ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ ہم سے عمر بن خطاب ؓ نے کہا: گھٹنوں کو پکڑنا تمہارے لیے مسنون کیا گیا ہے، لہٰذا تم (رکوع میں) گھٹنے پکڑے رکھو۔
Sayyidina Abu Abdur Rahman Sulami reported that Sayyidina Umar ibn Khattab said, To hold the knees is a sunnah for you. So, hold your knees (in ruku).
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 258
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، انس، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ اور ابومسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ سوائے اس کے جو ابن مسعود اور ان کے بعض شاگردوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ تطبیق ١ ؎ کرتے تھے، اور تطبیق اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر انہیں دونوں رانوں کے درمیان کرلینے کو تطبیق کہتے ہیں، یہ حکم شروع اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا اور عبداللہ بن مسعود کو اس کی منسوخی کا علم نہیں ہوسکا تھا، اس لیے وہ تاحیات تطبیق کرتے کراتے رہے۔
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایسا کرتے تھے (یعنی تطبیق کرتے تھے) پھر ہمیں اس سے روک دیا گیا اور حکم دیا گیا کہ ہم ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھیں۔
Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas (RA) said, “We used to practice tatbiq but then We were forbidden to do it. We were commanded to place our alms on the knees.
صحيح، ابن ماجة (873)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 259
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١١٨ (٧٩٠)، صحیح مسلم/المساجد ٥ (٥٣٥)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٠ (٨٦٧)، سنن النسائی/التطبیق ١ (١٠٣٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧ (٨٧٣)، ( تحفة الأشراف: ٣٩٢٩)، مسند احمد (١/١٨١، ٨٢)، سنن ابی داود/ الصلاة ٦٨ (١٣٤١) (صحیح)
عباس بن سہل بن سعد کا بیان ہے کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، اور محمد بن مسلمہ ؓ چاروں اکٹھا ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ذکر کیا، ابوحمید ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں: آپ ﷺ نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں، اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح (ٹائٹ) بنایا اور انہیں اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھا۔
Sayyidina Abbas Ibn Sahi (RA) reported that Sayyidina Abu Humayd Abu Usayd , Sahi ibn Sa’d and Muhammad ibn Muslaniah sat together and discussed the Prophet’s ﷺ prayer. Abu Humayd (RA) said, “I know about his prayer more than any of you. Surely, Allah’s Messenger ﷺ placed his hands on his knees while bowing as though he was clutching them, bending his arms like the bow and keeping them away from his ribs.
صحيح، صحيح أبي داود (723)، المشکاة (801)، صفة الصلاة (110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 260
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٥ (٨٢٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ١١٧ (٧٣٠)، سنن النسائی/التطبیق ٦ (١٠٤٠)، والسہو ٢ (١١٨٢)، و ٢٩ (١٠٦١)، ( تحفة الأشراف: ١١٨٩٢)، وکذا (١١٨٩٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٠ (١٣٤٦)، (کلہم مختصرا، ولین عند ذکرخ ذکر رفع الیدین إلا عند التحریمة)، ویأتي عند المؤلف بارقام: ٢٧٠، و ٢٩٣، و ٣٠٤) (صحیح)
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو رکوع میں «سبحان ربي العظيم» تین مرتبہ کہے تو اس کا رکوع پورا ہوگیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدے میں تین مرتبہ «سبحان ربي العظيم» کہے تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔
Sayydina Ibn Masud (RA) reported that the Prophet ﷺ said, When one of you goes into ruku, he must recite three times : (Glory be to my Lord, the Mighty). His bowing is complete (on that), and this is the least (that he may recite). And when he goes into prostration, he must recite three times: (Glory be to my Lord, the Most High). His prostration is complete (on that), and this is the least (that he may recite).’
