انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پر معراج کی رات پچاس نمازیں فرض کی گئیں، پھر کم کی گئیں یہاں تک کہ (کم کرتے کرتے) پانچ کردی گئیں۔ پھر پکار کر کہا گیا: اے محمد! میری بات اٹل ہے، تمہیں ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا ١ ؎۔
Sayyidina Ans ibn Malik (RA) narrated that fifty prayers, were made obligatory on the Prophet ﷺ on the night of mi’raj. Then they were reduced till five remained. Then, a voice called, ‘ O Muhammad ﷺ our word is never changed. For you, indeed, with these five will accrue (reward of) fifty.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 213
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ٢- اس باب میں عبادہ بن صامت، طلحہ بن عبیداللہ، ابوذر، ابوقتادہ، مالک بن صعصہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: پہلے جو پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئی تھیں، کم کر کے ان کو اگرچہ پانچ وقت کی کردیا گیا ہے مگر ثواب وہی پچاس وقت کا رکھا گیا ہے، ویسے بھی اللہ کے یہاں ہر نیکی کا ثواب شروع سے دس گنا سے ہوتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزانہ پانچ وقت کی نماز اور ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہ سرزد نہ ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The five prayers and a Friday (salah) are expiation for that which is between them (of minor sins) provided major sins are not committed.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 214
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، انس اور حنظلہ اسیدی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: باجماعت نماز تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah Messenger ﷺ said, “Salah offered with the congregation is twenty-seven ranks more excellent than that offered individually.”
صحيح، ابن ماجة (789)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 215
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوسعید، ابوہریرہ اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نافع نے ابن عمر سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صلاۃ باجماعت آدمی کی تنہا نماز پر ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔ ٤- عام رواۃ نے (صحابہ) نبی اکرم ﷺ سے پچیس درجے نقل کیا ہے، صرف ابن عمر نے ستائیس درجے کی روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٠ (٦٤٥)، و ٣١ (٦٤٩)، صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٥٠)، سنن النسائی/الإمامة ٤٢ (٨٣٨)، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٦ (٧٨٩)، ( تحفة الأشراف: ٨٠٥٥)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ١ (١)، مسند احمد (٢/١٧، ٦٥، ١٠٢، ١١٢)، سنن الدارمی/الصلاة (٥٦) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ اپنے کچھ نوجوانوں کو میں لکڑی کے گٹھر اکٹھا کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں تو کھڑی کی جائے، پھر میں ان لوگوں (کے گھروں) کو آگ لگا دوں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “Indeed, I had resolved to order my young men to gather a stack of wood and I should command for the salah to begin and the iqama would be called. Then I would burn down the (homes of) people not presenting themselves for salah.”Mujahid reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) was asked about a man who kept fast during day time and offered salah all night but did not attend jumu’ah (Friday) or any congregation. He said, ‘He will go to Hell.” Hannad reported it. He heard from Maharabi who from Layth who from Mujahid. The Hadith means to say that the man did not attend Friday and other congregational salah intentionally or because of arrogance or because he regarded the congregation as lowly.
