Sunan At-Tirmidhi 211

نماز کا بیان

211Sunan At-Tirmidhi

اسی سے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَاشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ غَيْرَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: دِينَارٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اذان سن کر «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته إلا حلت له الشفاعة يوم القيامة» اے اللہ! اس کامل دعوت ١ ؎ اور قائم ہونے والی صلاۃ کے رب! (ہمارے نبی) محمد ( ﷺ) کو وسیلہ ٢ ؎ اور فضیلت ٣ ؎ عطا کر، اور انہیں مقام محمود ٤ ؎ میں پہنچا جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے کہا تو اس کے لیے قیامت کے روز شفاعت حلال ہوجائے گی۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated tha Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone says after hearing the adhan: Translation: (O Allah, Lord of this perfect call and of the salah that is being established, grant Muhammad the nearness and honour, and raise him to a praiseworthy station which you have promised him) then on the day of Resurrection my intercession will be lawful for him.”

صحيح، ابن ماجة (722)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 211
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
جابر ؓ کی حدیث محمد بن منکدر کے طریق سے حسن غریب ہے، ہم نہیں جانتے کہ شعیب بن ابی حمزہ کے علاوہ کسی اور نے بھی محمد بن منکدر سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کامل دعوت سے مراد توحید کی دعوت ہے اس کے مکمل ہونے کی وجہ سے اسے «تامّہ» کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔ ٢ ؎: «وسیلہ» جنت میں ایک مقام ہے۔ ٣ ؎: «فضیلہ» اس مرتبہ کو کہتے ہیں جو ساری مخلوق سے برتر ہو۔ ٤ ؎: «مقام محمود» یہ وہ مقام ہے جہاں رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی ان کلمات کے ساتھ حمد و ستائش کریں گے جو اس موقع پر آپ کو الہام کئے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨ (٦١٤)، وتفسیر الإسراء ١ (٤٧١٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٨ (٥٢٩)، سنن النسائی/الأذان ٣٨ (٦٨١)، سنن ابن ماجہ/الأذان ٤ (٧٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٣٠٤٦)، مسند احمد (٣/٣٥٤) (صحیح)