنون ہے۔ اسے قنوت نازلہ کہتے ہیں۔ جن لوگوں نے قراء صحابہ کرام ؓ کو دھوکے سے شہید کردیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے خلاف مہینہ بھر قنوت نازلہ پڑھی جیسے کہ آگے حدیث ١٢٤٣ میں آ رہا ہے۔ طارق ؓ نے مطلقاً قنوت کو بدعت نہیں کہا بلکہ فجر کی نماز میں قنوت ہمیشہ پر ھنے کو بدعت کہا، اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات ایک کام اصل میں سنت ہوتا ہے لیکن اسے غلط طریقے سے انجام دینے سے یا اس کو اس کی اصل حیثیت سے گھٹا دینے سے یا بڑھا دینے کی وجہ سے وہ بدعت بن جاتا ہے، یعنی اس عمل کی وہ خاص کیفیت بدعت ہوتی ہے اگرچہ اصل عمل بدعت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٤٠٢)، سنن النسائی/التطبیق ٣٢ (١٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٢، ٦/٣٩٤) (صحیح )
1242Sunan Ibne-Majah

نماز فجر میں قنو ت

حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ بَكْرٍ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْلَى زُنْبُورٌ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: نُهِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الْفَجْرِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھنے سے منع کردیا گیا۔

It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW was forbidden to recite Qunut in Fajr."(Maudu’).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ١٨٢١٩، ومصباح الزجاجة: ٤٣٥) (موضوع) (محمد بن یعلی متروک الحدیث اور جہمی ہے، اور عنبسہ حدیث گھڑا کرتا تھا، اور عبد اللہ بن نافع منکر احادیث کے راوی ہیں، نیز نافع کا سماع ام سلمہ ؓ سے صحیح نہیں ہے )