نماز کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 2 · 297 hadiths · Page 3 of 16

192Sunan At-Tirmidhi

اذان میں ترجیع

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَحْذُورَةَ اسْمُهُ: سَمُرَةُ بْنُ مِعْيَرٍ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا فِي الْأَذَانِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ أَنَّهُ كَانَ يُفْرِدُ الْإِقَامَةَ.

ابو محذورہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اذان کے انیس کلمات ١ ؎ اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے۔

Sayyidina Abu Mahdhurah (RA) said that the Prophet ﷺ taught him nineteen words of the Adhan and seventeen of the iqamah.

حسن صحيح، ابن ماجة (709)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 192
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم اذان کے سلسلے میں اسی طرف گئے ہیں، ٣- ابو محذورہ سے یہ بھی روایت ہے کہ وہ اقامت اکہری کہتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ انیس کلمات ترجیع کے ساتھ ہوتے ہیں، یہ حدیث اذان میں ترجیع کے مسنون ہونے پر نص صریح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣ (٣٧٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٨ (٥٠٢)، سنن النسائی/الأذان ٤ (٦٣١)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٢ (٧٠٩)، ( تحفة الأشراف: ١٢١٦٩) (حسن صحیح)
193Sunan At-Tirmidhi

تکبیر ایک ایک بارکہنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ . وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ بلال ؓ کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Sayyidina Bilal (RA) was commanded to repeat (wordings of) the adhan twice but to say the (words of) iqama once.

صحيح، ابن ماجة (729 و 730)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 193
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، اور مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١ (٦٠٣)، و ٢ (٦٠٥)، و ٣ (٦٠٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٢ (٣٧٨)، سنن النسائی/الصلاة ٢٩ (٥٠٨)، سنن النسائی/الأذان ٢ (٦٢٨)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٦ (٧٣٠)، ( تحفة الأشراف: ٩٤٣)، مسند احمد (٣/١٠٣، ١٨٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٦ (١٢٣٠، ١٢٣١) (صحیح)
194Sunan At-Tirmidhi

اقامت دو دو بار کہے

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَفْعًا شَفْعًا فِي الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، وقَالَ شُعْبَةُ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ رَأَى الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَهْلُ الْكُوفَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: ابْنُ أَبِي لَيْلَى هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، كَانَ قَاضِيَ الْكُوفَةِ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا، إِلَّا أَنَّهُ يَرْوِي عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِيهِ.

عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اذان اور اقامت دونوں دہری ہوتی تھیں۔

Sayyidina Ahdullah ibn Zayd narrated that the Prophets adhan was repeated twice both in the adhan the iqamah.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 194
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن زید کی حدیث کو وکیع نے بطریق «الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان (کا واقعہ) دیکھا، اور شعبہ نے بطریق «عمرو بن مرة عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلى» یہ روایت کی ہے کہ محمد رسول ﷺ کے اصحاب نے ہم سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن زید نے خواب میں اذان (کا واقعہ) دیکھا، ٢- یہ ابن ابی لیلیٰ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن زید سے نہیں سنا ہے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اذان اور اقامت دونوں دہری ہیں یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا قول ہے، ٤- ابن ابی لیلیٰ سے مراد محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ہیں۔ وہ کوفہ کے قاضی تھے، انہوں نے اپنے والد سے نہیں سنا ہے البتہ وہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں اور وہ ان کے والد سے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مولف کا مقصد یہ ہے کہ: عبداللہ بن زید ؓ کی یہ حدیث تین طرق سے آئی ہے، ایک یہی بطریق «ابن ابی لیلیٰ، عن عمرو بن مرۃ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن عبداللہ» دوسرے بطریق «الاعمش عن عمرو بن مرۃ، عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ، عن عبداللہ» تیسرے بطریق: «شعبۃ عن عمرو بن مرۃ عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن اصحاب محمد ﷺ» اور بقول مؤلف آخرالذکر تیسرا طریق زیادہ صحیح ہے، ( کیونکہ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا عبداللہ بن زید سے سماع نہیں ہے ) اور اس کا مضمون ( نیز دوسرے کا مضمون بھی ) پہلے سے الگ ہے، یعنی صرف خواب دیکھنے کا بیان ہے اور بس۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٣١١) (ضعیف الإسناد) (عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ کا سماع عبداللہ بن زید سے نہیں ہے)
195Sunan At-Tirmidhi

اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمنْعِم صَاحِبُ السِّقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، وَعَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِبِلَالٍ: يَا بِلَالُ إِذَا أَذَّنْتَ فَتَرَسَّلْ فِي أَذَانِكَ، وَإِذَا أَقَمْتَ فَاحْدُرْ، وَاجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ قَدْرَ مَا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ أَكْلِهِ وَالشَّارِبُ مِنْ شُرْبِهِ وَالْمُعْتَصِرُ إِذَا دَخَلَ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ وَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي .

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال ؓ سے فرمایا: بلال! جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر دو اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان و اقامت کے درمیان اس قدر وقفہ رکھو کہ کھانے پینے والا اپنے کھانے پینے سے اور پاخانہ پیشاب کی حاجت محسوس کرنے والا اپنی حاجت سے فارغ ہوجائے اور اس وقت تک (اقامت کہنے کے لیے) کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔

Sayyidina Jabir(RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said to Sayyidina Bilal (RA) , “O Bilal (RA) ! When you call the adhan, observe pauses and when you call the iqmah, speak quickly. And, let there be so much time between your adhan and your iqmah that one who eats may finish his food and one who drinks may finish his drink, and one who has to, may relieve himself. And do not get up till you have seen me.”

ضعيف جدا، لکن قوله: ولا تقوموا .. صحيح ويأتى (517)، الإرواء (228)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 195
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٢٢٢ و ٢٤٩٣) (ضعیف جداً ) (سند میں عبدالمنعم متروک ہے)
196Sunan At-Tirmidhi

اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر ادا کرنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُنْعِمِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمُنْعِمِ، وَهُوَ إِسْنَادٌ مَجْهُولٌ، وَعَبْدُ الْمُنْعِمِ شَيْخٌ بَصْرِيٌّ.

اس سند سے بھی عبدالمنعم سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔

Abdu ibn Humayd reported from Yunus ibn Muhimmad who from Abdul Mun’im the like of it.

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
جابر ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے یعنی عبدالمنعم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، اور یہ مجہول سند ہے، عبدالمنعم بصرہ کے شیخ ہیں (یعنی ضعیف راوی ہیں) ۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف جداً )
197Sunan At-Tirmidhi

اذان دیتے ہوئے کان میں انگلی ڈالنا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ وَيَدُورُ وَيُتْبِعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَهُنَا وَإِصْبَعَاهُ فِي أُذُنَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ أُرَاهُ قَالَ: مِنْ أَدَمٍ ، فَخَرَجَ بِلَالٌ بَيْنَ يَدَيْهِ بِالْعَنَزَةِ فَرَكَزَهَا بِالْبَطْحَاءِ، فَصَلَّى إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ. قَالَ سُفْيَانُ: نُرَاهُ حِبَرَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي جُحَيْفَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَيْهِ الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يُدْخِلَ الْمُؤَذِّنُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فِي الْأَذَانِ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: وَفِي الْإِقَامَةِ أَيْضًا يُدْخِلُ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَبُو جُحَيْفَةَ اسْمُهُ: وَهْبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّوَائِيُّ.

ابوجحیفہ (وہب بن عبداللہ) ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بلال کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے ١ ؎ اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال آپ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء (میدان) میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے ٢ ؎ کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ آپ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ سفیان کہتے ہیں: ہمارا خیال ہے وہ چادر یمنی تھی۔

Sayyidina Awn ibn Abu Juhayfah reported from his father that he saw Sayyidina Bilal (RA) the adhan. He turned his face sideways and his both fingers were in his two ears, and AIIahs Messenger ﷺ was in a red tent. The narrator thought that it was made of leather. Bilal (RA) advanced with the stick and planted it in the ground (at Batha) .Then Allah’s Messenger ﷺ offered salah facing it, dogs and donkeys moved about in front of the stick). The Prophet ﷺ was wearing a hullah, “as though I see the glitter of his shin.” Sufyan said that he thought that it was a Yemeni cloak.