صحيح، ابن ماجة (791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 217
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابو الدرداء، ابن عباس، معاذ بن انس اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ میں سے کئی لوگوں سے مروی ہے کہ جو اذان سنے اور نماز میں نہ آئے تو اس کی نماز نہیں ہوتی، ٤- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ یہ برسبیل تغلیظ ہے (لیکن) ، کسی کو بغیر عذر کے جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ الأذان ٢٩ (٦٤٤)، و ٣٤ (٦٥٧)، والخصومات ٥ (٢٤٢)، والأحکام ٥٢ (٧٢٢٤)، صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٥١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٧ (٥٤٨، ٥٤٩)، سنن النسائی/الإمامة ٤٩ (٨٤٩)، سنن ابن ماجہ/المساجد ١٧ (٧٩١)، ( تحفة الأشراف: ١٤٨١٩)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ١ (٣)، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٣٧٦، ٤٨٩، ٥٣١)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٤ (١٣١٠) (صحیح)
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو دن کو روزہ رکھتا ہو اور رات کو قیام کرتا ہو۔ اور جمعہ میں حاضر نہ ہوتا ہو، تو انہوں نے کہا: وہ جہنم میں ہوگا۔ مجاہد کہتے ہیں: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ جماعت اور جمعہ میں ان سے بےرغبتی کرتے ہوئے، انہیں حقیر جانتے ہوئے اور ان میں سستی کرتے ہوئے حاضر نہ ہوتا ہو۔
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 218
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٢١) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں)
یزید بن اسود عامری ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک رہا۔ میں نے آپ کے ساتھ مسجد خیف میں فجر پڑھی، جب آپ نے نماز پوری کرلی اور ہماری طرف مڑے تو کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے آخر میں (سب سے پیچھے) دو آدمی ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی۔ آپ نے فرمایا: انہیں میرے پاس لاؤ ، وہ لائے گئے، ان کے مونڈھے ڈر سے پھڑک رہے تھے۔ آپ نے پوچھا: تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپ نے فرمایا: ایسا نہ کیا کرو، جب تم اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو پھر مسجد آؤ جس میں جماعت ہو رہی ہو تو لوگوں کے ساتھ بھی پڑھ لو ١ ؎ یہ تمہارے لیے نفل ہوجائے گی ۔
Jabir ibn Yazid al-Aswad reported his father as saying, “I was with Allah’s Messenger ﷺ during the Hajj. I offered the Salah of Fajr with him in the Masjid Khayf. After the Salah, he turned to us and observed that two men had not prayed with the congregation. He said that they should be brought to him, so, they were taken to him and their veins trembled from fear. He asked them what had prevented them from offering salah with them. They said that they had offered salah already at their stations. He said, “Do not do that. If you have already prayed at your bases and come to the mosque of congregational prayer then join them in prayer that would be a supererogatory (salah) for you.”
صحيح، المشکاة (1152)، صحيح أبي داود (590)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 219
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یزید بن اسود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں محجن دیلی اور یزید بن عامر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم میں سے کئی لوگوں کا یہی قول ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب آدمی تنہا نماز پڑھ چکا ہو پھر اسے جماعت مل جائے تو وہ جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھ لے۔ اور جب آدمی تنہا مغرب پڑھ چکا ہو پھر جماعت پائے تو وہ ان کے ساتھ نماز پڑھے اور ایک رکعت اور پڑھ کر اسے جفت بنا دے، اور جو نماز اس نے تنہا پڑھی ہے وہی ان کے نزدیک فرض ہوگی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اسے ظہر، اور عشاء کے ساتھ خاص کیا ہے وہ کہتے ہیں فجر اور عصر کے بعد نفل پڑھنا درست نہیں اور مغرب دوبارہ پڑھنے سے وہ جفت ہوجائے گی، لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ حکم عام ہے ساری نمازیں اس میں داخل ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص (مسجد) آیا رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تھے تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کون اس کے ساتھ تجارت کرے گا؟ ١ ؎ ایک شخص کھڑا ہو اور اس نے اس کے ساتھ نماز پڑھی ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated that after Allah’s Messenger ﷺ had finished prayer a man came. So he said, “Who will join this man in trading?” A man got up and offered salah with him. (Thus, both earned reward of congregational prayer)
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوامامہ، ابوموسیٰ اور حکم بن عمیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ جس مسجد میں لوگ جماعت سے نماز پڑھ چکے ہوں اس میں (دوسری) جماعت سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- اور بعض دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ وہ تنہا تنہا نماز پڑھیں، یہی سفیان، ابن مبارک، مالک، شافعی کا قول ہے، یہ لوگ تنہا تنہا نماز پڑھنے کو پسند کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک روایت میں ہے «ألا رجل يتصدق علی هذا فيصلي معه» کیا کوئی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے یعنی اس کے ساتھ نماز پڑھے کے الفاظ آئے ہیں۔ ٢ ؎: لیکن اس حدیث میں صراحۃً یہ بات موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جماعت سے نماز پسند فرمائی، اس کے لیے جماعت سے نماز پڑھ چکے آدمی کو ترغیب دی کہ جا کر ساتھ پڑھ لے تاکہ پیچھے آنے والے کی نماز جماعت سے ہوجائے، تو جب پیچھے رہ جانے والے ہی کئی ہوں تو کیوں نہ جماعت کر کے پڑھیں، «فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ» (سورة الحشر: 2 ) فرض نماز کی طبیعت ہی اصلاً جماعت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٥٦ (٥٧٤)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٥٦)، مسند احمد (٣/٦٤، ٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٨ (١٤٠٨) (صحیح)
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو عشاء کی جماعت میں حاضر رہے گا تو اسے آدھی رات کے قیام کا ثواب ملے گا اور جو عشاء اور فجر دونوں نمازیں جماعت سے ادا کرے گا، اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔
Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for him who offers the Salah of Isha with the congregation he earns reward for worship a half of the night. And he who offers both the isha and fajr with the congregation is as though he was awake all through the night.”
