Sunan At-Tirmidhi 257

نماز کا بیان

257Sunan At-Tirmidhi

رکوع کرتے وقت دونوں ہاتھ اٹھانا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُولُ: غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ١ ؎۔

Alqamah reported the saying of Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA) Shall I not pray for you the salah of Allah’s Messenger “? So he prayed the salah and did not raise his hands except the first time.

صحيح صفة الصلاة - الأصل، المشکاة (809)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 257
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں براء بن عازب ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جو لوگ رفع یدین کی مشروعیت کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں انہوں نے اسی روایت سے استدلال کیا ہے، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے، امام احمد اور امام بخاری نے عاصم بن کلیب کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، اور اگر اسے صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ان روایتوں کے معارض نہیں جن سے رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا اثبات ہوتا ہے، اس لیے کہ رفع یدین مستحب ہے فرض یا واجب نہیں، دوسرے یہ کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کے اسے نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اوروں کی روایت غلط ہو، عبداللہ بن مسعود ؓ سے بہت سے مسائل مخفی رہ گئے تھے، ہوسکتا ہے یہ بھی انہیں میں سے ہو جیسے جنبی کے تیمم کا مسئلہ ہے یا ( رکوع کے درمیان دونوں ہاتھوں کی ) تطبیق کی منسوخی کا معاملہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١١٩ (٧٤٨)، سنن النسائی/الافتتاح ٨٧ (١٠٢٧)، والتطبیق ٢٠ (١٠٥٩)، ( تحفة الأشراف: ٩٤٦٨)، مسند احمد (١/٣٨٨، ٤٤٢) (صحیح)