ضعيف، ابن ماجة (890) // ضعيف سنن ابن ماجة (187)، المشکاة (880)، ضعيف الجامع الصغير (525)، ضعيف أبي داود (187 / 886) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 261
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ عون بن عبداللہ بن عتبہ کی ملاقات ابن مسعود سے نہیں ہے ١ ؎، ٢- اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی رکوع اور سجدے میں تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے، ٤- عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں امام کے لیے مستحب سمجھتا ہوں کہ وہ پانچ تسبیحات پڑھے تاکہ پیچھے والے لوگوں کو تین تسبیحات مل جائیں اور اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن ابوبکرہ، جبیر بن مطعم، اور ابو مالک اشعری ؓ کی حدیثوں سے اس حدیث کو تقویت مل جاتی ہے، ان سب میں اگرچہ قدرے کلام ہے لیکن مجموعہ طرق سے یہ بات درجہ احتجاج کو پہنچ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٤ (٨٨٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠ (٨٨٨)، ( تحفة الأشراف: ٩٥٣٠) (ضعیف) (عون کا سماع ابن مسعود ؓ سے نہیں ہے، جیسا کہ مولف نے خود بیان کردیا ہے)
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلی» پڑھ رہے تھے۔ اور جب بھی رحمت کی کسی آیت پر پہنچتے تو ٹھہرتے اور سوال کرتے اور جب عذاب کی کسی آیت پر آتے تو ٹھہرتے اور (عذاب سے) پناہ مانگتے ١ ؎۔
صحيح، المشکاة (881)
صحيح انظر ما قبله (262)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 262
اس سند سے بھی شعبہ سے اسی طرح مروی ہے۔ حذیفہ ؓ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز تہجد پڑھی، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 263
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ نفل نمازوں کے ساتھ خاص ہے، شیخ عبدالحق لمعات التنقيح شرح مشکاة المصابيح میں فرماتے ہیں «االظاهر أنه کان في الصلاة محمول عندنا علی النوافل» یعنی ظاہر یہی ہے کہ آپ نماز میں تھے اور یہ ہمارے نزدیک نوافل پر محمول ہوگا ( اگلی حدیث میں اس کے تہجد میں ہونے کی صراحت آ گئی ہے )۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٧ (٧٧٢)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٥١ (٨٧١)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٧ (١٠٠٩)، والتطبیق ٩ (١٠٤٧)، و ٧٤ (١١٣٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٠ (٨٩٧)، و ١٧٩ (١٣٥١)، ( تحفة الأشراف: ٣٣٥١)، مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٨٤، ٣٩٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩ (١٣٤٥) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ریشمی اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔
Sayyidina Ali (RA) ibn Abu Talib reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade wearing a ring of gold, silk garments and garments decorated with silk………………………………………….
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 264
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤١ (٤٨٠)، واللباس ٤ (٢٠٧٨)، سنن ابی داود/ اللباس ١١ (٤٠٤٤)، سنن النسائی/التطبیق ٧ (١٠٤١)، و ٦١ (١١٩، ١١٢٠)، الزینة ٤٣ (٥١٧٢، ٥١٧٦، ٥١٧٨، ٥١٨٣)، و ٧٧ (٥٢٦٦-٥٢٧٢)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢١ (٣٦٠٢)، و ٤٠ (٣٦٤٢)، ( تحفة الأشراف: ١٠٧٩)، موطا امام مالک/الصلاة ٦ (٢٨)، مسند احمد (١/٨٠، ٨١، ٩٢، ١٠٤، ١١٤، ١١٩، ١٢١، ١٢٣، ١٢٦، ١٣٢، ١٣٣، ١٣٤، ١٣٧، ١٣٨، ١٤٦)، ویأتي عند المؤلف في اللباس ٥ (١٧٢٥)، و ١٣ (١٧٣٧) والأدب ٤٥ (٢٨٠٨) (صحیح)
ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری بدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی نماز کافی نہ ہوگی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Masud Ansari (RA) reported Allah’s Messenger ﷺ as saying, “Prayer is of no merit to one who does not keep his back straight in ruku and sajdah”.
صحيح، ابن ماجة (870)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 265
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے، ٤- شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرم ﷺ کی حدیث ہے: اس شخص کی نماز کافی نہ ہوگی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں طمانینت اور تعدیل ارکان واجب ہے، اور جو لوگ اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں وہ کہتے ہیں اس سے نص پر زیادتی لازم آئے گی اس لیے کہ قرآن مجید میں مطلق سجدہ کا حکم ہے اس میں طمانینت داخل نہیں یہ زیادتی جائز نہیں، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ زیادتی نہیں بلکہ سجدہ کے معنی کی وضاحت ہے کہ اس سے مراد سجدہ لغوی نہیں بلکہ سجدہ شرعی ہے جس کے مفہوم میں طمانینت بھی داخل ہے۔
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد» اللہ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمان بھر، زمین بھر، زمین و آسمان کی تمام چیزوں بھر، اور اس کے بعد ہر اس چیز بھر جو تو چاہے کہتے۔
Sayyidina Huzayfah reported that he prayed with the Prophet ﷺ . In his ruku, he recited and in his sajdah And when he came to a verseof mercy, he sought (mercy) from Allah and when he came to a verse of punishment, he paused and sought refuge from that punishment. Hadith like it was narrated by Muhammad ibn Bashshar from Abdur Rahman ibn Mahdi from Shu’bah.