صحيح، صحيح أبي داود (564)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 221
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عثمان کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ، انس، عمارہ بن رویبہ، جندب بن عبداللہ بن سفیان بجلی، ابی ابن کعب، ابوموسیٰ اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہ حدیث عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کے طریق سے عثمان ؓ سے موقوفاً روایت کی گئی ہے، اور کئی دوسری سندوں سے بھی یہ عثمان ؓ سے مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٦ (٦٥٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٨ (٥٥٥)، ( تحفة الأشراف: ٩٨٢٣)، موطا امام مالک/ صلاة الجماعة ٢ (٧)، مسند احمد (١/٥٨، ٦٨) (صحیح)
جندب بن سفیان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے فجر پڑھی وہ اللہ کی پناہ میں ہے تو تم اللہ کی پناہ ہاتھ سے جانے نہ دو ١ ؎۔
Sayyidina Jundub ibn Sufyan (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “He who offers the fajr with the congregation is in Allah’s protection. Hence, do not miss Allah’s protection.”
صحيح، التعليق الرغيب (1 / 141 و 163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 222
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: بھرپور کوشش کرو کہ اللہ کی یہ پناہ حاصل کرلو، یعنی فجر جماعت سے پڑھنے کی کوشش کرو تو اللہ کی یہ پناہ ہاتھ سے نہیں جائے گی، ان شاء اللہ۔
بریدہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور (بھرپور اجالے) کی بشارت دے دو ۔
Sayyidina Buraidah al-Aslami (RA)reported the Prophet ﷺ as saying, “Give glad tidings to those, who walk towards mosques in the dark, of perfect light on the day of Resurrection.”
صحيح، ابن ماجة (779 - 781)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 223
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ١ ؎ اور سب سے بری آخری صف اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ٢ ؎ ہے اور سب سے بری پہلی صف ٣ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of the rows of men is the first and the worst is the last. And, the best of the rows of women is the last and the worst of them is the first.”
صحيح، ابن ماجة (1000 و 1001)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 224
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، ابن عباس، ابوسعید، ابی بن کعب، عائشہ، عرباض بن ساریہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ پہلی صف والوں کے لیے تین بار استغفار کرتے تھے اور دوسری کے لیے ایک بار۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلی صف سے مراد وہ صف ہے جو امام سے متصل ہو سب سے بہتر صف پہلی صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے اس میں جو لوگ ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست فائدہ اٹھاتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور برے خیالات سے محفوظ رہتے ہیں، اور آخری صف سب سے بری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ٢ ؎: عورتوں کی سب سے آخری صف اس لیے بہتر ہے کہ یہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس صف میں شریک عورتیں شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ ٣ ؎: یہ حکم اس صورت میں ہے جب مردوں، عورتوں کی صفیں آگے پیچھے ہوں، اگر عورتیں مردوں سے الگ نماز پڑھ رہی ہوں تو ان کی پہلی صف ہی بہتر ہوگی۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے، اور وہ اسے قرعہ اندازی کے بغیر نہ پاسکتے تو اس کے لیے قرعہ اندازی کرتے ۔
The like of it (previous hadith, # 225) is reported by Qutaybah from Malik from Sumayya, from Abu Salih from Abu Hurayrah who from the Prophet ﷺ .
