Sunan Ibne-Majah 1241

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1241Sunan Ibne-Majah

نماز فجر میں قنو ت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ: يَا أَبَتِإِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، فَكَانُوا يَقْنُتُونَ فِي الْفَجْرِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ.

ابومالک سعد بن طارق اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا: ابا جان! آپ نے رسول اللہ ﷺ پھر ابوبکرو عمر اور عثمان ؓ عنہم کے پیچھے اور کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک علی ؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، تو کیا وہ لوگ نماز فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ نئی بات ہے ١ ؎۔

Sad bin Tariq said: "I said to my father: O my father! You prayed behind the Messenger of Allah ﷺ SAW and behind Abu Bakr, Umar and Uthman, and behind Ali here in Kufah for about five years. Did they recite Qunut in Fajr? He said: O my son! That is an innovation." (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: خاص خاص موقوں پر فجر کی نماز میں اور دوسری نمازوں میں بھی قنوت پڑھنا مسنون ہے۔ اسے قنوت نازلہ کہتے ہیں۔ جن لوگوں نے قراء صحابہ کرام ؓ کو دھوکے سے شہید کردیا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کے خلاف مہینہ بھر قنوت نازلہ پڑھی جیسے کہ آگے حدیث ١٢٤٣ میں آ رہا ہے۔ طارق ؓ نے مطلقاً قنوت کو بدعت نہیں کہا بلکہ فجر کی نماز میں قنوت ہمیشہ پر ھنے کو بدعت کہا، اس سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات ایک کام اصل میں سنت ہوتا ہے لیکن اسے غلط طریقے سے انجام دینے سے یا اس کو اس کی اصل حیثیت سے گھٹا دینے سے یا بڑھا دینے کی وجہ سے وہ بدعت بن جاتا ہے، یعنی اس عمل کی وہ خاص کیفیت بدعت ہوتی ہے اگرچہ اصل عمل بدعت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٨ (٤٠٢)، سنن النسائی/التطبیق ٣٢ (١٠٧٩)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٢، ٦/٣٩٤) (صحیح )