اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 15 of 32

1083Sunan Ibne-Majah

فرض جمعہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَعَنْأَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَضَلَّ اللَّهُ عَنِ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا، كَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ، وَالْأَحَدُ لِلنَّصَارَى، فَهُمْ لَنَا تَبَعٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، نَحْنُ الْآخِرُونَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَالْأَوَّلُونَ الْمَقْضِيُّ لَهُمْ قَبْلَ الْخَلَائِقِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلی امتوں کو جمعہ سے بھٹکا دیا ١ ؎، یہود نے ہفتہ کا دن، اور نصاریٰ نے اتوار کا دن (عبادت کے لیے) منتخب کیا، اس طرح وہ قیامت تک ہمارے پیچھے رہیں گے، ہم دنیا والوں سے (آمد کے لحاظ سے) آخر ہیں، اور آخرت کے حساب و کتاب میں ساری مخلوقات سے اول ہیں ٢ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah led those who came before us astray from Friday. Saturday was for the Jews and Sunday was for the Christians. And they will lag behind us untii the Day of Resurrection. We are the last of the people of this world but we will be the first to be judged among all of creation:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ سے بھٹکانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ اور اس کے علاوہ دوسرے دنوں کے اختیار کی توفیق دی، لیکن انہوں نے اسے اختیار نہ کرکے دوسرا دن اختیار کیا۔ ٢ ؎: یہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوئی کہ دنیا میں ان کو سب کے بعد رکھا، اور آخرت میں سب سے پہلے رکھے گا، دنیا میں بعد میں رکھنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ امت سابقہ امتوں پر گواہ ہے جیسے کہ قرآن میں وارد ہے، بہرحال جمعہ کی فضیلت یہود اور نصاریٰ کو نہیں ملی، انہوں نے اس دن کے پہچاننے میں غلطی کی، اور امت محمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے صاف کھول کر یہ دن بیان کردیا، اور جمعہ کی تخصیص کی وجہ یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش اسی دن کی، یعنی آدم (علیہ السلام) کو اسی دن پیدا کیا، پس ہر ایک انسان پر اس دن اپنے مالک کا شکر ادا کرنا فرض ہوا، اور قیامت بھی اسی دن آئے گی، گویا شروع اور خاتمہ دونوں اسی دن ہیں۔
Takhrij · تخریج
حدیث ربعي بن حراش عن حذیفة أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ٦ (٨٥٦)، (تحفة الأشراف: ٣٣١١)، وحدیث أبي حازم عن أبي ہریرة أخرجہ مثلہ، (تحفة الأشراف: ١٣٣٩٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ١٢ (٨٩٦)، سنن النسائی/الجمعة ١ (١٣٦٩) (صحیح )
1084Sunan Ibne-Majah

جمعہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سَيِّدُ الْأَيَّامِ وَأَعْظَمُهَا عِنْدَ اللَّهِ، وَهُوَ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ يَوْمِ الْأَضْحَى، وَيَوْمِ الْفِطْرِ، فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ: خَلَقَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ، وَأَهْبَطَ اللَّهُ فِيهِ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا الْعَبْدُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ حَرَامًا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، وَلَا سَمَاءٍ، وَلَا أَرْضٍ، وَلَا رِيَاحٍ، وَلَا جِبَالٍ، وَلَا بَحْرٍ، إِلَّا وَهُنَّ يُشْفِقْنَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ.

ابولبابہ بن عبدالمنذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا دن ہے، اس کا درجہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر سے بھی زیادہ ہے، اس کی پانچ خصوصیات ہیں: اللہ تعالیٰ نے اسی دن آدم کو پیدا فرمایا، اسی دن ان کو روئے زمین پہ اتارا، اسی دن اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دی، اور اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ بندہ اس میں جو بھی اللہ سے مانگے اللہ تعالیٰ اسے دے گا جب تک کہ حرام چیز کا سوال نہ کرے، اور اسی دن قیامت آئے گی، جمعہ کے دن ہر مقرب فرشتہ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ اور سمندر (قیامت کے آنے سے) ڈرتے رہتے ہیں ۔

