عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی ١ ؎۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit narrated that the Prophet ﷺ said, “He who does not recite Fatihatul Kitab has not observed salah.”
صحيح، ابن ماجة (837)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 247
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین وغیرہم ؓ شامل ہیں کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورة فاتحہ پڑھے بغیر نماز کفایت نہیں کرتی، علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں: جس نماز میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی گئی وہ ناقص اور ناتمام ہے۔ یہی ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے، فرض ہو یا نفل ہو، خواہ پڑھنے والا اکیلے پڑھ رہا ہو یا جماعت سے ہو امام ہو یا مقتدی، ہر شخص کے لیے ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھنا ضروری ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہوگی، اس لیے کہ «لا» نفی جس پر آتا ہے اس سے ذات کی نفی مراد ہوتی ہے اور یہی اس کا حقیقی معنی ہے، یہ صفات کی نفی کے معنی میں اس وقت آتا ہے جب ذات کی نفی مشکل اور دشوار ہو اور اس حدیث میں ذات کی نفی کوئی مشکل نہیں کیونکہ ازروئے شرع نماز مخصوص اقوال اور افعال کو مخصوص طریقے سے ادا کرنے کا نام ہے، لہٰذا بعض یا کل کی نفی سے اس کی نفی ہوجائے گی اور اگر بالفرض ذات کی نفی نہ ہوسکتی تو وہ معنی مراد لیا جائے گا جو ذات سے قریب تر ہو اور وہ صحت ہے نہ کہ کمال اس لیے کہ صحت اور کمال دونوں مجاز میں سے ہیں، صحت ذات سے اقرب اور کمال ذات سے ابعد ہے اس لیے یہاں صحت کی نفی مراد ہوگی جو ذات سے اقرب ہے، نہ کہ کمال کی نفی کیونکہ وہ صحت کے مقابلہ میں ذات سے ابعد ہے۔