ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب (قرآن) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ کسی آدمی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے ۔
Sayyidina Aws ibn Dam’aj (RA )reported fom Sayyidina Abu Mas’ud Ansari (RA) that Al Ia h’s Messenger ﷺ said, “He should act as imam of people who is most read in the Quran.O If they are at par with each other in its recital then the most learned about the sunnah. If they are equal regarding the sunnah then he who preceded others in hijrah (migration to ladinah) and if they emigrated together then the oldest of them. And no one should be made to kIlmv (another) where he is authoritative and no one should sit on the place of honour (of the to owner in his house without his permission.
صحيح، ابن ماجة (980)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 235
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابومسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوسعید، انس بن مالک، مالک بن حویرث اور عمرو بن سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں امامت کا حقدار وہ ہے جو اللہ کی کتاب (قرآن) اور سنت کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ گھر کا مالک خود امامت کا زیادہ مستحق ہے، اور بعض نے کہا ہے: جب گھر کا مالک کسی دوسرے کو اجازت دیدے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن بعض لوگوں نے اسے بھی مکروہ جانا ہے، وہ کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ گھر کا مالک خود پڑھائے ١ ؎، ٤- احمد بن حنبل نبی اکرم ﷺ کے فرمان: آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مخصوص نشست پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب وہ اجازت دیدے تو میں امید رکھتا ہوں کہ یہ اجازت مسند پر بیٹھنے اور امامت کرنے دونوں سے متعلق ہوگی، انہوں نے اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں جانا کہ جب وہ اجازت دیدے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کی دلیل مالک بن حویرث ؓ کی روایت «من زار قوما فلا يؤمهم وليؤمهم رجل منهم» ہے «إلا بإذنه» کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق صرف «لايجلس علی تکرمته» سے ہے «لايؤم الرجل في سلطانه» سے نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٣)، سنن ابی داود/ الصلاة ٦١ (٥٨٢)، سنن النسائی/الإمامة ٣ (٧٨١)، و ٦ (٧٨٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٦ (٩٨٠)، ( تحفة الأشراف: ٩٩٧٦)، مسند احمد (٤/١١٨، ١٢١، ١٢٢)، ویأتي في الأدب ٢٤ (برقم: ٢٧٧٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑے، کمزور اور بیمار سبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “When one of you is imam of the people, he must be brief (in recital), for his followers include the young, the old, the weak, the sick-everyone. And when he prays alone then he may pray as he likes.
صحيح، صحيح أبي داود (759)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 236
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عدی بن حاتم، انس، جابر بن سمرہ، مالک بن عبداللہ، ابو واقد، عثمان، ابومسعود، جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہی اکثر اہل علم کا قول ہے، ان لوگوں نے اسی کو پسند کیا کہ امام نماز لمبی نہ پڑھائے تاکہ کمزور، بوڑھے اور بیمار لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہلکی نماز پڑھائے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ارکان کی ادائیگی میں اطمینان و سکون اور خشوع و خضوع اور اعتدال نہ ہو، تعدیل ارکان فرض ہے، نیز اگلی حدیث سے واضح ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہلکی نماز پڑھاتے تھے تب بھی کامل نماز پڑھاتے حتیٰ کہ مغرب میں بھی سورة الطور یا سورة المرسلات پڑھتے تھے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور سب زیادہ مکمل نماز پڑھنے والے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Ans (RA) said that Allah’s Messengeer ﷺ was more brief and more perfect than everyone else in leading (congregational) salah.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 237
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سب سے ہلکی نماز ہوتی تھی سے مراد یہ ہے کہ آپ لمبی قرأت نہیں کرتے تھے، اسی طرح لمبی دعاؤں سے بھی بچتے تھے، اور سب سے زیادہ مکمل نماز کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز کے جملہ ارکان و سنن اور مستحبات کو بحسن خوبی اطمینان سے ادا کرتے تھے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نماز کی کنجی وضو (طہارت) ہے، اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے، اور اس آدمی کی نماز ہی نہیں جو «الحمدللہ» (سورۃ فاتحہ) اور اس کے ساتھ کوئی اور سورة نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The key of salah is purification. Its binding is the takbirO and its freedom is the taslimO, If anyone does not recite surah al-Fatihah and another surah in salah, fard or otherwise, then his salah is void.”
صحيح، ابن ماجة (275 و 276)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 238
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- علی بن ابی طالب ؓ کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور ابو سعید خدری کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ہم اسے کتاب الوضو کے شروع میں ذکر کرچکے ہیں (حدیث نمبر: ٣)، ٤- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ نماز کی تحریم تکبیر ہے، آدمی نماز میں تکبیر کے (یعنی اللہ اکبر کہے) بغیر داخل نہیں ہوسکتا، ٥- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: اگر آدمی اللہ کے ناموں میں سے ستر نام لے کر نماز شروع کرے اور اللہ اکبر نہ کہے تو بھی یہ اسے کافی نہ ہوگا۔ اور اگر سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہوجائے تو میں اسے حکم دیتا ہوں کہ وضو کرے پھر اپنی (نماز کی) جگہ آ کر بیٹھے اور سلام پھیرے، اور حکم (رسول) اپنے حال (ظاہر) پر (باقی) رہے گا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: آپ ﷺ نے جو «تحليها التسليم» فرمایا ہے۔ اس کی تاویل کسی اور معنی میں نہیں کی جائیگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣ (٢٧٦)، ( تحفة الأشراف: ٤٣٥٧)، مسند احمد ( ٣/٣٤٠) (صحیح) (سند میں سفیان بن وکیع ساقط الحدیث ہیں، اور طریف بن شہاب ابوسفیان سعدی “ ضعیف، لیکن علی ؓ کی حدیث (رقم: ٣) سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ kept his fingers straight when he called the takbir (Allahu Akbar).
ضعيف صفة الصلاة / الأصل، التعليق علی ابن خزيمة (458) // ضعيف الجامع الصغير وزيادته الغتح الکبير، الطبعة المرتبة برقم (4447) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 239
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن ہے، ٢- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق «ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة» روایت کی ہے (ان کے الفاظ ہیں) کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے تھے۔ یہ روایت یحییٰ بن یمان کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، یحییٰ بن یمان کی روایت غلط ہے ان سے اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے، (اس کی وضاحت آگے آرہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٠٨٢) (ضعیف) (سند میں ” یحییٰ بن الیمان “ اخیر عمر میں مختلط ہوگئے تھے، اس لیے انہیں وہم زیادہ ہوتا تھا، اس لیے انہوں نے ” رفع يديه مداً “ (اگلی روایت کے الفاظ) کی بجائے ” نشر أصابعه “ کہہ دیا)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے۔
Sayyidina Sa’eed ibn Sam’an (RA) reported for Sayyidina Abu Hurairah (RA) that when Allah’s Messenger ﷺ stood up for salah, he kept the fingers straight and raised both hands high.
صحيح، صفة الصلاة (67)، التعليق علی ابن خزيمة (459)، صحيح أبي داود (735)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 240
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کا کہنا ہے کہ یہ یحییٰ بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور یحییٰ بن یمان کی حدیث غلط ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد ( ابوحاتم رازی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ کو اس میں وہم ہوا ہے، وہ «إذا قام إلى الصلاة رفع إليه مداً» کہنا چاہ رہے تھے لیکن ان سے چوک ہوگئی انہوں نے غلطی سے «إذا کبّر للصلاة نشر أصابعه» کی روایت کردی، ابن ابی ذئب کے تلامذہ میں سے ثقات نے «إذا قام إلى الصلاة مدّاً» ہی کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی: ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات ۔
Ans ibn Malik (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “As for him who prayed for forty days purely for Allah’s sake beginning with takbir oola (the very first takbir) he will get deliverance from two things: deliverance from the fire and deliverance from hypocrisy.”