It was narrated that Abu Lubabah bin Abdul-Mundhir said: "The Prophet ﷺ said: Friday is the chief of days, the greatest day before Allah. It is greater before Allah than the Day of Adha and the Day of Fitr. It has five characteristics: On it Allah created Adam; on it Allah sent Adam down to this earth; on it Allah caused Adam to die; on it there is a time during which a person does not ask Allah for anything but He will give it to him, so long as he does not ask for anything that is forbidden; and on it the Hour will begin. There is no angel who is close to Allah, no heaven, no earth, no wind, no mountain and no sea that does not fear Friday. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ کی اجابت کی ساعت یعنی قبولیت دعا کی گھڑی کے بارے میں بہت اختلاف ہے، راجح قول یہ ہے کہ یہ عصر اور مغرب کے درمیان کوئی گھڑی ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ گھڑی امام کے منبر پر بیٹھنے سے نماز کے ختم ہونے کے درمیانی وقفے میں ہوتی ہے، واللہ اعلم، اور یہ جو فرمایا: جب تک حرام کا سوال نہ کرے، یعنی گناہ کے کام کے لئے دعا نہ کرے جیسے زنا یا چوری یا ڈاکے یا قتل کے لئے، تو ایسی دعا کا قبول نہ ہونا بھی بندے کے حق میں افضل اور زیادہ بہتر ہے، اور قبول نہ ہونے والی ہر دعا کا یہی حال ہے، معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہتری اسی میں رکھی ہے، انسان اپنے انجام سے آگاہ نہیں، ایک چیز اس کے لئے مضر ہوتی ہے لیکن وہ بہتر خیال کر کے اس کے لئے دعا کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢١٥١، ومصباح الزجاجة: ٣٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٠) (ضعیف) (عبداللہ بن محمد بن عقیل کی اس روایت کی سند و متن میں شدید اضطراب ہے، اس لئے یہ سیاق ضعیف ہے، اصل حدیث ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، جس کے لئے ملاحظہ ہو: ابوداود، نیز ساعت اجابہ متفق علیہ ہے، تراجع الألبانی: رقم: ١٨٨ )۔
1085Sunan Ibne-Majah

جمعہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّاد بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ؟ يَعْنِي: بَلِيتَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.

شداد بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا کئے گئے، اور اسی دن پہلا اور دوسرا صور پھونکا جائے گا، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود (صلاۃ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا درود (صلاۃ) آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ قبر میں بوسیدہ ہوچکے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پہ انبیاء کے جسموں کے کھانے کو حرام قرار دیا ہے ۔

It was narrated that Shaddad bin Aws said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best of your days is Friday. On it Adam was created, on it the Trumpet will be blown, on it all creatures will swoon. So send a great deal of peace and blessings upon me on that day, for your peace and blessings will be presented to me: A man said: O Messenger of Allah ﷺ , how wiil our peace and blessings be shown to you when you will have disintegrated? He said: Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets: (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨١٩، ومصباح الزجاجة: ٣٨٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٧ (١٠٤٧)، سنن النسائی/الجمعة ٥ (١٣٧٥)، مسند احمد (٤/٨) (صحیح )
1086Sunan Ibne-Majah

جمعہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "From one Friday to the next is an expiation for whatever was committed in between, so long as one does not corrunit any major sin." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة ٥ (٢٣٣)، سنن الترمذی/المواقیت ٤٧ (٢١٤)، مسند احمد (٢/٤٨١) (صحیح )
1087Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے روز غسل

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ غَسَّلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْتَسَلَ، وَبَكَّرَ، وَابْتَكَرَ، وَمَشَى، وَلَمْ يَرْكَبْ، وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ فَاسْتَمَعَ، وَلَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.