صحيح، ابن ماجة (711)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 197
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوجحیفہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ اس چیز کو مستحب سمجھتے ہیں کہ مؤذن اذان میں اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں داخل کرے، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ اقامت میں بھی اپنی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرے گا، یہی اوزاعی کا قول ہے ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قیس بن ربیع کی روایت میں جو عون ہی سے مروی ہے یوں ہے «فلما بلغ حي علی الصلاة حي علی الفلاح لوّي عنقه يمينا وشمالاً ولم يستدر» یعنی: بلال جب «حي الصلاة حي علی الفلاح» پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں بائیں گھمائی اور خود نہیں گھومے دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جنہوں نے گھومنے کا اثبات کیا ہے انہوں نے اس سے مراد سر کا گھومنا لیا ہے اور جنہوں نے اس کی نفی کی ہے انہوں نے پورے جسم کے گھومنے کی نفی کی ہے۔ ٢ ؎: یعنی نیزہ اور قبلہ کے درمیان سے نہ کہ آپ کے اور نیزے کے درمیان سے کیونکہ عمر بن ابی زائدہ کی روایت میں «ورأيت الناس والدواب يمرون بين يدي العنزة» ہے، میں نے دیکھا کہ لوگ اور جانورنیزہ کے آگے سے گزر رہے تھے۔ ٣ ؎: اس پر سنت سے کوئی دلیل نہیں، رہا اسے اذان پر قیاس کرنا تو یہ قیاس مع الفارق ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٣)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤ (٥٢٠)، سنن النسائی/الأذان ١٣ (٦٤٤)، والزینة ٢٣ (٥٣٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١١)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٦)، مسند احمد (٤/٣٠٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨ (١٢٣٤)، (وراجع أیضا ماعند صحیح البخاری/الأذان ١٥ (٦٣٤) (صحیح)
198Sunan At-Tirmidhi

فجر کی اذان میں تثویب کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُثَوِّبَنَّ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بِلَالٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَسْمَعْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ: إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، وَأَبُو إِسْرَائِيلَ اسْمُهُ: إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي إِسْحَاق، وَلَيْسَ هُوَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ التَّثْوِيبِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَقُولَ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدَ، وقَالَ إِسْحَاق فِي التَّثْوِيبِ غَيْرَ هَذَا، قَالَ: التَّثْوِيبُ الْمَكْرُوهُ هُوَ شَيْءٌ أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَاسْتَبْطَأَ الْقَوْمَ، قَالَ: بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: وَهَذَا الَّذِي قَالَ إِسْحَاقُ: هُوَ التَّثْوِيبُ الَّذِي قَدْ كَرِهَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ، وَالَّذِي أَحْدَثُوهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي فَسَّرَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، وَأَحْمَدُ أَنَّ التَّثْوِيبَ أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَهُوَ قَوْلٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ لَهُ: التَّثْوِيبُ أَيْضًا، وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ، وَرَأَوْهُ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، وَرُوِيَ عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مَسْجِدًا، وَقَدْ أُذِّنَ فِيهِ وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِ فَثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنَ الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: اخْرُجْ بِنَا مِنْ عِنْدِ هَذَا الْمُبْتَدِعِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، قَالَ: وَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللَّهِ التَّثْوِيبَ الَّذِي أَحْدَثَهُ النَّاسُ بَعْدُ.

بلال ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فجر کے سوا کسی بھی نماز میں تثویب ١ ؎ نہ کرو ۔

Sayyidina Abdullah ibn Abu Layla narrated on the authority of Sayyidina Bilal (RA) that the Prophet ﷺ said, “Do not make tathwib in any salah apart from the fajr.”

ضعيف، ابن ماجة (715)، // ضعيف سنن ابن ماجة (151)، الإرواء (235)، المشکاة (646)، ضعيف الجامع - الطبعة الثانية المرتبة - برقم (6191) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 198
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابو محذورہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- بلال ؓ کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں۔ اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی۔ بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اور حسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے، ٣- ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے، اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں، ٤- اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے ؛ بعض کہتے ہیں: تثویب فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» نماز نیند سے بہتر ہے کہنے کا نام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے، اسحاق کہتے ہیں: تثویب اس کے علاوہ ہے، تثویب مکروہ ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کی ہے، جب مؤذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان: «قد قامت الصلاة، حي علی الصلاة، حي علی الفلاح» کہتا، ٥- اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیا ہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد ایجاد کیا ہے، ابن مبارک اور احمد کی جو تفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں:«الصلاة خير من النوم» کہے تو یہ کہنا صحیح ہے، اسے بھی تثویب کہا جاتا ہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے، عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ وہ فجر میں «الصلاة خير من النوم» کہتے تھے، اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر ؓ کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہوا جس میں اذان دی جا چکی تھی۔ ہم اس میں نماز پڑھنا چاہ رہے تھے۔ اتنے میں مؤذن نے تثویب کی، تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اور کہا: اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو، اور اس مسجد میں انہوں نے نماز نہیں پڑھی، عبداللہ بن عمر ؓ نے اس تثویب کو جسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کرلیا تھا ناپسند کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں تثویب سے مراد فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١٥)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٤٢)، مسند احمد (٦/١٤، ١٥) (ضعیف) (عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کا سماع بلال ؓ سے نہیں ہے، نیز ابو اسرائیل ملائی کو وہم ہوجایا کرتا تھا اس لیے کبھی کہتے ہیں کہ حدیث میں نے حکم بن عتیبہ سے سنی ہے، اور کبھی کہتے ہیں کہ حسن بن عمارة کے واسطہ سے حکم سے سنی ہے)
199Sunan At-Tirmidhi

