اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 16 of 32

1103Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن خطبہ

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ، يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا جَلْسَةً زَادَ بِشْرٌ وَهُوَ قَائِمٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دو خطبہ دیتے تھے، اور دونوں کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے تھے۔ بشر بن مفضل نے اپنی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ آپ ﷺ (خطبہ دیتے وقت) کھڑے ہوتے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet ﷺ used to deliver two sermons, and he would sit briefly between the two. (One of the narrators) Bishr added: "While he was standing." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٠ (٩٢٨، ٩٢٠)، سنن النسائی/الجمعة ٣٣ (١٤١٧)، (تحفة الأشراف: ٧٨١٢، ٨١٢٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦١)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٧ (١٠٩٢)، سنن الترمذی/الجمعة ١١ (٥٠٦)، مسند احمد (٢/٩٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٠ (١٥٩٩) (صحیح )
1104Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن خطبہ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پہ خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ کے سر پہ ایک کالا عمامہ تھا۔

It was narrated from Jafar bin Amr bin Huraith that his father said: "I saw the Prophet ﷺ delivering the sermon on the pulpit, wearing a black turban."(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٩)، سنن ابی داود/اللباس ٢٤ (٤٠٧٧)، سنن النسائی/الزینة من المجتیٰ ٥٦ (٥٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٨١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٠٧ ٣)، سنن الترمذی/الشمائل ١٦ (١٠٨، ١٠٩)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٥٨٤، ٣٥٨٧) (صحیح )
1105Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن خطبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يَقْعُدُ قَعْدَةً ثُمَّ يَقُومُ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، البتہ آپ (دونوں خطبوں کے درمیان) تھوڑی دیر بیٹھتے تھے، پھر کھڑے ہوجاتے تھے۔

It was narrated that Simek bin Harb said: "I heard Jabir bin Samurah say: The Messenger of Allah ﷺ used to deliver the sermon standing, but he used to sit down briefly, then stand up."(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢١٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٦٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١١٠١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٧ (٥٠٧)، سنن النسائی/الجمعة ٣٥ (١٤١٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٩ (١٥٩٨) (صحیح )
1106Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن خطبہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ، فَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا، وَصَلَاتُهُ قَصْدًا.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کا ذکر کرتے، آپ کا خطبہ اور نماز دونوں ہی درمیانی ہوتے۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "The Prophet ﷺ used to deliver the sermon standing, then he would sit down, then he would stand up and recite some Verses and remember Allah. His sermon was moderate and his prayer was moderate (i.e., neither too long nor too short)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١١٠١)، سنن النسائی/الجمعة ٣٥ (١٤١٩)، صلاة العیدین ٢٦ (١٥٨٥)، (تحفة الأشراف: ٢١٦٣) (صحیح )
1107Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن خطبہ

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا خَطَبَ فِي الْحَرْبِ خَطَبَ عَلَى قَوْسٍ، وَإِذَا خَطَبَ فِي الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى عَصًا.

سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب میدان جنگ میں خطبہ دیتے تو کمان پر ٹیک لگا کردیتے، اور جب جمعہ کا خطبہ دیتے تو چھڑی پر ٹیک لگا کردیتے۔

"Abdur-Rahrnan bin Sad bin Amrnar bin Sad narrated that his father told him, from his father, from his grandfather, that when the Messenger of Allah ﷺ delivered a speech on the battlefield he would do so leaning on a bow, and when he delivered a sermon on Friday, he would do so leaning on his staff. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٨ ومصباح الزجاجة: ٣٩٣) (ضعیف) (سعد بن عمار بن سعد القرظ نے عن أبیہ عن جدہ ایک نسخہ حدیث روایت کیا ہے، اور ان سے ان کے لڑکے عبد الرحمن نے روایت کی ہے، اور یہ باپ اور بیٹے اور پوتے سب مجہول ہیں )
1108Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن خطبہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ: سُئِلَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟، قَالَ: أَوَمَا تَقْرَأُ: وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ غَرِيبٌ: لَا يُحَدِّثُ بِهِ إِلَّا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحْدَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: نبی اکرم ﷺ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے یا کھڑے ہو کر؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم نے یہ آیت کریمہ نہیں پڑھی: وترکوک قائما جب ان لوگوں نے تجارت یا لہو و لعب دیکھا تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر چل دیئے (سورة الجمعة: 11) ١ ؎۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، اس کو صرف ابن ابی شیبہ ہی نے بیان کرتے ہیں۔

Alqamah narrated that Abdullah was asked whether the Prophet ﷺ used to deliver the sermon standing or sitting. He said: "Have you not read the Verse: ...and leave you (Muhammad) standing (while delivering the Friday sermon?" (Daif) Abu Abdullah (Ibn Majah) said: (This Hadith is) Gharib (Unfamiliar); it was not narrated by anyone except Ibn Abu Shaibah.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ خطبہ کھڑے ہو کردیتے تھے۔ ٢ ؎: پوری آیت یوں ہے: وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وترکوک قائما جب کوئی تجارت یا تماشا اور کھیل کود دیکھتے ہیں تو ادھر چل دیتے ہیں، اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں (سورة الجمعة: 11) اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ آپ ﷺ جمعہ کا خطبہ کھڑے ہو کردیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٣٨، ومصباح الزجاجة: ٣٩٤) (صحیح )
1109Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن خطبہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ سَلَّمَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب منبر پر چڑھتے تو لوگوں کو سلام کرتے ١ ؎۔

It was narrated from Jabir that whenever the Prophet ﷺ ascended the pulpit he would greet (the people with Salam). (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حاضرین کو سلام کرتے، اور امام شافعی نے اسی حدیث کو دلیل بنا کر یہ کہا ہے کہ امام جب منبر پر جائے تو کل حاضرین کو مخاطب کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٧٥، ومصباح الزجاجة: ٣٩٥) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الاجوبہ النافعہ: ٥٨ )
1110Sunan Ibne-Majah

خطبہ توجہ سے سننا اور خطبہ کے وقت کا موش رہنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے دوران خطبہ کہا کہ چپ رہو، تو تم نے لغو کام کیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "If you say to your companions: Be quiet on a Friday while the Imam is delivering the sermon, you have engaged in Laghw idle talk or behavior)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تم سے فضول اور بیکار حرکت صادر ہوئی، کیونکہ خطبہ کے درمیان خاموش رہنا، اور خطبہ سننا ضروری ہے، اگر کوئی بات کرے تو اشارہ سے اس کو منع کر دے، جب زبان سے کہا کہ خاموش رہو تو خود اس نے بات کی، اور دوسرے کو بات سے منع کیا، یہ ایک لغو حرکت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٢٥٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٩٣٤)، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٥ (١١١٢)، سنن النسائی/الجمعة ٢٢ (١٤٠٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥١ (٥٢١)، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٨٩) (صحیح )
1111Sunan Ibne-Majah

خطبہ توجہ سے سننا اور خطبہ کے وقت کا موش رہنا

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: تَبَارَكَ وَهُوَ قَائِمٌ، فَذَكَّرَنَا بِأَيَّامِ اللَّهِ وَأَبُو الدَّرْدَاءِ أَوْ أَبُو ذَرٍّ يَغْمِزُنِي فَقَالَ: مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا الْآنَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اسْكُتْ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا قَالَ: سَأَلْتُكَ مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَلَمْ تُخْبِرْنِي، فَقَالَ أُبَيٌّ: لَيْسَ لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ الْيَوْمَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي قَالَ أُبَيٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ أُبَيٌّ.

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن منبر پر کھڑے ہو کر سورة تبارک (سورۃ الملک) پڑھی، اور ہمیں اللہ عزوجل کی طرف سے گزشتہ قوموں پر پیش آنے والے اہم واقعات سے نصیحت کی، ابوالدرداء ؓ یا ابوذر ؓ نے میری جانب نظر سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سورة کب نازل ہوئی؟ میں نے تو یہ ابھی سنی ہے، تو ابی بن کعب ؓ نے ان کو اشارہ کیا کہ خاموش رہو، جب وہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو ابوالدرداء ؓ یا ابوذر ؓ نے ابی ؓ سے کہا کہ میں نے آپ سے پوچھا کہ یہ سورة کب نازل ہوئی تو آپ نے نہیں بتایا، ابی بن کعب ؓ نے کہا کہ آج آپ کو آپ کی نماز میں ان لغو باتوں کے سوا کچھ بھی اجر و ثواب نہیں ملے گا، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، اور ابی ؓ نے جو بات کہی تھی وہ بھی بتائی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابی نے سچ کہا ١ ؎۔

