اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 14 of 32

1063Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَالْجُمُعَةُ رَكْعَتَانِ، وَالْعِيدُ رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، جمعہ اور عید بھی دو رکعت ہیں، بہ زبان محمد ﷺ یہ کامل ہیں ناقص نہیں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Umar said: “The prayer while traveling is two Rak’ah, and Friday is two Rak’ah, and ‘Eid is two Rak’ah. They are complete and are not shortened, as told by Muhammad ﷺ .” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفر میں دو ہی رکعتیں واجب ہیں، اور یہ نہیں ہے کہ چار واجب تھیں سفر کی وجہ سے دو ہوگئیں اب قرآن کریم میں جو آیا ہے: وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة جب تم سفر میں ہو تو تم پر نماز کو قصر پڑھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے (سورۃ النساء: ١٠١ )، یہاں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی، اور خوف کی قید اتفاقی ہے، مفسرین کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے، یا خوف کی حالت میں نازل ہوئی، اور سفر کی حالت اتفاقی ہے، مفسرین کی ایک جماعت نے آیت میں قصر سے مراد رکوع اور سجود کو ایما اور اشارہ سے کرنے کے معنی میں لیا ہے، اور امام بخاری نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ نماز پہلے دو ہی رکعت فرض ہوئی تھی پھر سفر کی نماز اپنی حالت پر باقی رہی اور حضر میں دو دو رکعتیں بڑھا دی گئیں، اکثر ائمہ کے یہاں سفر میں قصر واجب ہے، امام ابوحنیفہ کے یہاں اتمام ناجائز ہے، اور امام شافعی کے نزدیک سفر میں قصر و اتمام دونوں جائز ہے، اور قصر افضل ہے، اور احادیث سے قصر کا وجوب ہی ثابت ہوتا ہے، اور نبی کریم ﷺ سے اسفار میں ہمیشہ قصر ہی ثابت ہے، ملاحظہ ہو: (الروضہ الندیہ: ١ /٣٧٣، ٣٧٤ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٦، ومصباح الزجاجة: ٣٧٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة ٣٧ (١٤٢١)، مسند احمد (١/٣٧) (صحیح) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن سفیان ثوری نے مسند احمد میں ان کی متابعت کی ہے، اور عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ کا عمر ؓ سے سماع مختلف فیہ ہے، لیکن بعض علماء نے سماع کو ثابت مانا ہے، ملاحظہ ہو: نصب الرایہ: ٢ /١٨٩، و الإرواء: ٣ /١٠٦ )
1064Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَالْفِطْرُ وَالْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کی دو دو رکعت ہے، بہ زبان محمد ﷺ یہ کامل ہیں ناقص نہیں۔

Umar said: "The prayer when traveling is two Rakoh, and Friday is two Rakah, and AI-Fitr and AI-Adha are two Rakah, complete, not shortened, as told by Muhammad ﷺ ," (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٢٩، ومصباح الزجاجة: ٣٧٩) (صحیح )
1065Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قُلْتُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ.

یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے سوال کیا، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم الذين کفروا نماز قصر کرنے میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر کافروں کی فتنہ انگیزیوں کا ڈر ہو (سورۃ النساء: ١٠١ ) ، اب اس وقت تو لوگ مامون (امن و امان میں) ہوگئے ہیں؟ انہوں نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا مجھے بھی اسی پر تعجب ہوا تھا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ١ ؎۔

It was narrated that Yala bin Umayyah said: "I asked Umar bin Khattab: Allah says: "And when you travel in the land, there is no sin on you if you shorten the prayer if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you), verily, the disbelievers are ever to you open enemies, but now there is security and people are safe. He said: I found it strange just as you do, so I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: "It is a charity that Allah has bestowed upon you, so accept His charity." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ کا ایک صدقہ ہمارے اوپر یہ ہے کہ سفر میں دشمنوں کا ڈر نہ رہتے بھی نماز قصر مشروع اور ثابت ہے، اور رسول اکرم ﷺ اپنے تمام اسفار میں قصر کرتے تھے، اس حدیث سے بھی قصر کے وجوب کی تائید ہوتی ہے، اس لئے کہ اس میں نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے صدقے کو قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٠ (١١٩٩، ١٢٠٠)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (٣٠٣٤)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥، ٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح )
1066Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْر بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.

امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: ہم قرآن میں نماز حضر اور نماز خوف کا ذکر پاتے ہیں، لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں پاتے؟ تو عبداللہ بن عمر ؓ نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے، اور ہم دین کی کچھ بھی بات نہ جانتے تھے، ہم وہی کرتے ہیں جیسے ہم نے محمد ﷺ کو کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Umayyah bin Abdullah bin Khalid that he said to Abdullah bin Umar (RA) : "We find (mention of) the prayer of the resident and the prayer in a state of fear in the Quran, but we do not find any mention of the prayer of the traveler. Abdullah said to him: "Allah sent Muhammad m to us, and we did not know anything, rather we do what we saw Muhammad ﷺ doing." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود ہے: وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم الذين کفروا اخیر تک، یعنی: جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز کے قصر کرنے میں تم پر گناہ نہیں، اگر تم کو ڈر ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے، اس آیت سے سفر کی نماز کا حکم نکلتا ہے، مگر چونکہ اس میں قید ہے کہ اگر تم کو کافروں کا ڈر ہو تو امیہ بن عبداللہ نے نماز خوف سے اس کو خاص کیا، کیونکہ صرف سفر کا حکم جس میں ڈر نہ ہو قرآن میں نہیں پایا، اور عبداللہ بن عمر ؓ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حکم صاف طور سے قرآن میں نہیں ہے، لیکن نبی اکرم ﷺ کے فعل سے مطلق سفر میں قصر کرنا ثابت ہے، پس حدیث سے جو امر ثابت ہو اس کی پیروی تو ویسے ہی ضروری ہے، جیسے اس امر کی جو قرآن سے ثابت ہو، ہم تک قرآن اور حدیث دونوں نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ سے پہنچا ہے، اور قرآن میں حدیث کی پیروی کا صاف حکم ہے، جو کوئی صرف قرآن پر عمل کرنے کا دعویٰ کرے، اور حدیث کو نہ مانے وہ گمراہ ہے، اور اس نے قرآن کو بھی نہیں مانا، اس لئے کہ قرآن میں صاف حکم ہے: وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا اور فرمایا: من يطع الرسول فقد أطاع الله اور یہ ممکن نہیں کہ حدیث کے بغیر کوئی قرآن پر عمل کرسکے، اس لئے کہ قرآن مجمل ہے، اور حدیث اس کی تفسیر ہے، مثلاً قرآن میں نماز ادا کرنے کا حکم ہے لیکن اس کے شرائط، ارکان، اور کیفیات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، اسی طرح زکاۃ، حج، روزہ وغیرہ دین کے ارکان بھی صرف قرآن دیکھ کر ادا نہیں ہوسکتے، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه خبردار ہو! مجھے قرآن دیا گیا، اور اس کے مثل ایک اور، یعنی حدیث۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التقصیر ١ (١٤٣٥)، (تحفة الأشراف: ٦٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٦، ٩٤) (صحیح )
1067Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn “Umar said: When the Messenger of Allah ﷺ went out from this city (Al-Madinah) he did not perform more than two Rak’ah for prayer until he returned.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ مدینہ سے نکلتے ہی کافروں کا ڈر نہ ہوتا، پھر معلوم ہوا کہ بغیر ڈر کے بھی سفر میں قصر درست ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر سے نکل جائے اس وقت سے قصر شروع کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٩، ١٢٤) (حسن صحیح )
1068Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، وَجُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: افْتَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے حضر (اقامت) میں چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض کیں۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Allah enjoined the prayer upon the tongue of your Prophet ﷺ Four Rakoh. while a resident and two Rak ah when traveling." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین (٦٨٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٨٧ (١٢٤٧)، سنن النسائی/الصلاة ٣ (٤٥٧)، التقصیر ١ (١٤٤٣) الخوف ١ (١٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ٦٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٧، ٢٤٣) (صحیح )
1069Sunan Ibne-Majah

