براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے اور جب آپ اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنی پیٹھ (سجدے کے لیے) اس وقت تک نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ آپ ﷺ سجدے میں نہ چلے جاتے، آپ سجدے میں چلے جاتے تو ہم سجدہ کرتے۔
Abdullah ibn Yazid (RA) reported that Sayyidina Bara ﷺ narrated to them, and he was not a liar, that when they prayed behind Allah’s Messenger ﷺ and he had raised his head from ruku, none of them would bend his back till Allah’s Messenger Li 4i4i had prostrated. Then they would prostrate.
صحيح، صحيح أبي داود (631 - 633)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 281
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- براء ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، معاویہ، ابن مسعدہ صاحب جیوش، اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی اہل علم کہتے ہیں یعنی: جو امام کے پیچھے ہو وہ ان تمام امور میں جنہیں امام کر رہا ہو امام کی پیروی کرے، یعنی اسے امام کے بعد کرے، امام کے رکوع میں جانے کے بعد ہی رکوع میں جائے اور اس کے سر اٹھانے کے بعد ہی اپنا سر اٹھائے، ہمیں اس مسئلہ میں ان کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٥٢ (٦٩٠)، و ٩١ (٧٤٧)، و ١٣٣ (٨١١)، صحیح مسلم/الصلاة ٣٩ (٤٧٤)، سنن ابی داود/ الصلاة ٧٥ (٦٢٠)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٣٠)، ( تحفة الأشراف: ١٧٧٢)، مسند احمد (٤/٢٩٢، ٣٠٠، ٣٠٤) (صحیح)
علی ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! میں تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے کرتا ہوں، اور وہی چیز ناپسند کرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسند کرتا ہوں۔ تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء ١ ؎ نہ کرو ۔
Sayyidina Ali (RA) narrated that Allah’s Messenger said to him, “Ali I like for you what I like for myself and I dislike for you what I dislike for myself. Do not observe iq’a between two prostrations.”
ضعيف، ابن ماجة (894 و 895) // ضعيف الجامع الصغير (6400)، المشکاة (903) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 282
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ہم اسے علی کی حدیث سے صرف ابواسحاق سبیعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے حارث سے اور حارث نے علی سے روایت کی ہے، ٢- بعض اہل علم نے حارث الاعور کو ضعیف قرار دیا ہے ٢ ؎، ٣- اس باب میں عائشہ، انس اور ابوہریرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اکثر اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ وہ اقعاء کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اقعاء کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم یہ ہے کہ دونوں سرین زمین سے چپکے ہوں اور دونوں رانیں کھڑی ہوں اور دونوں ہاتھ زمین پر ہوں یہی اقعاء کلب ہے اور یہی وہ اقعاء ہے جس کی ممانعت آئی ہے، دوسری قسم یہ ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان قدموں کو کھڑا کر کے سرین کو دونوں ایڑیوں پر رکھ کر بیٹھے، اس صورت کا ذکر ابن عباس کی حدیث میں ہے جس کی تخریج مسلم اور ابوداؤد نے بھی کی ہے، اور یہ صورت جائز ہے، بعض نے اسے بھی منسوخ شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ابن عباس کو اس نسخ کا علم نہ ہوسکا ہو، لیکن یہ قول درست نہیں کیونکہ دونوں حدیثوں کے درمیان تطبیق ممکن ہے، صحیح قول یہ ہے کہ اقعاء کی یہ صورت جائز ہے اور افضل سرین پر بیٹھنا ہے اس لیے کہ زیادہ تر آپ کا عمل اسی پر رہا ہے اور کبھی کبھی آپ نے جو اقعاء کیا وہ یا تو کسی عذر کی وجہ سے کیا ہوگا یا بیان جواز کے لیے کیا ہوگا۔ ٢ ؎: حارث اعور کی وجہ سے یہ روایت تو ضعیف ہے مگر اس باب کی دیگر احادیث صحیح ہیں جن کا ذکر مولف نے «وفی الباب» کر کے کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٢٢ (٨٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠٤١) (ضعیف) (سند میں حارث اعور سخت ضعیف ہے)
طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس ؓ سے دونوں قدموں پر اقعاء کرنے کے سلسلے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے، تو ہم نے کہا کہ ہم تو اسے آدمی کا پھوہڑپن سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا: نہیں یہ پھوہڑپن نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے نبی اکرم ﷺ کی سنت ہے۔
Ibn Jurayj reported from Abu Zubayr who from Tawus that he asked Sayyidina Ibn Abbas (RA) about iq’a on both feet. He said, ‘It is sunnah.” They complained, “We consider it cruelty on man.” lbn Abbas (RA) said. “Rather this is the sunnah of your Prophet ﷺ .
