Sunan At-Tirmidhi 240

نماز کا بیان

240Sunan At-Tirmidhi

تکبیر کے وقت انگلیوں کا کھلا رکھنا

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِمْعَانَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا . قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ، وَحَدِيثُ يَحْيَى بْنِ الْيَمَانِ خَطَأٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے۔

Sayyidina Sa’eed ibn Sam’an (RA) reported for Sayyidina Abu Hurairah (RA) that when Allah’s Messenger ﷺ stood up for salah, he kept the fingers straight and raised both hands high.

صحيح، صفة الصلاة (67)، التعليق علی ابن خزيمة (459)، صحيح أبي داود (735)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 240
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کا کہنا ہے کہ یہ یحییٰ بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور یحییٰ بن یمان کی حدیث غلط ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ میرے والد ( ابوحاتم رازی ) کہتے ہیں کہ یحییٰ کو اس میں وہم ہوا ہے، وہ «إذا قام إلى الصلاة رفع إليه مداً» کہنا چاہ رہے تھے لیکن ان سے چوک ہوگئی انہوں نے غلطی سے «إذا کبّر للصلاة نشر أصابعه» کی روایت کردی، ابن ابی ذئب کے تلامذہ میں سے ثقات نے «إذا قام إلى الصلاة مدّاً» ہی کے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١١٩ (٧٥٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٦ (٨٨٤)، ( تحفة الأشراف: ١٣٠٨١)، مسند احمد (٢/٣٧٥، ٤٣٤، ٥٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٣٢ (١٢٧٣) (صحیح)