اذان کہنے والا ہی تکبیر کہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ زِيَادٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْأَفْرِيقِيِّ، وَالْأَفْرِيقِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ، قَالَ أَحْمَدُ: لَا أَكْتُبُ حَدِيثَ الْأَفْرِيقِيِّ، قَالَ: وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُقَوِّي أَمْرَهُ وَيَقُولُ: هُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ.

زیاد بن حارث صدائی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال ؓ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا ۔

Sayyidina Ziyad ibn Harith (RA) Suda’i said that Allah’s Messenger ﷺ commanded him to call the adhan for fajr. So he called the adhan. Then Sayyidina Bilal (RA) intended to call the iqamah, but Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, brother Suda’i had called the adhan and he who calls the adhan, calls the iqarnah.”

ضعيف، ابن ماجة (717) // ضعيف سنن ابن ماجة (152)، ضعيف أبي داود (102 / 514)، الإرواء (237)، المشکاة (648)، الضعيفة (35)، ضعيف الجامع الصغير (1377) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 199
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- زیاد ؓ کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔ احمد کہتے ہیں: میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا، لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کو قوی قرار دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اس لیے اس کی بنا پر مساجد میں جھگڑے مناسب نہیں، اگر صحیح بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ مستحب کہہ سکتے ہیں، اور مستحب کے لیے مسلمانوں میں جھگڑے زیبا نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٠ (٥١٤) سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١٧) (تحفة الأشراف: ٣٦٥٣) مسند احمد (٤/١٦٩) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن انعم افریقی ضعیف ہیں)
200Sunan At-Tirmidhi

بغیر بے وضو اذان دنیا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ .

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اذان وہی دے جو باوضو ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “Let no one call the adhan while he is not in a state of ablution.”

ضعيف، الإرواء (222) // ضعيف الجامع الصغير (6317) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 200
Notes · وضاحت
١ ؎: بہتر یہی ہے کہ اذان باوضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٦٠٣) (ضعیف) (سند میں معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف ہیں، نیز سند میں زہری اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے)
202Sunan At-Tirmidhi

امام اقامت کا زیادہ حق رکھتا ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كَانَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْهِلُ، فَلَا يُقِيمُ حَتَّى إِذَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ أَقَامَ الصَّلَاةَ حِينَ يَرَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ هُوَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهَكَذَا قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّ الْمُؤَذِّنَ أَمْلَكُ بِالْأَذَانِ وَالْإِمَامُ أَمْلَكُ بِالْإِقَامَةِ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا مؤذن دیر کرتا اور اقامت نہیں کہتا تھا یہاں تک کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھ لیتا کہ آپ نکل چکے ہیں تب وہ اقامت کہتا۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah narrated that the muadhdhin of Allah’s Messenger ﷺ postponed the iqamah till he did not see him coming out. He would call the iqamah on seeing him.

حسن، صحيح أبي داود (548)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 202
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر بن سمرہ ؓ والی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ہم اسرائیل کی حدیث کو جسے انہوں نے سماک سے روایت کی ہے، صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- اسی طرح بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مؤذن کو اذان کا زیادہ اختیار ہے ١ ؎ اور امام کو اقامت کا زیادہ اختیار ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ مؤذن کو اذان کے وقت کا محافظ بنایا گیا ہے اس لیے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اذان کو مؤخر کرنے یا اسے مقدم کرنے پر اسے مجبور کرے۔ ٢ ؎: اس لیے اس کے اشارہ یا اجازت کے بغیر تکبیر نہیں کہنی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٤ (٥٣٧)، ( تحفة الأشراف: ٢١٣٧)، مسند احمد (٥/٧٦، ٨٧، ٩١، ٩٥، ١٠٤، ١٠٥) (صحیح)
203Sunan At-Tirmidhi