انس سے یہ حدیث موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ ابوقتیبہ سلمہ بن قتیبہ کے سوا کسی نے اسے مرفوع روایت کیا ہو یہ حدیث حبیب بن ابی حبیب بجلی سے بھی روایت کی جاتی ہے انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اسے انس ہی کا قول قرار دیا ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، نیز اسماعیل بن عیاش نے یہ حدیث بطریق «عمارة بن غزية عن أنس بن مالک عن عمر بن الخطاب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اور یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ١ ؎ ہے، عمارہ بن غزیہ نے انس بن مالک کا زمانہ نہیں پایا۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر «سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا إله غيرك» اے اللہ! پاک ہے تو ہر عیب اور ہر نقص سے، سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں پڑھتے پھر «الله أكبر کبيرا» اللہ بہت بڑا ہے کہتے پھر «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے، پناہ چاہتا ہوں، اس کے وسوسوں سے، اس کے کبر و نخوت سے اور اس کے اشعار اور جادو سے کہتے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ stood up for salah in the night, he would call out the takbir (Allahu Akbar). Then, he would say: “O Allah! You are without blemish, and with your praise. Your name is Blessed and your Glory is exalted. And there is no God besides you.” Then, he would say, “Allah is the Greatest. The Greatest, indeed.”Then, he said: “I seek refuge in Allah, the All-Hearing, the All-Knowing from the rejected devil from his goading, blowing his breath and his spittle (to cause evil).”
صحيح، ابن ماجة (804)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 242
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن مسعود، جابر، جبیر بن مطعم اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- اس باب میں ابوسعید کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے، ٣- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کو اختیار کیا ہے، رہے اکثر اہل علم تو ان لوگوں نے وہی کہا ہے جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ «سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا إله غيرك» کہتے تھے ٢ ؎ اور اسی طرح عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے۔ تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ٤- ابوسعید ؓ کی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سعید راوی حدیث علی بن علی رفاعی کے بارے میں کلام کرتے تھے۔ اور احمد کہتے تھے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دعا استفتاح کے سلسلہ میں سب سے زیادہ صحیح ابوہریرہ ؓ کی روایت «اللهم باعد بيني وبين خطاي» الخ ہے کیونکہ اس کی تخریج بخاری اور مسلم دونوں نے کی ہے، پھر اس کے بعد علی ؓ کی روایت «إني وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض» الخ ہے اس لیے کہ اس کی تخریج مسلم نے کی ہے، بعض لوگوں نے اس روایت کے سلسلہ میں یہ کہا ہے کہ امام مسلم نے اس کی تخریج صلاۃ اللیل میں کی جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ دعا نماز تہجد کے لیے مخصوص ہے اور فرض نماز میں یہ مشروع نہیں، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ روایت مسلم میں صلاۃ اللیل میں دو طریق سے منقول ہے لیکن کسی میں بھی یہ منقول نہیں ہے کہ یہ دعا آپ صرف تہجد میں پڑھتے تھے، اور امام ترمذی نے ابواب الدعوات میں تین طرق سے اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن کسی میں بھی نہیں ہے کہ آپ تہجد میں اسے پڑھتے تھے، اس کے برعکس ایک روایت میں ہے کہ جب آپ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تب یہ دعا پڑھتے تھے، ابوداؤد نے بھی اپنی سنن میں کتاب الصلاۃ میں اسے دو طریق سے نقل کیا ہے، ان میں سے کسی میں بھی یہ نہیں ہے کہ یہ دعا آپ تہجد میں پڑھتے تھے، بلکہ اس کے برعکس ایک میں یہ ہے کہ آپ جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اس وقت یہ دعا پڑھتے، اسی طرح دارقطنی کی ایک روایت میں ہے کہ جب فرض نماز شروع کرتے تو «إني وجهت وجهي » پڑھتے، ان احادیث کی روشنی میں یہ قول کہ یہ نفلی نماز کے ساتھ مخصوص ہے صحیح نہیں ہے۔ ٢ ؎: اس حدیث میں ابو سعید خدری ؓ والی مذکور دعا اور عمر بن الخطاب وابن مسعود ؓ والی دعا میں فرق یہ ہے کہ ابوسعید والی میں ذرا اضافہ ہے جیسے «الله أكبر کبيراً» اور «أعوذ بالله…من همزه ونفخه» جبکہ عمر ؓ والی میں یہ اضافہ نہیں ہے اور سند اور تعامل کے لحاظ سے یہی زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٢٢ (٧٧٥)، سنن النسائی/الافتتاح ١٨ (٩٠٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١ (٨٠٤)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٥٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٣ (١٢٧٥) (صحیح) (یہ اور عائشہ ؓ کی اگلی حدیث دونوں کی سندوں میں کچھ کلام ہے اس لیے یہ دونوں حدیثیں متابعات وشواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہیں)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز شروع کرتے تو «سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا إله غيرك» کہتے۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated that when the Prophet ﷺ began the salah, he said , “O Allah! You are without blemish, and with your praise. Your name is Blessed and your Glory is exalted. And there is no God besides you.”
صحيح، ابن ماجة (806)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 243
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٢٢ (٧٧٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١ (٨٠٦)، ( تحفة الأشراف: ١٧٨٨٥)، وکذا: ١٦٠٤١) (صحیح) (حارثہ بن ابی الرجال ضعیف ہیں، جیسا کہ خود مؤلف نے کلام کیا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
عبداللہ بن مغفل ؓ کے بیٹے کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے نماز میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کہتے سنا تو انہوں نے مجھ سے کہا: بیٹے! یہ بدعت ہے، اور بدعت سے بچو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ اسلام میں بدعت کا مخالف ہو، میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ، ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان ؓ کے ساتھ نماز پڑھی ہے لیکن میں نے ان میں سے کسی کو اسے (اونچی آواز سے) کہتے نہیں سنا، تو تم بھی اسے نہ کہو ١ ؎، جب تم نماز پڑھو تو قرأت «الحمد لله رب العالمين» سے شروع کرو۔
The son of Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) said that when his father heard him recite the Bismillah audibly in salah, he said, ‘O my son, this is something new (bid’ah). Keep away from innovation.’ Ibn Abdullah said, “I did not find any of the sahabah more against innovation in Islam than my father.’ He (Abdullah) said, “I offered salah with the Prophet ﷺ and with Abu Bakr (RA) Umar (RA) and Uthman (RA). None of them said the Bismillah in a loud voice. So, when you offer salah, do not recite it loudly, and begin the recital with al-Fatihah.”
ضعيف، ابن ماجة (815) // ضعيف سنن ابن ماجة (174) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 244
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مغفل ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- صحابہ جن میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی ؓ وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، یہ لوگ «بسم اللہ الرحمن الرحیم» زور سے کہنے کو درست نہیں سمجھتے (بلکہ) ان کا کہنا ہے کہ آدمی اسے اپنے دل میں کہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: تم بھی اسے نہ کہو سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے سرے سے «بسم اللہ» پڑھنے ہی سے منع کیا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے جہر ( بلند آواز ) سے پڑھنے سے روکنے پر محمول کیا جائے، اس لیے کہ اس سے پہلے جو یہ جملہ ہے کہ ان میں سے کسی کو میں نے اسے کہتے نہیں سنا، اس جملے کا تعلق بلند آواز سے ہے کیونکہ وہی چیز سنی جاتی ہے جو جہر ( زور ) سے کہی جائے، مصنف کا ترجمۃ الباب میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ٢ ؎: «بسم اللہ» کے زور سے پڑھنے کے متعلق جو احادیث آئی ہیں ان میں سے اکثر ضعیف ہیں، ان میں سب سے عمدہ روایت نعیم المحجر کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں «صليت وراء أبي هريرة فقرأ بسم اللہ الرحمن الرحيم ثم قرأ بأم القرآن حتی إذا بلغ غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقال آمين وقال الناس آمين» الحدیث، اس روایت پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اس روایت کو نعیم المحجر کے علاوہ اور بھی لوگوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے لیکن اس میں «بسم اللہ» کا ذکر نہیں ہے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ نعیم المحجر ثقہ ہیں اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے اس لیے اس سے جہر پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ سرّاً اور جہراً دونوں طرح سے جائز ہے لیکن اکثر اور زیادہ تر صحیح احادیث آہستہ ہی پڑھنے کی آئی ہیں ( دیکھئیے حدیث رقم: ٢٤٦)۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإفتتاح ٢٢ (٩٠٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤ (٨١٥)، ( تحفة الأشراف: ٩٩٦٧)، مسند احمد (٤/٥٨)، و (٥/٥٤، ٥٥) (ضعیف) (بعض ائمہ نے ” ابن عبداللہ بن مغفل “ کو مجہول قرار دے کر اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ حافظ مزی نے ان کا نام ” یزید “ بتایا ہے، اور حافظ ابن حجر نے ان کو ” صدوق “ قرار دیا ہے)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی نماز «بسم اللہ الرحمن الرحيم» سے شروع کرتے تھے۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ commenced his salah with ‘Bismillah ir Rahman ir Rahim’ ( In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful).
