حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا: شبث! اپنے آگے نہ تھوکو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے، اور کہتے تھے: آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے، یا اسے برا حدث ہوجائے ١ ؎۔
It was narrated from Hudhaifah that he saw Shabath bin RibI …. spitting in front of him. He said: "O Shabath! Do not spit in front of you, for the Messenger of Allah ﷺ used to forbid that, and he said: When a man stands up to perform prayer, Allah turns His Face towards him until he turns away or he commits an evil Hadath (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: برے حدث سے مراد کوئی نیا امر اور نئی بات، جو خشوع کے خلاف ہو جیسے سامنے تھوکنا، یا اس سے مراد ہوا خارج ہونا ہے جس سے انسان کی پاکی ختم ہوجاتی ہے۔
معیقیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا: اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کرلو ۔
It was narrated that Mu aiqib said: "The Messenger of Allah ﷺ said, concerning smoothing the pebbles during prayer: If you must do that, then do it only once. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٨ (١٢٠٧)، صحیح مسلم/المساجد ١٢ (٥٤٦)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٨٠)، سنن النسائی/السہو ٨ (١١٩٣)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٦، ٥/٤٢٥، ٤٢٦، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٧) (صحیح )
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے، اس لیے کہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے ۔
It was narrated that Abu Dharr (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you gets up to perform prayer, then indeed mercy is facing him, so he should not smooth the pebbles.(Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٧٥ (٩٤٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٣ (٣٧٩)، سنن النسائی/السہو ٧ (١١٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٥٠، ١٦٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٠ (١٤٢٨) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو الاحوص اللیثی ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣٧٧ )
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے بصرہ میں اپنے بچھونے پر نماز پڑھی، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے بچھونے پر نماز پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Amr bin Dinar said: "When Ibn Abbas was in Basrah, he performed prayer on his rug, then he told his companions that the Messenger of Allah ﷺ used to perform prayer on his rug." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں تصریح نہیں ہے کہ بچھونا کس چیز کا تھا غالباً روئی کا ہوگا تو کپڑے پر نماز پڑھنا جائز ہوگا، دوسری حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ گرمی کی شدت سے زمین پر اپنا کپڑا بچھاتے پھر اس پر سجدہ کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٣١٠، ومصباح الزجاجة: ٣٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢) (صحیح) (اس کی سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٦٦٥ )
عبداللہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور بنو عبدالاشہل کی مسجد میں ہمیں نماز پڑھائی، تو میں نے دیکھا کہ آپ سجدے کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اپنے کپڑے پر رکھے ہوئے ہیں۔
It was narrated that Abdullah bin Abdur-Rahman said: "The Prophet ﷺ came to us and led us in prayer in the Masjid of Banu Abdul-Ashhal, and I saw him putting his hands on his garment when he prostrated." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٧٨، ومصباح الزجاجة: ٣٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں اسماعیل بن ابی حبیبہ ضعیف ہیں، نیز سند معضل ہے، عبد اللہ بن عبد الرحمن کے بعد عن أبیہ عن جدہ کا ذکر یہاں نہیں ہے، جو آگے آ رہا ہے، نیز خود عبد اللہ بن عبد الرحمن مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الارواء: ٣١٢ )
ثابت بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسجد) بنو عبدالاشہل میں نماز پڑھی، آپ اپنے جسم پہ ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھے، کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لیے اپنا ہاتھ اس پر رکھتے تھے۔
It was narrated from ‘Abdullâh bin ‘Abdur-Rahmân bin Thâbit bin Sâmit, from his father, from his grandfathers that the Messenger of Allah ﷺ performed prayer among Banu ‘Abdul-Ashhal, wearing a cloak in which he was wrapped and putting his hands on it to protect them from the cold of the pebbles. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٦١، ومصباح الزجاجة: ٣٧٠) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل الأشہل ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں عبد الرحمن بن ثابت کے بارے میں فرمایا کہ ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ٥ /٢٦٦ و الضعفاء الصغیرلہ: ٦٩ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پہ نہ رکھ سکتا تو اپنا کپڑا بچھا لیتا، اور اس پر سجدہ کرتا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "We used to perform prayer with the Prophet ﷺ when it was very hot. When one of us could not place his forehead firmly on the ground, he would spread his garment and prostrate on it." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٢٣ (٣٨٥)، المواقیت ١١ (٥٤٢)، العمل في الصلاة ٩ (١٢٠٨)، صحیح مسلم/المساجد ٣٣ (٦٢٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٣ (٦٦٠)، سنن الترمذی/الجمعة ٥٨ (٥٨٤)، سنن النسائی/التطبیق ٥٩ (١١١٧)، (تحفة الأشراف: ٢٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/ ١٠٠، ٤٠٠)، سنن الدارمی/الصلاة ٨٢ (١٣٧٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے) سبحان الله کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Tasbih (saying Subhan-Allah) is for men and clapping is for women." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام نماز میں بھول جائے، تو مرد سبحان الله کہہ کر اسے اس کی اطلاع دیں، اور عورت زبان سے کچھ کہنے کے بجائے دستک دے، اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ کی دونوں انگلیوں سے اپنی بائیں ہتھیلی پر مارے، کچھ لوگ سبحان اللہ کہنے کے بجائے الله أكبر کہہ کر امام کو متنبہ کرتے ہیں، یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے) مردوں کے لیے سبحان الله کہنا ہے، اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے ۔
It was narrated from Sahl bin Sad As-Saidi that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Yasbih is for men and clapping is for women." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٩٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٥ (١٢٠٤)، صحیح مسلم/الصلاة ٢٣ (٤٢١)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٣ (٩٤١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٥٦ (٣٦٩)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ٢٠ (٦١) سنن الدارمی/الصلاة ٩٥ (١٤٠٤) (صحیح )
نافع کہتے تھے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے (نماز میں جب امام بھول جائے، تو اس کو یاد دلانے کے لیے) عورتوں کو تالی بجانے، اور مردوں کو سبحان الله کہنے کی رخصت دی ہے۔
It was narrated that Nafi used to say: "Ibn Umar said: The Messenger of Allah ﷺ granted a concession for the women to clap, and for the men to say the Tasbih." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٥٠٨ و ٨٢٢٥، ومصباح الزجاجة: ٣٧١) (صحیح) (سند میں سوید بن سعید میں ضعف ہے، لیکن سابقہ شواہد سے یہ صحیح ہے، نیز بوصیری نے اس سند کی تحسین کی ہے، اور شواہد ذکر کئے ہیں )
ابن ابی اوس کہتے ہیں کہ میرے دادا اوس ؓ کبھی نماز پڑھتے ہوئے مجھے اشارہ کرتے تو میں انہیں ان کے جوتے دے دیتا (وہ پہن لیتے اور نماز پڑھتے) اور (پھر نماز کے بعد) کہتے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے جوتے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abu Aws said: "My grandfather, Aws, used to perform prayer, and sometimes he would make a gesture while praying, and I would give him his sandals. He said: I saw the Messenger of Allah ﷺ performing prayer in his sandals. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں، بلکہ علماء نے خاص اس مسئلہ میں مستقل رسالے لکھے ہیں، حاصل یہ ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھنا مستحب اور مسنون ہے، اور جو کہتا ہے کہ جوتے اتار کر پڑھنا ادب ہے اس کا قول غلط ہے اس لئے کہ نبی اکرم ﷺ کا کوئی فعل خلاف ادب نہیں ہوسکتا، دوسری حدیث میں ہے کہ جوتے پہن کر نماز پڑھو اور یہود کی مخالفت کرو، وہ جوتے پہن کر نماز نہیں پڑھتے، البتہ یہ ضروری ہے کہ جوتے پاک و صاف ہوں، مگر ہماری شریعت میں جوتوں کی پاکی یہ رکھی گئی ہے کہ ان کو زمین سے رگڑ دے، اور جوتوں کا دھونا کسی حدیث سے ثابت نہیں، اور نہ سلف صالحین ہی سے منقول ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ تمدن اور شہریت کے اس زمانہ میں جب کہ مساجد میں فرش اور قالین بچھانے کا رواج ہے تو ان میں جوتا پہن کر جانا نامناسب ہے خاص کر برصغیر کے شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں کہ یہاں کی مٹی اور کیچڑ نیز راستہ کی گندگی اور کوڑا کرکٹ انسان کے جوتے اور کپڑوں میں لگ کر اس کو گندا کردیتے ہیں، رہ گئی بات عرب دنیا کی تو وہاں پر عام زمین ریتیلی اور پہاڑی ہے اور بالعموم جوتے یا بدن میں لگنے کے بعد بھی خود سے یا رگڑنے سے صاف ہوجاتی ہے، بہرحال صفائی اور ستھرائی کا خیال کرنا بہت اہم مسئلہ ہے، اور صاف جوتے پہن کر مناسب مقام میں نماز پڑھنے کا جواز ایک الگ مسئلہ ہے، چناچہ عرب ملکوں میں آج بھی لوگ جوتے پہن کر نماز ادا کرتے ہیں، لیکن مساجد میں جوتے پہن کر نماز نہیں ادا کرتے بلکہ اس کے لئے اندر اور باہر جگہیں ہر مسجد میں موجود ہوتی ہیں، جہاں انہیں رکھ کر آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢، ومصباح الزجاجة: ٣٧٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ کبھی جوتے نکال کر اور کبھی جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing prayer both barefoot, and while wearing sandals." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٨٩ (٦٥٣)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤، ١٧٩، ٢٠٦، ٢١٥) (حسن صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو جوتے، اور موزے پہن کر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Abdullah said: "We saw the Messenger of Allah ﷺ performing prayer wearing sandals and leather slippers." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٧٣، ومصباح الزجاجة: ٣٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٦١) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس و مختلط ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، اور زہیر بن معاویہ خدیج کی ان سے روایت اختلاط کے بعد کی ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: The Prophet ﷺ said: "I was commanded not to tuck up my hair or my garment." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سمیٹنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بالوں اور کپڑوں کو مٹی نہ لگے، تو اس سے نمازی کو منع کیا گیا، اس لئے بالوں اور کپڑوں کو اپنے حال پر رہنے دے، چاہے مٹی لگے یا نہ لگے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے آگے رکوع و سجود میں اگر مٹی لگ جائے تو یہ تواضع، انکساری اور عاجزی کی نشانی ہے، جو یقینا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "We were ordered to not (tuck up our) hair (nor garment) and not to repeat ablution for what we stepped on." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر وضو کر کے زمین پر چلیں، اور پاؤں یا کپڑوں میں کوئی نجاست اور گندگی لگ جائے، تو وضو کا دہرانا ضروری نہیں صرف انہیں دھو ڈالنا کافی ہے۔
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی ؓ کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابورافع ؓ نے اسے کھول دیا، یا اس (جوڑا باندھنے) سے منع کیا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ١ ؎۔
Mukhawwal said: "I heard Abu Sad, a man from the people of Madinah, say: I saw Abu Rafi, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ when he saw Hasan bin Ali performing prayer, with his hair braided. He undid it, or told him not to do that, and said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade a man from performing prayer with his hair braided."(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ سجدے میں اگر بال کھلے ہوں گے تو وہ بھی سجدہ کریں گے، اور جب جوڑا باندھ لیا جائے تو بال زمین پر نہ گریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو وہ ان کا جوڑا باندھ سکتا ہے، لیکن نماز کے وقت کھول دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٨٨ (٦٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٥ (٣٨٤)، مسند احمد (٦/٨، ٣٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢٠) (صحیح )