رات کو اذان دینا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَعَائِشَةَ، وَأُنَيْسَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْأَذَانِ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ أَجْزَأَهُ وَلَا يُعِيدُ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا أَذَّنَ بِلَيْلٍ أَعَادَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ بِلَالًا أَذَّنَ بِلَيْلٍ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُنَادِيَ إِنَّ الْعَبْدَ نَامَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَالصَّحِيحُ، مَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ مُؤَذِّنًا لِعُمَرَ أَذَّنَ بِلَيْلٍ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ، وَهَذَا لَا يَصِحُّ أَيْضًا، لِأَنَّهُ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ مُنْقَطِعٌ، وَلَعَلَّ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ أَرَادَ هَذَا الْحَدِيثَ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَوْ كَانَ حَدِيثُ حَمَّادٍ صَحِيحًا لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًى، إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ ، فَإِنَّمَا أَمَرَهُمْ فِيمَا يُسْتَقْبَلُ، وقَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، وَلَوْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِإِعَادَةِ الْأَذَانِ حِينَ أَذَّنَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَمْ يَقُلْ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: حَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَأَخْطَأَ فِيهِ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان نہ سن لو ۔

Sayyidina Saalim reported from his father that the Prophet ﷺ said, “Surely, Bilal (RA) calls the adhan in the night. So, you carry on eating and drinking till you hear the adhan of Ibn Umm e Maktum.”

صحيح، الإرواء (219)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 203
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، انیسہ، انس، ابوذر اور سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٣- رات ہی میں اذان کہہ دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر رات باقی ہو تبھی مؤذن اذان کہہ دے تو کافی ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں، مالک، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب وہ رات میں اذان دیدے تو اسے دہرائے ١ ؎، یہی سفیان ثوری کہتے ہیں، ٤- حماد بن سلمہ نے بطریق «ایوب عن نافع عن ابن عمر» روایت کی ہے کہ بلال ؓ نے رات ہی میں اذان دے دی، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔ یہ حدیث غیر محفوظ ہے، صحیح وہ روایت ہے جسے عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے بطریق نافع عن ابن عمر روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، لہٰذا تم کھاتے پیتے رہو، جب تک کہ ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں، اور عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع سے روایت کی ہے کہ عمر ؓ کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے اسے حکم دیا کہ وہ اذان دہرائے، یہ بھی صحیح نہیں کیونکہ نافع اور عمر ؓ کے درمیان انقطاع ہے، اور شاید حماد بن سلمہ، کی مراد یہی حدیث ٢ ؎ ہو، صحیح عبیداللہ بن عمر دوسرے رواۃ کی روایت ہے جسے ان لوگوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور زہری نے سالم سے اور سالم نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں، ٥- اگر حماد کی حدیث صحیح ہوتی تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوتا، جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، آپ نے لوگوں کو آنے والے زمانے کے بارے میں حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں اور اگر آپ طلوع فجر سے پہلے اذان دے دینے پر انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیتے تو آپ یہ نہ فرماتے کہ بلال رات ہی میں اذان دے دیتے ہیں ، علی بن مدینی کہتے ہیں: حماد بن سلمہ والی حدیث جسے انہوں نے ایوب سے، اور ایوب نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر سے اور عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے غیر محفوظ ہے، حماد بن سلمہ سے اس میں چوک ہوئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی راجح ہے، کیونکہ عبداللہ ابن ام مکتوم کی اذان سحری کے غرض سے تھی، نیز آپ ﷺ نے اس پر اکتفاء بھی نہیں کیا، بلکہ نماز فجر کے لیے بلال اذان دیا کرتے۔ ٢ ؎: شاید حماد بن سلمہ کے پیش نظر عمر والا یہی اثر رہا ہو یعنی انہیں اس کے مرفوع ہونے کا وہم ہوگیا ہو، گویا انہیں یوں کہنا چاہیئے کہ عمر کے مؤذن نے رات ہی میں اذان دے دی تو عمر نے انہیں اذان لوٹانے کا حکم دیا، لیکن وہ وہم کے شکار ہوگئے اور اس کے بجائے انہوں نے یوں کہہ دیا کہ بلال نے رات میں اذان دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ پکار کر کہہ دیں کہ بندہ سو گیا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦٢٠)، والصوم ١٧ (١٩١٨)، والشہادات ١١ (٢٦٥٦)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٨)، صحیح مسلم/الصوم ٨ (١٠٩٢)، سنن النسائی/الأذان ٩ (٨٣٨)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٩٠٩)، موطا امام مالک/الصلاة ٣ (١٤)، مسند احمد (٢/٩، ٥٧، ١٢٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤ (١٢٢٦) (صحیح)
204Sunan At-Tirmidhi

اذان کے بعد مسجد سے باہر نکلنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أُذِّنَ فِيهِ بِالْعَصْرِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عُثْمَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ لَا يَخْرُجَ أَحَدٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْأَذَانِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ أَنْ يَكُونَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ أَوْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ، وَيُرْوَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَخْرُجُ مَا لَمْ يَأْخُذْ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا عِنْدَنَا لِمَنْ لَهُ عُذْرٌ فِي الْخُرُوجِ مِنْهُ، وَأَبُو الشَّعْثَاءِ اسْمُهُ: سُلَيْمُ بْنُ أَسْوَدَ وَهُوَ وَالِدُ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَقَدْ رَوَى أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ.

ابوالشعثاء سلیم بن اسود کہتے ہیں کہ ایک شخص عصر کی اذان ہو چکنے کے بعد مسجد سے نکلا تو ابوہریرہ ؓ نے کہا: رہا یہ تو اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی ہے۔

Sayyidina Abu ash-Shasha said someone went out of the mosque after the adhan for asr. Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said, “Surely, he has disobeyed Abdul Qasim.”

حسن صحيح، ابن ماجة (733)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 204
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی روایت حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عثمان ؓ سے بھی حدیث ہے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اذان ہوجانے کے بعد بغیر کسی عذر کے مثلاً بےوضو ہو یا کوئی ناگزیر ضرورت آ پڑی ہو جس کے بغیر چارہ نہ ہو کوئی مسجد سے نہ نکلے ١ ؎، ٤- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب تک مؤذن اقامت شروع نہیں کرتا وہ باہر نکل سکتا ہے، ٥- ہمارے نزدیک یہ اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس نکلنے کے لیے کوئی عذر موجود ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک عذر یہ بھی ہے کہ آدمی کسی دوسری مسجد کا امام ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٥٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٣ (٥٣٦)، سنن النسائی/الأذان ٤٠ (٦٨٥)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٧ (٧٣٣)، ( تحفة الأشراف: ١٣٤٧٧)، مسند احمد (٢/٤١٠، ٤١٦، ٤١٧، ٥٠٦، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢ (١٢٤١) (حسن صحیح)
205Sunan At-Tirmidhi

سفر میں اذان

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَابْنُ عَمٍّ لِي، فَقَالَ لَنَا: إِذَا سَافَرْتُمَا فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ اخْتَارُوا الْأَذَانَ فِي السَّفَرِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: تُجْزِئُ الْإِقَامَةُ إِنَّمَا الْأَذَانُ عَلَى مَنْ يُرِيدُ أَنْ يَجْمَعَ النَّاسَ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرے چچا زاد بھائی دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ہم سے فرمایا: جب تم دونوں سفر میں ہو تو اذان دو اور اقامت کہو۔ اور امامت وہ کرے جو تم دونوں میں بڑا ہو۔

Sayyidina Malik ibn Huwayrith (RA) narrated that he visited Allah’s Messenger ﷺ with his cousin. He said to them, ‘When you two travel, call the adhan and the iqamah and the elder should lead the salah.”

صحيح، ابن ماجة (979)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 205
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں نے سفر میں اذان کو پسند کیا ہے، اور بعض کہتے ہیں: اقامت کافی ہے، اذان تو اس کے لیے ہے جس کا ارادہ لوگوں کو اکٹھا کرنا ہو۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨)، و ٣٥ (٦٥٨)، و ٤٩ (٦٨٥)، و ١٤٠ (٨١٩)، والجہاد ٤٢ (٢٨٤٨)، وألادب ٢٧ (٢٠٠٨)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦)، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٢)، سنن ابی داود/ الصلاة ٦١ (٥٨٩)، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥)، و ٨ (٦٣٦)، و ٢٩ (٦٧٠)، والإمامة ٤ (٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٤٦ (تحفة الأشراف: ١١١٨٢)، مسند احمد (٣/٤٣٦)، و (٥/٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح)
206Sunan At-Tirmidhi

اذان کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَذَّنَ سَبْعَ سِنِينَ مُحْتَسِبًا كُتِبَتْ لَهُ بَرَاءَةٌ مِنَ النَّارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَثَوْبَانَ، وَمُعَاوِيَةَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ غَرِيبٌ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، وَأَبُو حَمْزَةَ السُّكَّرِيُّ اسْمُهُ: مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَجَابِرُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، ضَعَّفُوهُ تَرَكَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت الْجَارُودَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ وَكِيعًا يَقُولُ: لَوْلَا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ حَدِيثٍ، وَلَوْلَا حَمَّادٌ لَكَانَ أَهْلُ الْكُوفَةِ بِغَيْرِ فِقْهٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے سات سال تک ثواب کی نیت سے اذان دی اس کے لیے جہنم کی آگ سے نجات لکھ دی جائے گی ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone calls the adhan for seven years with the intention of reward then freedom from Hell is recorded for him.’