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 245
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- صحابہ کرام میں سے جن میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر ؓ شامل ہیں اور ان کے بعد تابعین میں سے کئی اہل علم «بسم اللہ الرحمن الرحيم» زور سے کہنے کے قائل ہیں، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٥٣٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو خالد الوالبی لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں)
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔
Sayyidina Anas narrated that Allah’s Messenger ﷺ and Abu Bakr, Umar and Uthman (RA) commenced their recital with Alhamdu lillahi rabbi al-alamin (the first verse of al-Fatihah).
صحيح، ابن ماجة (813)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 246
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ شافعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سورت سے پہلے سورة فاتحہ پڑھتے تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ «بسم اللہ الرحمن الرحيم» نہیں پڑھتے تھے، شافعی کی رائے ہے کہ قرأت «بسم اللہ الرحمن الرحيم» سے شروع کی جائے اور اسے بلند آواز سے پڑھا جائے جب قرأت جہر سے کی جائے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کے جہر کے قائل نہیں ہیں وہ اسی روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ سبھی قرأت «الحمد لله رب العالمين» سے شروع کرتے تھے، اور جہر کے قائلین اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہاں «الحمد لله رب العالمين» سے مراد سورة فاتحہ ہے نہ کہ خاص یہ الفاظ، حدیث کا مطلب ہے کہ یہ لوگ قرأت کی ابتداء سورة فاتحہ سے کرتے تھے۔
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی ١ ؎۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit narrated that the Prophet ﷺ said, “He who does not recite Fatihatul Kitab has not observed salah.”
صحيح، ابن ماجة (837)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 247
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین وغیرہم ؓ شامل ہیں کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورة فاتحہ پڑھے بغیر نماز کفایت نہیں کرتی، علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں: جس نماز میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی گئی وہ ناقص اور ناتمام ہے۔ یہی ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے، فرض ہو یا نفل ہو، خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے ہو امام ہو یا مقتدی، ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی، اس لیے کہ «لا» نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے معنی میں اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ ازروئے شرع نماز مخصوص اقوال اور افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہٰذا بعض یا کل کی نفی سے اس کی نفی ہوجائے گی اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہوسکتی تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو اور وہ صحت ہے نہ کہ کمال اس لیے کہ صحت اور کمال دونوں مجاز میں سے ہیں، صحت ذات سے اقرب اور کمال ذات سے ابعد ہے اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے، نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلہ میں ذات سے ابعد ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم لوگ بھی آمین کہو۔ اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “When (after reciting surah al-Fatihah) the imam says aameen, you too say aameen (because .the angels also say it). So, if anyone’s aazneen coincides with the angel’s then all his past sins are forgiven.”
صحيح، ابن ماجة (851)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 250
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١١ (٧٨٠)، و ١١٣ (٧٨٢)، وتفسیر (٤٤٧٥)، صحیح مسلم/الصلاة ١٨ (٤١٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٧٢ (٩٣٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٣ (٩٢٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤ (٨٥١)، ( تحفة الأشراف: ١٣٢٣٠، ١٥٢٤٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١١ (٤٦)، مسند احمد (٢/٢٣٨، ٤٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٨ (١٢٨١) (صحیح)
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ (نماز میں) دو سکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے یاد کیا ہے، اس پر عمران بن حصین ؓ نے اس کا انکار کیا اور کہا: ہمیں تو ایک ہی سکتہ یاد ہے۔ چناچہ (سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں) ہم نے مدینے میں ابی بن کعب ؓ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے (ٹھیک) یاد رکھا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں: تو ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: جب نماز میں داخل ہوتے (پہلا اس وقت) اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد کہا اور جب «ولا الضالين» کہتے ١ ؎ اور آپ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں تو تھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔
Saeed reported from Qatadab who from Hasan that Sayyidina Samurah (RA) narrated having rememberred two silent periods in salah. Sayyidina breran ibn Husayn Denied that, saying, ‘We remember only one period of silence.” So, they wrote to Sayyidina Ubayy ibn Ka’b at Madinah and he wrote back that Samurah rememberred correctly. Sa’eed said that they asked Qatadah what those periods of silence were. He said, “(They were) When one begins the salah (after the first takbir) and when one finishes the recital at Waladdaaleen . The narrator said that he liked very much the silence on finishing the recital till he had regained his breath.
ضعيف، ابن ماجة (844 و 845) // ضعيف سنن ابن ماجة (180 و 181)، ضعيف أبي داود (163 /777)، الإرواء (505)، المشکاة (818) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 251
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سمرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے نماز شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد (تھوڑی دیر) چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔ اور یہی احمد، اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: پہلے تو قتادہ نے دوسرے سکتے کے بارے میں یہ کہا کہ وہ پوری قراءت سے فراغت کے بعد ہے، اور بعد میں کہا کہ وہ «ولا الضالين» کے بعد اور سورة کی قراءت سے پہلے ہے، یہ قتادہ کا اضطراب ہے، اس کی وجہ سے بھی یہ روایت ضعیف مانی جاتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ دوسرا سکتہ پوری قراءت سے فراغت کے بعد اور رکوع سے پہلے اس روایت کی تائید کئی طرق سے ہوتی ہے، ( دیکھئیے ضعیف ابی داود رقم ١٣٥-١٣٨) امام شوکانی نے: «حصل من مجموع الروايات ثلاث سکتات» کہہ کر تین سکتے بیان کیے ہیں اور تیسرے کے متعلق کہ جو سورة الفاتحہ، اس کے بعد والی قرأت اور رکوع سے پہلے ہوگا - «وهي أخف من الأولی والثانية۔» یہ تیسرا سکتہ افتتاح صلاۃ کے فوراً بعد سورة الفاتحہ سے قبل والے پہلے سکتہ اور «ولا الضالين» کے بعد اگلی قرأت سے قبل والے دوسرے سکتہ سے بہت ہلکا ہوگا، یعنی مام کی سانس درست ہونے کے لیے بس ( دیکھئیے: تحفۃ الأحوذی ١/٢١٣ طبع المکتبۃ الفاروقیۃ، ملتان، پاکستان )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٢٣ (٧٧٧، ٧٧٨، ٧٧٩، ٧٨٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢ (٨٤٤، ٨٤٥)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٨٩)، وکذا (٤٥٧٦، و ٤٦٠٩)، مسند احمد (٥/٢١) (ضعیف) (حسن بصری کے سمرہ سے حدیث عقیقہ کے سوا سماع میں اختلاف ہے، نیز ” حسن “ ” مدلس “ ہیں، اور یہاں پر نہ تو ” سماع “ کی صراحت ہے، نہ ہی تحدیث کی، اس پر مستزاد یہ کہ ” قتادہ “ بھی مدلس ہیں، اور ” عنعنہ “ سے روایت ہے)
ہلب طائی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری امامت کرتے تو بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔
Qabisah ibn Huib reported from his father tha Allah’s Messenger i- led them in prayer and held his left hand with his right.
حسن صحيح، ابن ماجة (809)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 252
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ہلب ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں وائل بن حجر، غطیف بن حارث، ابن عباس، ابن مسعود اور سہیل بن سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ١ ؎، اور بعض کی رائے ہے کہ انہیں ناف کے اوپر رکھے اور بعض کی رائے ہے کہ ناف کے نیچے رکھے، ان کے نزدیک ان سب کی گنجائش ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے برعکس امام مالک سے جو ہاتھ چھوڑنے کا ذکر ہے وہ شاذ ہے صحیح نہیں، مؤطا امام مالک میں بھی ہاتھ باندھنے کی روایت موجود ہے شوافع، احناف اور حنابلہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ہی سنت ہے، اب رہا یہ مسئلہ کہ ہاتھ باندھے کہاں جائیں سینے پر یا زیر ناف؟ تو بعض حضرات زیر ناف باندھنے کے قائل ہیں مگر زیر ناف والی حدیث ضعیف ہے، بعض لوگ سینے پر باندھنے کے قائل ہیں ان کی دلیل وائل بن حجر ؓ کی روایت «صلیت مع النبی ﷺ فوضع یدہ الیمنیٰ علی یدہ الیسریٰ علی صدرہ» ہے، اس روایت کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں کی ہے اور یہ ابن خزیمہ کی شرط کے مطابق ہے اور اس کی تائید ہلب الطائی کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کی تخریج امام احمد نے اپنی مسند میں ان الفاظ کے ساتھ کی ہے «رأیت رسول اللہ ینصرف عن یمینہ وعن یسارہ ورأیتہ یضع ہذہ علی صدرہ ووصف یحییٰ الیمنیٰ علی الیسریٰ فوق المفصل» (یزید بن قنافہ ہلب الطائی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ( سلام پھیرتے وقت ) دیکھا کہ آپ ( پہلے ) دائیں جانب مڑتے اور پھر بائیں جانب، اور میں نے آپ ﷺ کو یوں بھی دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھتے تھے، امام احمد بن حنبل کے استاذ یحییٰ بن سعید نے ہلب ؓ کے اس بیان کی عملی وضاحت اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر جوڑ کے اوپر باندھ کر کی ) ۔ اس کے سارے رواۃ ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل ہے ( مسند احمد ٥/٢٢٦) اور وائل بن حجر کی روایت پر جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس میں اضطراب ہے، ابن خزیمہ کی روایت میں «علی صدرہ» ہے، بزار کی روایت میں «عند صدرہ» ہے اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں «تحت السرۃ» ہے تو یہ اعتراض صحیح نہیں ہے، کیونکہ مجرد اختلاف سے اضطراب لازم نہیں آتا بلکہ اضطراب کے لیے شرط ہے کہ تمام وجوہ اختلاف برابر ہوں اور یہاں ایسا نہیں ہے ابن ابی شیبہ کی روایت میں «تحت السرۃ» کا جو لفظ ہے وہ مدرج ہے، اسے جان بوجھ کر بعض مطبع جات کی طرف سے اس روایت میں داخل کردیا گیا ہے اور ابن خزیمہ کی روایت میں «علی صدرہ» اور بزار کی روایت «عند صدرہ» جو آیا ہے تو ان دونوں میں ابن خزیمہ والی روایت راجح ہے، کیونکہ ہلب طائی ؓ کی روایت اس کے لیے شاہد ہے، اور طاؤس کی ایک مرسل روایت بھی اس کی تائید میں ہے اس کے برعکس بزار کی حدیث کی کوئی شاہد روایت نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة (٨٠٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٧٣٥)، مسند احمد (٥/٢٢٦، ٢٢٧) (حسن صحیح)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ١ ؎ اور ابوبکر اور عمر ؓ بھی۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ used to call the takbir at every bowing, rising, standing and sitting. And Abu Bakr (RA) and Umar (also did that).
صحيح، الإرواء (330)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 253
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر، ابو مالک اشعری، ابوموسیٰ، عمران بن حصین، وائل بن حجر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام کا جن میں ابوبکر، عمر، عثمان علی ؓ وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین کا عمل اسی پر ہے اور اسی پر اکثر فقہاء و علماء کا عمل بھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح دو رکعت والی نماز میں کل گیارہ تکبیریں اور چار رکعت والی نماز میں ٢٢ تکبیریں ہوئیں اور پانچوں فرض نمازوں میں کل ٩٤ تکبیریں ہوئیں، واضح رہے کہ رکوع سے اٹھتے وقت آپ «سمع اللہ لمن حمده» کہتے تھے، اس لیے اس حدیث کے عموم سے یہ مستثنیٰ ہے، ان تکبیرات میں سے صرف تکبیر تحریمہ فرض ہے باقی سب سنت ہیں اگر وہ کسی سے چھوٹ جائیں تو نماز ہوجائے گی البتہ فضیلت اور سنت کی موافقت اس سے فوت ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٣٤ (١٠٨٤)، و ٨٣ (١١٤٣)، و ٩٠ (١١٥٠)، وفی السہو ٧٠ (١٣٢٠)، ( تحفة الأشراف: ٩١٧٤) وکذا (٩٤٧٠)، مسند احمد (١/٤٨٦، ٤٤٢، ٤٤٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٠ (١٢٨٣ م) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے (تو بھی اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھاتے) ١ ؎۔ ابن ابی عمر (ترمذی کے دوسرے استاذ) نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے، دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔
Saalim reported from his father Sayyidina Ibn Umar (RA) that when Allah’s Messenger began prayer, he raised his hands opposite his shoulders. Then when he bowed into ruku and when he raised his head after bowing. In his own narration, Sayyidina Ibn Umar (RA) added, “But, he did not raise them between two prostrates.”Imam Tirmidhi said: Fadi ibn Sabah Baghdadi reported a similar Hadith from Sufyan ibn Uyaynah, from Zuhri, from the same sanad from Sayyidina Ibn Umar (RA) .
صحيح، ابن ماجة (858)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 255
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادۃ، ابوموسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہی صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوہریرہ، انس، ابن عباس، عبداللہ بن زبیر ؓ وغیرہ شامل ہیں اور تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر وغیرہ کہتے ہیں، اور یہی مالک، معمر، اوزاعی، ابن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین مسنون ہے اور بعض حدیثوں سے تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت بھی رفع یدین کرنا ثابت ہے، صحابہ کرام اور تابعین عظام میں زیادہ تر لوگوں کا اسی پر عمل ہے، خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ سے بھی رفع یدین ثابت ہے، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رفع یدین کی حدیثیں منسوخ ہیں وہ صحیح نہیں کیونکہ رفع یدین کی حدیثیں ایسے صحابہ سے بھی مروی ہیں جو آخر میں اسلام لائے تھے مثلاً وائل بن حجر ہیں جو غزوہ تبوک کے بعد ٩ ھ میں داخل اسلام ہوئے ہیں، اور یہ اپنے اسلام لانے کے دوسرے سال جب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے تو وہ سخت سردی کا زمانہ تھا انہوں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ کپڑوں کے نیچے سے رفع یدین کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨٣ (٧٣٥)، و ٨٤ (٧٣٦)، و ٨٥ (٧٣٨)، و ٨٦ (٧٣٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٩ (٣٩٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ١١٦ (٧٧١)، سنن النسائی/الافتتاح ١ (٨٧٧، ٨٧٨، ٨٧٩)، و ٨٦ (١٠٢٦)، والتطبیق ١٩ (١٠٥٨)، و ٢١ (١٠٦٠)، و ٣٧ (١٠٨٩)، و ٨٥ (١١٥٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٥ (٨٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٦٨١٦)، موطا امام مالک/الصلاة ٤ (١٦)، مسند احمد (٢/٨، ١٨، ٤٤، ٤٥، ٤٧، ٦٣، ١٠٠، ١٤٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٤١ (١٤٨٥)، و ٧١ (١٣٤٧) (صحیح)
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ١ ؎۔
Alqamah reported the saying of Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) Shall I not pray for you the salah of Allah’s Messenger “? So he prayed the salah and did not raise his hands except the first time.
صحيح صفة الصلاة - الأصل، المشکاة (809)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 257
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں براء بن عازب ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ رفع یدین کی مشروعیت کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، امام احمد اور امام بخاری نے عاصم بن کلیب کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ان روایتوں کے معارض نہیں جن سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے، اس لیے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں، دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے اسے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اوروں کی روایت غلط ہو، عبداللہ بن مسعود ؓ سے بہت سے مسائل مخفی رہ گئے تھے، ہوسکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا ( رکوع کے درمیان دونوں ہاتھوں کی ) تطبیق کی منسوخی کا معاملہ ہے۔