ہلب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری امامت فرماتے (تو سلام پھیرنے کے بعد) اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے (کبھی) دائیں اور (کبھی) بائیں۔
Qabisah ibn Huib reported from his father that he said, “The Messenger of Allah ﷺ would lead us in salah. Then turn to both sides, to his right and to his left.”
حسن صحيح، ابن ماجة (929)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 301
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ہلب ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، عبداللہ بن عمرو، اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ امام اپنے جس جانب چاہے پلٹ کر بیٹھے چاہے تو دائیں طرف اور چاہے تو بائیں طرف، نبی اکرم ﷺ سے دونوں ہی باتیں ثابت ہیں ١ ؎ اور علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں اگر آپ کی ضرورت دائیں طرف ہوتی تو دائیں طرف پلٹتے اور بائیں طرف ہوتی تو بائیں طرف پلٹتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں ہے «لقد رأيت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم کثيراً ينصرف عن يساره» اور انس ؓ کی روایت میں ہے «أكثر ما رأيت رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم ينصرف عن يمينه» بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے، تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ دونوں نے اپنے اپنے علم اور مشاہدات کے مطابق یہ بات کہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٤ (١٠٤١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٣٣ (٩٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١١٧٣٣)، مسند احمد (٥/٢٢٦) (حسن صحیح) (سند میں قبیصة بن ہلب لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں اس باب میں مروی ابن مسعود ؓ کی حدیث ( سنن ابی داود/ الصلاة ٢٠٤ حدیث رقم: ١٠٤٢) سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن صحیح ہے
رفاعہ بن رافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا جو بدوی لگ رہا تھا، اس نے آ کر نماز پڑھی اور بہت جلدی جلدی پڑھی، پھر پلٹ کر آیا اور نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو اس شخص نے واپس جا کر پھر سے نماز پڑھی، پھر واپس آیا اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے پھر فرمایا: اور تمہیں بھی سلام ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، اس طرح اس نے دو بار یا تین بار کیا ہر بار وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو سلام کرتا اور آپ فرماتے: تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، تو لوگ ڈرے اور ان پر یہ بات گراں گزری کہ جس نے ہلکی نماز پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی، آخر اس آدمی نے عرض کیا، آپ ہمیں (پڑھ کر) دکھا دیجئیے اور مجھے سکھا دیجئیے، میں انسان ہی تو ہوں، میں صحیح بھی کرتا ہوں اور مجھ سے غلطی بھی ہوجاتی ہے، تو آپ نے فرمایا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو کرو جیسے اللہ نے تمہیں وضو کرنے کا حکم دیا ہے، پھر اذان دو اور تکبیر کہو اور اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو ورنہ «الحمد لله»، «الله أكبر» اور «لا إله إلا الله» کہو، پھر رکوع میں جاؤ اور خوب اطمینان سے رکوع کرو، اس کے بعد بالکل سیدھے کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو، اور خوب اعتدال سے سجدہ کرو، پھر بیٹھو اور خوب اطمینان سے بیٹھو، پھر اٹھو، جب تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری نماز پوری ہوگئی اور اگر تم نے اس میں کچھ کمی کی تو تم نے اتنی ہی اپنی نماز میں سے کمی کی ، راوی (رفاعہ) کہتے ہیں: تو یہ بات انہیں پہلے سے آسان لگی کہ جس نے اس میں سے کچھ کمی کی تو اس نے اتنی ہی اپنی نماز سے کمی کی، پوری نماز نہیں گئی۔
Sayyidina Rifa’ah ibn Rafi narrated Once the Prophet ﷺ was seated in the mosquc and we were with him. A villager came and offered a brief salah and on finishing it he offered salaam to the Prophet ﷺ . He said, “Go and offer salah. You have not offered it.” He went back and repeated it and came back and greeted the Prophet ﷺ but he said, “Go and offer salah for you have not observed it.” This happened twice or thrice. Each time, he came offered salaam and the-Prophet ﷺ told him to go and offer salah, for he had not done it. The people were worried because of that, imagining that whoever offered a brief prayer had not actually prayed. So, this man said finally. “Teach me, for I am a human who may be right as well as mistaken.” The Prophet ﷺ said, “Okay! When you come for prayer, make ablution as Allah has commanded. Then call the adhan and the iqamah. Then if you remember something from the Qur’an, recite it otherwise praise Allah and extol him and recite "There is no God but Allah". Then go into ruku and bow down in a composed manner. Then stand up straight. Then go into sajdah in a careful way and then sit peacefully. Then stand up. If you do that then your salah is perfect but if there is a lapse then there will be a lapse in your salah.”
صحيح، المشکاة (804)، صفة الصلاة / الأصل، صحيح أبي داود (803 - 807)، الإرواء (1 / 321 - 322)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 302
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- رفاعہ بن رافع کی حدیث حسن ہے، رفاعہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور عمار بن یاسر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، چناچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی، جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ، یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا، پھر اس آدمی نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہوجائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہوجاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کرلو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ enterred the mosque, another person also enterred it and he offered salah. Then, he came and greeted the Prophet ﷺ . He responded to his salam and said, ‘Go back and repeat your prayer, for, you have not offered it.’ He went back and repeated the salah in the same way as he had offered before. He then came to the Prophet ﷺ and greeted him with salaam. He gave the response and said to him, “Go. Offer the salah. You have not prayed.’ This happened three times. This man submitted, “By Him Who has sent you with the true religion, I cannot offer prayer better than this. Do teach me!” So, the Prophet ﷺ said, ‘When you stand for salah, call the takbir (which is takbir tahrimah). Then recite from the Qur’an whatever you remember. Then make the ruku peacefully. Get up and stand straight. Then make the sajdah in a peaceful manner. Get up and sit composedly. Do this throughout in your salah.’
صحيح، ابن ماجة (1060)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 303
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے، ٣- یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح۔
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو حمید ساعدی ؓ کو کہتے ہیں سنا (جب) صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابوحمید ؓ کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اور نہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتے جاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے (لیکن مجھے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا (اگر تم زیادہ جانتے ہو) تو پیش کرو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور رکوع کرتے اور بالکل سیدھے ہوجاتے، نہ اپنا سر بالکل نیچے جھکاتے اور نہ اوپر ہی اٹھائے رکھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر «سمع اللہ لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) اور سیدھے کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ایک ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور اپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جدا رکھتے، اور اپنے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہوجاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، اور آپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب (تیسری رکعت کے لیے) اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے نماز شروع کی تھی، پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں نماز ختم ہو رہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخر کرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اور سرین پر بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔
Muhammad ibn Amr ibn Atta reported having heard Sayyidina Abu Hurnayd Sa’idi (RA) say when he was among ten sahabah Sayyidina Abu Qatadah ibn Rab’i Thfi was one of them that he knew about the salah of Allah’s Messenger more than anyone of them. They said “Neither had you had the Prophet’s ﷺ company earlier than us nor had you more of it or frequently.” He said, “That is correct.” They said, “Go on, narrate.’ Abu Humayd ﷺ said, “When Allah’s Messenger ﷺ stood up for salah, he stood straight and raised both hands to his shoulders. When he was going into the bowing posture, he would raise both hands to his shoulders and went into ruku, saying, Allahu Akbar. He observed ruku with moderation, neither lowering his hand nor raising it high. He placed both hands on his knees. He would then say: "Allah listens to one who praises Him" and raise his hands and he stood up moderately till every bone was in its place. Then he would bow down towards the ground for sajdah, saying Allahu Akbar, Kepping arms apart from arm-pits. He would turn his toes gently towards the qiblah. Then he truned the left foot and sat on it with moderation till every bone found its place. Then he lowered his head for sajdah, saying Allahu Akhar. Then he would stand up. He did this in every raka’ah. When he got up from both prostrations, he called the takbir and raised both hands up to his shoulders as he had done in the beginning of salah. He would do that till it was the last raka’ah of his salah. He would stretch the left leg and sit down on his hips in tuwarruk form. Then be turned in salutation.”
صحيح، ابن ماجة (1061)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 304
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ان کے قول «رفع يديه إذا قام من السجدتين» دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے کا مطلب ہے کہ جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے۔
محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو حمید ساعدی ؓ کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں جن میں ابوقتادہ بن ربعی بھی تھے، کہتے سنا، پھر انہوں نے یحییٰ بن سعید کی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Muhammad ibn Bashshar, Hasan ibn Halwani and many people report from Abu Aasim from Abdul Hamid ibn Ja’far from Muhammad ibn Amr ibn Attar that he heard Sayyidina Abu Humayd say in the presence of ten Companions (RA) , including Sayyidina Abu Qatadah ... (the Hadith). Then he recalled the Hadith like that of Yahya ibn Sa’eed. But, in this hadith Aasim reported from Abdul Hamid this much more: The sahahab (RA) then confirmed, “You spoke the truth. Allahs Messenger did offer salah in this manner.