اوس بن اوس ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے دن غسل کرایا اور خود بھی غسل کیا ١ ؎، اور نماز کے لیے سویرے نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا ۔

Aws bin Aws Ath-Thaqafi said: "I heard the Prophet ﷺ say: Whoever takes a bath on Friday, and bathes completelr and goes early, arriving early, and walks and does not ride (to the Masjid), and sits close to the Imam and listens to him, and does not engage in idle talk; for every step he takes he will have the reward of one year, the reward of a years fasting and praying (at night): (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جمعہ کے غسل سے پہلے بیوی سے صحبت کرے کہ اسے بھی غسل کی ضرورت ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ١٢٩ (٣٤٦، ٣٤٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٩ (٤٦٩)، سنن النسائی/الجمعة ١٠ (١٣٨٢)، ١٢ (١٣٨٥)، ١٩ (١٣٩٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨، ٩، ١٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤ (١٥٨٨) (صحیح )
1088Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے روز غسل

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: مَنْ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جو جمعہ کے لیے آئے، وہ غسل کرے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "I heard the Prophet ﷺ say from the pulpit: Whoever comes to Friday, let him take a bath:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٢٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٢ (٨٧٧)، ١٢ (٨٩٤)، ٢٦ (٩١٩)، صحیح مسلم/الجمعة ١ (٨٤٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٨ (٤٩٢)، سنن النسائی/الجمعة ٧ (١٣٧٧)، موطا امام مالک/الجمعة ١ (٥)، مسند احمد (٢/٣، ٩، ٣٧، ٤١، ٤٢، ٤٨، ٥٣، ٥٥، ٥٨)، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٠ (١٥٧٧) (صحیح )
1089Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے روز غسل

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ.

ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed AI-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "Bath on Fridays is obligatory for every male who has reached the age of puberty." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کی ایک جماعت کے نزدیک جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے، اہل ظاہر کا یہی قول ہے، اور جمہور علماء کرام اس کو مستحب اور مسنون کہتے ہیں۔ شیخ الإسلام ابن تیمیہ نے فرمایا ہے کہ اگر آدمی کا جسم اور اس کا لباس صاف ستھرا ہو تو اس کے حق میں یہ غسل مسنون و مستحب ہے، اور جسم اور کپڑوں کے صاف نہ ہونے یا بدن میں بو موجود ہونے کی صورت میں یہ غسل واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٥٧)، الجمعة ٢ (٨٧٩)، ١٢ (٨٩٥)، الشہادات ١٨ (٢٦٦٥)، صحیح مسلم/الجمعة ١ (٨٤٦)، سنن ابی داود/الطہارة ١٢٩ (٣٤١)، سنن النسائی/الجمعة ٦ (١٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ٤١٦١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ١ (٤)، مسند احمد (٣/٦) سنن الدارمی/الصلاة ١٩٠ (١٥٧٨) (صحیح )
1090Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن غسل ترک کرنے کی رخصت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے اچھی طرح وضو کیا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور امام سے قریب بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنا، اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا اس نے لغو حرکت کی ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever performs ablution and performs ablution well, then comes to Friday (prayer) and sits near (the Imam), and keeps quiet and listens, he will be forgiven for what was between that and the previous Friday (of sins), and three days more. And whoever touches the pebbles then he has engaged in Laghw (idle talk or behavior)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٨ (٨٥٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠٩ (١٠٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٠ (٤٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٤) وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٤) (صحیح )
1091Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن غسل ترک کرنے کی رخصت

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ يُجْزِئُ عَنْهُ الْفَرِيضَةُ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو یہ بڑی اچھی بات ہے، اس سے فریضہ ادا ہوجائے گا، اور جس نے غسل کیا تو غسل زیادہ بہتر ہے ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever performs ablution on Friday, it is well and good for him and he has done what is obligatory for him. But whoever takes a bath, bath is better."(Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: فبها کا مطلب ہے فباالرخصة أخذ یعنی اس نے رخصت کو اختیار کیا ہے اور نعمت کا مطلب هي الرخصة یعنی یہ رخصت خوب ہے، اس حدیث سے جمعہ کے غسل کے واجب نہ ہونے پر استدلال کیا گیا ہے کیونکہ اس میں ایک تو وضو پر اکتفا کرنے کی رخصت دی گئی ہے، اور دوسرے غسل کو افضل بتایا گیا ہے جس سے غسل نہ کرنے کی اجازت نکلتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٢، ومصباح الزجاجة: ٣٨٤) (صحیح) (اس کی سند میں یزید بن ابان ضعیف ہیں، اس لئے حدیث میں وارد یہ ٹکڑا يجزئ عنه الفريضة صحیح نہیں ہے، بقیہ حدیث دوسرے شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٥٤٠ )۔
1092Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے لئے سویرے جانا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ، الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي بَقَرَةٍ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي كَبْشٍ، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ، زَادَ سَهْلٌ فِي حَدِيثِهِ: فَمَنْ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا يَجِيءُ بِحَقٍّ إِلَى الصَّلَاةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے متعین ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے نام ان کے درجات کے مطابق لکھتے رہتے ہیں، جو پہلے آتے ہیں ان کا نام پہلے (ترتیب وار) لکھتے ہیں، اور جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر بند کردیتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، لہٰذا جمعہ کے لیے سویرے جانے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا گائے قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا مینڈھا قربان کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے (کی قربانی) کا بھی ذکر فرمایا اور سہل نے اپنی حدیث میں اتنا زیادہ بیان کیا کہ جو کوئی اس کے (خطبہ شروع ہو چکنے کے) بعد آئے تو وہ صرف اپنا فریضہ نماز ادا کرنے کے لیے آیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When Friday comes, angels stand at every door of the Masjid and record the names of the people who come, in order of arrival. When the Imam comes out they close their records and listen to the sermon. The first one who comes to the prayer is like one who sacrifices a camel; the one who comes after him is like one who sacrifices a cow; the one who comes after him is like one who sacrifices a ram," (and so on) until he made mention of a hen and an egg. SaW added in his Hadith: "And whoever comes after that comes only to do his duty with regard to the prayer." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور فرض ادا کرنے کے لئے آنے کا یہ نتیجہ ہوگا کہ عذاب سے بچ جائے گا، لیکن اس کو ثواب اور درجے نہ ملیں گے جیسے ان لوگوں کو ملتے ہیں جو سویرے آتے ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز جمعہ کے لیے جو جتنا جلدی مسجد میں پہنچے گا اتنا ہی زیادہ اجر و ثواب کا مستحق ہوگا، اور جتنی دیر کرے گا اتنے ہی اس کے ثواب میں کمی آتی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ٧ (٨٥٠)، سنن النسائی/الإمامة ٥٩ (٨٦٥)، الجمعة ١٣ (١٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٨، ومصباح الزجاجة: ٣٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة، ٣١ (٩٢٩)، بدء الخلق ٦ (٣٢١١)، سنن الترمذی/الجمعة ٦ (٤٩٩)، موطا امام مالک/الجمعة ١ (١)، مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٩، ٢٨٠، ٥٠٥، ٥١٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٣ ٩ ١ (١٥٨٥) (صحیح) (صرف ابن ماجہ میں قدر منازلهم کا لفظ ہے، دوسروں نے یہ لفظ نہیں ذکر کیا ہے )
1093Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے لئے سویرے جانا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَرَبَ مَثَلَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ التَّبْكِيرِ، كَنَاحِرِ الْبَدَنَةِ، كَنَاحِرِ الْبَقَرَةِ، كَنَاحِرِ الشَّاةِ، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ اور جمعہ کے لیے سویرے آنے والے کی مثال اونٹ قربان کرنے والے، گائے قربان کرنے والے اور بکری قربان کرنے والے کی بیان فرمائی ہے، یہاں تک کہ مرغی (کی قربانی) کا بھی ذکر فرمایا۔

It was narrated from Samurah bin jundab that the Messenger of Allah ﷺ described the likeness of Friday, saying that those who come earliest are like the one who sacrifices a camel, then like one who sacrifices a cowI then like one who sacrifices a sheep, until he made mention of a chicken. (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٠٧، ومصباح الزجاجة: ٣٨٦) (حسن صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں سعید بن بشیر ضعیف ہیں، نیز حسن بصری کا سماع سمرہ ؓ سے عقیقہ والی حدیث کے علاوہ ثابت نہیں ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: ٣٩٠ ، ب تحقیق الشہری )
1094Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے لئے سویرے جانا

حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَوَجَدَ ثَلَاثَةً وَقَدْ سَبَقُوهُ، فَقَالَ: رَابِعُ أَرْبَعَةٍ، وَمَا رَابِعُ أَرْبَعَةٍ بِبَعِيدٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ يَجْلِسُونَ مِنَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى قَدْرِ رَوَاحِهِمْ إِلَى الْجُمُعَاتِ، الْأَوَّلَ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ، ثُمَّ قَالَ: رَابِعُ أَرْبَعَةٍ، وَمَا رَابِعُ أَرْبَعَةٍ بِبَعِيدٍ.

علقمہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ جمعہ کے لیے نکلا، انہوں نے تین آدمیوں کو دیکھا جو ان سے آگے بڑھ گئے تھے، تو کہا: میں چار میں سے چوتھا ہوں اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس اسی ترتیب سے بیٹھیں گے جس ترتیب سے جمعہ کے لیے پہلے اور بعد میں جاتے رہتے ہیں، جمعہ کے لیے پہلے جانے والا وہاں بھی پہلے درجہ میں دوسرا دوسرے درجہ میں اور تیسرا تیسرے درجہ میں پھر کہا: چار میں سے چوتھا اور چار میں سے چوتھا کچھ دور نہیں ہے ١ ؎۔

It was narrated that Alqamah said: "I went out with Abdullah to Friday (prayer), and he found three men who arrived before him. He said: The fourth of four, and the fourth of four is not far a way. I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "On the Day of Resurrection people will gather near Allah according to how early they came to Friday (prayer), the first, second, and third:" Then he said: The fourth of four, and the fourth of four is not far away." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: چار میں کا چوتھا کچھ دور نہیں ہے یعنی اپنے نفس کو دیر میں آنے پر تنبیہ کی اور اس کو دھمکایا، اور بعضوں نے کہا: اپنے نفس کو تسلی دی کہ تین ہی آدمیوں سے پیچھے رہا، اور اپنے مالک سے قرب میں چوتھے درجہ میں ہوا، اور یہ درجہ بھی غنیمت ہے چنداں دور نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٣٩، ومصباح الزجاجة: ٣٨٧) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں عبد المجید بن عبد العزیز بن أبی رواد ہیں، جو صدوق روای ہیں لیکن خطاء کرتے ہیں، ان کی طرف سے اس حدیث میں اضطراب ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٨١٠ )
1095Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن زینت کرنا

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْمُوسَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ: مَا عَلَى أَحَدِكُمْ لَوِ اشْتَرَى ثَوْبَيْنِ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ سِوَى ثَوْبِ مِهْنَتِهِ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَيْخٌ لَنَا، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْيُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ.

عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن منبر پہ فرماتے ہوئے سنا: کیا اچھا ہوتا کہ تم میں سے ہر شخص جمعہ کے لیے اپنے عام استعمال کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے خرید لے ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Salâm that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying on the pulpit one Friday: “There is nothing wrong with anyone of you buying two garments for Friday (prayer), other than his daily work clothes” (Hasan) (Another chain) from Yusuf bin ‘AbdulJdh bin Salim that his father said: “The Prophet ﷺ delivered a sermon to us’‘ and he mentioned that.

Notes · وضاحت
١ ؎: عام کپڑے اکثر میلے کچیلے یا کم قیمت کے ہوتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جمعہ کا احترام اور اس کی عزت و توقیر کرے، اور اپنی حیثیت کے مطابق عمدہ اور صاف ستھرے کپڑے پہنے، جیسے کوئی حاکم اور امیر کے دربار میں جاتے وقت اچھا لباس پہننے اور زیب و زینت کا خیال رکھتا ہے۔ اس سند سے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، اور پھر انہوں نے یہی حدیث ذکر کی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١٩ (١٠٧٨)، (تحفة الأشراف: ٥٣٣٤) (صحیح )
1096Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن زینت کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَرَأَى عَلَيْهِمْ ثِيَابَ النِّمَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَلَى أَحَدِكُمْ إِنْ وَجَدَ سَعَةً أَنْ يَتَّخِذَ ثَوْبَيْنِ لِجُمُعَتِهِ سِوَى ثَوْبَيْ مِهْنَتِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، تو صحابہ کرام ؓ کو دھاری دار چادریں پہنے دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا مشکل ہے کہ تم میں سے جو صاحب وسعت ہو وہ جمعہ کے لیے اپنے عام کپڑے کے علاوہ دوسرے دو کپڑے بنا لے ۔

It was narrated from ‘Aishaa that the Prophet ﷺ delivered a sermon to the people One Friday, and he saw them wearing Woolen clothes. The Messenger of Allah ﷺ said:“There is nothing Wrong with any one of you, if he can afford it, buying two garments for Friday, other than his daily work clothes.” (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨٩٦ ومصباح الزجاجة: ٣٨٨) (صحیح )
1097Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن زینت کرنا

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ غُسْلَهُ، وَتَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ طُهُورَهُ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبِ أَهْلِهِ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ وَلَمْ يَلْغُ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کیا، اچھی طرح وضو کیا، سب سے اچھا کپڑا پہنا، اور اس کے گھر والوں کو اللہ نے جو خوشبو میسر کی اسے لگایا، پھر جمعہ کے لیے آیا اور کوئی لغو اور بیکار کام نہیں کیا، اور دو مل کر بیٹھنے والوں کو الگ الگ کر کے بیچ میں نہیں گھسا ١ ؎ تو اس کے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۔

It was narrated from Abu Dharr (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever takes a bath on a Friday and does it well, and purifies himself and does it well, and puts on his best clothes, and puts on whatever Allah decrees for him of the perfume of his family, then comes to the Masjid and does not engage in idle talk or separate (pushing between) two people; he will be forgiven for (his sins) between that day and the previous Friday." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہیں گیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٥٩، ومصباح الزجاجة: ٣٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٧٧، ١٨٠) (صحیح )
1098Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے دن زینت کرنا

حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا يَوْمُ عِيدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَمَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ، وَإِنْ كَانَ طِيبٌ فَلْيَمَسَّ مِنْهُ، وَعَلَيْكُمْ بِالسِّوَاكِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ عید کا دن ہے، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اسے عید کا دن قرار دیا ہے، لہٰذا جو کوئی جمعہ کے لیے آئے تو غسل کر کے آئے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگالے، اور تم لوگ اپنے اوپر مسواک کو لازم کرلو ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: This day is an Eid (festival) which Allah has ordained for the Muslims. Whoever comes to Friday (prayer), let him take a bath and if he has perfume then let him put some on. And upon you (Iurge to use) is the tooth stick." (Hasan

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا ہے کہ غسل نماز جمعہ کے لئے مسنون ہے نہ کہ جمعہ کے دن کے لئے، اور بعضوں نے کہا: جمعہ کے دن کے لئے مسنون ہے، پس جس پر جمعہ فرض نہ ہو، جیسے عورت، مریض، مسافر یا نابالغ اور وہ جمعہ کی نماز کے لئے آنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو تو اس کو بھی غسل کرنا مستحب ہوگا، اور پہلے قول کے لحاظ سے جن پر جمعہ فرض نہیں ہے ان پر غسل نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٨٧٠، ومصباح الزجاجة: ٣٩٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ٣٢ (١١٣) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں علی بن غراب اور صالح بن ابی الأخضر ضعیف ہیں، منذری نے اس کو حسن کہا ہے، الترغیب و الترہیب ١ /٤٩٨، نیز ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: ٣٩٤ ب تحقیق الشہری )
1099Sunan Ibne-Majah

جمعہ کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا كُنَّا نَقِيلُ وَلَا نَتَغَدَّى إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے، اور دوپہر کا کھانا کھایا کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Sahl bin Sad said: "We did not take a Qailulah nor eat Ghadd until after Friday (prayer)."

