اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 26 of 32

1303Sunan Ibne-Majah

عید کے روز کھیل کود کرنا اور خوشی منانا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا كَانَ شَيْءٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْءٌ وَاحِدٌ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ابْنُ دِيزِيلَ حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ. ح وَحَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ. ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرٍنَحْوَهُ.

قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لیے گانا بجانا ہوتا تھا۔

It was narrated from ‘Amir that Qais bin Sa’d said: “There is nothing that happened during the time of the Messenger of Allah ﷺ except that I have seen it, except for one thing. which is that Taqlis was performed for the Messenger of Allah ﷺ on the Day of Tilt. (Da’if) (Three other chains of narration) with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: مصباح الزجاجة: بتحقيق د/عوض الشهري: (461)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٩١، و مصباح الزجاجة: ٤٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٢) (ضعیف) (ابواسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے ) ان سندوں سے بھی عامر شعبی سے اسی جیسی روایت آئی ہے۔
1304Sunan Ibne-Majah

عید کے روز برچھی نکالنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى فِي يَوْمِ الْعِيدِ، وَالْعَنَزَةُ تُحْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ الْمُصَلَّى نُصِبَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصَلَّى كَانَ فَضَاءً لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ يُسْتَتَرُ بِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کردیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر نماز عید پڑھاتے، اس لیے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے نماز کے لیے سترہ بنایا جاتا۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ used to set out for the praying place in the morning of the day of ‘him, and a small spear would be carried before him. When he reached the praying place, it would be set up in front him, then he would pray facing it and that was because the praying place was an open space in which there was nothing that could serve as a Sutrah (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العیدین ١٣ (٩٧٢)، ١٤ (٩٧٣)، (تحفة الأشراف: ٧٧٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٢ (٦٨٧)، سنن النسائی/العیدین ٩ (١٥٦٦)، مسند احمد (٢/٩٨، ١٤٥، ١٥١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٤ (١٤٥٠) (صحیح )
1305Sunan Ibne-Majah

عید کے روز برچھی نکالنا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ أَوْ غَيْرَهُ، نُصِبَتِ الْحَرْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ مِنْ خَلْفِهِ، قَالَ نَافِعٌ: فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید یا کسی اور دن جب (میدان میں) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کردیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “When the Prophet ﷺ prayed on the day of ‘Eid or on another occasion, a small spear was set up in front of him, and he prayed facing it, and the people were behind him.” (Sahih) Náfi’ said: It is from here that the eaders have taken this practice.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٩٢ (٤٩٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٢ (٦٨٧)، سنن النسائی/القبلة ٤ (٧٤٨)، مسند احمد (٢/١٣، ١٨، ١٤٢)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٩٤١) (صحیح )
1306Sunan Ibne-Majah

عید کے روز برچھی نکالنا

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى الْعِيدَ بِالْمُصَلَّى مُسْتَتِرًا بِحَرْبَةٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید گاہ میں عید کی نماز نیزہ کو سترہ بنا کے ادا فرمائی۔

It was narrated from Anas bin Mâlik that the Messenger of Allah ﷺ prayed ‘Lid at the prayer place, using a small spear as a Sutrsh. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨، ومصباح الزجاجة: ٤٥٩) (صحیح )
1307Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا عیدین میں نکلنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ، وَالنَّحْرِ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا: أَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لَا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ؟، قَالَ: فَلْتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا.

ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عیدین میں لے جائیں، ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو (کیا کرے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی ساتھ والی اسے اپنی چادر اڑھا دے ۔

It was narrated that Umm ‘Atiyyah said: “The Messenger of Allah ﷺ commanded us to bring them (the women) out on the day of Fitr and the day of Nahr.” Umm ‘Atiyyah said: “We said: ‘What if one of them does not have an outer covering?’ He said: ‘Let her sister share her own outer covering with her.’“(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ غریب و مسکین عورت بھی عیدگاہ کے لیے نکلے، اگر کپڑے نہ ہوں تو اپنی سہیلی یا رشتے دار عورت سے مانگ لے، اس حدیث سے عورتوں کے عیدین میں عیدگاہ جانے کی بڑی تاکید ثابت ہوتی ہے، بعض نے کہا کہ یہ حکم نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں تھا اور اب جب کہ فسق و فجور پھیل گیا ہے تو عورتوں کا باہر نکلنا مناسب نہیں، اور ام المؤمنین عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اگر نبی کریم ﷺ عورتوں کے وہ کام دیکھتے جو انہوں نے نکالے ہیں تو یقینا ان کو مسجد میں جانے سے منع کرتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کی گئیں، اور اس اثر سے خود ان لوگوں کے قول کے خلاف ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ عورتوں کو باہر نکلنا منع نہیں ہوا۔ برصغیر میں علماء کا ایک طبقہ عورتوں کے عیدگاہ اور مساجد جانے کی بوجوہ چند بڑی مخالفت کرتا ہے، جبکہ نصوص شرعیہ سے عورتوں کا ان جگہوں پر جانا ثابت ہے، اور یہ ان کا حق ہے جو اسلام نے انہیں دیا ہے، بالخصوص اگر ان مساجد اور دینی مراکز کے ذریعہ سے وعظ و تبلیغ اور دینی تعلیم کی ضرورت بھی پوری ہوتی ہو تو اس سلسلہ میں عورتوں کو نہ صرف یہ کہ جانے کی اجازت دینی چاہیے بلکہ اس کا اہتمام بھی کرنا چاہیے، ظاہر بات ہے کہ اسلام نے جو آداب اس سلسلہ میں بتائے ہیں اس کا لحاظ کئے بغیر عورتوں کا باہر نکلنا صحیح اور مناسب نہ ہوگا، لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ ہر طرح کے تجارتی اور تفریحی مقامات پر عورتیں بےپردہ اور بےلگام گھوم رہی ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی حرج اور انکار کا جذبہ لوگوں میں باقی نہیں رہا، لیکن فقہی فروع کی پابندی اس انداز سے کرائی جاتی ہے کہ شریعت سے ثابت مسائل میں بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے، لہذا ہمیں شرعی ضابطہ میں رہ کر عورتوں کو ان دینی مقامات میں جانے کی ترغیب دینی چاہیے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، اور اس سے بڑھ کر اگر دینی مسائل کے سیکھنے سکھانے کا موقع بھی فراہم ہو تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/العیدین ١ (٨٩٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧١ (٥٣٩)، سنن النسائی/الحیض الاستحاضہ ٢٢ (٣٩٠)، العیدین ٢ (١٥٥٩)، ٣ (١٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض ٢٣ (٣٢٤)، الصلاة ٢ (٣٥١)، العیدین ١٥ (٩٧٤)، ٢٠ (٩٨٠)، ٢١ (٩٨١)، الحج ٨١ (١٦٥٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٧ (١١٣٦)، مسند احمد (٥/٨٤، ٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٣ (١٦٥٠) (صحیح )
1308Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا عیدین میں نکلنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ، وَذَوَاتِ الْخُدُورِ لِيَشْهَدْنَ الْعِيدَ، وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَلْيَجْتَنِبَنَّ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ.

ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز کی جگہ سے الگ بیٹھیں ۔

It was narrated that Umm ‘Atiyyah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Bring out the women who have attained puberty and those who are in seclusion so that they may attend the ‘Eid prayer and (join in) the supplication of the Muslims. But let the woman who are menstruating avoid the prayer place.”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العدین ١٥ (٩٧٤)، مخصراً صحیح مسلم/صلاة العیدین ١ (٨٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٧ (١١٣٦، ١١٣٧)، مطولاً سنن النسائی/صلاة العیدین ٢ (١٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩٥) (صحیح )
1309Sunan Ibne-Majah

عورتوں کا عیدین میں نکلنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُخْرِجُ بَنَاتِهِ وَنِسَاءَهُ فِي الْعِيدَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ لے جاتے تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbâs that the Prophet ﷺ used to bring his daughters and his wives out on the two ‘Eid. (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ این ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨١٨، ومصباح الزجاجة: ٤٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣١، ٣٥٣) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے )
1310Sunan Ibne-Majah

ایک دن میں دوعیدوں کا جمعہ ہونا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيدَيْنِ فِي يَوْمٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ؟، قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ.

ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم ؓ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپ ﷺ کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے پڑھے ١ ؎۔

It was narrated that Iyâs bin Abi Ramlah Ash-Shâmi said: “I heard a man asking Zaid bin Arqam (RA) : ‘Were you present with the Messenger of Allah ﷺ when there were two ‘Eid on one day?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘What did he do?’ He said: ‘He prayed the ‘Eid prayer, then he granted a concession not to pray the Friday, then he said: “Whoever wants to pray (Friday), let him do so.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ اور عید دونوں پڑھنا افضل ہے، اور دور دراز کے لوگوں کو اگر جمعہ کے لئے جامع مسجد آنے میں مشقت اور دشواری ہو تو اس صورت میں صرف عید پر اکتفا ہوسکتا ہے، اور اس صورت میں ظہر پڑھ لے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١٧ (١٠٧٠)، سنن النسائی/العیدین ٣١ (١٥٩٢)، (تحفة الأشراف: ٣٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢٥، (١٦٥٣) (صحیح )
1311Sunan Ibne-Majah

ایک دن میں دوعیدوں کا جمعہ ہونا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لیے عید کی نماز ہی کافی ہے، اور ہم تو انشاء اللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbâs that the Messenger of Allah ﷺ said: “Two ‘Eld have come together on this day of yours. So whoever wants, that (the ‘Eld prayer) will suffice him, and he will not have to pray Friday, but we will pray Friday if Allah wills.” (Da’if) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤١٩، ومصباح الزجاجة: ٤٦١) (صحیح) (ابوداود: ١٠٧٣ ) نے محمد بن المصفی سے اسی سند سے یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابن عباس کے بجائے، ابوہریرہ کہا ہے، بوصیری نے اس کو محفوظ کہا ہے، اور وہ مولف کے ہاں آنے والی روایت ہے ) اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔ سنن ابی داود/ الصلاة ٢١٧ (١٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٧) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں )
1312Sunan Ibne-Majah

ایک دن میں دوعیدوں کا جمعہ ہونا

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھا ہوگئیں، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Two ‘Eid came together at the time of the Messenger of Allah ﷺ , so he led the people in prayer, then he said: ‘Whoever wishes to come to Friday (prayer), let him come, and whoever wishes to stay behind, let him stay behind.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٢، ومصباح الزجاجة: ٤٦٢) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی مندل و جبارہ ضعیف ہیں )
1313Sunan Ibne-Majah

بارش میں نماز عید

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَ اللَّهِ التَّيْمِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِهِمْ فِي الْمَسْجِدِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی، تو آپ ﷺ نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “Rain fell on the day of ‘Eid at the time of the Messenger of Allah ﷺ , so he led them in prayer in the Masjid. (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٥٧ (١١٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٤١٢٠) (ضعیف) (اس کی سند میں عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول ہیں )
1314Sunan Ibne-Majah

عید کے روز ہتھیار سے لیس ہو نا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا نَائِلُ بْنُ نَجِيحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زِيَادٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى أَنْ يُلْبَسَ السِّلَاحُ فِي بِلَادِ الْإِسْلَامِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو۔

It was narrated from Ibn ‘Abbâs that the Prophet ﷺ forbade wearing weapons in the Muslim lands on the two ‘Eid, except if the enemy was present.(Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٠٨، ومصباح الزجاجة: ٤٦٣) (ضعیف جدا) (نائل بن نجیح کے حدیث کی کوئی اصل نہیں، نیز اسماعیل بن زیاد متروک راوی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٦٤٥ )
1315Sunan Ibne-Majah

عیدین کے روز غسل کرنا

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ الْأَضْحَى.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Messenger of Allah ﷺ used to have a bath on the day of Fitr and the day of Adha.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٠٨، ومصباح الزجاجة: ٤٦٤) (ضعیف جدا) (یہ سند بہت ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں جبارہ ہیں، جن کی حدیثوں میں غفلت کی وجہ سے اضطراب ہے، نیز حجاج بن تمیم کی مروی حدیثوں کی کوئی متابعت نہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٤٦ ، امام بزار کہتے ہیں کہ عید ین میں غسل کی کوئی صحیح حدیث مجھے یاد نہیں ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر ٢ /٦١ )
1316Sunan Ibne-Majah

عیدین کے روز غسل کرنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، وَيَوْمَ عَرَفَةَ، وَكَانَ الْفَاكِهُ: يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ.

فاکہ بن سعد ؓ جنہیں رسول اللہ ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر، عید الاضحی اور عرفہ کے دن غسل فرمایا کرتے تھے اور فاکہ ؓ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔

It was narrated from ‘Abdur.Rahmán bin ‘Uqbah bin Fâkih bin Sa’d, from his grandfather Fâkih bin Sa’d who was a Companion of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ used to take a bath on the Day of Fitr, the Day of Nahr, and the day of ‘Arafah, and, Fâkih used to tell his family to have a bath on these days. (Maudu’)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٢٠، ومصباح الزجاجة: ٤٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٨) (موضوع) (یوسف بن خالد متروک و کذاب ہے، حدیثیں گھڑتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤١٦ )
1317Sunan Ibne-Majah

عیدین کی نماز کا وقت

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الْإِمَامِ، وَقَالَ: إِنْ كُنَّا لَقَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ، وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ.

عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے تو امام کے تاخیر کرنے پر ناگواری کا اظہار کیا، اور کہنے لگے کہ ہم لوگ تو اس وقت عیدین کی نماز سے فارغ ہوجایا کرتے تھے، اور وہ وقت کراہت کے گزرنے کے بعد نماز الضحی (چاشت کی نفل) کا وقت ہوتا تھا ١ ؎۔

Yazid bin Khumair narrated that ‘Abdullâh bin Busr went out with the people on the of Fitr or Adha, and he ected to the fmcim’s delay. He d: “We would have finished by time.” And that was the time Tasbih. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: نفل فجر کے بعد اس وقت صحیح ہوتی ہے، جب سورج ایک نیزے کے مقدار بلند ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٦، (١١٣٥)، (تحفة الأشراف: ٥٢٠٦) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں راوی عبد الوہاب بن ضحاک متروک ہیں )
1318Sunan Ibne-Majah

تہجد دو دو رکعتیں پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نفل نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔

It was narrated that Ibn said: “The Messenger of Allâh ﷺ used to offer the night myers two by two.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
انظر حدیث: رقم ١١٧٤، (تحفة الأشراف: ٦٦٥٢) (صحیح )
1319Sunan Ibne-Majah

تہجد دو دو رکعتیں پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے ۔

It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “The night prayer (to be offered) two by two.”(Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٦ (٤٣٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٤ (١٦٧٢)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١١٩) (صحیح )
1320Sunan Ibne-Majah

تہجد دو دو رکعتیں پڑھنا

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وعَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَافَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِرَكْعَهٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے رات کی نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو دو رکعت پڑھے، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “The Prophet ﷺ was asked about the night prayer. He said: ‘Pray two by two, and if you fear that dawn is coining, then perform Witr with one Rak’ah.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس ایک رکعت سے ساری نماز جو اس نے پڑھی ہے وتر ہوجائے گی، اور رات کی نماز کبھی وتر میں داخل ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ سات رکعتیں وتر کی پڑھتے تھے، ان کے بیچ میں نہ سلام پھیرتے تھے، نہ بات کرتے تھے اور کبھی وتر الگ ہوتی ہے جیسے ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پانچ رکعتیں ان میں وتر کی ہوتیں، ان میں اخیر میں بیٹھتے، اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، اور آٹھویں کے بعد بیٹھتے تھے پھر سلام پھیرتے تھے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر اخیر عمر میں سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور چھٹی یا ساتویں رکعت میں بیٹھتے تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ سات رکعتیں پڑھیں، صرف آخری رکعت میں بیٹھے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ رمضان و غیر رمضان میں آٹھ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے، اور تین وتر کی پڑھتے تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، ابن حزم کہتے ہیں کہ احادیث میں رات کی نماز وتر سمیت تیرہ آئی ہے، اور ہر طرح سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث طاوس و سالم: أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٤ (١٦٦٨)، (تحفة الأشراف: ٦٨٣٠، ٧٠٩٩)، وحدیث عبد اللہ بن دینار عن ابن عمر تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ٧١٧٦) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر ١ (٩٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٤ (١٣٢٦)، موطا امام مالک/صلاةاللیل ٣ (١٣)، مسند احمد (٢/٤٩، ٥٤، ٦٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٤ (١٤٩٩)، ١٥٥ (١٥٠٠) (صحیح )
1321Sunan Ibne-Majah

تہجد دو دو رکعتیں پڑھنا

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِاللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں (نفل) نماز دو دو رکعت پڑھتے تھے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbâs said: “The Prophet ﷺ used to pray the night prayer two Rak’ah by two Rak’ah.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٨٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبرٰي الصلاة ٤٣ (٤٠٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٠ (٥٨)، مسند احمد (١/ ٢١٨)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٨٨) (صحیح )
1322Sunan Ibne-Majah

دن اور رات میں نماز دو دو رکعت پڑھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو رکعت ہے ۔

Ibn ‘Umar narrated that the essenger of Allah ﷺ said: “Prayers at night and during the day are to be offered two by two.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٢ (١٢٩٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٠١ (٥٩٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٤ (١٦٦٧)، (تحفة الأشراف: ٧٣٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦، ٥١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٥ (١٥٠٠) (صحیح) (والنہار کی زیادتی کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے، ابن خزیمہ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا کہ اس کے رواة ثقہ ہیں، اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے سلسلة الاحادیث الصحیحة میں اس کی تصحیح کی ہے، لیکن بعض اہل علم نے والنہار کو ضعیف کہا ہے، کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضیعف ہیں، ملاحظہ ہو: التلخیص ا لحبیر: ٥٤٤ )