صحيح، صحيح أبي داود (738)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 266
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابن ابی اوفی، ابوحجیفہ اور ابوسعید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ فرض ہو یا نفل دونوں میں یہ کلمات کہے گا ١ ؎ اور بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: یہ صرف نفل نماز میں کہے گا۔ فرض نماز میں اسے نہیں کہے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس روایت کے بعض طرق میں فرض نماز کے الفاظ بھی آئے ہیں جو اس بارے میں نص صریح ہے کہ نفل یا فرض سب میں اس دعا کے یہ الفاظ پڑھے جاسکتے ہیں، ویسے صرف «ربنا ولک الحمد» پر بھی اکتفا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧١)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٢١ (٧٦٠)، ( تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨)، مسند احمد (١/٩٥، ١٠٢)، ویأتی عند المؤلف في الدعوات (٣٤٢١، ٣٤٢٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب امام «سمع اللہ لمن حمده» اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی کہے تو تم «ربنا ولک الحمد» ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوگیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔
Sayydina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the imam says ,you say (Our Lord: And all praise belongs to You). So if anyone’s saying synchronises with the saying of the angels then all his previous sins are forgiven.”
صحيح، صحيح أبي داود (794)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 267
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد» کہے ١ ؎ اور مقتدی «ربنا ولک الحمد» کہیں، یہی احمد کہتے ہیں، ٣- اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے (یعنی مقتدی) ہو وہ بھی «سمع اللہ لمن حمده ربنا ولک الحمد» اسی طرح کہے گا ٢ ؎ جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: متعدد احادیث سے ( جن میں بخاری کی بھی ایک روایت ابوہریرہ ؓ ہی سے ہے ) یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ امامت کی حالت میں «سمع اللہ لمن حمدہ» کے بعد «ربنا لک الحمد» کہا کرتے تھے، اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ امام «ربنا لک الحمد» نہ کہے۔ ٢ ؎: لیکن حافظ ابن حجر کہتے ہیں ( اور صاحب تحفہ ان کی موافقت کرتے ہیں ) کہ مقتدی کے لیے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں کوئی واضح حدیث وارد نہیں ہے اور جو لوگ اس کے قائل ہیں وہ «صلوا کما رأيتموني أصلي» جیسے تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو ویسے تم بھی صلاۃ پڑھو سے استدلال کرتے ہیں۔
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا: جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Wail ibn Hujr ﷺ said that he observed Allah’s Messenger ﷺ (praying). While going into sajdah, he placed his knees (on the ground) before his hands and while rising, he brought his hands up before his knees.
ضعيف، ابن ماجة (882) // ضعيف سنن ابن ماجة (185)، ضعيف أبي داود (181 / 838)، الإرواء (357)، المشکاة (898)، ابن خزيمة (626 و 629) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 268
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو، ٢- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے، ٣- ہمام نے عاصم ٢ ؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ دونوں ہاتھوں سے پہلے دونوں گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے لیکن یہ روایت ضعیف ہے، شریک عاصم بن کلیب سے روایت کرنے میں منفرد ہیں جب کہ شریک خود ضعیف ہیں، اگرچہ اس روایت کو ہمام بن یحییٰ نے بھی دو طریق سے ایک محمد بن حجاوہ کے طریق سے اور دوسرے شقیق کے طریق سے روایت کی ہے لیکن محمد بن حجادہ والی سند منقطع ہے کیونکہ عبدالجبار کا سماع اپنے باپ سے نہیں ہے اور شقیق کی سند بھی ضعیف ہے کیونکہ وہ خود مجہول ہیں۔ ٢ ؎: ہمام نے اسے عاصم سے نہیں بلکہ شقیق سے روایت کیا ہے اور شقیق نے عاصم سے مرسلاً روایت کیا ہے گویا شقیق والی سند میں دو عیب ہیں: ایک شقیق خود مجہول ہیں اور دوسرا عیب یہ ہے کہ یہ مرسل ہے اس میں وائل بن حجر ؓ کا ذکر نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٤١ (٨٣٨)، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٢)، و ٩٣ (١١٥٥)، ( تحفة الأشراف: ١١٧٨) (ضعیف) (شریک جب متفرد ہوں تو ان کی روایت مقبول نہیں ہوتی)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ قصد کرتا ہے کہ وہ اپنی نماز میں اونٹ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Resolves one of you and kneels down in his salah the kneeling of a camel.”
صحيح، المشکاة (899)، الإرواء (2 / 78)، صفة الصلاة // (122) بلفظ قريب //، صحيح أبي داود (789)، ولفظه أتمصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 269
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث غریب ہے ہم اسے ابوالزناد کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث عبداللہ بن سعید مقبری سے بھی روایت کی گئی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ عبداللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس طرح اونٹ بیٹھنے میں پہلے اپنے دونوں گھٹنے رکھتا ہے اسی طرح یہ بھی چاہتا ہے کہ رکوع سے اٹھ کر جب سجدہ میں جانے لگے تو پہلے اپنے دونوں گھٹنے زمین پر رکھے، یہ استفہام انکاری ہے، مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرے، بلکہ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ رکھے مسند احمد، سنن ابی داود اور سنن نسائی میں یہ حدیث اس طرح ہے «إذا سجد أحدکم فلايبرك كما يبرک البعير وليضع يديه قبل رکبتيه» یعنی جب تم میں سے کوئی سجدے میں جائے تو وہ اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے، یہ اونٹ کی بیٹھک کے مخالف بیٹھک ہے، کیونکہ اونٹ جب بیٹھتا ہے تو اپنے گھٹنے زمین پر پہلے رکھتا ہے اور اس کے گھٹنے اس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جیسا کہ لسان العرب اور دیگر کتب لغات میں مرقوم ہے، حافظ ابن حجر نے سند کے اعتبار سے اس روایت کو وائل بن حجر کی روایت جو اس سے پہلے گزری صحیح تر بتایا ہے کیونکہ ابن عمر ؓ کی ایک روایت جسے ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے اور بخاری نے اسے معلقاً موقوفاً ذکر کیا ہے اس کی شاہد ہے، اکثر فقہاء عموماً محدثین اور اسی کے قائل ہیں کہ دونوں گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھے جائیں، ان لوگوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے، شوافع اور احناف نے جو پہلے گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں اس حدیث کے کئی جوابات دیئے ہیں لیکن سب مخدوش ہیں، تفصیل کے لیے دیکھئیے تحفۃ الاحوذی۔
ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے۔
Sayyidina Abu Humayd Sa’idi narrated that when the Prophet ﷺ Li went into prostration, he placed his nose and forehead on the ground, keeping his arms away from his sides and plams of his hands in line with his shoulders.
صحيح، صحيح أبي داود (723)، المشکاة (801)، صفة الصلاة // 123 //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 270
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، وائل بن حجر اور ابوسعید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ کرے، اور اگر صرف پیشانی پر سجدہ کرے ناک پر نہ کرے تو اہل علم میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسے کافی ہوگا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ نہ کرے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سجدے میں پیشانی اور ناک کے زمین پر رکھنے کے سلسلے میں تین اقوال ہیں ١- دونوں کو رکھنا واجب ہے، ٢- صرف پیشانی رکھنا واجب ہے، ناک رکھنا مستحب ہے، ٣- دونوں میں سے کوئی بھی ایک رکھ دے تو کافی ہے دونوں رکھنا مستحب ہے، دلائل کی روشنی میں احتیاط پہلے قول میں ہے، ایک متبع سنت کو خواہ مخواہ پخ نکالنے کے چکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
ابواسحاق سبیعی سے روایت ہے کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے پوچھا کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنا چہرہ کہاں رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان۔
Abu Ishaq said that he asked Bara ibn Aazib , ‘Where did the Prophet ﷺ – ﷺ place his face while prostrating”? He said, “Between his two plams.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 271
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- براء ؓ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں وائل بن حجر اور ابوحمید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور اسی کو بعض اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کے دونوں کانوں کے قریب ہوں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوحمید ؓ کی پچھلی حدیث میں گزرا کہ نبی اکرم ﷺ نے سجدے میں اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل رکھے یعنی دونوں صورتیں جائز ہیں۔
عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات جوڑ بھی سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ ١ ؎ اس کی دونوں ہتھیلیاں، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم ۔
Sayyidina Abbas ibn Abdul Muttalib heard Allah’s Messenger ﷺ ,“ Say, “When a worshipper prostates, seven organs prostrate with him: his face his (both) palms, his knees and his feet.”
صحيح، ابن ماجة (885)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 272
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، ابوہریرہ، جابر اور ابوسعید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور چہرے میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩١) سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٥ (٨٩١) سنن النسائی/التطبیق ٤١ (١٠٩٥) و ٤٦ (١٠٩٨) سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٥) (تحفة الأشراف: ٥١٢٦)، مسند احمد (١/٢٠٦، ٢٠٨) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سات اعضاء پر سجدہ کریں اور اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹیں۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ was commanded to prostrate on seven limbs, and he was forbidden to hold his hair and his garments.
صحيح، ابن ماجة (884)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 273
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩)، و ٣٤ (٨١٠)، و ١٣٧ (٨١٥)، و ١٣٨ (٨١٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٥ (٨٨٩)، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤)، و ٤٣ (١٠٩٧)، و ٤٥ (١٠٩٩)، و ٥٦ (١١١٢)، و ٥٨ (١١١٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨٣)، ( تحفة الأشراف : ٥٧٣٤)، مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (صحیح)
عبداللہ بن اقرم خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں مقام نمرہ کے «قاع» مسطح زمین میں اپنے والد کے ساتھ تھا، تو (وہاں سے) ایک قافلہ گزرا، کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، میں آپ ﷺ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھ رہا تھا جب آپ سجدہ کرتے۔
Ubaydulah ibn Abdullah ibn Aqram Khuza’i reported from his father that he said, “I was with my father at a plain at Nimrah when some riders passed by. The Prophet ﷺ stood offering salah. When he went into sajdah, I could see the whites of his armpits.”
صحيح، ابن ماجة (881)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 274
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن اقرم ؓ کی حدیث حسن ہے، اسے ہم صرف داود بن قیس کی سند سے جانتے ہیں۔ عبداللہ بن اقرم خزاعی کی اس کے علاوہ کوئی اور حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہو ہم نہیں جانتے، ٢- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ اور عبداللہ بن ارقم زہری نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں اور وہ ابوبکر صدیق کے منشی تھے، ٣- اس باب میں ابن عباس، ابن بحینہ، جابر، احمر بن جزئ، میمونہ، ابوحمید، ابومسعود، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، براء بن عازب، عدی بن عمیرہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- احمر بن جزء نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی ہیں اور ان کی صرف ایک حدیث ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٩)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩ (٨٨١)، ( تحفة الأشراف: ٥١٤٢)، مسند احمد (٤/٣٥) (صحیح)
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے ١ ؎ اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے ٢ ؎۔
Sayyidina Jabir reported the Prophet ﷺ as saying, “When one of you prostrates, let him not stretch out his forearms like a dog.”
صحيح، ابن ماجة (891)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 275
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، انس، براء، ابوحمید اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ سجدے میں اعتدال کو پسند کرتے ہیں اور ہاتھ کو درندے کی طرح بچھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہیئت درمیانی رکھے اس طرح کہ پیٹ ہموار ہو دونوں کہنیاں زمین سے اٹھی ہوئی اور پہلوؤں سے جدا ہوں اور پیٹ بھی رانوں سے جدا ہو۔ گویا زمین اور بدن کے اوپر والے آدھے حصے کے درمیان فاصلہ نظر آئے۔ ٢ ؎: کتے کی طرح سے مراد ہے کہ وہ دونوں کہنیاں زمین پر بچھا کر بیٹھتا ہے، اس طرح تم سجدہ میں نہ کرو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢١ (٨٩١)، ( تحفة الأشراف: ٢٣١١)، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٥، ٣٨٩) (صحیح)
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سجدے میں اپنی ہیئت درمیانی رکھو، تم میں سے کوئی نماز میں اپنے دونوں ہاتھ کتے کی طرح نہ بچھائے ۔
Qatadah said that he heard Sayyidina Anas - say that Allah’s Messenger said, “Observe moderation in prostration. None of you must stretch his forearms like a dog.”
صحيح، ابن ماجة (892)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 276
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھوں کو (زمین پر) رکھنے اور دونوں پاؤں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے۔
Aamir ibn Sad (RA) reported from his father that the Prophet ﷺ commanded that palms should rest (on the ground) and feet should be erect. Abdullah said that Mu’alla reported from Hammad ibn Ma’dah who from Muhammad ibn Ajian who from Muhammad ibn Ibrahim who from Aamir ibn Sa’d a hadith like this that Allah’s Messenger ﷺ commanded them to place both palms on the ground. In this hadith he did not mention the father of Aamir ibn Sa’d.