Notes · وضاحت
١ ؎: جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ پڑھ لیتے تھے، پھر لوگ اپنے اونٹوں کی طرف جاتے اور سورج ڈھلنے کے وقت ان کو چلاتے، یعنی آپ جلد جمعہ پڑھا دیتے تھے۔ سلمہ بن الاکوع اور انس ؓ کی حدیثیں آگے آرہی ہیں، ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے عہد میں جمعہ زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے پڑھ لیتے تھے، امام احمد کے نزدیک یہ جائز ہے، الروضۃ الندیۃ میں ہے کہ یہی حق ہے، اور جمہور علماء کے نزدیک جمعہ کا وقت زوال کے بعد سے ہے، جو ظہر کا وقت ہے کیونکہ جمعہ بدل ہے ظہر کا، امام شوکانی نے الدرر البہیہ میں اہل حدیث کا مذہب بھی یہی قرار دیا ہے، اور وہ ان حدیثوں کی تاویل کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن صبح کا کھانا اور دن کا قیلولہ موقوف رکھتے، اور جمعہ کی نماز کا اہتمام کرتے پھر نماز پڑھ کر یہ کام کرتے، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ زوال سے پہلے ہی جمعہ پڑھ لیتے، اور ابن سیدان کی روایت موید ہے امام احمد کے مذہب کی، کہ میں ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ جمعہ میں حاضر تھا، انہوں نے زوال سے پہلے خطبہ پڑھا، اور عمر اور عثمان ؓ عنہما سے بھی ایسا ہی نقل کیا (سنن دارقطنی) لیکن ابن سیدان کو لوگوں نے ضعیف کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٤٠ (٩٣٩)، الحرث والمزارعة ٢١ (٢٩٤٩)، الأطعمة ١٧ (٥٤٠٣)، الإستئذان ١٦ (٦٢٤٨)، صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٥٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٦١ (٢٢٥)، (تحفة الأشراف: ٤٧٠٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٤ (١٠٨٦) (صحیح )
1100Sunan Ibne-Majah

جمعہ کا وقت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ، فَلَا نَرَى لِلْحِيطَانِ فَيْئًا نَسْتَظِلُّ بِهِ.

سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے، پھر گھروں کو واپس ہوتے تو دیواروں کا سایہ اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ ہم اس سایہ میں چل سکیں۔

Iyas bin Salamah bin Akwa narrated that his father said: "We used to perform Friday (prayer) with the Prophet ﷺ , then we would return, and we would not see any shadow from the walls in which we could seek shade."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٥ (٤١٦٨)، صحیح مسلم/الجمعة ٩ (٨٦٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٤ (١٠٨٥)، سنن النسائی/الجمعة ١٤ (١٣٩٢)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٢) وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ١٩٤ (١٥٨٧) (صحیح )
1101Sunan Ibne-Majah

جمعہ کا وقت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ مُؤَذِّنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِيأَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ كَانَ: يُؤَذِّنُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ.

مؤذن رسول سعد ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جمعہ کی اذان اس وقت دیتے تھے جب سایہ جوتا کے تسمے کے برابر ہوجاتا۔

Abdur-Rahrnan bin Sad bin Ammar bin Sad, the Muadhdhin of the Prophet ﷺ , said: "My father told me, narrating from his father, from his grandfather, that during the time of the Messenger of Allah ﷺ , he used to call the Adhan on Fridays when the shadow was like a sandal strap." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨٢٧، ومصباح الزجاجة: ٣٩١) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن ضعیف اور ان کے والد سعد مجہول ہیں )
1102Sunan Ibne-Majah

جمعہ کا وقت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا نُجَمِّعُ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَقِيلُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ پڑھتے پھر لوٹ کر قیلولہ کرتے تھے۔

It was narrated that Anas said: "We used to perform the Friday (prayer), then we would return for a nap (Qailulah)."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: قیلولہ: دوپہر کے کھانے کے بعد آرام کو قیلولہ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ١٦ (٣٩٢) (صحیح )