انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان سے نماز فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے؟ تو انہوں نے کہا: ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: He was asked about Qunut in the Subh prayer, and he said: "We used to recit Qunut before Ruku and afterwards."(Hasan).
Notes · وضاحت
١ ؎: محدثین نے اسی پر عمل کیا ہے، اور نماز فجر کی طرح وتر میں بھی یہ جائز رکھا ہے کہ خواہ رکوع سے پہلے قنوت پڑھے یا رکوع کے بعد، مگر رکوع کے بعد پڑھنے کی حدیثیں زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہیں۔
محمد (محمد بن سیرین) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔
It was narrated that Muhammad said: "I asked Anas bin Malik (RA) about Qunut, and he said: The Messenger of Allah ﷺ SAW recited Qunut after Ruku.’ ”(Sahih).
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ نماز وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا، کبھی رات کے شروع حصے میں، کبھی درمیانی حصے میں، اور وفات کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا۔
It was narrated that Masruq said: "I asked Aisha (RA) about the Will of the Messenger of Allah ﷺ SAW. She said: He prayed Witr at every part of the night, at the beginning, in the middle and at the end, when he died (he would perform it) just before dawn." (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے وتر کو رات میں مختلف اوقات میں پڑھا ہے، لیکن اخیر عمر میں وتر کو صبح صادق کے قریب پڑھا ہے، تو ایسا ہی کرنا افضل ہے، بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو اخیر رات میں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہیں، اور جو آپ ﷺ نے رات کے ابتدائی حصہ یا درمیانی حصہ میں پڑھا ہے تو اس سے جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں امت کے لئے آسانی ہے، واللہ اعلم۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں، اور کبھی بیچ میں، صبح صادق کے طلوع تک نماز وتر پڑھا۔
It was narrated that Ali said: "At every part of the night the Messenger of Allah ﷺ SAW prayed Witr, at the beginning and in the middle, and finally his Witr was just before dawn."(Hasan).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٤٥، ومصباح الزجاجة: ٩١٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٨، ٨٦، ١٠٤، ١٣٧، ١٤٣، ١٤٧) (حسن صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہوجائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah ﷺ SAW said: "Whoever among you fears that he will not wake up at the end of the night, let him pray Witr at the beginning of the night, then go to sleep. Whoever hopes that he will wake up at the end of the night, let him pray Witr at the end of the night, for recitation (of the Quran) at the end of the night is attended (by the angels), and that is better." (Sahih).
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢١ (٧٥٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٧ (٤٥٥)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ٣١٥، ٣٨٩) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو نماز وتر سے سو جائے، یا اسے بھول جائے، تو صبح کے وقت یا جب یاد آجائے پڑھ لے ۔
It was narrated that Abu Sa eed said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: Whoever sleeps and misses Witr, or forgets it, let him pray it when morning comes, or when he remembers:"(Sahih).
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو ۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبدالرحمٰن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۔
It was narrated that Abu Saeed said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: Pray Witr before morning comes:" (Sahih).
ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وتر حق (ثابت) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے ۔
It was narrated from Abu Ayyub Al-Ansari that the Messenger of Allah ﷺ SAW said: "Witr is Haqq Whoever wishes let him pray Witr with five (Rakah), and whoever wishes let him pray Witr with three (Rakah), and whoever wishes let him pray Witr with one (Rakah).(Sahih).
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالیٰ جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کردیتا، آپ مسواک اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پر نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھر اٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور اس کے نبی پر درود (صلاۃ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ ﷺ کی عمر زیادہ ہوگئی، اور آپ کا جسم مبارک بھاری ہوگیا، تو آپ سات رکعتیں وتر پڑھتے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔
It was narrated that Sad bin Hish am said: "I asked Aisha (RA) : O Mother of the Believers! Tell me about the Witr of the Messenger of Allah ﷺ SAW: She said: We used to keep his tooth stick and water for ablution ready for him. Allah would wake him as He willed to during the night, and he would use the tooth stick and perform ablution, then he would pray nine Rakah, during which he would not sit until the eighth Rakah. Then he would call upon his Lord and remember Allah and praise Him and supplicate to Him. Then he would get up without saying the Salam. Then he would stand up and pray the ninth Rakah.. Then he would sit and remember Allah and praise Him, and supplicate to his Lord and send blessing upon His Prophet. Then he would say Salam that we could hear. Then he would pray two Rakah after the Salam, while he was sitting down. That was eleven Rak ah. When the Messenger of Allah ﷺ SAW grew older and had gained weight, he would pray Witr with seven Rakah and then pray two more Rakah after he had said the Salam." (Sahih).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٦٧ (١٣١٦)، (تحفة الأشراف: ١٦١٠٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ١٨ (٧٤٦)، الصلاة ٣١٦ (١٣٤٢)، مسند احمد (٦/٤٤، ٥٤) (صحیح )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔
It was narrated that Umm Salamah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW used to pray Witr with seven or five Rakah, and he would not say Salam or speak in between them."(Sahih).
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/قیام اللیل ٣٥ (١٧١٥)، (تحفةالأشراف: ١٨٢١٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الوتر ٥ (٤٥٧)، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٠، ٣٢١) (ضعیف) (اس سند میں مقسم ہیں، اور ان کا سماع ام سلمہ ؓ سے نہیں ہے، لیکن عائشہ ؓ کی حدیث کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٩٦١ )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور رات میں تہجد پڑھتے تھے، سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: آپ ﷺ (سفر میں) وتر پڑھتے تھے؟ کہا: جی ہاں۔
It was narrated from Salim that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW used to pray two Rakalt while traveling, and he did not do more than that. And he used to pray Tahajjud at night." I asked: "Did he pray Witr?" He said: "Yes."(Daif).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٤٧، ومصباح الزجاجة: ٤٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٦) (ضعیف جدًا) (اس حدیث کی سند میں جابر بن یزید الجعفی کذاب راوی ہے، لیکن اس باب میں صحیح احادیث آئی ہیں جو ہمارے لئے کافی ہیں )
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کی نماز دو رکعت مقرر کی ہے، یہ دو رکعت پوری ہے ناقص نہیں، اور سفر میں نماز وتر پڑھنا سنت ہے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas and Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW prescribed two Rakah of prayer when traveling; they are complete and are not shortened. And Witr when traveling is Sunnah." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٧٧٥، ٧١١٦، ومصباح الزجاجة: ٤٢١)، مسند احمد (١/٢٤١) (ضعیف جدا) (سند میں جابر جعفی متروک اور کذاب راوی ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ١٣٥٠ )
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو ہلکی رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔
It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ SAW used to pray two short Rakah after Witr, sitting down. (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: اور بعض فقہاء کو اس کی خبر نہیں ہوئی انہوں نے وتر کے بعد اس دو رکعت نفل سے منع کیا، اور شاید کبھی کبھار نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا ہوگا، کیونکہ آپ اکثر وتر اخیر رات میں پڑھتے تھے جیسے اوپر گزرا، اور وتر کے بعد دوسری نماز نہ پڑھتے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوتی تو فجر کی سنتیں پڑھتے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الوتر ١٤ (٤٧١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٨) (صحیح) (اس کی سند میں میمون بن موسیٰ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: ٤٢٦ ب تحقیق الشہری )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے ١ ؎ اور ان میں قراءت کرتے، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے۔
It was narrated that Abu Salamah said: " Aisha (RA) narrated to me that the Messenger of Allah ﷺ SAW prayed Witr with one Rakah, then he prayed two Rak ah in which he recited while sitting, then when he wanted to bow, he stood up and bowed."(Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: امام احمد کہتے ہیں کہ میں وتر کے بعد اس دو رکعت سے نہ منع کرتا ہوں، نہ میں اس کو پڑھتا ہوں، اور امام مالک نے اس کا انکار کیا ہے، نووی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں رکعتوں کو بیٹھ کر پڑھا، اس امر کو ظاہر کرنے کے لئے کہ وتر کے بعد نفل پڑھنا صحیح ہے، آپ ﷺ نے ہمیشہ ان کو نہیں پڑھا، اور قاضی عیاض نے ان حدیثوں کو قبول نہیں کیا، حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ شاید یہ مسافر کے لئے ہے کہ جب تہجد کے لئے جاگنے کی امید نہ ہو تو وتر کے بعد یہ دو رکعت پڑھ کر سوئے، جیسے ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: سفر ایک تکلیف ہے، پھر جب کوئی تم میں سے وتر پڑھے تو دو رکعت پڑھ لے، اگر جاگے تو خیر ورنہ یہ دو رکعت اس کے لئے تہجد کے قائم مقام ہوجائے گی، واللہ اعلم۔
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ تھا، میں پیچھے ہوگیا، اور نماز وتر ادا کی، انہوں نے پوچھا: تم پیچھے کیوں رہ گئے؟ میں نے کہا: میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
It was narrated that Sa eed bin Yasar said: "I was with Ibn Umar and I lagged behind and prayed Witr. He said: What kept you? I said: I was praying Witr. He said: Do you not have the best of examples in the Messenger of Allah ﷺ SAW said: Of course. He said: The Messenger of Allah ﷺ SAW used to pray Witr while riding his camel.(Sahih).
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ کہا: شروع رات میں عشاء کے بعد، آپ ﷺ نے پوچھا: تم اے عمر! انہوں نے کہا: رات کے اخیر حصے میں، تب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے مضبوط کڑا پکڑا ہے (یقینی طریقہ اختیار کیا) اور اے عمر! تم نے قوت والا کام پکڑا ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said to Abu Bakr (RA) : When do you pray Witr? He said: At the beginning of the night, after Isha. He said: And you, O Umar? He said: At the end of the night. The Prophet ﷺ SAW said: As for you, O Abu Bakr, you have seized the trustworthy handhold (i.e., you want to be on the safe side), and as for you, O Umar, you have seized strength (i.e., you are confident that you have the resolve to get up and pray Witr). (Hasan).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٧٣، ومصباح الزجاجة: ٤٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٩، ٣٣٠) (حسن صحیح )
اس سند سے ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ سے کہا، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ٨٢٢٤، ومصباح الزجاجة: ٤٢٦) (صحیح )