عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کردیا، (ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے) تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کچھ زیادتی کردی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں بھی انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے پھر نبی اکرم ﷺ قبلہ کی جانب گھوم گئے، اور دو سجدے کئے۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW prayed, and he added or omitted something." (One of the narrators) Ibrahim said: "The confusion sterns from me (i.e., he was not sure which it was)." lt was said to him: O Messenger of Allah! ﷺ Has something been added to the prayer? He said: I am only human, I forget just as you forget. If anyone of you forgets, let him perform two prostrations when he is sitting (at the end). Then the Prophet ﷺ SAW turned and prostrated twice."(Sahih).
عیاض نے ابو سعید خدری ؓ سے پوچھا کوئی شخص نماز ادا کرتا ہے اور اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کرلیں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے ١ ؎۔
Iyad narrated that he asked Abu Saeed Al-Khudri (RA) : "One of us prays and he does not know how many (Rakah) he has prayed." He said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: When anyone of you prays and does not know how many he has prayed, let him perform two prostrations while he is sitting.(Hasan).
Notes · وضاحت
١ ؎: بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے یہ اس لئے تاکہ آپ ﷺ کی امت کو اس کا مسئلہ معلوم ہو، اور اللہ تعالیٰ نے سہو کے تدارک میں دو سجدے مقرر کئے، کیونکہ بھول چوک شیطان کے وسوسہ سے ہوتی ہے، اور سجدہ کرنے سے شیطان بہت ناراض ہوتا ہے، تو اس میں یہ حکمت ہے کہ شیطان بھلانے سے باز آجائے گا، جب دیکھے گا کہ میرے بھلانے کی وجہ سے بندے کو زیادہ ثواب ملا۔ اور سجدہ سہو سنت کے ترک سے بھی مشروع ہے، اسی طرح جب نماز میں زیادتی ہوجائے یا شک ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب امام سجدہ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی پیروی کرے۔
عیاض نے ابو سعید خدری ؓ سے پوچھا نبی اکرم ﷺ نے ظہر پانچ رکعت پڑھائی، آپ ﷺ سے پوچھا گیا: کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ آپ سے کہا گیا (کہ آپ نے پانچ رکعت پڑھی ہے) تو آپ ﷺ نے اپنا پاؤں موڑا، اور سہو کے دو سجدے کئے۔
It was narrated that Abdullah said: "(Once) the Prophet ﷺ SAW prayed Zuhr with five Rakah, and it was said to him: Has something been added to the prayer? He said: What is that? They told him, and he turned back towards the Qiblah and performed two prostrations." (Sahih).
ابن بحینہ (عبداللہ بن مالک) ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کوئی نماز پڑھائی، میرا خیال ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی، جب آپ دوسری رکعت میں تھے تو تشہد کیے بغیر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے، پھر جب آپ آخری تشہد میں بیٹھے تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے۔
It was narrated from Ibn Buhainah: "The Prophet ﷺ SAW offered prayer, I think it was the Asr, and in the second Rakah he stood up before he sat. Before he said the Salam, he prostrated twice." (Sahih).
عبدالرحمٰن اعرج سے روایت ہے کہ ابن بحینہ ؓ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ ظہر کی دوسری رکعت پڑھ کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوگئے، اور تشہد بھول گئے، یہاں تک کہ جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے، اور صرف سلام پھیرنا باقی رہ گیا، تو سہو کے دو سجدے کئے، اور سلام پھیرا ١ ؎۔
It was narrated from "Abdur-Rahman Al-Araj that Ibn Buhainah told him that the Prophet ﷺ SAW stood up in the second Rakah of Zuhr and forgot to sit. When he had finished his prayer, and before he said the Salam, he performed the two prostrations for forgetfulness (Sahw) and said the Salam. (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ترک سنت سے بھی سجدہ سہو ہوتا ہے، کیونکہ (تشہد) قعدہ اولیٰ سنت ہے۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے لیکن ابھی پورے طور پہ کھڑا نہ ہوا ہو تو بیٹھ جائے، اور اگر پورے طور پہ کھڑا ہوگیا ہو تو نہ بیٹھے، اور آخر میں سہو کے دو سجدے کرے ۔
It was narrated that Mughirah bin Shubah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: If anyone of you stands after two Rakah, if he has not yet stood up fully, let him sit down again, but if he has stood up fully, then let him not sit down, and let him perform two prostrations for forgetfulness (Sahw):"(Daif).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب تک سیدھا کھڑا نہ ہو اس وقت تک بیٹھ سکتا ہے، اگرچہ قیام کے قریب ہوگیا ہو، اور بعض فقہاء نے کہا کہ قیام کے قریب ہوگیا ہو تو بھی نہ بیٹھے، اور حدیث میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص شک کرے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا ایک، تو ایک کو اختیار کرے، (کیونکہ وہ یقینی ہے) اور جب دو اور تین رکعت میں شک کرے تو دو کو اختیار کرے، اور جب تین یا چار میں شک کرے تو تین کو اختیار کرے، پھر باقی نماز پوری کرے، تاکہ وہم زیادتی میں ہو کمی میں نہ ہو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے ١ ؎۔
It was narrated that Abdur-Rahman bin Awf said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ SAW say: If anyone of you is uncertain as to whether he has prayed one or two Rakah, let him assume it is one. If he is uncertain as to whether he has prayed two or three, let him assume it is two. If he is uncertain as to whether he has prayed three or four, let him assume it is three. Then let him complete what is left of his prayer, so that the doubt will be about what is more. Then let him prostrate twice while he is sitting, before the Taslim (saying the Salam).‘ "(Hasan).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کی رائے کسی طرف قرار نہ پکڑے، اور دونوں جانب برابر ہوں یعنی غلبہ ظن کسی طرف نہ ہو تو کم عدد اختیار کرے کیونکہ اس میں احتیاط ہے، اگر غلطی ہوگی تو یہی ہوگی کہ نماز زیادہ ہوجائے گی، اور وہ بہتر ہے کم ہوجانے سے، اور اس حالت میں یہ حدیث اگلی حدیثوں کے خلاف نہ ہوگی، جن میں سوچنے کا ذکر ہے، اور بعضوں نے کہا سوچنا چاہیے، بلکہ ہر حال میں یقین کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اور کم عدد اختیار کرنا چاہیے، اور ابوحنیفہ (رح) نے کہا کہ اگر پہلی مرتبہ ایسا اتفاق ہو تو نماز سرے سے دوبارہ پڑھے، اگر دوسری یا تیسری بار ہو تو سوچے اور جس رائے پر اطمینان ہو اس پر عمل کرے، اگر کسی پر رائے اطمینان نہ ہو تو کم کو اختیار کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٧٥ (٣٩٨)، (تحفة الأشراف: ٩٧٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٠، ١٩٣، ١٩٥) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی نماز میں شبہ کرے تو شبہ کو ختم کر کے یقین پر بنا کرے، اور جب نماز کے مکمل ہوجانے کا یقین ہوجائے تو دو سجدے کرے، اگر اس کی نماز پوری تھی تو جو رکعت زائد پڑھی وہ نفل ہوجائے گی، اور اگر ناقص تھی تو یہ رکعت نماز کو پوری کر دے گی، اور یہ دونوں سجدے شیطان کی تذلیل و تحقیر کے لیے ہوں گے ۔
It was narrated that Abu Saeed AI-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: If anyone of you is uncertain about his prayer, let him put aside uncertainty and act upon that which is certain. When he has made sure that his prayer is complete, then let him prostrate twice. Then if his prayer was complete, that (extra) Rakah will be counted as voluntary, and if his prayer was lacking, that Rakah will complete his prayer, and the two prostrations will rub the Satans nose in the dust. ’ "(Sahih).
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی، ہمیں یاد نہیں کہ آپ نے اس میں کچھ بیشی کردی یا کمی کردی، پھر آپ ﷺ نے ہم سے اس کے بارے میں پوچھا تو ہم نے آپ سے اسے بیان کیا، آپ نے اپنا پاؤں موڑا اور قبلہ کی جانب رخ کیا، اور دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں ضرور باخبر کرتا، میں تو ایک انسان ہوں، میں بھولتا ہوں جیسے تم بھولتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو، اور تم میں سے جو بھی نماز میں شک کرے تو سوچے، اور جو صحیح کے قریب تر معلوم ہو اسی کے حساب سے نماز پوری کر کے سلام پھیرے، اور دو سجدے کرے ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW offered prayer, and I am not sure whether he did something extra or omitted something. He asked, and we told him, so he turned to face the Qiblah and prostrated twice, then he said the Salam. Then he turned to face us and said: If any new command had been revealed concerning the prayer, I would certainly have told you. But I am only human and I forget and you forget. If I forget, then remind me. And if anyone of you is uncertain about the prayer, let him do what is closest to what is correct, then complete the prayer, say the Salam and prostrate twice."
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً شک ہوا کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو سوچ کر جس عدد پر رائے ٹھہرے اس پر عمل کرے، اگر کسی طرف غلبہ ظن نہ ہو تو احتیاطاً کم عدد اختیار کرے، اور ہر حال میں سجدہ سہو کرے، نیز اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ نماز کے اندر بھولے سے بات کرے تو نماز نہیں جاتی، دوسرے یہ کہ ایک شخص کی گواہی میں شبہ رہتا ہے تو اس خبر کی تحقیق کرنی چاہیے، تیسرے یہ کہ جب نماز میں کمی ہوجائے تو سجدہ سہو سلام کے بعد کرنا چاہیے، اور اس کی بحث آگے آئے گی۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں شک کرے، تو سوچ کر صحیح کو معلوم کرے، پھر دو سجدے کرے ۔ طنافسی کہتے ہیں: یہی اصل ہے جس کو کوئی شخص رد نہیں کرسکتا ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: If anyone of you is uncertain about his prayer, let him try to do what is correct then let him prostate twice. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سجدہ سہو سب کے نزدیک لازم ہوگا، اب اختلاف اور امور میں ہے کہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، یا سلام سے پہلے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بھول کر دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ذوالیدین نامی ایک شخص نے آپ ﷺ سے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے کہا: نہ تو نماز کم ہوئی ہے نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالیدین ؓ نے کہا: تب تو آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا حقیقت وہی ہے جو ذوالیدین کہتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ آگے بڑھے اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے کئے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messanger of Allah SAW forgot and said the Taslim after two Rak’ah. A man who was called Dhul-Yadain said to him: ‘O Messanger of Allah SAW, has the prayer been shortened or did you forget?’ He said: ‘It has not been shortened and I did not forget.’ He said: ‘But you prayed two Rak’ah.’ He said: ‘Is what Dhul-Yadain says true?’ They said: ‘Yes.’ So he went forward and performed two Rak’ah and said the Salam, then he prostrated twice for the prostrations of forgetfulness.(Sahih).
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عشاء (یعنی زوال کے بعد کی دو نمازوں ظہر یا عصر) میں سے کوئی نماز دو ہی رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے، جلد باز لوگ تو یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ نماز کم ہوگئی، مقتدیوں میں ابوبکرو عمر ؓ بھی تھے، لیکن وہ آپ ﷺ سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کرسکے، لوگوں میں ذوالیدین نامی ایک لمبے ہاتھوں والے آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہ تو وہ کم ہوئی، نہ میں بھولا ہوں تو انہوں نے کہا: آپ نے دو ہی رکعت پڑھی ہے، آپ ﷺ نے پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسا کہ ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ ، تو لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW led us in one of the afternoon prayers, and he prayed two Rakah, then he said the Salam. Then he stood up and went to a piece of wood in the Masjid, and leaned against it. Those who were in a hurry left the Masjid, saying that the prayer had been shortened. Among the people were Abu Bakr (RA) and Umar, but they dared not say anything. Among the people there was also a man with long hands who was called Dhul-Yadain. He said: ‘O Messenger of Allah, has the prayer been shortened or did you forget? He said: It has not been shortened and I did not forget. He said: But you prayed two Rak ah. He said: Is what Dhul- Yadain says true? They said: Yes. So he went forward and performed two Rakah and said the Salam, then he prostrated twice, and then he said the Salam again."(Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سلام سجدہ سہو سے نکلنے کے لئے تھا کیونکہ دیگر تمام روایات میں یہ صراحت ہے کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا (پھر اس کے لئے سلام پھیرا) رکعات کی کمی بیشی کے سبب جو سجدہ سہو آپ نے کئے ہیں، وہ سب سلام کے بعد میں ہیں۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز عصر میں تین ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر اٹھے اور حجرہ میں تشریف لے گئے، تو لمبے ہاتھوں والے خرباق ؓ کھڑے ہوئے اور پکارا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ ﷺ غصہ کی حالت میں اپنا تہبند گھسیٹتے ہوئے نکلے، اور لوگوں سے پوچھا، تو اس کے بارے میں آپ کو خبر دی گئی، تو آپ نے چھوٹی ہوئی ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کئے، پھر سلام پھیرا۔
It was narrated that Imran bin Husain said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said the Salam after three Rak ah for Asr, then he stood up and went into the apartment. Khirbaq, a man with big hands, stood up and called out: O Messenger of Allah! ﷺ Has the prayer been shortened? He came out angrily, dragging his lower garment, and asked about it, and was told (what had happened). So he performed the Rakah that he had omitted, then he said the Salam, then he prostrated twice and said the Salam again." (Sahih).
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس نماز کی حالت میں آتا ہے، اور انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہو کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ آدمی نہیں جان پاتا کہ اس نے زیادہ پڑھی یا کم پڑھی، جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، پھر سلام پھیرے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ SAW said: "The Satan comes to anyone of you while he is praying and comes between him and his soul, until he does not know whether he has added something or omitted something. If that happens, then he should prostrate twice before he says the Salam, then he should say the Salam."(Hasan).
Notes · وضاحت
١ ؎: سجدہ سہو کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے کہ آدمی اسے سلام سے پہلے کرے، یا سلام کے بعد، بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اسے سلام کے بعد کرے، یہ قول سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ اسے سلام سے پہلے کرے، یہی قول اکثر فقہائے مدینہ مثلاً یحییٰ بن سعید، ربیعہ اور امام شافعی وغیرہ کا ہے، اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب نماز میں زیادتی ہوئی ہو تو سجدہ سہو سلام کے بعد کرے، اور جب کمی رہ گئی ہو تو سلام سے پہلے کرے، یہ قول مالک بن انس کا ہے، اور امام احمد کہتے ہیں کہ جس صورت میں جس طرح پر سجدہ سہو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے اس صورت میں اسی طرح سجدہ سہو کرے، وہ کہتے ہیں کہ جب دو رکعت کے بعد کھڑا ہوجائے تو ابن بحینہ ؓ کی حدیث کے مطابق سلام سے پہلے سجدہ کرے اور جب ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لے تو وہ سجدہ سلام کے بعد کرے، اور اگر ظہر و عصر کی نماز میں دو ہی رکعت میں سلام پھیر دے تو ایسی صورت میں سلام کے بعد سجدہ سہو کرے، اسی طرح جس صورت میں جیسے اللہ کے رسول ﷺ کا فعل موجود ہے، اس پر اس طرح عمل کرے، اور جس صورت میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی فعل مروی نہ ہو تو اس میں سجدہ سہو سلام سے پہلے کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣١ (٥١٦)، ١٩٨ (١٠٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٢٥٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨)، صحیح مسلم/المساجد ١٩ (٣٨٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٧٤ (٣٩٧)، موطا امام مالک/السہو ١ (١) (حسن صحیح) (قبل أن یسلم کا جملہ صحیح نہیں ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک شیطان انسان اور اس کے دل کے درمیان داخل ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی رکعت پڑھی؟ جب ایسا ہو تو سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ SAW said: "The Satan comes between the son of Adam and his soul, and he does not know how many Rakah he has prayed. If a person notices that, then let him prostrate twice before he says the Salam."(Hasan).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شک کی صورت میں سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے، امام احمد نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے اور بخاری، اور مسلم نے ابوسعید ؓ سے ایسا ہی روایت کیا ہے، اور مغیرہ ؓ کی حدیث میں کمی کی صورت میں سلام کے بعد سجدہ منقول ہے، غرض اس باب میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، کسی میں سلام سے پہلے سجدہ سہو منقول ہے، کسی میں سلام کے بعد، اس لیے اہل حدیث نے دونوں طرح جائز رکھا ہے، اور اسی کو صحیح مذہب قرار دیا ہے تاکہ سب حدیثوں پر عمل ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٤ (٦٠٨)، العمل في الصلاة ١٨ (١٢٢٢)، السہو ٦ (١٢٣١)، بدء الخلق ١١ (٣٢٨٥)، صحیح مسلم/السہو ١٩ (٣٨٩) سنن ابی داود/الصلاة ٣١ (٥١٦)، مسند احمد (٢/٣١٣، ٣٩٨، ٤١١) (حسن صحیح )
علقمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کئے، اور بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے بھی ایسا کیا ہے۔
It was narrated from Alqamah that Ibn Masud prostrated twice for prostrations of forgetfulness after the Salam, and he mentioned that the prophet SAW did that." (Sahih).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٣، ٣٧٦) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ہر سہو میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں ۔
It was narrated that Thawban said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ SAW say: For every mistake there are two prostrations, after saying the Salam. (Hasan).
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٢ (١٠٣٨)، (تحفة الأشراف: ٢٠٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٨٠) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز کے لیے نکلے اور آپ نے الله أكبر کہا، پھر لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، لوگ ٹھہرے رہے، پھر آپ گھر گئے اور غسل کر کے آئے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میں تمہارے پاس جنابت کی حالت میں نکل آیا تھا، اور غسل کرنا بھول گیا تھا یہاں تک کہ نماز کے لیے کھڑا ہوگیا ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Prophet ﷺ SAW came out to pray and said the Takbir, then he gestured to them to wait. He went and took a bath, and his head was dripping with water while he led them in prayer. When he finished he said: I came out to you in a state of sexual impurity, and I forgot until I had started to pray." (Hasan).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥٩٤، ومصباح الزجاجة: ٤٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٢٥ (٦٤٠، ٦٣٩)، صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٩٤ (٢٣٥)، سنن النسائی/الإمامة ١٤ (٧٩٣)، مسند احمد (١/٣٦٨، ٢/٢٣٧، ٢٥٩، ٤٤٨) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے، اس کے رواة ثقہ ہیں، اور مسلم کے راوی ہیں، یعنی سند مسلم کی شرط پر ہے، اور اسامہ بن زید یہ لیثی ابو زید مدنی صدوق ہیں، لیکن ان کے حفظ میں کچھ ضعف ہے، بو صیری اور ابن حجر وغیرہ نے شاید اسامہ بن زید کو عدوی مدنی سمجھ کر اس کی تضعیف کی ہے، لیکن متن حدیث ثابت ہے، نیز اس کے شواہد بھی ہیں، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٢٢٧ - ٢٣١ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جسے نماز میں قے، نکسیر، منہ بھر کر پانی یا مذی آجائے تو وہ لوٹ جائے، وضو کرے پھر اپنی نماز پر بنا کرے، لیکن اس دوران کسی سے کلام نہ کرے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: Whoever vomits, has a nosebleed, belches, or emits prostatic fluid, should stop praying; perform ablution, then resume his prayer, and while he is in that state he should not speak."(Daif).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢٥٢، ومصباح الزجاجة: ٤٢٨) (ضعیف) (اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی روایت حجاز سے ضعیف ہوتی ہے، اور یہ اسی قبیل سے ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کسی شخص کو نماز میں حدث ہوجائے، تو اپنی ناک پکڑ لے اور چلا جائے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ SAW said: "When anyone of you performs prayer and commits Hadath, (passing of wind) let him take hold of his nose, then leave." (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کرنے کے لئے ناک پکڑنے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اس سے لوگ سمجھیں کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے، کیونکہ شرم کی بات ہے (ہوا خارج ہوجانے کی بات) کو چھپانا ہی بہتر ہے۔
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧١٢٩، ومصباح الزجاجة: ٤٢٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٦ (١١١٤) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٢ ، صحیح ابی داود: ١٠٢٠ ، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٩٧٦ )
تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧١٢٩، ومصباح الز جاجة: ٤٢٩/أ) (صحیح) (اس کی سند میں عمر بن قیس ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے )