Sunan At-Tirmidhi 283

نماز کا بیان

283Sunan At-Tirmidhi

اقعاء کی اجازت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، قَالَ: هِيَ السُّنَّةُ ، فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرَّجُلِ، قَالَ: بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَرَوْنَ بِالْإِقْعَاءِ بَأْسًا، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ، قَالَ: وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الْإِقْعَاءَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

طاؤس کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس ؓ سے دونوں قدموں پر اقعاء کرنے کے سلسلے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے، تو ہم نے کہا کہ ہم تو اسے آدمی کا پھوہڑپن سمجھتے ہیں، انہوں نے کہا: نہیں یہ پھوہڑپن نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے نبی اکرم ﷺ کی سنت ہے۔

Ibn Jurayj reported from Abu Zubayr who from Tawus that he asked Sayyidina Ibn Abbas (RA) about iq’a on both feet. He said, ‘It is sunnah.” They complained, “We consider it cruelty on man.” lbn Abbas (RA) said. “Rather this is the sunnah of your Prophet ﷺ .

صحيح، صحيح أبي داود (791)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 283
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام میں بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ اقعاء میں کوئی حرج نہیں جانتے، مکہ کے بعض اہل علم کا یہی قول ہے، لیکن اکثر اہل علم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کو ناپسند کرتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے پچھلی حدیث کا حاشیہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٦ (٥٣٦)، سنن ابی داود/ الصلاة ١٤٣ (٨٤٥)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٥٣)، مسند احمد (١/٣١٣) (صحیح)