صحيح، ابن ماجة (998)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 225
نیز قتیبہ نے مالک سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 226
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٩ (٦١٥)، و ٣٢ (٦٥٤)، و ٧٢ (٧٢١)، والشہادات ٣٠ (٢٦٨٩)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٧)، سنن النسائی/المراقبة ٢٢ (٥٤١)، و ٣١ (٦٧٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥١ (٩٩٨)، ( تحفة الأشراف: ١٢٥٧٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٢)، و صلاة الجماعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧٨، ٣٠٣، ٣٧٥، ٣٧٦، ٤٢٤، ٤٦٦، ٤٧٢، ٤٧٩، ٥٣١، ٥٣٣) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفیں سیدھی کرتے تھے۔ چناچہ ایک دن آپ نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ لوگوں سے آگے نکلا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: تم اپنی صفیں سیدھی رکھو ١ ؎ اور نہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا ٢ ؎۔
Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) narrated that Allah Messenger ﷺ used to straighten their rows. One day, as he came out, he saw a man’s chest bulging out of the row. He said, “Straighten your rows otherwise Allah will put your faces in different directions.”
صحيح، ابن ماجة (994)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 227
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- نعمان بن بشیر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، جابر بن عبداللہ، انس، ابوہریرہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: صفیں سیدھی کرنا نماز کی تکمیل ہے، ٤- عمر ؓ سے مروی ہے کہ وہ صفیں سیدھی کرنے کا کام کچھ لوگوں کے سپرد کردیتے تھے تو مؤذن اس وقت تک اقامت نہیں کہتا جب تک اسے یہ نہ بتادیا جاتا کہ صفیں سیدھی ہوچکی ہیں، ٥- علی اور عثمان ؓ سے بھی مروی ہے کہ یہ دونوں بھی اس کی پابندی کرتے تھے اور کہتے تھے: «استو وا» صف میں سیدھے ہوجاؤ اور علی ؓ کہتے تھے: فلاں! آگے بڑھو، فلاں! پیچھے ہٹو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صفیں سیدھی رکھو کا مطلب یہ ہے صف میں ایک مصلی کا کندھا دوسرے مصلی کے کندھے سے اور اس کا پیر دوسرے کے پیر سے ملا ہونا چاہیئے۔ ٢ ؎: لفظی ترجمہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا، تمہاری وحدت پارہ پارہ ہوجائے گی اور تمہاری شان و شوکت ختم ہوجائے گی، یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے چہروں کو گُدّی کی طرف پھیر کر انہیں بگاڑ دے گا۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو (عقل و دانش میں) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑجائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا ۔
Sayyidna Abdullah (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, Let the prudent and sedate among you be near me. Then those who are closer to them followed by those closer to them. And do not dispute with each other lest your hearts become hateful. And keep away from the chaos of the market.’
صحيح، صحيح أبي داود (679)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 228
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے (سیکھے ہوئے مسائل) محفوظ رکھ سکیں۔
عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کردیا ١ ؎ جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک ؓ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔
Abdul Hamid ibn Mahmud narrated that they prayed behind an amir of the several amirs. The people compiled them to stand between two pillars. When they finished, Sayyidina Ans ibn Malik (RA) said, “We used to avoid that in the times of Allah’s Messenger ﷺ .
