اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 13 of 32

1043Sunan Ibne-Majah

نماز میں خشوع

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْفَعُوا أَبْصَارَكُمْ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ تَلْتَمِعَيَعْنِي: فِي الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نماز کی حالت میں) اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بینائی چھین لی جائے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Do not lift your gaze to the heavens lest your sight be snatched away," meaning during prayer. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠١٧، ومصباح الزجاجة: ٣٧٤) (صحیح )
1044Sunan Ibne-Majah

نماز میں خشوع

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، حَتَّى اشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ: لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَيَخْطَفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنی نگاہیں (بحالت نماز) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟ ، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ تک فرما دیا: لوگ اس سے ضرور باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led his Companions in prayer one day. When he had finished prayer he turned to face the people and said: What is wrong with some people that they lift their gaze to the heavens? He spoke severely concerning that: They should certainly abstain from that or Allah will snatch away their sight. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٢ ٩ (٧٥٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٧ ٦ ١ (٩١٣)، سنن النسائی/السہو ٩ (١١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٩، ١١٢، ١١٥، ١١٦، ١٤٠، ٢٥٨)، سنن الدارمی/ الصلاة ٧ ٦ (١٣٤٠) (صحیح )
1045Sunan Ibne-Majah

نماز میں خشوع

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، أَوْ لَا تَرْجِعُ أَبْصَارُهُمْ.

جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو (نماز کی حالت میں) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آجانا چاہیئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں (صحیح سالم) نہ لوٹیں ١ ؎۔

It was narrated from Jabir bin Samurah that the Prophet ﷺ said: "Let those who lift their gaze to the heavens desist, or their sight will not come back." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز کے اندر اس کام سے باز آجائیں، اور بعضوں نے کہا کہ جب دعا کرتا ہو تو نماز سے باہر بھی نگاہ اٹھانی مکروہ ہے، اور اکثر لوگوں نے نماز سے باہر نگاہ اٹھانے کو جائز کہا ہے، اس بناء پر کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے جیسے نماز کا قبلہ کعبہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢٨)، (تحفة الأشراف: ٢١٣٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٦٧ (٩١٢)، مسند احمد (٥/٩٠، ٩٣، ١٠١، ١٠٨، سنن الدارمی/الصلاة ٦٧ (١٣٣٩) (صحیح )
1046Sunan Ibne-Majah

نماز میں خشوع

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَسْتَقْدِمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ، فَإِذَا رَكَعَ قَالَ: هَكَذَا يَنْظُرُ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ سورة الحجر آية 24 فِي شَأْنِهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو (سورۃ الحجر: ٢٤ ) نازل فرمائی۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "A woman used to perform prayer behind the Prophet ﷺ and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they Would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they Would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: "And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will come afterwards. concerning her matter. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/التفسیر سورة ١٥/١ (٣١٢٢)، سنن النسائی/الإمامة ٦٢ (٨٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٥) (صحیح )
1047Sunan Ibne-Majah

ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں ؟ ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah ﷺ One of us performs prayer in a single garment. The Prophet ﷺ said: Does everyone have two garments?" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہوگی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١٤٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلا ٤٩ (٢٥٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٨ ٧ (٦٢٥)، سنن النسائی/القبلة ١٤ (٧٦٤)، موطا امام مالک/الجماعة ٩ (٣٠)، مسند احمد (٦/٢٣٠، ٢٣٩، ٢٨٥، ٣٤٥، ٤٩٥، ٤٩٨، ٤٩٩، ٥٠١)، سنن الدارمی/الصلاة ٩٩ (١٤١٠) (صحیح )
1048Sunan Ibne-Majah

ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، أَنَّهُ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ.

ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ١ ؎۔

Abu Saeed Al-Khudri narrated that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ when he was performing prayer in a single garment, wrapping himself in it. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: متوشحًا یعنی لپیٹے ہوئے، تو شح یہ ہے کہ کپڑے کا جو کنارہ داہنے کندھے پر ہو اس کو بائیں بغل کے نیچے سے لے جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینے پر گرہ دے لے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٩)، (تحفة الأشراف: ٣٩٨٢) (صحیح )
1049Sunan Ibne-Majah

ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّميُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ.

عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔

It was narrated that Umar bin Abu Salamah said: "I saw the Messenger of Alah ﷺ performing prayer in a single garment, wrapping himself in it and throwing the ends over his shoulders." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٤ (٣٥٤، ٣٥٥)، صحیح مسلم/الصلاة ٥٢ (٥١٧)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٨ (٣٣٩)، سنن النسائی/القبلة ١٤ (٧٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٧٨ (٦٧٨)، موطا امام مالک/الجماعة ٩ (٢٩)، مسند احمد (٤/٢٦، ٢٧) (صحیح )
1050Sunan Ibne-Majah

ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَنْظَلَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ مُشْكَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي بِالْبِئْرِ الْعُلْيَا فِي ثَوْبٍ.

کیسان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Kaisan that his father said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing prayer at Bi`r Uilya, in a garment.(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (٠٢ تحفة الأشراف: ١١١٧٠، ومصباح الزجاجة: ٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٧) (حسن) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن کیسان مستور اور محمد بن حنظلہ غیر معروف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: ٣٧٩ ب تحقیق الشہری )
1051Sunan Ibne-Majah

ایک کپڑا پہن کر نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَلَبِّبًا بِهِ.

کیسان بن جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ ظہر و عصر ایک ہی کپڑے میں پڑھ رہے تھے، اس حال میں کہ آپ اس کو لپیٹے ہوئے تھے۔

Ibn Kaisan narrated that his father said: "I saw the Prophet ﷺ performing the Zuhr and the Asr in a single garment, wrapping it aroung his chest " (Da`if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٧٠، مصباح الزجاجة: ٣٧٥) (حسن) (بوصیری نے اس اسناد کی تحسین کی ہے )
1052Sunan Ibne-Majah

قرآن کریم کے سجدہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ، فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ، فَأَبَيْتُ، فَلِي النَّارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہوجاتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے خرابی! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اب اس کے لیے جنت ہے، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا، میں نے انکار کیا، میرے لیے جہنم ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the son of Adam recites a Sajdah and prostrates, Satan withdraws weeping, saying: Woe is me! The son of Adam was commanded to prostrate and he prostrated, and Paradise will be his; I was commanded to prostrate and I refused, so I am doomed to Hell. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٥ (٨١)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٣) (صحیح )
1053Sunan Ibne-Majah

قرآن کریم کے سجدہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ، قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ، يَا حَسَنُ، أَخْبَرَنِي جَدُّكَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ، فَقَرَأْتُ: السَّجْدَةَ، فَسَجَدْتُ، فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: اللَّهُمَّ احْطُطْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ١ ؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا اللهم احطط عني بها وزرا واکتب لي بها أجرا واجعلها لي عندک ذخرا اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ٢ ؎۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ سجدہ میں وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو اس آدمی نے درخت سے سن کر بیان کی تھی۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I was with the Prophet ﷺ and a man came to him and said: Last night while I was sleeping, I saw that I was praying towards the b!se of a tree. I recited (an Ayah of) prostration and prostrated, and the tree prostrated when I did, and I heard it saying: (O Allah, reduce my burden of sin thereby, reward me for it and store it for me with You). Ibn Abbas said: "I saw the Prophet ﷺ recite (an Ayah of) prostration and then prostrate, and I heard him saying in his prostration something like that which the man had told him the tree said." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں پر شخص سے مراد ابوسعید خدری ؓ ہیں جیسا کہ دوسری روایت میں تصریح ہے۔ ٢ ؎: سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھے، یا سبحان ربي الأعلى کہے، یا وہ دعا جو آگے آرہی ہے، بعض نے کہا کہ یہ دعا پڑھے: سبحان ربنا إن کان وعد ربنا لمفعولا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٥٥ (٥٧٩)، الدعوات ٣٣ (٣٤٢٤)، (تحفة الأشراف: ٥٨٦٧) (حسن )
1054Sunan Ibne-Majah