ضعيف، ابن ماجة (727) // ضعيف سنن ابن ماجة (155)، المشکاة (664)، الضعيفة (850)، ضعيف الجامع الصغير (5378) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 206
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ثوبان، معاویہ، انس، ابوہریرہ اور ابوسعید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اور جابر بن یزید جعفی کی لوگوں نے تضعیف کی ہے، یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے انہیں متروک قرار دیا ہے، ٤- اگر جابر جعفی نہ ہوتے ١ ؎ تو اہل کوفہ بغیر حدیث کے ہوتے، اور اگر حماد نہ ہوتے تو اہل کوفہ بغیر فقہ کے ہوتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے باوجود ب اعتراف امام ابوحنیفہ جابر جعفی جھوٹا راوی ہے، امام ابوحنیفہ کی ہر رائے پر ایک حدیث گھڑ لیا کرتا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأذان ٥ (٧٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٦٣٨١) (ضعیف) (سند میں ” جابر جعفی “ ضعیف متروک الحدیث راوی ہے)
207Sunan At-Tirmidhi

امام ضامن ہے اور موذن امانت دار ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى نَافِعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَصَحُّ، وَذَكَرَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ أَنَّهُ لَمْ يُثْبِتْ حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَلَا حَدِيثَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام ضامن ہے ١ ؎ اور مؤذن امین ٢ ؎ ہے، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ٣ ؎ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما ٤ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The imam is responsible and the muadhdhin is trusted. O Allah, guide the imams and forgive the muadhdhins.”

صحيح، المشکاة (663)، الإرواء (217)، صحيح أبي داود (530)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 207
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عائشہ، سہل بن سعد اور عقبہ بن عامر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٢- مولف نے حدیث کے طرق اور پہلی سند کی متابعت ذکر کرنے اور ابوصالح کی عائشہ سے روایت کے بعد فرمایا: میں نے ابوزرعہ کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی ابوہریرہ سے مروی حدیث ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ نیز میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور بخاری، علی بن مدینی کہتے ہیں کہ ابوصالح کی حدیث ابوہریرہ سے مروی حدیث ثابت نہیں ہے اور نہ ہی ابوصالح کی عائشہ سے مروی حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا نگراں اور محافظ ہے، کیونکہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی نماز کی صحت پر موقوف ہے، اس لیے اسے آداب طہارت اور آداب نماز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ٢ ؎: یعنی لوگ اس کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں، اس لیے اسے وقت کا خیال رکھنا چاہیئے، نہ پہلے اذان دے اور نہ دیر کرے۔ ٣ ؎: یعنی جو ذمہ داری انہوں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق دے۔ ٤ ؎: یعنی اس امانت کی ادائیگی میں ان سے جو کوتاہی ہو اسے بخش دے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٢ (٥١٧)، ( تحفة الأشراف: ١٢٤٨٣)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٨٤، ٣٧٨، ٣٨٤، ٤١٩، ٤٢٤، ٤٦١، ٤٧٢، ٥١٤) (صحیح)
208Sunan At-Tirmidhi

جب موذن اذان دے تو سننے والا کیا کہے

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح قَالَ: وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعَائِشَةَ، وَمُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، وَمُعَاوِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى مَعْمَرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَرَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرِوَايَةُ مَالِكٍ أَصَحُّ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے ۔

Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you hear the adhan, say just as the muadhdhin says.”

صحيح، ابن ماجة (720)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 208
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوسعید ؓ والی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابورافع، ابوہریرہ، ام حبیبہ، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن ربیعہ، عائشہ، معاذ بن انس اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- معمر اور کئی رواۃ نے زہری سے مالک کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، عبدالرحمٰن بن اسحاق نے اس حدیث کو بطریق: «الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، مالک والی روایت سب سے صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ کی روایت میں جس کی تخریج مسلم نے کی ہے «سوی الحيعلتين فيقول لا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی: «حي علی الصلاة اور حي علی الفلاح» کے علاوہ، ان پر «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہے کے الفاظ وارد ہیں جس سے معلوم ہوا کہ «حي علی الصلاة اور حي علی الفلاح» کے کلمات اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، ان دونوں کلموں کے جواب میں سننے والا «لاحول ولا قوۃ الا باللہ» کہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٧ (٦١١)، صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٣)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (٥٢٢)، سنن النسائی/الأذان ٣٣ (٦٧٤)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٠)، ( تحفة الأشراف: ٤١٥٠)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٢)، مسند احمد (٣/٦، ٥٣، ٧٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠ (١٢٣٤) (صحیح)
209Sunan At-Tirmidhi

موذن کا اذان پر اجرت لینا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو زُبَيْدٍ وَهُوَ عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قَالَ: إِنَّ مِنْ آخِرِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عُثْمَانَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَأْخُذَ الْمُؤَذِّنُ عَلَى الْأَذَانِ أَجْرًا وَاسْتَحَبُّوا لِلْمُؤَذِّنِ أَنْ يَحْتَسِبَ فِي أَذَانِهِ.

عثمان ؓ کہتے ہیں کہ سب سے آخری وصیت رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ کی کہ مؤذن ایسا رکھنا جو اذان کی اجرت نہ لے ۔

Sayyidina Uthman ibn Abdul Aas (RA) narrated that the last instruction of Allah’s Messenger ﷺ to him was that he should select a muadhdhin who would not seek wages against the adhan he called.

صحيح، ابن ماجة (714)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 209
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عثمان ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اہل علم کے نزدیک عمل اسی پر ہے، انہوں نے مکروہ جانا ہے کہ مؤذن اذان پر اجرت لے اور مستحب قرار دیا ہے کہ مؤذن اذان اجر و ثواب کی نیت سے دے ١ ؎۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٠ (٥٣١)، سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٣ (٧١٤)، ( تحفة الأشراف: ٩٧٦٣، وکذا ٩٧٧٠)، مسند احمد (٤/٢١٧) (صحیح)
210Sunan At-Tirmidhi

جب موذن اذان دے تو سننے والا کیا دعا پڑھے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ حُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مؤذن کی اذان سن کر کہا: «وأنا أشهد أن لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوں تو اس کے (صغیرہ) گناہ بخش دیے جائیں گے۔

Sayyidina Sad ibn Waqqas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, If anyone who hears the muadhdhin call the adhan says: “And I bear witness that there is no God but Allah, the One. He has no partner. And that Muhmmad is His slave and His Messenger. I am pleased with Allah as Lord, and with Islam as religion and with Muhmmad as a Messenger”. then Allah will forgive his sins.

صحيح، ابن ماجة (721)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 210
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اسے ہم صرف لیث بن سعد کی سند سے جانتے ہیں جسے وہ حکیم بن عبداللہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٧ (٣٨٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦ (٥٢٥)، سنن النسائی/الأذان ٣٨ (٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢١)، ( تحفة الأشراف: ٣٨٧٧)، مسند احمد (١/١٨١) (صحیح)
211Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَاشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: دِينَارٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة» اے اللہ! اس کامل دعوت ١ ؎ اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! (ہمارے نبی) محمد ( ﷺ) کو وسیلہ ٢ ؎ اور فضیلت ٣ ؎ عطا کر، اور انہیں مقام محمود ٤ ؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہوجائے گی۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated tha Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone says after hearing the adhan: Translation: (O Allah, Lord of this perfect call and of the salah that is being established, grant Muhammad the nearness and honour, and raise him to a praiseworthy station which you have promised him) then on the day of Resurrection my intercession will be lawful for him.”

صحيح، ابن ماجة (722)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 211
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
جابر ؓ کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کامل دعوت سے مراد توحید کی دعوت ہے اس کے مکمل ہونے کی وجہ سے اسے «تامّہ» کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔ ٢ ؎: «وسیلہ» جنت میں ایک مقام ہے۔ ٣ ؎: «فضیلہ» اس مرتبہ کو کہتے ہیں جو ساری مخلوق سے برتر ہو۔ ٤ ؎: «مقام محمود» یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی ان کلمات کے ساتھ حمد و ستائش کریں گے جو اس موقع پر آپ کو الہام کئے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨ (٦١٤)، وتفسیر الإسراء ١ (٤٧١٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٨ (٥٢٩)، سنن النسائی/الأذان ٣٨ (٦٨١)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٠٤٦)، مسند احمد (٣/٣٥٤) (صحیح)
212Sunan At-Tirmidhi

اذان اور اقامت کے درمیان کی جانے والی دعا رد نہیں جاتی

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو أَحْمَدَ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں کی جاتی ۔

Sayyidina Ans (RA) ibn Malik narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Supplication that is made between adhan and iqamah is never rejected.”

صحيح، المشکاة (671)، الإرواء (244)، صحيح أبي داود (534)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 212
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
انس کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥ (٥٢١)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٤)، مسند احمد (٣/١١٩) (صحیح)