عید کے روز کھیل کود کرنا اور خوشی منانا
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: شَهِدَ عِيَاضٌ الْأَشْعَرِيُّ عِيدًا بِالْأَنْبَارِ، فَقَالَ: مَا لِي لَا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ كَمَا كَانَ يُقَلَّسُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا: کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ١ ؎۔
It was narrated that Amir said: “lyâd Al-Ash’ari was in Anbar at the time of ‘Eid, and he said ‘Why is it that I do not engaged in Taqils as was done in the presence of the Messenger of Allah ﷺ .(Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠١٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٢) (ضعیف) (سند میں شریک ضعیف الحدیث راوی ہیں، اور ایسے ہی سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: رقم: ٤٢٨٥ )