قرآن کریم کے سجدہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: إِذَا سَجَدَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، أَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي شَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو فرماتے: اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت أنت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارک الله أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا تو میرا رب ہے، اور میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے کان اور آنکھ کو بنایا، اللہ تعالیٰ کتنا بابرکت ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے ۔

It was narrated from Ali that whenever the Prophet ﷺ prostrated he would say: (O Allah, to You I have prostrated, and in You I have believed, and to You I have submitted. You are my Lord; my face has prostrated to the One Who gave it hearing and sight. Blessed is Allah the best of creators.)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٧١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٦٠)، سنن الترمذی/الدعوات ٣٢ (٣٤٢١، ٣٤٢٢)، سنن النسائی/الافتتاح ١٧ (٨٩٨)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٩٥، ١٠٢) (صحیح )
1055Sunan Ibne-Majah

سجود قرآنیہ کی تعداد

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْعُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ: سَجَدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً مِنْهُنَّ النَّجْمُ.

ابوالدرداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، ان میں سے ایک سورة النجم کا سجدہ بھی تھا۔

It was narrated that Umm Darda said: "Abu Darda told me that he did eleven prostrations with the Prophet ﷺ including An-Najm" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٤٧ (٥٦٨، ٥٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٢٨ (١٤٠١)، مسند احمد (٥/١٩٤) (ضعیف) (اس کی سند میں عمر الدمشقی مجہول ہیں )
1056Sunan Ibne-Majah

سجود قرآنیہ کی تعداد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَائِدٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ الْمَهْدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَهَ بْنِ خَاطِرٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً لَيْسَ فِيهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ شَيْءٌ: الْأَعْرَافُ، وَالرَّعْدُ، وَالنَّحْلُ، وَبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَمَرْيَمُ، وَالْحَجُّ، وَسَجْدَةُ الْفُرْقَانِ، وَسُلَيْمَانُ سُورَةِ النَّمْلِ، وَالسَّجْدَةُ، وَفِي ص، وَسَجْدَةُ الْحَوَامِيمِ.

ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا (اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے) : اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، حج، فرقان، نمل، سورة السجدۃ، سورة ص اور سورة حم سجدہ۔

It was narrated that Abu Darda said: "I performed eleven prostrations with the Prophet ﷺ of which there were none in the Mufassal , AI-AraJ, Ar-Rad, An-Nahl, Bani Israil. Maryam, AI-Hajj. the prostration in Al-Furqan, Sural An-Narni (mentioning) Sulaiman, As-Sajdah, Sad, and the Ha-Mim Surah." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٧، ومصباح الزجاجة: ٣٧٧) (ضعیف) (اس کی سند میں عثمان بن فائد ضعیف ہیں )
1057Sunan Ibne-Majah

سجود قرآنیہ کی تعداد

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سَعِيدٍ الْعُتَقِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ: مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ.

عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورة الحج میں ہیں۔

It was narrated from Amr bin As that the Messenger of Allah ﷺ taught him fifteen prostrations in the Quran,including three in the Mulassal and two in AI-Hajj. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٢٨ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٣٥) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث بن سعید العتقی مجہول ہیں )
1058Sunan Ibne-Majah

سجود قرآنیہ کی تعداد

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ: إذا السماء انشقت اور اقرأ باسم ربك میں سجدہ کیا۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said:“We prostrated with the Messenger of Allah ﷺ in “When the heaven is split asunder” and “Read! In the Name of your Lord.”(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٣١ (١٤٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٥ (٥٧٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٢ (٩٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٠ (٧٦٦)، مسند احمد (٢/٢٤٩، ٤٦١، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٢، (١٥٠٩) (صحیح) (اس کی سند میں عطاء بن میناء مجہول ہیں، لیکن دوسری صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
1059Sunan Ibne-Majah

سجود قرآنیہ کی تعداد

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَجَدَ فِي: إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ: هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَذْكُرُهُ غَيْرَهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے: إذا السماء انشقت میں سجدہ کیا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے مروی ہے، میں نے ان کے علاوہ کسی اور کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ prostrated if” When the heaven is split asunder.” (Sahih) Abu Bakr (RA) bin Abu Shaibah said: “This Hadith was narrated from Yahya bin Sa’eed; I did not hear it from anyone but him.”

