Sunan Ibne-Majah 1072

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1072Sunan Ibne-Majah

سفر میں نفل پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ أَنَّه سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ السَّفَرِ، فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا.

اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو حسن نے کہا: طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے۔

Usamah bin Zaid said: asked Tawus about performing voluntary prayer while traveling. Al-Hasan bin Muslim bin Yannaq as sitting with him and he said: Tawus told me that he heard Ibn Abbas (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined prayer while a resident and prayer when one is traveling. We used to pray when we were residents both before and after (the obligatory prayer), and We used to pray both before and after (the obligatory prayer) when We were traveling:"(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٦، ومصباح الزجاجة: ٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢) (منکر) (اسامہ بن زید میں کچھ ضعف ہے، اور یہ حدیث سابقہ حدیث اور خود ابن عباس ؓ کی ایک حدیث سے معارض ہے، نیز سنن نسائی میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں دو رکعت سے زیادہ (فرض) نہیں پڑھتے تھے، اور نہ اس فریضہ سے پہلے اور نہ اس کے بعد (نوافل) پڑھتے تھے، ( ١٤٥٩ )، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /٦٠٥ )