صحيح، ابن ماجة (1002)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 229
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں قرۃ بن ایاس مزنی ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- علماء میں سے کچھ لوگوں نے ستونوں کے درمیان صف لگانے کو مکروہ جانا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، اور علماء کچھ نے اس کی اجازت دی ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اتنی بھیڑ ہوگئی کہ مسجد میں جگہ نہیں رہ گئی مجبوراً ہمیں دونوں ستونوں کے درمیان کھڑا ہونا پڑا۔ ٢ ؎: اگر مجبوری ہو تب ستونوں کے درمیان صف لگائی جائے، ورنہ عام حالات میں اس سے پرہیز کیا جائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٩٥ (٦٧٣)، سنن النسائی/الإمامة ٣٣ (٨٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٩٨٠)، مسند احمد (٣/١٣١) (صحیح)
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا، (ہم لوگ رقہ میں تھے) پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ١ ؎۔
Hilal ibn Yasaf said that at ar-Riqqah, Ziyad ibn Abu al-lad held thirn by the hand and took him to a Shaykh who was called Wabisah ibn Ma’bad. He belonged to Banu Asad, Ziyad said that the Shaykh said to him, “A man prayed behind a row and the Shaykh was listening so, the Prophet ﷺ commanded him to repeat his prayer.”And, Muhammad ibn Bashshar reported from Muhammad ibn Ja’far from Shu’hah from Amr ibn Murrah from Hilal ibn Yasaf from Amr ibn Raashid from Wabisah ibn Ma’bad that: “A man prayed alone behind a row and the Prophet ﷺ asked him to repeat the salah.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1004)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 230
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- وابصہ بن معبد ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ٤- اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہوگا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ٥- اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں، ٦- مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صف کے پیچھے اگر کوئی تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو اس کی نماز درست ہے یا نہیں، اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے: امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کے نزدیک صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز درست نہیں، ان کی دلیل یہی روایت ہے نیز علی بن شیبان اور ابن عباس ؓ کی احادیث بھی ہیں جو اس معنی میں بالکل واضح ہیں، اس لیے ان کی خواہ مخواہ تاویل کی ضرورت نہیں، ( جیسا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کا یہ فرمان بطور تنبیہ تھا ) بنابریں جماعت کی مصلحت کی خاطر بعد میں آنے والے کے لیے بالکل جائز ہے کہ اگلی صف سے کسی کو کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لے، اس معنی میں کچھ روایات بھی وارد ہیں گرچہ وہ ضعیف ہیں، لیکن ان تینوں صحیح احادیث سے ان کے معنی کی تائید ہوجاتی ہے۔ ہاں! بعض علماء کا یہ کہنا ہے کہ اگر صف میں جگہ نہ ہو تب اکیلے پڑھنے سے کوئی حرج نہیں، اس حدیث میں وعید اس اکیلے مصلی کے لیے ہے جس نے صف میں جگہ ہوتے ہوئے بھی پیچھے اکیلے پڑھی ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٠٠ (٦٨٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٥٤ (١٠٠٤)، ( تحفة الأشراف: ١١٧٣٨)، مسند احمد (٤/٢٢٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، میں جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کرلیا۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that he joined the Prophet ﷺ in prayer one night. He stood to the Prophet’s ﷺ left but he held his head from behind and brought him to his right side.’
صحيح، صحيح أبي داود (1237)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 232
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤١ (١١٧)، والوضوء ٥ (١٣٨)، والأذان ٥٧ (٦٩٧)، و (٦٩٨)، ٥٩ (٦٩٩)، و ٧٧ (٧٢٦)، و ٧٩ (٧٢٨)، و ١٦١ (٨٥٩)، والوتر ١ (٩٩٢)، والعمل فی الصلاة ١ (١١٩٨)، وتفسیر آل عمران ١٩ (٤٥٧١)، و ٢٠ (٤٥٧٢)، واللباس ٧١ (٥٩١٩)، والدعوات ١٠ (٦٣١٩)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/ الصلاة ٧٠ (٦١٠)، و ٣١٦ (١٣٦٤)، سنن النسائی/الغسل ٢٩ (٤٤٣)، الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، وقیام اللیل ٩ (١٦٢١)، ( تحفة الأشراف: ٦٣٥٦)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٨٥، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٣ (١٢٩٠) (صحیح)
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک آگے بڑھ جائے۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ commanded them that when they are three men, one of them must lead the others, stepping ahead. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 233
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- سمرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود، جابر اور انس بن مالک ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ جب تین آدمی ہوں تو دو آدمی امام کے پیچھے کھڑے ہوں، ابن مسعود ؓ نے علقمہ اور اسود کو نماز پڑھائی تو ان دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کیا اور ابن مسعود ؓ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا، ٤- بعض لوگوں نے اسماعیل بن مسلم مکی پر ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سند کے لحاظ سے اگرچہ یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے مگر سارے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر دو آدمی ہوں اور جگہ میں گنجائش ہو تو دونوں مقتدی پیچھے کھڑے ہوں گے اور ایک جو امام ہوگا وہ آگے کھڑا ہوگا، رہا ابن مسعود ؓ کا دونوں کو اپنے دائیں بائیں ساتھ میں کھڑا کرلینے کا معاملہ تو ہوسکتا ہے کہ وہاں جگہ ایسی نہ ہو، ویسے اسی واقعہ میں ہے کہ انہوں نے رکوع میں تطبیق کی اور دونوں سے کرائی۔ تطبیق کا مطلب ہوتا ہے: رکوع یا تشہد میں مصلی کا اپنے دونوں ہاتھوں یا ہتھیلیوں کو رانوں یا گھٹنوں کے درمیان رکھنا، اور یہ منسوخ و ممنوع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٥٧٥) (ضیعف الإسناد) (سند میں اسماعیل بن مسلم مکی ضعیف ہیں، مگر اصل حدیث شواہد سے ثابت ہے)
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان کی دادی ملیکہ ؓ نے کھانا پکایا اور اس کو کھانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کو مدعو کیا، آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: اٹھو چلو ہم تمہیں نماز پڑھائیں ، انس کہتے ہیں ـ: تو میں اٹھکراپنیایکچٹائی کے پاسآیاجوزیادہاستعمالکیوجہ سے کالیہوگئی تھی، میں نے اسے پانی سے دھویا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم اسپرکھڑے ہوئے، میں نے اور یتیمنے آپکے پیچھے اسپرصفلگائی اوردادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں، تو آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ ﷺ ہماری طرف پلٹے۔
Sayyidina Ans ibn Malik (RA) reported that his grand mother, Mulaykah, invited Allah’s Messenger ﷺ to a meal prepared by her. He ate therefrom and then said, ‘Stand up, that we may pray with you.” Anas said that he stood up and picked up his old mat which had turned black due to age. He sprinkled water on itOand Allah’s Messenger ﷺ stood on it and Anas and Yatim formed a row behind him. The old woman stood behind them. So, the Prophet ﷺ prayed two rakaat with them, and then departed.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 234
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت ہو تو مرد امام کے دائیں طرف کھڑا ہو اور عورت ان دونوں کے پیچھے۔ ٣- بعض لوگوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ جب آدمی صف کے پیچھے تنہا ہو تو اس کی نماز جائز ہے، وہ کہتے ہیں کہ بچے پر نماز تو تھی ہی نہیں گویا عملاً انس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تنہا ہی تھے، لیکن ان کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے انس کو اپنے پیچھے یتیم کے ساتھ کھڑا کیا تھا، اور اگر نبی اکرم ﷺ یتیم کی نماز کو نماز نہ مانتے تو یتیم کو ان کے ساتھ کھڑا نہ کرتے بلکہ انس کو اپنے دائیں طرف کھڑا کرتے، انس ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا، اس حدیث میں دلیل ہے کہ آپ نے نفل نماز پڑھی تھی اور انہیں برکت پہنچانے کا ارادہ کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٠ (٣٨٠)، والأذان ٧٨ (٧٢٧)، و ١٦١ (٨٦٠)، و ١٦٤ (٨٧١)، و ١٦٧ (٨٧٤)، صحیح مسلم/المساجد (٦٥٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٧١ (٦١٢)، سنن النسائی/المساجد ٤٣ (٧٣٨)، والإمامة ١٩ (٨٠٢)، و ٦٢ (٨٧٠)، ( تحفة الأشراف: ١٩٧)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٩ (٣١)، مسند احمد (٣/١٣١، ١٤٥، ١٤٩، ١٦٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٤) (صحیح)