بغیر بے وضو اذان دنیا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُؤَذِّنُ إِلَّا مُتَوَضِّئٌ .
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اذان وہی دے جو باوضو ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “Let no one call the adhan while he is not in a state of ablution.”
ضعيف، الإرواء (222) // ضعيف الجامع الصغير (6317) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 200
Notes · وضاحت
١ ؎: بہتر یہی ہے کہ اذان باوضو ہی دی جائے اور باب کی حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن وائل اور ابن عباس کی احادیث اس کی شاہد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٦٠٣) (ضعیف) (سند میں معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف ہیں، نیز سند میں زہری اور ابوہریرہ کے درمیان انقطاع ہے)