Ata bin Yasar narrated from Ubayy bin Ka`b: "The Messenger of Allah ﷺ recited Tabdrak [Al-Mulk (67)] one Friday, while he was standing and reminding us of the Days of Allah (i.e., preaching to us). Abu Darda or Abu Dharr (RA) raised an eyebrow at me and said: When was this Surah revealed? For I have not heard it before now. He (Ubayy) gestured to him that he should remain silent. When they finished, he said: I asked you when this Surah was revealed and you did not answer me." Ubayy said: You have gained nothing from your prayer today except the idle talk that you engaged in. He went to the Prophet ﷺ and told him about that, and what Ubayy had said to him. The Messenger of Allah ﷺ said: Ubayy spoke the truth. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد اور سنن ابوداود میں علی ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص امام کے نزدیک بیٹھا لیکن اس نے لغو حرکت کی اور خطبہ نہیں سنا، اور خاموش نہیں رہا، تو اس پر وبال کا ایک حصہ ہوگا، اور جس نے کہا: خاموش رہو تو اس نے لغو کیا اور جس نے لغو کیا، اس کا جمعہ نہ ہوا، علی ؓ کہتے ہیں کہ ایسا ہی میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، اس باب کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ پڑھنے کے لئے آنے والے پر ہر طرح کی دینی اور دنیاوی بات چیت خطبہ کے دوران ممنوع ہے۔ جس میں ذکر و اذکار بھی داخل ہے، اسی طریقے سے ایک دوسرے کو نصیحت و تلقین بھی، ہاں! ضرورت و حاجت اور شرعی مصلحت کے پیش نظر امام سامعین سے مخاطب ہوسکتا ہے، جیسا کہ کئی احادیث میں رسول اللہ ﷺ سے یہ ثابت ہے۔ خود آگے کی حدیث میں سلیک غطفانی ؓ کو آپ ﷺ نے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، نیز سامعین خطبہ کے دوران امام کی متابعت میں صلاۃ وسلام اور اس کی دعاؤں پر آمین بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ واضح رہے کہ اس سے خطبہ کے سننے میں یا مسجد کے احترام میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٨، ومصباح الزجاجة: ٣٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٣) (صحیح) (ابوذر ؓ کی حدیث سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٨٠ -٨١ )
1112Sunan Ibne-Majah

جو مسجد میں اس وقت داخل ہوجب امام خطبہ دے رہا ہو؟

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ جَابِرًا، وَأَبُو الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَمَّا عَمْرٌو فَلَمْ يَذْكُرْ سُلَيْكًا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی ؓ مسجد میں آئے اس وقت نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے نماز ادا کرلی؟ انہوں نے کہا: جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: دو رکعت پڑھ لو ١ ؎۔ عمرو بن دینار نے سلیک کا ذکر نہیں کیا۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "Sulaik Ghatafani entered the Masjid when the Prophet ﷺ was delivering the sermon. He said: Have you prayed? He said, No. He said: Then perform two Rakan:" (Sahih) As for Arm (one of the narrators of the Hadith), he did not mention Sulaik.

Notes · وضاحت
١ ؎: اسے تحی ۃ المسجد کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آئے تو وہ دو رکعتیں پڑھے، بعض لوگوں نے اسے سلیک غطفانی ؓ کے ساتھ خاص کیا ہے، اور کہا ہے کہ انہیں یہ حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لوگ ان کی غربت دیکھ کر ان کا تعاون کریں، لیکن ابوداود کی ایک روایت کے الفاظ یوں آئے ہیں: إذا جاء أحدکم والإمام يخطب فليصل رکعتين جب بھی تم میں سے کوئی شخص مسجد آئے، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو دو رکعت پڑھ لے اس سے ان کے اس قول کی تردید ہوجاتی ہے کہ یہ سلیک غطفانی ؓ کے ساتھ خاص تھا۔
Takhrij · تخریج
حدیث عمر و بن دینار عن جابر أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠)، ٣٣ (٩٣١)، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٥٣٢)، وحدیث أبي الزبیر عن جابر قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٧٧١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (٥١٠)، سنن النسائی/الجمعة ١٦ (١٣٩٦)، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٢) (صحیح )
1113Sunan Ibne-Majah

جو مسجد میں اس وقت داخل ہوجب امام خطبہ دے رہا ہو؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران ایک شخص مسجد میں آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ اس نے کہا: جی نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو رکعت پڑھ لو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Sa’eed said: “A man entered the Masjid when the Prophet ﷺ was delivering the sermon. He said: ‘Have you prayed?’ He said: ‘No.’ He said: ‘Then pray two Rak’ah.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ امام خطبہ کے دوران بات کرسکتا ہے، اور مقتدی بھی امام کا جواب دے سکتا ہے، لیکن ازخود مقتدی کا خطبہ کی حالت میں بات کرنا صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (٥١١)، سنن النسائی/الجمعة ٢٦ (١٤٠٩)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٣) (حسن صحیح )
1114Sunan Ibne-Majah

جو مسجد میں اس وقت داخل ہوجب امام خطبہ دے رہا ہو؟

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا.

ابوہریرہ اور جابر ؓ کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی ؓ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم نے (میرے نزدیک) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو ١ ؎۔

It was narrated that Iabir said: "Sulaik Al-Ohatafani came while the Messenger of Allah ﷺ was delivering the sermon. The Prophet ﷺ said to him: Did you perform two Rak ah before you came? He said: No. He said: Then perform two Rakah, but make them brief. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام مزی کہتے ہیں کہ راوی نے اس روایت میں غلطی کی، اور صواب یہ ہے أصلّيت رکعتين قبل أن تجلس اس کو راوی نے تجيىء کردیا۔ اب علماء کا اختلاف یہ ہے کہ تحیۃ المسجد سنت ہے یا واجب؟ ظاہر حدیث سے اس کا وجوب نکلتا ہے، اور امام شوکانی نے ایک مستقل رسالہ میں اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے، اور علامہ نواب صدیق حسن نے الروضہ الندیہ ( ١؍ ٣٧٢) میں اسی کو حق کہا ہے، دلائل کی روشنی میں جمعہ کے دن مسجد میں آنے والے کے لئے دو رکعت ادا کرنا کم سے کم سنت موکدہ تو ہے ہی۔ جبکہ محققین نے اس کو واجب کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٦)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٤ و ١٢٣٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠)، ٣٣ (٩٣١)، سنن الترمذی/الجمعة ١٥ (٥١٠)، سنن النسائی/الجمعة ١٦ (١٣٩٦)، مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٢) (صحیح) (اس حدیث میں قبل أن تجیٔ کا جملہ شاذ ہے )
1115Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے روز لوگوں کو پھلا نگنے کی مما نعت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَجَعَلَ يَتَخَطَّى النَّاسَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ، وَآنَيْتَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانے لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی، اور آنے میں تاخیر بھی کی ١ ؎۔

It was narrated from jabir bin Abdullah that a man entered the Masjid one Friday when the Messenger of Allah ﷺ was delivering the sermon. He started stepping over the peoples shoulders, and the Messenger of Allah ﷺ said: Sit down, for you have annoyed (people) and you are late:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگ جمعہ کے دن دیر سے آتے ہیں اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جاتے ہیں، یہ ممنوع بلکہ حرام ہے، علامہ ابن القیم نے اس کو کبیرہ گناہوں میں لکھا ہے، اس لئے آدمی کو چاہیے کہ جہاں جگہ پائے وہیں بیٹھ جائے، جب دیر میں آیا تو پیچھے ہی بیٹھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٢٦، ومصباح الزجاجة: ٣٩٦) (صحیح )
1116Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے روز لوگوں کو پھلا نگنے کی مما نعت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتُّخِذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ.

معاذ بن انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کا پل بنایا جائے گا ۔

It was narrated from Sahl bin Mu’ádh bin Anas that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever steps over the people’s necks on Friday has built a bridge to Hell.’” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ١٧ (٥١٣)، (تحفة الأشراف: ١١٢٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں رشدین بن سعد، زبان بن فائد اور سہل بن معاذ ضعیف ہیں )
1117Sunan Ibne-Majah

امام کے منبر سے اتر نے کے بعد کلام کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُكَلَّمُ فِي الْحَاجَةِ إِذَا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے تو ضروری امور سے متعلق گفتگو فرما لیا کرتے تھے۔

It was narrated from Anas bin Mâlik that the people used to speak to the Prophet ﷺ about their needs when he came down from the pulpit on a Friday. (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٠ (١١٢٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٦ (٥١٧)، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠) وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٢٧، ٢١٣) (شاذ) (جریر بن حازم اس روایت میں منفرد ہیں، یہ حدیث ثابت ہے، معروف نہیں ہے )
1118Sunan Ibne-Majah

جمعہ المبارک کی نماز میں قرآن

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْمَدَنِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَرَأَ: بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي السَّجْدَةِ الْأُولَى، وَفِي الْآخِرَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ حِينَ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا.

عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مروان نے ابوہریرہ ؓ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر کیا، خود مکہ گئے تو ابوہریرہ ؓ نے ہمیں نماز جمعہ پڑھائی، پہلی رکعت میں سورة الجمعہ اور دوسری رکعت میں: إذا جاءک المنافقون پڑھی۔ عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد ابوہریرہ ؓ سے ملاقات کی، اور ان سے کہا کہ علی ؓ بھی کوفہ میں (نماز جمعہ میں) یہ دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے، ابوہریرہ ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔

It was narrated that Ubaidullah bin Abu Rafi said: "Marwan appointed Abu Hurairah (RA) in charge of AIMadinah, and set out for Makkah, Abu Hurairah (RA) led us in prayer on Friday, and he recited Sural AI-Jumuah. in the first Rakah, and in the second, When the hypocrites come to you." Ubaidullah said: "I caught up with Abu Hurairah (RA) when he finished and said to him: You recited two Surah that Ali used to recite in Kufah. Abu Hurairah (RA) said: I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting them:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٢ (١١٢٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٧ (٥١٩)، (تحفة الأشراف: ١٤١٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح )
1119Sunan Ibne-Majah

جمعہ المبارک کی نماز میں قرآن

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، أَنْبَأَنَا ضَمْرَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَتَبَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَخْبِرْنَا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَعَ سُورَةِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: كَانَ يَقْرَأُ فِيهَا: هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.

عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ضحاک (احنف) بن قیس نے نعمان بن بشیر ؓ کو لکھا کہ آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن نماز جمعہ میں سورة الجمعہ کے ساتھ اور کون سی سورت پڑھتے تھے؟ نعمان بن بشیر ؓ نے کہا: آپ ﷺ هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے۔

It was narrated that Ubaidullah bin Abdullah said: "Dahhak bin Qais wrote to Nurnan bin Bashir, saying: Tell us what the Messenger of Allah ﷺ SAW used to recite on Friday along with Surah: Al-Jumuah, He said: He used to recite: "Has there come to you the narration of the overwhelming (i.e., the Day of Resurrection)? (Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤٢ (١١٢٣)، سنن النسائی/الجمعة ٣٩ (١٤٢٤)، (تحفة الأشراف: ١١٦٣٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٩ (١٩)، مسند احمد (٤/٢٧٠، ٢٧٧، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٣ (١٦٠٧، ١٦٠٨) (صحیح )
1120Sunan Ibne-Majah

جمعہ المبارک کی نماز میں قرآن

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ.

ابوعنبہ خولانی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز جمعہ میں: سبح اسم ربک الأعلى اور هل أتاک حديث الغاشية پڑھتے تھے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Ina bah Al-Khawlani that the Prophet ﷺ used to recite "Glorify the Name of your Lord the Most High" and "Has there come to you the narra tion of the overwhelming i.e., the Day of Resurrection)? on Friday.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے جمعہ میں سورة ق پڑھی، اور ایک روایت میں ہے کہ سورة قمر پڑھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٧٥، (الف) ومصباح الزجاجة: ٣٩٨) (صحیح) (دوسری صحیح سند کے ساتھ صحیحین میں یہ حدیث موجود ہے، اس بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠٢٧ )۔
1121Sunan Ibne-Majah

جس شخص کو (امام کے ساتھ) جمعہ کی ایک رکعت ہی ملے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً، فَلْيَصِلْ إِلَيْهَا أُخْرَى.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی، تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever catches one Rakah of Friday, let him add another Rakah to it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جمعہ اس کا صحیح ہوگیا، اب ایک رکعت اور پڑھ لے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ایک رکعت بھی نہ پائے، مثلاً: دوسری رکعت کے سجدے میں شریک ہو، یا قعدہ (تشہد) میں تو جمعہ نہیں ملا، اب وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھے، اور یہ بعض اہل علم کا مذہب ہے، اور بعض اہل علم کے نزدیک جمعہ میں شامل ہونے والا اگر ایک رکعت سے کم پائے یعنی جیسے رکوع کے بعد سے سلام پھیرنے کے وقت کی مدت تو وہ جمعہ دو رکعت ادا کرے اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے: ما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا کہ امام کے ساتھ جو ملے وہ پڑھو اور جو نہ ملے اس کو پوری کرلو تو جمعہ میں شریک ہونے والا نماز جمعہ ہی پڑھے گا، اور یہ دو رکعت ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٢٥٤ ومصباح الزجاجة: ٣٩٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ٣ (١١) (صحیح) (سند میں عمر بن حبیب ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طرق کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٤٦٧ ، نیز ملاحظہ ہو الروضة الندیة ٣٧٦ )
1122Sunan Ibne-Majah

جس شخص کو (امام کے ساتھ) جمعہ کی ایک رکعت ہی ملے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever catches one Rakah of prayer, he has caught it. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اب یہ تمام نماز کو شامل ہے، امام کے ساتھ ایک رکعت پائے تو جماعت کا ثواب پالے گا، وقت کے اندر ایک رکعت پالے تو نماز ادا ہوگی نہ کہ قضا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧، ٦٠٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٠ (٥٢٤)، سنن النسائی/المواقیت ٢٩ (٥٥٤)، الجمعة ٤٠ (١٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٣)، وقدأخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤١ (١١٢١)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣ (١٥)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٨٠، ٣٧٥، ٣٧٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦) (صحیح )