نفل نماز ( بلاعذر) بیٹھ کر پڑھنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.
عبداللہ بن شقیق عقیلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ رات میں دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے، اور کبھی دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے، جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع کھڑے ہو کر کرتے، اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ١ ؎۔
It was narrated that ‘Abdullah bin Shaqiq AI-Uqaili said: "I asked Aisha (RA) about the prayer of the Messenger of Allah ﷺ SAW at night. She said: He used to pray for a long time at night standing up, and for a long time at night sitting down. If he prayed standing, he would bow standing, and if he prayed sitting, he would bow sitting. (Sahih).