حسن، صفة الصلاة // 126 //
حسن بما قبله (277)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 277
عامر بن سعد سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھوں کو (زمین پر) رکھنے کا حکم دیا ہے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ انہوں نے اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 278
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عامر بن سعد سے مرسلاً روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھوں (زمین پر) رکھنے اور دونوں قدموں کو کھڑے رکھنے کا حکم دیا ہے ٢ ؎، ٢- یہ مرسل روایت وہیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ٣ ؎، اور اسی پر اہل علم کا اجماع ہے، اور لوگوں نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ روایت عامر کی اپنی ہے، ان کے باپ سعد ؓ کی نہیں، اس لیے یہ مرسل روایت ہوئی۔ ٢ ؎: دونوں ہاتھوں سے مراد دونوں ہتھیلیاں ہیں اور انہیں زمین پر رکھنے سے مراد انہیں دونوں کندھوں یا چہرے کے بالمقابل رکھنا ہے اور دونوں قدموں کے کھڑے رکھنے سے مراد انہیں ان کی انگلیوں کے پیٹوں پر کھڑا رکھنا اور انگلیوں کے سروں سے قبلہ کا استقبال کرنا ہے۔ ٣ ؎: ان دونوں روایتوں کا ماحصل یہ ہے کہ معلی بن اسد نے یہ حدیث وہیب اور حماد بن مسعدہ دونوں سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے محمد بن عجلان سے اور محمد بن عجلان نے محمد بن ابراہیم سے اور محمد بن ابراہیم نے عامر بن سعد سے روایت کی ہے، لیکن وہیب نے اسے مسند کردیا ہے اور عامر بن سعد کے بعد ان کے باپ سعد بن ابی وقاص کے واسطے کا اضافہ کیا ہے، جب کہ حماد بن مسعدۃ نے بغیر سعد بن ابی وقاص کے واسطے کے اسے مرسلاً روایت کیا ہے، حماد بن مسعدہ کی مرسل روایت وہیب کی مسند روایت سے زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ اور بھی کئی لوگوں نے اسے حماد بن مسعدہ کی طرح مرسلاً ہی روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٨٨٧) (حسن)
تفرد بہ المؤلف وانظر ما قبلہ (حسن) (اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے)
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع کرتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے، جب سجدہ کرتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو آپ کی نماز تقریباً برابر برابر ہوتی تھی ١ ؎۔
Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ bowed down in ruku or raised his head therefrom, and when he went down in sajdah or raised his head from it these postures were nearly equal.Muhmmad ibn Bashshar from Muhammad ibn Ja’far and he from Shu’bah reported a hadith like it.
صحيح، صحيح أبي داود (798)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 279
اس سند سے بھی حکم سے اسی طرح مروی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 280
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں انس ؓ سے بھی حدیث ہے۔
١- براء ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر صریحاً دلالت کرتی ہے کہ رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا اور دونوں سجدوں کے درمیان سیدھا بیٹھنا ایک ایسا رکن ہے جسے کسی بھی حال میں چھوڑنا صحیح نہیں، بعض لوگ سیدھے کھڑے ہوئے بغیر سجدے کے لیے جھک جاتے ہیں، اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان بغیر سیدھے بیٹھے دوسرے سجدے میں چلے جاتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ رکوع اور سجدے کی طرح ان میں تسبیحات کا اعادہ اور ان کا تکرار مسنون نہیں ہے تو یہ دلیل انتہائی کمزور ہے کیونکہ نص کے مقابلہ میں قیاس ہے جو درست نہیں، نیز رکوع کے بعد جو ذکر مشروع ہے وہ رکوع اور سجدے میں مشروع ذکر سے لمبا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢١ (٧٩٢)، و ١٢٧ (٨٠١)، و ١٤٠ (٨٢٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٨ (٤٧١)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٧ (٨٥٢)، سنن النسائی/التطبیق ٢٤ (١٠٦٦)، و ٨٩ (١١٤٧)، والسہو ٧٧ (١٣٣١)، ( تحفة الأشراف: ١٧٨١)، مسند احمد (٤/٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٠ (١٣٧٣) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)