صحيح انظر ما قبله (304)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 305
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث میں ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے عبدالحمید بن جعفر کے واسطے سے اس لفظ کا اضافہ کیا ہے کہ (نبی اکرم ﷺ کی نماز والی اس صفت و کیفیت کو سننے والے) صحابہ کرام ؓ اجمعین نے کہا کہ آپ نے صحیح کہا، نبی اکرم ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
قطبہ بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر میں پہلی رکعت میں «والنخل باسقات» پڑھتے سنا ١ ؎۔
Ziyad ibn Ilaqah reported from his uncle Qutbah ibn Malik that he said, “I heard Allah’s Messenger recite in the first raka’ah of fajr (50:10)
صحيح، ابن ماجة (816)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 306
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- قطبہ بن مالک کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمرو بن حریث، جابر بن سمرہ، عبداللہ بن سائب، ابوبرزہ اور ام سلمہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فجر میں سورة الواقعہ پڑھی، ٤- یہ بھی مروی ہے کہ آپ فجر میں ساٹھ سے لے کر سو آیتیں پڑھا کرتے تھے، ٥- اور یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے «إذا الشمس کورت» پڑھی، ٦- اور عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کو لکھا کہ فجر میں طوال مفصل پڑھا کرو ١ ؎، ٧- اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد سورة ق ہے۔ ٢ ؎: مفصل: قرآن کا آخری ساتواں حصہ ہے جو صحیح قول کے مطابق سورة ق ؔ سے شروع ہوتا ہے اور سورة البروج پر ختم ہوتا ہے۔
جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں «وسماء ذات البروج»، «والسماء والطارق» اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔
Sayyidina jabir ibn Samurah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ recited in the salah of zuhr and asr surah al-Buruj (85) at-Tariq (86) and the like of these.
حسن صحيح، صفة الصلاة // 94 //، صحيح أبي داود (767)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 307
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں خباب، ابوسعید، ابوقتادہ، زید بن ثابت اور براء بن عازب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے ظہر میں «الم تنزیل» یعنی سورة السجدہ کے بقدر قرأت کی، ٤- یہ بھی مروی ہے کہ آپ ﷺ ظہر کی پہلی رکعت میں تیس آیتوں کے بقدر اور دوسری رکعت میں پندرہ آیتوں کے بقدر قرأت کرتے تھے، عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ ؓ کو لکھا کہ تم ظہر میں «وساط مفصل» پڑھا کرو ١ ؎، ٦- بعض اہل علم کی رائے ہے کہ عصر کی قرأت مغرب کی قرأت کی طرح ہوگی، ان میں (امام) «قصار مفصل» پڑھے گا ٢ ؎، ٧- اور ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ ظہر کی قرأت عصر کی قرأت سے چار گنا ہوگی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة البروج سے سورة لم یکن تک وساط مفصل ہے۔ ٢ ؎: اور لم یکن سے اخیر تک قصار مفصل ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے: ان کی ماں ام الفضل ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف اس حال میں نکلے کہ آپ بیماری میں اپنے سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے، مغرب پڑھائی تو سورة مرسلات پڑھی، پھر اس کے بعد آپ نے یہ سورت نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported from his mother, Sayyidah Umm Fadl (RA) She said, “During his illness, Allah’s Messenger came to us. He had a bandage round his head. In the salah of maghrib, he recited surah al-Mursalat. Then till his death, he did not recite this surah (in maghrib).”
صحيح، ابن ماجة (831)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 308
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام الفضل کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جبیر بن مطعم، ابن عمر، ابوایوب اور زید بن ثابت ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورة الاعراف پڑھی، اور آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے مغرب میں سورة الطور پڑھی، ٥- عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ ؓ کو لکھا کہ تم مغرب میں «قصار مفصل» پڑھا کرو، ٦- اور ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ وہ مغرب میں «قصار مفصل» پڑھتے تھے، ٧- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ٨- امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے مغرب میں طور اور مرسلات جیسی لمبی سورتیں پڑھنے کو مکروہ جانا ہے۔ شافعی کہتے ہیں: لیکن میں مکروہ نہیں سمجھتا، بلکہ مغرب میں ان سورتوں کے پڑھے جانے کو مستحب سمجھتا ہوں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری میں ام المؤمنین عائشہ ؓ سے مروی ہے «إن آخر صلاة صلاّها النبي صلی اللہ عليه وسلم في مرض موته الظهر» بظاہر ان دونوں روایتوں میں تعارض ہے، تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ جو نماز آپ نے مسجد میں پڑھی اس میں سب سے آخری نماز ظہر کی تھی، اور آپ نے جو نمازیں گھر میں پڑھیں ان میں آخری نماز مغرب تھی، لیکن اس توجیہ پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ام الفضل کی روایت میں ہے «خرج إلينا رسول اللہ وهو عاصب رأسه» رسول اللہ ﷺ ہماری طرف نکلے آپ سر پر پٹی باندھے ہوئے تھے جس سے لگتا ہے کہ یہ نماز بھی آپ نے مسجد میں پڑھی تھی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہاں نکلنے سے مراد مسجد میں جانا نہیں ہے بلکہ جس جگہ آپ سوئے ہوئے تھے وہاں سے اٹھ کر گھر والوں کے پاس آنا مراد ہے۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔
Sayyidina Abdullah ibn Buraidah (RA) reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ recited surah ash-Shams (91) and the like of it,in the salah of isha.”
صحيح، صفة الصلاة // 97 //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 309
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بریدہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں براء بن عازب اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے عشاء میں سورة «والتين والزيتون» پڑھی۔ ٤- عثمان بن عفان سے مروی ہے کہ وہ عشاء میں «وساط مفصل» کی سورتیں جیسے سورة المنافقون اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرتے تھے، ٥- صحابہ کرام اور تابعین سے یہ بھی مروی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے زیادہ اور اس سے کم بھی پڑھی ہے۔ گویا ان کے نزدیک معاملے میں وسعت ہے لیکن اس سلسلے میں سب سے بہتر چیز جو نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے وہ یہ کہ آپ نے سورة «والشمس وضحاها» اور سورة «والتين والزيتون» پڑھی۔
عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر پڑھی، آپ پر قرأت دشوار ہوگئی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے فرمایا: مجھے لگ رہا ہے کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم ہم قرأت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم ایسا نہ کیا کرو سوائے سورة فاتحہ کے اس لیے کہ جو اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ہے ۔
Sayyidina Ubadahh ibn Samit (RA) reported that once while Allah’s Mesenge ﷺ led the fajr salah, the recitation of the Qur’an became difficult for him. When he finished, he said, “Perhaps you recite behind your imam.” They replied, “By Allah, yes, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “Do not do it. Recite only the umm ut-Qur’an (surah al-Fa’tihah), for, one who does not recite it has not offered salah.”
(حديث: .... فلا تفعلوا إلا بأم القرآن .... ) ضعيف، (حديث: لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الکتاب ) صحيح (حديث: لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الکتاب )، ابن ماجة (837)، (حديث: .... فلا تفعلوا إلا بأم القرآن .... )، ضعيف أبي داود (146) // عندنا في ضعيف أبي داود برقم (176 / 823)، ضعيف الجامع الصغير (2082 و 4681) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 311
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبادہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- یہ حدیث زہری نے بھی محمود بن ربیع سے اور محمود نے عبادہ بن صامت سے اور عبادہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورة فاتحہ نہیں پڑھی، یہ سب سے صحیح روایت ہے،
٣ - اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- صحابہ اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا امام کے پیچھے قرأت کے سلسلے میں عمل اسی حدیث پر ہے۔ ائمہ کرام میں سے مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے، یہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی کے اس قول میں اجمال ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ سبھی لوگ امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں ان میں سے کچھ لوگ سری اور جہری سبھی نمازوں میں قراءت کے قائل ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگ قرأت کے وجوب کے قائل ہیں اور کچھ لوگ اس کو مستحب کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٣٦ (٨٢٣)، ( تحفة الأشراف: ٥١١١)، مسند احمد (٥/٣١٣، ٣١٦، ٣٢٢) (حسن) (البانی نے اس حدیث کو ” ضعیف “ کہا ہے، لیکن ابن خزیمہ نے اس کو صحیح کہا ہے (٣/٣٦-٣٧) ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے حسن کہا ہے، ابن حجر نے بھی اس کو نتائج الافکار میں حسن کہا ہے، ملاحظہ ہو: امام الکلام مولفہ مولانا عبدالحیٔ لکھنوی ص ٧٧-٢٧٨، تراجع الالبانی ٣٤٨)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے فارغ ہونے کے بعد جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی تھی تو فرمایا: کیا تم میں سے ابھی کسی نے میرے ساتھ قرأت کی ہے؟ ایک شخص نے عرض کیا: جی ہاں اللہ کے رسول! (میں نے کی ہے) آپ نے فرمایا: تبھی تو میں یہ کہہ رہا تھا: آخر کیا بات ہے کہ قرآن کی قرأت میں میری آواز سے آواز ٹکرائی جا رہی ہے اور مجھ پر غالب ہونے کی کوشش کی جاری ہے ، وہ (زہری) کہتے ہیں: تو جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات سنی تو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ان نمازوں میں قرأت کرنے سے رک گئے جن میں آپ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when once Allah’s Messenger ﷺ finished an audible salah, he asked, “Did anyone of you recite with me? A man said that he did. He said, “I was wondering why there was difficulty in reciting the Qur’an.” The narrator added: The people thenceforth refrained from reciting the Qur’an with Allah’s Messenger when he made ajahry (audible) recital.
صحيح، صفة الصلاة // 79 //، صحيح أبي داود (781)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 312
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابن اکیمہ لیثی کا نام عمارہ ہے انہیں عمرو بن اکیمہ بھی کہا جاتا ہے، زہری کے دیگر تلامذہ نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے لیکن ان لوگوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ ذکر کیا ہے «قال الزهري فانتهى الناس عن القراءة حين سمعوا ذلک من رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم» زہری نے کہا کہ لوگ قرأت سے رک گئے جس وقت ان لوگوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ٣- اس باب میں ابن مسعود، عمران بن حصین اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان لوگوں کے لیے رکاوٹ کا سبب بنے جن کی رائے امام کے پیچھے بھی قرأت کی ہے، اس لیے کہ ابوہریرہ ؓ ہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور انہوں نے ہی نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناتمام ہے تو ان سے ایک شخص نے جس نے ان سے یہ حدیث اخذ کی تھی پوچھا کہ میں کبھی امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں؟ ) تو انہوں نے کہا: تم اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کر۔ ابوعثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ مجھے نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی، ٥- اکثر محدثین نے اس بات کو پسند کیا ہے کہ جب امام بلند آواز سے قرأت کرے تو مقتدی قرأت نہ کرے، اور کہا ہے کہ وہ امام کے سکتوں کا «تتبع» کرتا رہے، یعنی وہ امام کے سکتوں کے درمیان پڑھ لیا کرے ، ٦- امام کے پیچھے قرأت کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم امام کے پیچھے قرأت کے قائل ہیں، مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ امام کے پیچھے قرأت کرتا ہوں اور لوگ بھی کرتے ہیں سوائے کو فیوں میں سے چند لوگوں کے، اور میرا خیال ہے کہ جو نہ پڑھے اس کی بھی نماز درست ہے، ٧- اور اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں سختی برتی ہے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورة فاتحہ کا چھوڑنا جائز نہیں اگرچہ وہ امام کے پیچھے ہو، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر سورة فاتحہ کے نماز کفایت نہیں کرتی، یہ لوگ اس حدیث کی طرف گئے ہیں جسے عبادہ بن صامت نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ اور خود عبادہ بن صامت ؓ نے بھی نبی اکرم ﷺ کے بعد امام کے پیچھے قرأت کی ہے، ان کا عمل نبی اکرم ﷺ کے اسی قول پر رہا ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں، یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، ٨- رہے احمد بن حنبل تو وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے فرمان سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو تب سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوگی۔ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کی حدیث سے یہ استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ جس نے کوئی رکعت پڑھی اور اس میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو ١ ؎۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں ایک شخص ہیں اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے فرمان سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو اکیلے پڑھ رہا ہو۔ ان سب کے باوجود احمد بن حنبل نے امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھنے ہی کو پسند کیا ہے اور کہا ہے کہ آدمی سورة فاتحہ کو نہ چھوڑے اگرچہ امام کے پیچھے ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جابر ؓ کا اپنا خیال ہے، اعتبار مرفوع روایت کا ہے نہ کہ کسی صحابی کی ایسی رائے کا جس کے مقابلے میں دوسرے صحابہ کی آراء موجود ہیں وہ آراء حدیث کے ظاہر معنی کے مطابق بھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٣٧ (٨٢٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٢٨ (٩٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٣ (٨٤٨، ٨٤٩)، ( تحفة الأشراف: ١٤٢٦٤)، موطا امام مالک/الصلاة ١٠ (٤٤)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٨٤، ٢٨٥، ٤٨٧) (صحیح)
فاطمہ بنت حسین اپنی دادی فاطمہ کبریٰ ؓ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد ( ﷺ ) پر درود و سلام بھیجتے اور یہ دعا پڑھتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتک» اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنی رحمت کے دروازے میرے لیے کھول دے اور جب نکلتے تو محمد ( ﷺ ) پر صلاۃ (درود) و سلام بھیجتے اور یہ کہتے: «رب اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلک» اے میرے رب! میرے گناہ بخش دے اور اپنے فضل کے دروازے میرے لیے کھول دے ۔
Abdullah ibn Hasan reported from his mother Fatimah bint Husayn who reported on the authority of her grandmother Sayyidah Fatimah Kubra that when Allah’s Messenger entered a mosque, he invoked blessings on himself and made this supplication: (O my Lord! Forgive me my sins, and poen for me the doors to your mercy). And, when he came out of the mosque, he again invohed blessings on himself and made this prayer: (O my Lord! Forgive me my sins, and open for me the doors to your abundance).Ali ibn Hujr said that Isma’il ibn Ibrahim told him that he then met Abdullah ibn Hasan at Makkah and asked him about this hadith. He said that when the Prophet ﷺ entered the mosque, he would say: (O my Lord! Open for me the doors to Your mercy). And when he come out, he would say (O Lord! Open for me the doors to your abundance).
صحيح، ابن ماجة (771)
صحيح انظر الذي قبله (314) ولفظه أصحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 314
اسماعیل بن ابراہیم بن راہویہ کا بیان ہے کہ میں عبداللہ بن حسن سے مکہ میں ملا تو میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اسے بیان کیا اور کہا کہ جب آپ ﷺ داخل ہوتے تو یہ کہتے «رب افتح لي باب رحمتک» اے میرے رب! اپنی رحمت کے دروازہ میرے لیے کھول دے ۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 315
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- فاطمہ ؓ کی حدیث (شواہد کی بنا پر) حسن ہے، ورنہ اس کی سند متصل نہیں ہے، ٢- فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبریٰ کو نہیں پایا ہے، وہ تو نبی اکرم ﷺ کے بعد چند ماہ ہی تک زندہ رہیں، ٣- اس باب میں ابوحمید، ابواسید اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ١٣ (٧٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٤١) (صحیح) (فاطمہ بنت حسین نے فاطمہ کبری کو نہیں پایا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،، شیخ البانی کہتے ہیں: مغفرت کے جملے کو چھوڑ کر بقیہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی ٥١٠)
انظر ما قبلہ (صحیح)
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھے ١ ؎۔
صحيح، ابن ماجة (1013)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 316
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- محمد بن عجلان اور دیگر کئی لوگوں نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے جیسے مالک بن انس کی روایت ہے، ٣- سہیل بن ابی صالح ٢ ؎ نے یہ حدیث بطریق: «عامر بن عبد اللہ بن الزبير عن عمرو بن سليم الزرقي عن جابر بن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے روایت کی ہے،
٤ - یہ حدیث غیر محفوظ ہے اور صحیح ابوقتادہ کی حدیث ہے، اس باب میں جابر، ابوامامہ، ابوہریرہ، ابوذر اور کعب بن مالک سے بھی احادیث آئی ہیں، ہمارے اصحاب کا عمل اسی حدیث پر ہے: انہوں نے مستحب قرار دیا ہے کہ جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے، نہ بیٹھے الا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو، ٥- علی بن مدینی کہتے ہیں: سہیل بن ابی صالح کی حدیث میں غلطی ہوئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسے تحیۃ المسجد کہتے ہیں، جمہور کے نزدیک یہ مستحب ہے اور شوافع کے نزدیک واجب۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس کی بہت تاکید ہے لیکن فرض نہیں ہے۔ ٢ ؎: سہیل بن ابی صالح کی روایت میں «عن أبی قتادۃ» کے بجائے «عن جابر بن عبداللہ» ہے اور یہ غلط ہے کیونکہ عامر بن عبداللہ کے دیگر تلامذہ نے سہیل کی مخالفت کی ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوائے قبرستان اور حمام (غسل خانہ) کے ساری زمین مسجد ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Saeed Khudri (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Except for graves and baths all earth is a mosque.”
صحيح، ابن ماجة (745)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 317
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، جابر، ابن عباس، حذیفہ، انس، ابوامامہ اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے پوری زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور طہارت و پاکیزگی کا ذریعہ بنائی گئی ہے، ٢- ابوسعید ؓ کی حدیث عبدالعزیز بن محمد سے دو طریق سے مروی ہے، بعض لوگوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے، اس حدیث میں اضطراب ہے، سفیان ثوری نے بطریق: «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور حماد بن سلمہ نے یہ حدیث بطریق:«عمرو بن يحيى عن أبيه عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرفوعاً روایت کی ہے۔ اور محمد بن اسحاق نے بھی یہ حدیث بطریق:«عمرو بن يحيى عن أبيه» اور ان کا کہنا ہے کہ یحییٰ کی اکثر احادیث آئی نبی اکرم ﷺ سے ابوسعید ہی کے واسطہ سے مروی ہیں، لیکن اس میں انہوں نے ابوسعید کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، گویا ثوری کی روایت «عمرو بن يحيى عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جہاں چاہو نماز پڑھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبرستان اور حمام میں نماز پڑھنی درست نہیں، حمام میں اس لیے کہ یہاں نجاست ناپاکی کا شک رہتا ہے اور قبرستان میں ممانعت کا سبب شرک سے بچنے کے لیے سد باب کے طور پر ہے۔ بعض احادیث میں کچھ دیگر مقامات پر نماز ادا کرنے سے متعلق بھی ممانعت آئی ہے، ان کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤ (٤٩٢)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٤ (٧٤٥)، ( تحفة الأشراف: ٤٤٠٦)، مسند احمد (٣/٨، ٩٦) (صحیح)
عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے اللہ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، تو اللہ اس کے لیے اسی جیسا گھر بنائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) narrated that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If anyone builds a mosque for Allah then Allah will build for him the like of it in Paradise.”
صحيح، ابن ماجة (736)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 318
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عثمان ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر، عمر، علی، عبداللہ بن عمرو، انس، ابن عباس، عائشہ، ام حبیبہ، ابوذر، عمرو بن عبسہ، واثلہ بن اسقع، ابوہریرہ اور جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مثلیت کمیت کے اعتبار سے ہوگی، کیفیت کے اعتبار سے یہ گھر اس سے بہت بڑھا ہوا ہوگا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں اور قبروں پر مساجد بنانے والے اور چراغ جلانے والے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger cursed women who visited graves, people who build mosques on graves and lit lamps there.
ضعيف، و، الصحيحة بلفظ: زوارات دون السرج، ابن ماجة (1575)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 320
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجنائز ٨٢ (٣٢٣٦)، سنن النسائی/الجنائز ١٠٤ (٢٠٤٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤٩ (١٥٧٥)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٧)، مسند احمد (١/٢٢٩، ٢٨٧، ٣٢٤، ٣٣٧) (ضعیف) (سند میں ” ابو صالح باذام مولیٰ ام ہانی ضعیف ہیں، مسجد میں صرف چراغ جلانے والی بات ضعیف ہے، بقیہ دو باتوں کے صحیح شواہد موجود ہیں)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد میں سوتے تھے اور ہم نوجوان تھے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that in the times of Allah’s Messenger they used to sleep in the mosque while they were young men.
صحيح، ابن ماجة (751)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 321
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم میں کی ایک جماعت نے مسجد میں سونے کی اجازت دی ہے، ابن عباس کہتے ہیں: کوئی اسے سونے اور قیلولے کی جگہ نہ بنائے ١ ؎ اور بعض اہل علم ابن عباس کے قول کی طرف گئے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحابہ کرام اور سلف صالحین مسجد میں سویا کرتے تھے، اس لیے جواز میں کوئی شبہ نہیں ابن عباس ؓ کا یہ کہنا ٹھیک ہی ہے کہ جس کا گھر اسی محلے میں ہو وہ مسجد میں رات نہ گزارے اسی کے قائل امام مالک بھی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر سنن ابن ماجہ/المساجد ٦ (٧٥١)، ( تحفة الأشراف: ٦٩٦)، و مسند احمد (١/١٢) (صحیح)
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں اشعار پڑھنے، خرید و فروخت کرنے، اور جمعہ کے دن نماز (جمعہ) سے پہلے حلقہ باندھ کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
Amr ibn Shu’ayb reported from his father and he from his grandfather that Allah’s Messenger disallowed recital of poetry in mosque, buying and selling therein, and people sitting in circles there before Friday prayers.
حسن، ابن ماجة (749)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 322
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- عمرو کے باپ شعیب: محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص کے بیٹے ہیں ١ ؎، محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ میں نے احمد اور اسحاق بن راہویہ کو (اور ان دونوں کے علاوہ انہوں نے کچھ اور لوگوں کا ذکر کیا ہے) دیکھا کہ یہ لوگ عمرو بن شعیب کی حدیث سے استدلال کرتے تھے، محمد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ شعیب بن محمد نے اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے سنا ہے،
٣ - جن لوگوں نے عمرو بن شعیب کی حدیث میں کلام کرنے والوں نے انہیں صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو ؓ ) کے صحیفے (صحیفہ الصادقہ) سے روایت کرتے ہیں، گویا ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ احادیث انہوں نے اپنے دادا سے نہیں سنی ہیں ٢ ؎ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کہتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید (قطان) سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: عمرو بن شعیب کی حدیث ہمارے نزدیک ضعیف ہے، ٤- اس باب میں بریدہ، جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مسجد میں خرید و فروخت کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں ٣ ؎، ٦- اور تابعین میں سے بعض اہل علم سے مسجد میں خرید و فروخت کرنے کی رخصت مروی ہے، ٧- نیز نبی اکرم ﷺ سے حدیثوں میں مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت مروی ہے ٤ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح شعیب کے والد محمد بن عبداللہ ہوئے جو عمرو کے دادا ہیں، اور شعیب کے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص ہوئے۔ ٢ ؎: صحیح قول یہ ہے کہ شعیب بن محمد کا سماع اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ثابت ہے، اور «عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ» کے طریق سے جو احادیث آئی ہیں وہ صحیح اور مطلقاً حجت ہیں، بشرطیکہ ان تک جو سند پہنچتی ہو وہ صحیح ہو۔ ٣ ؎: یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے اور جن لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے ان کا قول کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں بلکہ صحیح احادیث اس کی تردید کرتی ہیں۔ ٤ ؎: مسجد میں شعر پڑھنے کی رخصت سے متعلق بہت سی احادیث وارد ہیں، ان دونوں قسم کی روایتوں میں دو طرح سے تطبیق دی جاتی ہے: ایک تو یہ کہ ممانعت والی روایت کو نہی تنزیہی پر یعنی مسجد میں نہ پڑھنا بہتر ہے، اور رخصت والی روایتوں کو بیان جواز پر محمول کیا جائے، دوسرے یہ کہ مسجد میں فحش اور مخرب اخلاق اشعار پڑھنا ممنوع ہے، رہے ایسے اشعار جو توحید، اتباع سنت اور اصلاح معاشرہ وغیرہ اصلاحی مضامین پر مشتمل ہوں تو ان کے پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ حسان بن ثابت ؓ سے خود رسول اللہ ﷺ پڑھوایا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٢٠ (١٠٧٩)، سنن النسائی/المساجد ٢٣ (٧١٤)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٥ (٧٤٩)، ( تحفة الأشراف: ٨٧٩٦)، مسند احمد (٢/١٧٩) (حسن) (یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ بنی خدرہ کے ایک شخص اور بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کے درمیان بحث ہوگئی کہ کون سی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ١ ؎ تو خدری نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے، دوسرے نے کہا: وہ مسجد قباء ہے، چناچہ وہ دونوں اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: وہ یہ مسجد ہے، یعنی مسجد نبوی اور اس میں (یعنی مسجد قباء میں) بھی بہت خیر و برکت ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported that two men of Banu Khudrah and Banu Amr ibn Awf had an altercation on which mosque was built on taqwa. The man from Bana Khudrah said that the Prophet’s mosque was built on taqwa, but the other said that it was the mosque at Quba. Buth brought their alteraction to Allah’s Messenger ﷺ . He said, “It is this!” meaning, his own mosque, “and there is much good in it".
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 323
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- علی بن عبداللہ بن المدینی نے یحییٰ بن سعید القطان سے (سند میں موجود راوی) محمد بن ابی یحییٰ اسلمی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ان میں کوئی قابل گرفت بات نہیں ہے، اور ان کے بھائی انیس بن ابی یحییٰ ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سورة التوبہ میں ارشاد الٰہی «لمسجد أسس علی التقوی من أول يوم» سے کون سی مسجد مراد ہے؟ ٢ ؎: یہ حدیث صرف اس بات پر دلالت نہیں کرتی ہے کہ «لمسجد أسس علی التقوی» سے مراد مسجد نبوی ہی ہے، بلکہ آپ ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ اس مسجد نبوی کی بھی تقویٰ پر ہی بنیاد ہے، یہ مطلب لوگوں نے اس لیے لیا ہے کہ قرآن میں سیاق و سباق سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ ارشاد ربانی مسجد قباء کے بارے میں ہے۔