سفر میں دو نمازیں اکٹھی پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَطَاوُسٍ، أَخْبَرُوهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُعْجِلَهُ شَيْءٌ، وَلَا يَطْلُبَهُ عَدُوُّ، وَلَا يَخَافَ شَيْئًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب اور عشاء کی نماز کو سفر میں جمع کرتے تھے، نہ تو آپ کو کسی چیز کی عجلت ہوتی، نہ کوئی دشمن آپ کا پیچھا کئے ہوئے ہوتا، اور نہ آپ کو کسی چیز کا خوف ہی ہوتا۔

It was narrated from Mujdhid, Saeed bin Jubair, Ata bin Abi Rabah and Tawus that Ibn Abbas told them that the Messenger of Allah ﷺ used to combine the Maghrib and Isha when traveling, although there was nothing to make him hurry and no enemy pursuing him, and he was not afraid of anything. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٠، ٥٩٠٧، ٦٤١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف ہیں )
1070Sunan Ibne-Majah

سفر میں دو نمازیں اکٹھی پڑھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي السَّفَرِ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر و عصر، اور مغرب و عشاء کی نماز کو غزوہ تبوک کے سفر میں جمع فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Muadh bin Jabal that the Prophet ﷺ combined the Zuhr and Asr, and the Maghrib and Isha when traveling during the campaign of Tabuk. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جمع بین الصلاتین کی دو قسمیں ہیں: ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی نماز کو آخر وقت میں اور دوسری نماز کو اوّل وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں جمع کر کے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے، یہ دونوں جمع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لیے ہوئی ہے اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا بہت دشوار امر ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین کی رخصت عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بھی دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے، واضح رہے کہ جمع بین الصلاتین کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢٠٦ و ١٢٠٨)، سنن النسائی/المواقیت ٤٢ (٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٧ (٥٥٣)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١ (١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢ (١٥٥٦) (صحیح )
1071Sunan Ibne-Majah

سفر میں نفل پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَهُ وَانْصَرَفَ، قَالَ: فَالْتَفَتَ، فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهُ يَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.

حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنت پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: اگر مجھے نفلی نماز (سنت) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا، میرے بھتیجے! میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا، آپ ﷺ نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر ؓ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عمر ؓ کے ساتھ رہا، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عثمان ؓ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، اور پوری زندگی ان سب لوگوں کا یہی عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے (سورۃ الاحزاب: ٢١ ) ١ ؎۔

It was narrated from Isa bin Hafs bin Asim bin Umar bin Khattab that his father told him: "We were with Ibn Umar on a journey, and he led us in prayer. Then we finished with him and he finished turning around, and saw some people praying. He said: What are these people doing? I said: Glorifying Allah: He said: If I wanted to glorify Allah (perform voluntary prayer) I would have completed my prayer. a son of my brother! I accompanied the Messenger of Allah ﷺ and he never prayed more than two Rakah when he was traveling, until Allah took his soul. Then I accompanied Abu Bakr (RA) and he never prayed more than two Rakah (when he was traveling), until Allah took his soul. Then I accompanied "Umar and he never prayed more than two Rakah, until Allah took his soul. Then I accompanied Uthman and he never prayed more than two Rakah, until Allah took his soul. AIlah says: Indeed In the Messenger of Allah ﷺ (Muhammad ﷺ ) you have a good example to follow:"

Notes · وضاحت
١ ؎: تو نماز ایسی عبادت میں بھی عبداللہ بن عمر ؓ نے سنت سے زیادہ پڑھنا مناسب نہ جانا، یہ عبداللہ بن عمر ؓ کا کمال اتباع ہے، اور وہ نبی اکرم ﷺ کی اتباع میں بہت سخت تھے، یہاں تک کہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان مقامات پر ٹھہرتے جہاں نبی اکرم ﷺ ٹھہرتے تھے، اور وہیں نماز ادا کرتے جہاں آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ سفر میں نماز کی سنتوں کے پڑھنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اکثر کا یہ قول ہے کہ اگر پڑھے گا تو ثواب ہوگا، اور خود ابن عمر ؓ سے ترمذی کی روایت میں ظہر کی سنتیں پڑھنا منقول ہے، اور بعض علماء کا یہ قول ہے کہ سفر میں صرف فرض ادا کرے، سنتیں نہ پڑھے، ہاں عام نوافل پڑھنا جائز ہے، نبی کریم ﷺ اپنے اسفار مبارکہ میں فرض نماز سے پہلے یا بعد کی سنتوں کو نہیں پڑھتے تھے، سوائے فجر کی سنت اور وتر کے کہ ان دونوں کو سفر یا حضر کہیں نہیں چھوڑتے تھے، نیز عام نوافل کا پڑھنا آپ سے سفر میں ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١١ (١١٠١)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٦ (١٢٢٣)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٥ (١٤٥٩)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٧) (صحیح )
1072Sunan Ibne-Majah

سفر میں نفل پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ أَنَّه سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ السَّفَرِ، فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا.

اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو حسن نے کہا: طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے۔

Usamah bin Zaid said: asked Tawus about performing voluntary prayer while traveling. Al-Hasan bin Muslim bin Yannaq as sitting with him and he said: Tawus told me that he heard Ibn Abbas (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined prayer while a resident and prayer when one is traveling. We used to pray when we were residents both before and after (the obligatory prayer), and We used to pray both before and after (the obligatory prayer) when We were traveling:"(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٦، ومصباح الزجاجة: ٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢) (منکر) (اسامہ بن زید میں کچھ ضعف ہے، اور یہ حدیث سابقہ حدیث اور خود ابن عباس ؓ کی ایک حدیث سے معارض ہے، نیز سنن نسائی میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں دو رکعت سے زیادہ (فرض) نہیں پڑھتے تھے، اور نہ اس فریضہ سے پہلے اور نہ اس کے بعد (نوافل) پڑھتے تھے، ( ١٤٥٩ )، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /٦٠٥ )
1073Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُالسَّائِب بْنَ يَزِيدَ مَاذَا سَمِعْتَ فِي سُكْنَى مَكَّةَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثًا لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ.

عبدالرحمٰن بن حمید زہری کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید سے پوچھا کہ آپ نے مکہ کی سکونت کے متعلق کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے علاء بن حضرمی ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہاجرین کو منٰی سے لوٹنے کے بعد تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Humaid Az-Zuhri said: "I asked Saib bin Yazid: What have you heard about staying in Makkah? He said: I heard Ala bin Hadrami say: "The Prophet ﷺ said: Three (days) for the Muhajir after departing (from Mina). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مہاجر وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی، آپ ﷺ نے مہاجرین کو تین دن سے زیادہ مکہ میں رہنے کی اجازت نہ دی، اس حدیث کا تعلق ترجمہ باب سے معلوم نہیں ہوتا مگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب مہاجرین کو جو کہ مکہ میں مسافر تھے نبی اکرم ﷺ نے تین دن رہنے کی اجازت دی، تو معلوم ہوا کہ تین دن کی اقامت سے سفر کا حکم باطل نہیں ہوتا، پس اگر کوئی مسافر کسی شہر میں تین دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو قصر کرے، اور اس مسئلہ میں علماء کا بہت اختلاف ہے لیکن اہل حدیث نے اس کو اختیار کیا ہے کہ اگر تردد و شک کے ساتھ مسافر کو کہیں ٹھہرنے کا اتفاق ہو تو بیس دن تک قصر کرتا رہے، اس کے بعد پوری نماز ادا کرے، کیونکہ جابر ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بیس راتوں تک کی اقامت میں قصر کا حکم دیا، اس واسطے کہ قصر حالت سفر میں مشروع تھا، اور جب اقامت کی تو سفر نہ رہا، اور اگر یقین کے ساتھ مسافر کہیں ٹھہرنے کا ارادہ کرے، تو اگر چار دن یا زیادہ کی اقامت کی نیت کرے، تو چار دن کے بعد نماز پوری پڑھے، اور جو چار دن سے کم رہنے کی نیت کرے تو قصر کرے، یہ حنبلی مذہب کا مشہور مسئلہ ہے، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح کو مکہ میں تشریف لائے، اور ساتویں دن تک قیام فرمایا، اور آٹھویں تاریخ کی صبح کو نماز فجر پڑھ کر منیٰ تشریف لے گئے، اور چار دنوں میں مکہ میں قصر کرتے رہے، جبکہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں انیس دن تک نماز قصر ادا کی (صحیح البخاری)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت کی حد چار دن نہیں ہے، سنن ابی داود ( ١٢٣٥ ) میں جابر ؓ سے مروی ہے کہ تبوک میں بیس دن تک اقامت رہی، اور قصر پڑھتے رہے، مختلف احادیث میں مختلف مدتوں کے ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی تعارض کی بات ہے، رواۃ نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا، راجح قول یہی ہے کہ مسافر جب تک اقامت کی نیت نہ کرے نماز کو قصر کرے اور جمع بھی، جب تک کہ اقامت کی نیت نہ کرے اور سفر کو ختم نہ کر دے، شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ مسافر کے لیے قصر و افطار اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اقامت اور سکونت نہ اختیار کرلے، اور چند دن کی اقامت کی نیت سے مقیم اور مسافر کے درمیان فرق وتمیز شرع اور عرف میں غیر معروف چیز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الانصار ٤٧ (٣٩٣٣)، صحیح مسلم/الحج ٨١ (١٣٥٢)، سنن ابی داود/الحج ٩٢ (٢٠٢٢)، سنن الترمذی/الحج ١٠٣ (٩٤٩)، سنن النسائی/تقصیرالصلاة ٤ (١٤٥٥، ١٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٠٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٩، ٥/٥٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٥٥٣) (صحیح )
1074Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فِي أُنَاسٍ مَعِي، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ.

عطاء کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے مجھ سے میرے ساتھ کئی لوگوں کی موجودگی میں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ چار ذی الحجہ کی صبح تشریف لائے۔

Ata narrated: " Jabir bin Abdullah (RA) , who was among the people with me, told me that the Prophet ﷺ arrived in Makkah in the morning of the fourth day of Dhul-Hijjah: (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ١٥ (٢٥٠٥) التمنی ٣ (٧٢٢٩)، سنن النسائی/الحج ١٠٨ (٢٨٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١٨ (١٢١٦)، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٨٨)، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٧) (صحیح )
1075Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں انیس ( ١٩ ) دن رہے، اور دو دو رکعت پڑھتے رہے، لہٰذا ہم بھی جب انیس ( ١٩ ) دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعت پڑھتے ہیں، اور جب اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ stayed for nineteen days in which he shortened his prayer to two Rakoh, So, whenever we stayed for nineteen days we would shorten our prayer to two Rakah, but if we stayed more than that we would pray four Rakah:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس ؓ کا مذہب انیس دن کی اقامت تک قصر کا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨٠)، المغازي (٤٢٩٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (٥٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة (١٢٣٠)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٤) (صحیح )
1076Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَامَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ.

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن قیام کیا، اور نماز قصر کرتے رہے۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ stayed in Makkah for fifteen nights during the year of the Conquest, (during which time) he shortened his prayer, (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٩ (١٢٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٤ (١٤٥٤) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣ /٢٦، ٢٧ )
1077Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعْنَا، قُلْتُ: كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ، قَالَ: عَشْرًا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے؟ کہا: دس دن تک۔

Yahya bin Abu Ishâq narrated that Anas said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ from Al-Madinah to Makkah, during which time we shortened our prayer to two Rak’ah, until we came back.” I asked: “How long did he stay in Makkah?” He said: “Ten (days).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ١ (١٠٨١)، المغازي ٥٢ (٤٢٩٧)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٩ (١٢٣٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (٥٤٨)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة (١٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٧، ١٩٠) (صحیح )
1078Sunan Ibne-Majah

نماز چھوڑ نے والے کی سزا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: Between a person and Kufr (disblief) is abandoning the prayer.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کفر اور بندے میں نماز ہی حد فاصل اور حائل ہے، جہاں نماز چھوڑی یہ حد فاصل اٹھ گئی اور آدمی کافر ہوگیا، یہی امام احمد اور اصحاب حدیث کا مذہب ہے اور حماد بن زید، مکحول، مالک اور شافعی نے کہا کہ تارک نماز کا حکم مثل مرتد کے ہے، یعنی اگر توبہ نہ کرے تو وہ واجب القتل ہے، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک تارک نماز کافر نہ ہوگا، لیکن کفر کے قریب ہوجائے گا، حالانکہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: نماز کا ترک کفر ہے، اور ایسا ہی منقول ہے عمر اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے، جمہور علماء اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز کے چھوڑ دینے کو حلال سمجھے، وہ شخص جو محض سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے وہ کافر نہیں ہوتا، لیکن بعض محققین کے نزدیک نماز کی فرضیت کے عدم انکار کے باوجود عملاً و قصداً نماز چھوڑ دینے والا بھی کافر ہے، دیکھئے اس موضوع پر عظیم کتاب تعظيم قدر الصلاة تالیف امام محمد بن نصر مروزی، ب تحقیق ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی، اور تارک صلاۃ کا حکم تالیف شیخ محمد بن عثیمین، ترجمہ ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ١٥ (٤٦٧٨)، سنن الترمذی/الإیمان ٩ (٢٦٢٠)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٣٥ (٨٢)، سنن النسائی/الصلاة ٨ (٤٦٤، ٤٦٥)، مسند احمد (٣/٣٧٠، ٣٨٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٩ (١٢٦٩) (صحیح )
1079Sunan Ibne-Majah

نماز چھوڑ نے والے کی سزا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان نماز معاہدہ ہے ١ ؎، جس نے نماز ترک کردی اس نے کفر کیا ۔

Abdullah bin Buraidah narrated that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The covenant that distinguishes between us and them is prayer; so whoever leaves it, he has committed Kufr. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں گے، ہم ان پر اسلام کے احکام جاری رکھیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ٩ (٢٦٢١)، سنن النسائی/الصلاة ٨ (٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٩٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٦) (صحیح )
1080Sunan Ibne-Majah

نماز چھوڑ نے والے کی سزا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْيَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ، فَإِذَا تَرَكَهَا فَقَدْ أَشْرَكَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بندے اور شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "There is nothing standing between a person and Shirk (polytheism) except leaving the prayer, so if he leaves it he has committed Shirk." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: مشرک اور کافر دونوں کا حکم ایک ہے، دونوں جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، معاذ اللہ! اتنی صاف حدیثوں کو دیکھ کر بھی کوئی نماز ترک کر دے تو اس سے زیادہ بدبخت و بدنصیب کون ہوگا کہ مشرک اور کافر ہوگیا، اور دین محمدی سے نکل گیا، أعاذنا الله !
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨١، ومصباح الزجاجة: ٣٨١) (صحیح) (اس کی سند میں یزید بن أبان الرقاشی ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٥٧٤ ، مصباح الزجاجة: ٣٨٤ ب تحقیق عوض الشہری )
1081Sunan Ibne-Majah

فرض جمعہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ بُكَيْرٍ أَبُو جَنَّابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَدَوِيُّ، عَنْعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تُوبُوا إِلَى اللَّهِ قَبْلَ أَنْ تَمُوتُوا، وَبَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ الصَّالِحَةِ قَبْلَ أَنْ تُشْغَلُوا، وَصِلُوا الَّذِي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ بِكَثْرَةِ ذِكْرِكُمْ لَهُ، وَكَثْرَةِ الصَّدَقَةِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، تُرْزَقُوا وَتُنْصَرُوا وَتُجْبَرُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْكُمُ الْجُمُعَةَ فِي مَقَامِي هَذَا، فِي يَوْمِي هَذَا، فِي شَهْرِي هَذَا، مِنْ عَامِي هَذَا، إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ تَرَكَهَا فِي حَيَاتِي أَوْ بَعْدِي وَلَهُ إِمَامٌ عَادِلٌ أَوْ جَائِرٌ، اسْتِخْفَافًا بِهَا أَوْ جُحُودًا لَهَا، فَلَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَلَا بَارَكَ لَهُ فِي أَمْرِهِ، أَلَا وَلَا صَلَاةَ لَهُ، وَلَا زَكَاةَ لَهُ، وَلَا حَجَّ لَهُ، وَلَا صَوْمَ لَهُ، وَلَا بِرَّ لَهُ، حَتَّى يَتُوبَ، فَمَنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، أَلَا لَا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلًا، وَلَا يَؤُمَّن أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا، وَلَا يَؤُمَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا، إِلَّا أَنْ يَقْهَرَهُ بِسُلْطَانٍ يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: لوگو! مرنے سے پہلے اللہ کی جناب میں توبہ کرو، اور مشغولیت سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو، جو رشتہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہے اسے جوڑو، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کو خوب یاد کرو، اور خفیہ و اعلانیہ طور پر زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرو، تمہیں تمہارے رب کی جانب سے رزق دیا جائے گا، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری گرتی حالت سنبھال دی جائے گی، جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر جمعہ اس مقام، اس دن اور اس مہینہ میں فرض کیا ہے، اور اس سال سے تاقیامت فرض ہے، لہٰذا جس نے جمعہ کو میری زندگی میں یا میرے بعد حقیر و معمولی جان کر یا اس کا انکار کر کے چھوڑ دیا حالانکہ امام موجود ہو خواہ وہ عادل ہو یا ظالم، تو اللہ تعالیٰ اس کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے اور اس کے کام میں برکت نہ دے، سن لو! اس کی نماز، زکاۃ، حج، روزہ اور کوئی بھی نیکی قبول نہ ہوگی، یہاں تک کہ وہ توبہ کرے، لہٰذا جس نے توبہ کی اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا، سن لو! کوئی عورت کسی مرد کی، کوئی اعرابی (دیہاتی) کسی مہاجر کی، کوئی فاجر کسی مومن کی امامت نہ کرے، ہاں جب وہ کسی ایسے حاکم سے مغلوب ہوجائے جس کی تلوار اور کوڑوں کا ڈر ہو ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ delivered a sermon to us and said: O people! Repent to Allah before you die. Hasten to do good deeds before you become preoccupied (because of sickness and old age). Uphold the relationship that exists between you and your Lord by remembering Him a great deal and by giving a great deal of charity in secret and openly. (Then) you will be granted provision and Divine support, and your condition will improve. Know that Allah has enjoined Friday upon you in this place of mine, on this day, in this month, in this year,until the Day of Resurrection. Whoever abandons it, whether during my lifetime or after I am gone, whether he has a just or an unjust ruler, whether he takes it lightly or denies (that it is obligatory), may Allah cause him to lose all sense of tranquility and contentment, and may He not bless him in his affairs. Indeed, his prayer will not be valid, his Zakat will not be valid, his Hajj will not be valid, his fasting will not be valid, and his righteous deeds will not be accepted, until he repents. Whoever repents, Allah will accept his repentance. No woman should be appointed as Imam over a man, no Bedouin should be appointed as Imam over a ….Muhfijir, no immoral person should be appointed as Imam over a (true) believer, unless that is forced upon him and he fears his sword or whip. " (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظالم حاکم کی طرف سے کوئی امام ایسا ہو یا وہ خود امامت کرے، اور لوگوں کو ڈر ہو کہ اگر اس کی اقتداء نہ کریں گے تو عزت و آبرو کو نقصان پہنچے گا تو مجبوراً اور مصلحتاً فاسق کے پیچھے نماز ادا کرنی جائز ہے، اس حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ امام ہمیشہ صالح اور نیک اور ذی علم ہونا چاہیے اور اسی وجہ سے اعرابی کو مہاجر کی امامت سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ مہاجر ذی علم نیک اور صالح ہوتے تھے بہ نسبت اعراب (بدوؤں) کے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٥٨، ومصباح الزجاجة: ٣٨٢) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں علی بن زید بن جدعان، اور عبداللہ بن محمد العدوی ضعیف اور متروک راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٥٩١ )
1082Sunan Ibne-Majah

فرض جمعہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ، اسْتَغْفَرَ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، وَدَعَا لَهُ، فَمَكَثْتُ حِينًا أَسْمَعُ ذَلِكَ مِنْهُ ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ إِنَّ ذَا لَعَجْزٌ إِنِّي أَسْمَعُهُ كُلَّمَا سَمِعَ أَذَانَ الْجُمُعَةِ يَسْتَغْفِرُ لِأَبِي أُمَامَةَ، وَيُصَلِّي عَلَيْهِ، وَلَا أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ لِمَ هُوَ؟ فَخَرَجْتُ بِهِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ اسْتَغْفَرَ كَمَا كَانَ يَفْعَلُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتَاهُ، أَرَأَيْتَكَ صَلَاتَكَ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ النِّدَاءَ بِالْجُمُعَةِ لِمَ هُوَ؟، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى بِنَا صَلَاةَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ فِي نَقِيعِ الْخَضَمَاتِ فِي هَزْمٍ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ: أَرْبَعِينَ رَجُلًا.

عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی چلی گئی تو میں انہیں پکڑ کرلے جایا کرتا تھا، جب میں انہیں نماز جمعہ کے لیے لے کر نکلتا اور وہ اذان سنتے تو ابوامامہ اسعد بن زرارہ ؓ کے لیے استغفار اور دعا کرتے، میں ایک زمانہ تک ان سے یہی سنتا رہا، پھر ایک روز میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اللہ کی قسم یہ تو بےوقوفی ہے کہ میں اتنے عرصے سے ہر جمعہ یہ بات سن رہا ہوں کہ جب بھی وہ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو ابوامامہ ؓ کے لیے استغفار اور دعا کرتے ہیں، اور ابھی تک میں نے ان سے اس کی وجہ نہیں پوچھی، چناچہ ایک روز معمول کے مطابق انہیں جمعہ کے لیے لے کر نکلا، جب انہوں نے اذان سنی تو حسب معمول (اسعد بن زرارہ ؓ کے لیے) مغفرت کی دعا کی تو میں نے ان سے کہا: ابا جان! جب بھی آپ جمعہ کی اذان سنتے ہیں تو اسعد بن زرارہ ؓ کے لیے دعا فرماتے ہیں، آخر اس کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اسعد ہی نے ہمیں سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے قبیلہ بنی بیاضہ کے ہموار میدان نقیع الخضمات میں نماز جمعہ پڑھائی، میں نے سوال کیا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کیا تھی؟ کہا: ہم چالیس آدمی تھے ١ ؎۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Kab bin Malik said: "I used to gulde my father after he lost his sight, and when I took him out for the Friday (prayer), when he heard the Adhan he would pray for forgiveness for Abu Umamah As ad bin Zurarah, and supplicate for him. I heard that from him for a while, then I said to myself: By Allah! What is this weakness? Every time he hears the Adhfin for Friday (prayer) I hear him praying for forgiveness for Abu Umamah and supplicate for him, and I do not ask him about why he does that. Then I took him out for Friday (prayer), as I used to take him out, and when he heard the Adhan he prayed for forgiveness as he used to do. I said to him: O my father! I see you supplicating for Asad bin Zuriirah every time you hear the call for Friday; why is that? He said: O my son, he was the first one who led us for the Friday prayer before the Messenger of Allah ﷺ came from Makkah, in Naqi Al-Khadamat (a place near Al-Madinah), in the plain of Harrah Banu Bayadah. I asked: How many of you were there at that time? He said: Forty men. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: بظاہر یہاں ایک اشکال ہوتا ہے کہ جمعہ تو مدینہ میں فرض ہوا، پھر اسعد بن زرارہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے کیونکر جمعہ ادا کیا، اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ جمعہ مکہ ہی میں فرض ہوگیا تھا، نبی اکرم ﷺ کافروں کے ڈر سے اس کو ادا نہ کرسکتے تھے، اور مدینہ میں اس کی فرضیت قرآن میں اتری، اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جنہوں نے جمعہ کے لئے مسلمان حاکم کی شرط رکھی ہے، کیونکہ مدینہ طیبہ میں اس وقت کوئی مسلمان حاکم نہ تھا، اس کے باوجود اسعد بن زرارہ ؓ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمعہ ادا کیا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢١٦ (١٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٩) (حسن )