Sunan Ibne-Majah 1114

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1114Sunan Ibne-Majah

جو مسجد میں اس وقت داخل ہوجب امام خطبہ دے رہا ہو؟

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَا: جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَجَوَّزْ فِيهِمَا.

ابوہریرہ اور جابر ؓ کہتے ہیں کہ سلیک غطفانی ؓ مسجد میں آئے اس وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم نے (میرے نزدیک) آنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جی نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو، اور ہلکی پڑھو ١ ؎۔

It was narrated that Iabir said: "Sulaik Al-Ohatafani came while the Messenger of Allah ﷺ was delivering the sermon. The Prophet ﷺ said to him: Did you perform two Rak ah before you came? He said: No. He said: Then perform two Rakah, but make them brief. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام مزی کہتے ہیں کہ راوی نے اس روایت میں غلطی کی، اور صواب یہ ہے أصلّيت رکعتين قبل أن تجلس اس کو راوی نے تجيىء کردیا۔ اب علماء کا اختلاف یہ ہے کہ تحیۃ المسجد سنت ہے یا واجب؟ ظاہر حدیث سے اس کا وجوب نکلتا ہے، اور امام شوکانی نے ایک مستقل رسالہ میں اس کے وجوب کو ثابت کیا ہے، اور علامہ نواب صدیق حسن نے الروضہ الندیہ ( ١؍ ٣٧٢) میں اسی کو حق کہا ہے، دلائل کی روشنی میں جمعہ کے دن مسجد میں آنے والے کے لئے دو رکعت ادا کرنا کم سے کم سنت موکدہ تو ہے ہی۔ جبکہ محققین نے اس کو واجب کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٦)، (تحفة الأشراف: ٢٢٩٤ و ١٢٣٦٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠)، ٣٣ (٩٣١)، سنن الترمذی/الجمعة ١٥ (٥١٠)، سنن النسائی/الجمعة ١٦ (١٣٩٦)، مسند احمد (٣/٣٨٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٢) (صحیح) (اس حدیث میں قبل أن تجیٔ کا جملہ شاذ ہے )