Sunan Ibne-Majah 1305

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1305Sunan Ibne-Majah

عید کے روز برچھی نکالنا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ أَوْ غَيْرَهُ، نُصِبَتِ الْحَرْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ مِنْ خَلْفِهِ، قَالَ نَافِعٌ: فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَاءُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید یا کسی اور دن جب (میدان میں) نماز پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کردیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “When the Prophet ﷺ prayed on the day of ‘Eid or on another occasion, a small spear was set up in front of him, and he prayed facing it, and the people were behind him.” (Sahih) Náfi’ said: It is from here that the eaders have taken this practice.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٠٧٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٩٢ (٤٩٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٢ (٦٨٧)، سنن النسائی/القبلة ٤ (٧٤٨)، مسند احمد (٢/١٣، ١٨، ١٤٢)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٩٤١) (صحیح )