Sunan Ibne-Majah 1122

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1122Sunan Ibne-Majah

جس شخص کو (امام کے ساتھ) جمعہ کی ایک رکعت ہی ملے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے نماز کی ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پا لی ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever catches one Rakah of prayer, he has caught it. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اب یہ تمام نماز کو شامل ہے، امام کے ساتھ ایک رکعت پائے تو جماعت کا ثواب پالے گا، وقت کے اندر ایک رکعت پالے تو نماز ادا ہوگی نہ کہ قضا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧، ٦٠٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦٠ (٥٢٤)، سنن النسائی/المواقیت ٢٩ (٥٥٤)، الجمعة ٤٠ (١٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٥١٤٣)، وقدأخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٤١ (١١٢١)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٣ (١٥)، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٨٠، ٣٧٥، ٣٧٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٦) (صحیح )