صحيح، صحيح أبي داود (791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 283
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام میں بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ اقعاء میں کوئی حرج نہیں جانتے، مکہ کے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، لیکن اکثر اہل علم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کو ناپسند کرتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٣٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٣ (٨٤٥)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٥٣)، مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني واجبرني واهدني وارزقني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے نقصان کی تلافی فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما کہتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ (RA) made this supplication between two prostrations: O Allah, forgive me, have merey on me, compensate me, guide me and provide for me.
صحيح، ابن ماجة (898)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 284
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے، بعض روایات میں «وأرفعني» کا اضافہ ہے اور بعض میں مختصراً «رب اغفرلي» کے الفاظ آئے ہیں، دوسری روایات میں الفاظ کچھ کمی بیشی ہے، اس لیے حسب حال جو بھی دعا پڑھ لی جائے درست ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٥ (٨٥٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٨٩٨)، ( تحفة الأشراف: ٥٤٧٥)، مسند احمد (١/٣١٥، ٣٧١) (صحیح)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق يرون هذا جائزا في المكتوبة والتطوع، وروى بعضهم هذا الحديث عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ مُرْسَلًا.
اس سند سے بھی کامل ابو العلاء سے اسی طرح مروی ہے۔
The like of this hadith is reported by Hasan ibn All Khilal from Yazid lbn Harun from Zayd ibn Habbab from Kamil Abul Ala.
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اسی طرح علی ؓ سے بھی مروی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کامل ابو العلاء سے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے، ٣- شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ان کی رائے ہے کہ یہ فرض اور نفل دونوں میں جائز ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بعض صحابہ نے نبی اکرم ﷺ سے سجدے میں دونوں ہاتھوں کو دونوں پہلوؤں سے اور پیٹ کو ران سے جدا رکھنے کی صورت میں (تکلیف کی) شکایت کی، تو آپ نے فرمایا: گھٹنوں سے (ان پر ٹیک لگا کر) مدد لے لیا کرو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that the sahabah (RA) complained of inconvenience because of keeping limbs apart. He said, “Support yourself on your knees.”
ضعيف، ضعيف أبي داود (160) // عندنا في ضعيف أبي داود برقم (192 / 902) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 286
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم سے ابوصالح کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے صرف اسی طریق سے (یعنی لیث عن ابن عجلان کے طریق سے) جانتے ہیں اور سفیان بن عیینہ اور دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق: «سمی عن النعمان بن أبي عياش عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» (اسی طرح) روایت کی ہے، ان لوگوں کی روایت لیث کی روایت کے مقابلے میں شاید زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لیا کرو تاکہ تکلیف کم ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٥٩ (٩٠٢)، ( تحفة الأشراف: ١٢٥٨٠)، مسند احمد (٢/٣٤٠) (ضعیف) (محمد بن عجلان کی اس روایت کو ان سے زیادہ ثقہ اور معتبر رواة نے مرسلاً ذکر کیا ہے، اور ابوہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا، اس لیے ان کی یہ روایت ضعیف ہے، دیکھئے: ضعیف سنن ابی داود: ج ٩/رقم: ٨٣٢)
ابواسحاق مالک بن حویرث لیثی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ کی نماز اس طرح سے تھی کہ جب آپ طاق رکعت میں ہوتے تو اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک کہ آپ اچھی طرح بیٹھ نہ جاتے ١ ؎۔
Sayyidina Malik ibn Huwayrith Laythi (RA) narrated that he saw the Prophet ﷺ praying. During the odd raka’ah, he would not stand up until he had sat down well.
صحيح، الإرواء (2 / 82 - 83)، صفة الصلاة // 136 //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 287
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مالک بن حویرث کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی اسحاق بن راہویہ اور ہمارے بعض اصحاب بھی کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس بیٹھک کا نام جلسہ استراحت ہے، یہ حدیث جلسہ استراحت کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے، جو لوگ جلسہ استراحت کی سنت کے قائل نہیں ہیں انہوں نے اس حدیث کی مختلف تاویلیں کی ہیں، لیکن یہ ایسی تاویلات ہیں جو قطعاً لائق التفات نہیں، نیز قدموں کے سہارے بغیر بیٹھے اٹھنے کی حدیث ضعیف ہے جو آگے آرہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٤٥ (٦٧٧)، و ١٢٧ (٨٠٣)، و ١٤٢ (٨٢٣)، و ١٤٣ (٨٢٤)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٢ (٨٤٢، ٨٤٣، ٨٤٤)، ( تحفة الأشراف: ١١١٨٣) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں یعنی دونوں پیروں کی انگلیوں پر زور دے کر اٹھتے تھے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said that the Prophet ﷺ 3ii stood up in salah putting weight on the toes.
ضعيف، الإرواء (362)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 288
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اہل علم کے نزدیک ابوہریرہ ؓ ہی کی حدیث پر عمل ہے۔ خالد بن الیاس محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ انہیں خالد بن ایاس بھی کہا جاتا ہے، لوگ اسی کو پسند کرتے ہیں کہ آدمی نماز میں اپنے دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر (بغیر بیٹھے) کھڑا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ جلسہ استراحت کے قائل نہیں ہیں اور دونوں قدموں کے سروں پر زور دے کر بغیر بیٹھے کھڑے ہوجانے کو پسند کرتے ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے استدلال کے قابل نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٥٠٤) (ضعیف) (سند میں دو راوی خالد اور صالح مولیٰ التوامہ ضعیف ہیں)
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ جب ہم دو رکعتوں کے بعد بیٹھیں تو یہ دعا پڑھیں: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام قولی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، سلام ہو آپ پر اے نبی اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud narrated that Allah’s Messenger ﷺ taught them to recite when they sat down in the second raka’ah. All prayers and worship and nice things are for Allah, Peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and his blessings. Peace be on us and on the righteous slaves of Allah. I bear witness that there is no one worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhmamad is His slave and His Messenger 0.
صحيح، الإرواء (336)، وانظر ابن ماجه (899 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 289
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود ؓ کی حدیث ان سے کئی سندوں سے مروی ہے، اور یہ سب سے زیادہ صحیح حدیث ہے جو تشہد میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہیں، ٢- اس باب میں ابن عمر، جابر، ابوموسیٰ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- ہم سے احمد بن محمد بن موسیٰ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، اور وہ معمر سے اور وہ خصیف سے روایت کرتے ہیں، خصیف کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو خواب میں دیکھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں تشہد کے سلسلے میں اختلاف ہوگیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: تم پر ابن مسعود کا تشہد لازم ہے ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لیکن خصیف حافظہ کے کمزور اور مرجئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٨ (٨٣١)، و ١٥٠ (٨٣٥)، والعمل فی الصلاة ٤ (١٢٠٢)، والاستئذان ٣ (٦٢٣٠)، و ٢٨ (٦٣٦٥)، والدعوات ١٧ (٦٣٢٨)، والتوحید ٥ (٧٣٨١)، صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٢)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٢ (٩٦٨)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٠ (١١٦٣ - ١١٧٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٨٩٩)، ( تحفة الأشراف: ٩١٨١)، مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٨٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٤، ٤٢٢، ٤٢٣، ٤٢٨، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٥٠، ٤٥٩، ٤٦٤)، وراجع ما عند النسائی فی السہو ٤١، ٤٣٠، ٥٦ (الأرقام: ١٢٧٨، ١٢٨٠، ١٢٩٩)، وابن ماجہ في النکاح ١٩ (١٨٩٢)، والمؤلف في النکاح ١٧ (١١٠٥) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن سکھاتے تھے اور فرماتے: «التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته سلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا رسول الله»۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اور عبدالرحمٰن بن حمید رواسی نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے لیث بن سعد کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٣- اور ایمن بن نابل مکی نے یہ حدیث ابو الزبیر سے جابر ؓ کی حدیث سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ٤- امام شافعی تشہد کے سلسلے میں ابن عباس ؓ کی حدیث کی طرف گئے ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ taught them the tashahhud as he taught them the Qur’an. He would say: All blessed adorations, all worship monetary o r physical, are for Allah. Peace be upon you, O Prophet ﷺ and His blessing. Peace be upon us and upon Allah’s righteous slaves. I bear witness that there is no God but Allah and I bear witness that Muhammad is Allah’s Messenger.
صحيح، ابن ماجة (900)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 290
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں طرح کا تشہد ثابت ہے، دونوں میں سے چاہے جو بھی پڑھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٣)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٢ (٩٧٤)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٣ (١١٧٥)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٤ (٩٠٠)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٥٠)، مسند احمد (١/٢٩٢) (صحیح)
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں: میں مدینے آیا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز ضرور دیکھوں گا۔ (چنانچہ میں نے دیکھا) جب آپ ﷺ تشہد کے لیے بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پیر بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا اور اپنا دایاں پیر کھڑا رکھا۔
Sayyidina Wail ibn Hujr (RA) said, When I came to Madinah, I said to myself that I would certainly observe the salah of Allah’s Messenger ﷺ When he sat down for tashahhud, he laid down his left foot and put his left hand on his left thigh and kept his right leg erect (on its toes).
صحيح، صحيح أبي داود (716)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 292
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، اہل کوفہ اور ابن مبارک کا بھی قول ہے۔
عباس بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ ؓ اکٹھے ہوئے، تو ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا ذکر کیا۔ اس پر ابوحمید کہنے لگے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ تشہد کے لیے بیٹھتے تو آپ اپنا بایاں پیر بچھاتے ١ ؎ اور اپنے دائیں پیر کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرتے، اور اپنی داہنی ہتھیلی داہنے گھٹنے پر اور بائیں ہتھیلی بائیں گھٹنے پر رکھتے، اور اپنی انگلی (انگشت شہادت) سے اشارہ کرتے۔
Sayyidina Abbas ibn Sahl Sa’idi said that Abu Humayd, Abu Usayd, Sahl bin Sad and Muhammad ibn Maslamah (RA) assembled somewhere and discussed the prayer of Allah’s Messenger ﷺ Abu Humayd said that he knew of it more than anyone of them. When the Prophet ﷺ sat down for tashahhud, he stretched his left foot and turned the toes of the right foot to the qiblah. Then he put his right hand over his right knee and left over the left knee, and indicated with his index finger.
صحيح، صحيح أبي داود (723)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 293
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی بعض اہل علم کہتے ہیں اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ اخیر تشہد میں اپنے سرین پر بیٹھے، ان لوگوں نے ابوحمید کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے تشہد میں بائیں پیر پر بیٹھے اور دایاں پیر کھڑا رکھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: افتراش والی یہ روایت مطلق ہے اس میں یہ وضاحت نہیں کہ یہ دونوں تشہد کے لیے ہے یا پہلے تشہد کے لیے، ابو حمید ساعدی کی دوسری روایت میں اس اطلاق کی تبیین موجود ہے، اس میں اس بات کو واضح کردیا گیا ہے کہ افتراش پہلے تشہد میں ہے اور تورک آخری تشہد میں ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے (دائیں) گھٹنے پر رکھتے اور اپنے داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کے قریب والی انگلی اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے یعنی اشارہ کرتے، اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے (بائیں) گھٹنے پر پھیلائے رکھتے ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar reported that when the Prophet ﷺ L--- sat down in prayer, he placed his right hand over his knee and raised the finger next to his thumb and made supplication. His left hand was also over his knee and its fingers were apart.
صحيح، ابن ماجة (913)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 294
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عبداللہ بن زبیر، نمیر خزاعی، ابوہریرہ، ابوحمید اور وائل بن حجر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢- ابن عمر کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اہل علم کا اسی پر عمل تھا، یہ لوگ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کو پسند کرتے اور یہی ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: احادیث میں تشہد کی حالت میں داہنے ہاتھ کے ران پر رکھنے کی مختلف ہیئتوں کا ذکر ہے، انہیں ہیئتوں میں سے ایک ہیئت یہ بھی ہے اس میں انگلیوں کے بند رکھنے کا ذکر نہیں ہے، دوسری یہ ہے کہ خنصر بنصر اور وسطیٰ ( یعنی سب سے چھوٹی انگلی چھنگلیا، اور اس کے بعد والی اور درمیانی تینوں ) کو بند رکھے اور شہادت کی انگلی ( انگوٹھے سے ملی ہوئی ) کو کھلی چھوڑ دے اور انگوٹھے کو شہادت کی انگلی کی جڑ سے ملا لے، یہی ترپن کی گرہ ہے، تیسری ہیئت یہ ہے کہ خنصر، بنصر ( سب سے چھوٹی یعنی چھنگلیا اور اس کے بعد والی انگلی ) کو بند کرلے اور شہادت کی انگلی کو چھوڑ دے اور انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ بنا لے، چوتھی صورت یہ ہے کہ ساری انگلیاں بند رکھے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرے، ان ساری صورتوں سے متعلق احادیث وارد ہیں، جس طرح چاہے کرے، سب جائز ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ یہ ساری صورتیں شروع تشہد ہی سے ہیں نہ کہ «أشهد أن لا إله إلا الله» کہنے پر، یا یہ کلمہ کہنے سے لے کر بعد تک، کسی بھی حدیث میں یہ تحدید ثابت نہیں ہے، یہ بعد کے لوگوں کا گھڑا ہوا عمل ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے دائیں اور بائیں «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر سلام پھیرتے تھے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ turned (his face) to the right and left in salutation saying (each time): Peace be on you and the mercy of Allah
صحيح، ابن ماجة (914)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 295
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابن عمر، جابر بن سمرہ، براء، ابوسعید، عمار، وائل بن حجر، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے دونوں طرف دائیں اور بائیں سلام پھیرنے کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے، ابوداؤد کی روایت میں «حتی يرى بياض خده» کا اضافہ ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑا سا مائل ہو کر ایک سلام پھیرتے۔
Sayyidah Aisha (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ would offer one salutation in prayer straight in front of his face, then incline a little to the right.
صحيح، ابن ماجة (919)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 296
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہیر بن محمد سے اہل شام منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ البتہ ان سے مروی اہل عراق کی روایتیں زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہیں، ٣- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ شاید زہیر بن محمد جو اہل شام کے یہاں گئے تھے، وہ نہیں جن سے عراق میں روایت کی جاتی ہے، کوئی دوسرے آدمی ہیں جن کا نام ان لوگوں نے بدل دیا ہے، ٤- اس باب میں سہل بن سعد ؓ سے بھی روایت ہے، ٥- نماز میں سلام پھیرنے کے سلسلے میں بعض اہل علم نے یہی کہا ہے، لیکن نبی اکرم ﷺ سے مروی سب سے صحیح روایت دو سلاموں والی ہے ١ ؎، صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ البتہ صحابہ کرام اور ان کے علاوہ میں سے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فرض نماز میں صرف ایک سلام ہے، شافعی کہتے ہیں: چاہے تو صرف ایک سلام پھیرے اور چاہے تو دو سلام پھیرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اسی پر امت کی اکثریت کا تعامل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٩ (٩١٩)، ( تحفة الأشراف: ١٦٨٩٥) مسند احمد (٦/٢٣٦) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: «حذف سلام» سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said, “It is sunnah to shorten the salutation.” Ali ibn HIjr said that Ibn Mubarak would say, “Do not prolong it.”
ضعيف، ضعيف أبي داود (179) // عندنا برقم (213 / 1004) بزيادة: يرفعه للرسول صلی اللہ عليه وسلم //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 297
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں، ٣- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے (یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٩٢ (١٠٠٤)، ( تحفة الأشراف: ١٥٢٣٣)، مسند احمد (٢/٥٣٢) (ضعیف) (سند میں قرة کی ثقاہت میں کلام ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سلام پھیرتے تو «اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت ذا الجلال والإکرام» اے اللہ تو سلام ہے، تجھ سے سلامتی ہے، بزرگی اور عزت والے! تو بڑی برکت والا ہے کہنے کے بقدر ہی بیٹھتے۔
Sayyidah Aisha (RA) narrated that after salutation (in salah), AIlahs Messenger sat only so much time as took to supplicate: O Allah! You are Peace and from You emanates peace. You are blessed Owner of Glory and Honour.
صحيح، ابن ماجة (924)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 298
اس سند سے بھی عاصم الاحول سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں «تبارکت يا ذا الجلال والإکرام» («یا» کے ساتھ) ہے۔
A similar veron from the same sanad is reported by sanad from a Marwan ibn Mu’awiyah and Abu Mu’wiyah who from Aasim Ahwal, saying: (You are blessed O Owner of Glory and Honour) There is no God but Allah Alone. He has no partner. To Him belongs the Kingdom and for Him is all praise. He gives life and causes death. And, He is over alt things Capable. O Allah, no one can deny what you grant and no one can give what you deny. And the effort of one who makes effort cannot help him against You He would also say: Glorified be your Lord of Majesty above what they describe! And peace be upon the Messenger And all praise belongs to Allah, the Lord of the worlds. These are verses of the Quran 37: 180.182
صحيح انظر ما قبله (298)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 299
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، خالد الحذاء نے یہ حدیث بروایت عائشہ عبداللہ بن حارث سے عاصم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ سلام پھیرنے کے بعد «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملک وله الحمد يحيي ويميت وهو علی كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منک الجد» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندگی اور موت دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے آگے کسی نصیب والے کا کوئی نصیب کام نہیں آتا کہتے تھے، یہ بھی مروی ہے کہ آپ «سبحان ربک رب العزة عما يصفون وسلام علی المرسلين والحمد لله رب العالمين» پاک ہے تیرا رب جو عزت والا ہے ہر اس برائی سے جو یہ بیان کرتے ہیں اور سلامتی ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے بھی کہتے تھے ١ ؎، ٣- اس باب میں ثوبان، ابن عمر، ابن عباس، ابوسعید، ابوہریرہ اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ سے سلام کے بعد مختلف حالات میں مختلف اذکار مروی ہیں اور سب صحیح ہیں، ان میں کوئی تعارض نہیں، آپ کبھی کوئی ذکر کرتے اور کبھی کوئی ذکر، اس طرح آپ سے سلام کے بعد قولاً بھی کئی اذکار کا ثبوت ہے۔
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے (مقتدیوں کی طرف) پلٹنے کا ارادہ کرتے تو تین بار «استغفر الله» میں اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنک السلام تبارکت يا ذا الجلال والإکرام» کہتے۔
Sayyidina Thawban (RA) the freed man of Allah’s Messenger ﷺ said that when Allah’s Messenger ﷺ finished prayer, he would make istighfar three times and say:
صحيح، ابن ماجة (928)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 300
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٦ (٥٩١)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦٠ (١٥١٣)، سنن النسائی/السہو ٨١ (١٣٣٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٢ (٩٢٨)، ( تحفة الأشراف: ٢٠٩٩)، مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩) (صحیح)