Sunan Ibne-Majah 1312

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1312Sunan Ibne-Majah

ایک دن میں دوعیدوں کا جمعہ ہونا

حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھا ہوگئیں، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا جو جمعہ کے لیے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے ۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Two ‘Eid came together at the time of the Messenger of Allah ﷺ , so he led the people in prayer, then he said: ‘Whoever wishes to come to Friday (prayer), let him come, and whoever wishes to stay behind, let him stay behind.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٢، ومصباح الزجاجة: ٤٦٢) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی مندل و جبارہ ضعیف ہیں )