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥ ٢٨ (٥٧٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٥١ (٩٦٤)، (تحفة الأشراف: (١٤٨٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٧) (صحیح )
1060Sunan Ibne-Majah

نماز کو پو راکرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَجَاءَ، فَسَلَّمَ فَقَالَوَعَلَيْكَ، فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَعَلَيْكَ فَارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ بَعْدُ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: فَعَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ، وَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَسْتَوِيَ قَاعِدًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی ، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو، پھر قبلے کی طرف منہ کرو، اور الله أكبر کہو، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہوجائے، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہوجاؤ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man entered the Masjid and performed prayer, and the prophet ﷺ was in a comer of the Masjid. The man came and greeted him, and he said: "And also upon you. Go back and repeat your prayer, for you have not prayed." So he went back and repeated his prayer, then he came and greeted the Prophet ﷺ . He said: "And also upon you. Go back and repeat your prayer, for you have not prayed." On the third occasion, the man said: "Teach me, O Messenger of Allah ﷺ ! He said: "When you stand up to offer the prayer, perform ablution properly, then stand to face the prayer direction and say Allahu Akbar. Then recite whatever you can of Quran, and then bow until you feel at ease bowing. Then stand up until you feel at ease standing, then prostrate until you feel at ease prostrating. Then raise your head until you are sitting up straight. Do that throughout your prayer." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث مسيء الصلاة کے نام سے اہل علم کے یہاں مشہور ہے، اس لئے کہ صحابی رسول خرباق ؓ نے یہ نماز اس طرح پڑھی تھی جس میں ارکان نماز یعنی قیام، رکوع اور سجود وغیرہ کو اچھی طرح نہیں ادا کیا تھا جس پر رسول اکرم ﷺ نے تنبیہ فرمائی، اور نماز کی یہ تفصیل بیان کی، یعنی ساری نماز کو اسی طرح اطمینان اور تعدیل ارکان کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کی، ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اس شخص نے ہلکی نماز پڑھی تھی، اور رکوع اور سجدے کو پورا نہیں کیا تھا، اس حدیث سے صاف معلوم ہوا ہے کہ نماز میں تعدیل ارکان یعنی اطمینان کے ساتھ رکوع، سجود اور قومہ و جلسہ ادا کرنا فرض ہے، جب ہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ ائمہ حدیث نیز امام شافعی، امام احمد، اور امام ابو یوسف وغیرہم نے یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث کے پیش نظر تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہا ہے، اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد نے تعدیل ارکان کو فرض نہیں کہا، بلکہ کرخی کی روایت میں واجب کہا ہے، اور جرجانی کی روایت میں سنت کہا ہے، وجوب اور فرضیت کے قائلین کا استدلال یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس حدیث میں جتنی باتیں بتائی ہیں وہ سب کی سب یا شروط نماز میں سے ہیں جیسے وضو، استقبال قبلہ، یا فرائض و واجبات میں سے، جیسے تکبیر تحریمہ، قرأت فاتحہ، وغیرہ وغیرہ، اور اگر یہ اعمال فرض نہ ہوتے تو رسول اکرم ﷺ اس صحابی کو بار بار نماز ادا کرنے کے لئے کیوں حکم دیتے؟ اور یہ فرماتے کہ ابھی تمہاری نماز نہیں ہوئی، یہ اور اس طرح کی احادیث کی روشنی میں تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہنے والے ائمہ کا مسلک صحیح اور راجح ہے، اس کے مقابل میں صرف ان چیزوں کو سنت کہنے والے ائمہ کے اتباع اور مقلدین کے طریقہ نماز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کافی ہے کہ خشوع و خضوع اور تعدیل ارکان کی کتنی اہمیت ہے، اور اس کے مقابل میں سب سے اہم عبادت کو اس طرح ادا کرنا کہ کسی طور پر بھی اطمئنان نہ ہو بس جلدی جلدی ٹکریں مار لی جائیں، یہ بعینہ وہی نماز ہوجائے گی جس کو رسول اکرم ﷺ نے صحابی سے فرمایا کہ تم نے نماز ہی نہیں ادا کی اس لئے دوبارہ نماز ادا کرو، والله الهادي إلى الصواب .
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ٨١ (٦٢٥١)، الأیمان والنذور ١٥ (٦٦٦٧)، صحیح مسلم/الصلاة ١١ (٣٩٧) سنن ابی داود/الصلاة ٨ ١٤ (٨٥٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٢٦٩٢)، (تحفة الأشراف: ١٢٩٨٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الافتتاح ٧ (٨٨٥)، التطبیق ١٥ (١٠٥٤)، السہو ٦٦ (١٣١٤)، مسند احمد (٢/٧ ٤٣) (صحیح )
1061Sunan Ibne-Majah

نماز کو پو راکرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَقِرَّ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَمِدًا، لَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ وَيُجَافِي بَيْنَ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلَاتِهِ هَكَذَا، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي يَنْقَضِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کی موجودگی میں ١ ؎، جن میں ایک ابوقتادہ ؓ تھے، ابو حمید ساعدی ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: کیسے؟ جب کہ اللہ کی قسم آپ نے ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی ہے اور نہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے؟، ابوحمید ؓ نے کہا: ہاں ... ضرور لیکن میں آپ لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: پھر نبی اکرم ﷺ کا طریقہ نماز بیان کریں، انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله أكبر کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، اور آپ کا ہر عضو اپنی جگہ پر برقرار رہتا، پھر قراءت کرتے، پھر الله أكبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک کر رکھتے، نہ تو اپنا سر پیٹھ سے نیچا رکھتے نہ اونچا بلکہ پیٹھ اور سر دونوں برابر رکھتے، پھر سمع الله لمن حمده کہتے، اور دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی، پھر زمین کی طرف (سجدہ کے لیے) جھکتے اور اپنے دونوں ہاتھ پہلو سے جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے، اور سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی رکھتے، پھر سجدہ کرتے، پھر الله أكبر کہتے، اور اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، پھر جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے، تو اپنے دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ٣ ؎، پھر اپنی باقی نماز اسی طرح ادا فرماتے، یہاں تک کہ جب اس آخری سجدہ سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہے تو بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے، اور بائیں پہلو پہ سرین کے بل بیٹھتے ٢ ؎، لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے ٣ ؎۔

Muhammad bin Amr bin " Ata said: While he was among ten of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ including Abu Qatadah (RA) : "I heard Abu Humaid As-Saidi say: I am the most knowledgeable of you concerning the prayer of the Messenger of Allah ﷺ : They said: Why? By Allah, you did not follow him more than we did, and you did not accompany him for longer: He said: Yes I am: They said: Show us: He said: When the Messenger of Allah ﷺ stood up for prayer, he would say the Takbir, then he would raise his hands parallel to his shoulders, and every part of his body would settle in place. Then he would recite, then he would raise his hands parallel to his shoulders and bow, placing his palms on his knees and supporting his weight on them. He neither lowered his head, nor raised it up, it was evenly balanced (between either extreme). Then he would say: "Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him); and he would raise his hands parallel with his shoulders, until every bone returned to its place. Then he would prostrate himself on the ground, keeping his arms away from his sides. Then he would raise his head and tuck his left foot under him and sit on it, and he would spread his toes when he prostrated. Then he would prostrate, then say the Takbir and sit on his left foot, until every bone returned to its place. Then he would stand up and do the same in the next Rak ah. Then when he stood up after two Rakah, he would raise his hands level with his shoulders as he did at the beginning of the prayer. Then he would offer the rest of his prayer in like manner until, when he did the prostration after which the Taslim comes, he would push one of his feet back and sit with his weight on his left side, Mutawarrikan : They said: You have spoken the truth; this is how the Messenger of Allah ﷺ used to perform the prayer: (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گویا یہ حدیث دس صحابہ کرام ؓ نے روایت کی کیونکہ ان سب نے ابوحمید ؓ کے کلام کی تصدیق کی۔ ٢ ؎: اس بیٹھک کو تورّک کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ آخری تشہد میں تورک مسنون ہے، رہی افتراش والی روایت تو وہ مطلق ہے اس میں یہ نہیں کہ یہ دونوں تشہد کے لئے ہے یا پہلے تشہد کے لئے ہے، ابوحمید ساعدی ؓ کی اس روایت نے اس اطلاق کی کردی ہے اور یہ کہ افتراش پہلے تشہد میں ہے اور تورّک آخری تشہد میں ہے۔ تورّک کے مسئلہ میں اختلاف ہے، یعنی تشہد میں سرین (چوتڑ) کے بل بیٹھے یا نہ بیٹھے، بعض نے کہا کہ دونوں قعدوں (تشہد) میں تورّک کرے، امام مالک کا یہی مذہب ہے، اور بعض نے کہا کسی قعدہ (تشہد) میں تورک نہ کرے، بلکہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے، یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام ہو تو اس میں تورّک کرے، خواہ وہ پہلا تشہد ہو، جیسے نماز فجر میں، یا دوسرا تشہد ہو، جیسے چار یا تین رکعتوں والی نماز، اور جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام نہ ہو اس میں بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھے، اور یہ امام شافعی کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس نماز میں دو قعدے ہوں تو دوسرے قعدہ میں تورک کرے، اور جس نماز میں ایک ہی قعدہ ہو تو اس میں بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھے، امام احمد اور اہل حدیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور حدیث سے یہی ثابت ہے۔ ٣ ؎: اس روایت سے ان لوگوں کے قول کی بھی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رفع یدین شروع اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا کیونکہ حدیث کا سیاق یہ بتارہا ہے کہ ابوحمید ساعدی ؓ نے دس صحابہ کرام ؓ کی موجودگی میں ان سے جو گفتگو کی وہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں چار جگہوں پر رفع یدین کیا جائے گا، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، اور قعدہ اولیٰ (پہلے تشہد) کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٥ (٨٢٨)، لارسنن ابی داود/الصلاة ١٨١ (٩٦٣، ٩٦٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٤، ٣٠٥)، سنن النسائی/التطبیق ٦ (١٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٠ (١٣٤٦) (صحیح )
1062Sunan Ibne-Majah

نماز کو پو راکرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَت: سَأَلْتُعَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُقِيمُ صُلْبَهُ، وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا، ثُمَّ يَسْجُدُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى، وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ.

عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر بسم الله کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور الله أكبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ ﷺ جہاں تک ہوسکتا اپنے بازوؤں کو (اپنی بغلوں سے) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، (اور قعدہ اولیٰ میں) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔

It was narrated that Amrah said: "I asked Alshah: How did the Messenger of Allah ﷺ perform prayer? She said: When the Prophet ﷺ . performed ablution, he would put his hand in the vessel and say Bismillah, and he would perform ablution properly, Then he would stand and face the Qiblah, He would say the Takbir raising his hands parallel to his shoulders, Then he would bow, putting his hands on his knees and keeping his arms away from his sides, Then he would raise his head and straighten his back, and he would stand a little longer than your standing, Then he would prostrate, pointing his hands towards the Qiblah, keeping his arms away (from his sides) as much as possible, according to what I have seen, Then he would raise his head and sit on his left foot with his right foot held upright, and he disliked leaning towards his left side. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٨) (ضعیف جدا) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٨٧٤ )