وتر کے بعد اور فجر کی سنتوں کے بعد مختصر وقت کے لئے لیٹ جانا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُلْفِي أَوْ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي، قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي: بَعْدَ الْوِتْرِ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ١ ؎۔ وکیع نے کہا: ان کی مراد وتر کے بعد۔
It was narrated that ‘ Aisha (RA) said: "I never used to see the Prophet ﷺ SAW at the end of the night, except that he was sleeping near me." (Sahih).
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ وتر پڑھ کر آپ ﷺ لیٹ جاتے، اور تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر فجر کی سنتوں کے لئے اٹھتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد ٧ (١١٣٣)، صحیح مسلم/المسافرین ١٧ (٧٤٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٢ (١٣١٨)، مسند احمد (٦/١٣٧، ١٦١، ٢٠٥، ٢٧٠) (صحیح )