اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 11 of 32

1003Sunan Ibne-Majah

صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ قَالَ: خَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا خَلْفَهُ، ثُمَّ صَلَّيْنَا وَرَاءَهُ صَلَاةً أُخْرَى، فَقَضَى الصَّلَاةَ، فَرَأَى رَجُلًا فَرْدًا يُصَلِّي خَلْفَ الصَّفِّ، قَالَ: فَوَقَفَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، قَالَ: اسْتَقْبِلْ صَلَاتَكَ، لَا صَلَاةَ لِلَّذِي خَلْفَ الصَّفِّ.

علی بن شیبان ؓ اور (وہ وفد میں سے تھے) کہتے ہیں کہ ہم سفر کر کے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، ہم نے آپ ﷺ سے بیعت کی اور آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر ہم نے آپ کے پیچھے دوسری نماز پڑھی، آپ ﷺ نے نماز پوری کرنے کے بعد ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا ہے، آپ اس کے پاس ٹھہرے رہے، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: دوبارہ نماز پڑھو، جو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی ١ ؎۔

Abdur-Rahman bin Ali bin Shaiban narrated that his father Ali bin Shaiban, who was part of the delegation, said: "We set out until we came to the Prophet ﷺ . We gave him our oath of allegiance and performed prayer behind him. Then we offered another prayer behind him. He finished the prayer and saw a man on his own, praying behind the row." He said: "The Prophet ﷺ of Allah ﷺ stood beside him and when he finished he said: Repeat your prayer; there is no prayer for the One who is behind the row:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جب ہے کہ صف میں جگہ ہو، اور بلا عذر اکیلے رہ کر صف کے پیچھے نماز پڑھے، تو اس کی نماز جائز نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٢٠، ومصباح الزجاجة: ٣٦١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٣، ٢٢) (صحیح )
1004Sunan Ibne-Majah

صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، فَأَوْقَفَنِي عَلَى شَيْخٍ بِالرَّقَّةِ يُقَالُ لَهُ: وَابِصَةُ بْنُ مَعْبَدٍ، فَقَالَ: صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ.

ہلال بن یساف ؓ کہتے ہیں کہ زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا اور رقہ کے ایک شیخ کے پاس مجھے لا کر کھڑا کیا، جن کو وابصہ بن معبد ؓ کہا جاتا تھا، انہوں نے کہا: ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا۔

It was narrated that Halal bin Yasaf said: "Ziyiid bin Abu-Jad took me by the hand and made me stand near an old man at Raqqah. whose name was Wasibah bin Mabad. He said: A man performed prayer behind the rowan his own, and the Prophet ﷺ commanded him to repeat the prayer." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٠٠ (٦٨٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٦ (٢٣٠، ٢٣١)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢٧، ٢٢٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٦١ (١٣٢٢) (صحیح )
1005Sunan Ibne-Majah

صف کی دائیں جانب کی فضیلت

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah and His angels send blessings upon the right side of the rows." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ کی صلاۃ رحمت اور فرشتوں کی صلاۃ دعا ہے، یہ جب ہے کہ دائیں اور بائیں طرف برابر ہوں، اور دونوں طرف نمازی ہوں اگر بائیں جانب خالی ہو اور ادھر نمازی نہ ہوں، تو بائیں جانب میں بھی وہی فضیلت ہوگی، جو دائیں جانب میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٩٦ (٦٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٦٦) (ضعیف) (اسامہ بن زید العدوی ضعیف الحفظ ہیں، اور معاویہ بن ہشام کے حفظ میں ضعف ہے، اور ثقات نے اس کے خلاف روایت کی ہے: إن الله وملائكته يصلون على ميامن الصفوف، اور یہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ١٠٤ )
1006Sunan Ibne-Majah

صف کی دائیں جانب کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ابْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مِسْعَرٌ: مِمَّا نُحِبُّ أَوْ مِمَّا أُحِبُّ أَنْ نَقُومَ عَنْ يَمِينِهِ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم پسند کرتے یا میں پسند کرتا کہ آپ کے دائیں جانب کھڑے ہوں۔

It was narrated that Bara said: "When we performed prayer behind the Messenger of Allah ﷺ (One of the narrators) Misarsaid: One of the things we liked, or one of the things I liked was to stand to his right.(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٨ (٧٠٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٢ (٦١٥)، سنن النسائی/الإمامة ٣٤ (٨٢٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩) (صحیح )
1007Sunan Ibne-Majah

صف کی دائیں جانب کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْلَيْثِ بْنِ أَبِي سَلِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ تَعَطَّلَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَمَّرَ مَيْسَرَةَ الْمَسْجِدِ كُتِبَ لَهُ كِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا گیا: مسجد کا بایاں جانب خالی ہوگیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مسجد کا بائیں جانب آباد کیا، اسے دہرا اجر ملے گا ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "It was said to the Prophet ﷺ The left side of the Masjid has been abandoned. The Prophet ﷺ said: "Whoever frequents the left side of the Masjid, two Kifl of reward will be recorded for him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٠، ومصباح الزجاجة: ٣٦٢) (ضعیف) (اس کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں )
1008Sunan Ibne-Majah

قبلہ کا بیان

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَوَافِ الْبَيْتِ أَتَى مَقَامَ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَقَامُ أَبِينَا إِبْرَاهِيمَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: أَهَكَذَا قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا سورة البقرة آية 125؟ قَالَ: نَعَمْ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ (خانہ کعبہ) کے طواف سے فارغ ہوگئے تو مقام ابراہیم پر آئے، عمر ؓ کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ ہمارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا مقام ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى، یعنی: (مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ) ۔ ولید کہتے ہیں کہ میں نے مالک سے کہا: کیا یہ انہوں نے اسی طرح (امر کے صیغہ کے ساتھ) واتخذوا (خاء کے زیر کسرے کے ساتھ) پڑھا؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں۔

It was narrated that Jabir said When the Messenger of Allah ﷺ finished Tawaf around the House (the Ka’bahh), he came to Maqam of Ibrahim (the Station of Ibrahim). Umar said: O Messenger of Allah, this is the Station of our father Ibrahim about which Allah said: "And take you (people) the Maqam of Ibrahim as a place of prayer. " (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحروف ١ (٣٩٦٩)، سنن الترمذی/الحج ٣٣ (٨٥٦)، ٣٨ (٨٦٢)، سنن النسائی/المناسک ١٦٣ (٢٩٦٤)، ١٦٤ (٢٩٦٦)، ١٧٢ (٢٩٧٧)، (تحفة الأشراف: ٢٥٩٥) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٢٩٦٠) (ضعیف) (عمر ؓ سے آیت کا پڑھنا منکر ہے، جب کہ دوسری کتب حدیث کی اسی روایت میں یہ قراءت رسول اکرم ﷺ سے ہے، اس لئے یہ صحیح ہے، اور ابن ماجہ کی روایت منکر ہے، یہ حدیث مکرر ہے، کما تقدم، پہلی جگہ شیخ البانی صاحب نے حدیث کو منکر کہا، اور اگلی حدیث ( ١٠٠٩ ) کو معروف بتایا، اور ( ٢٩٦٠ ) میں نفس سند و متن کو صحیح کہا، اور مسلم کا ذکر کرتے ہوئے حجة النبی ﷺ کا حوالہ دیا، ملاحظہ ہو: ضعیف ابن ماجہ: ١٩٢ ، و صحیح ابن ماجہ: ٢٤١٣ ، میرے خیال میں نکارت کی وجہ عمر ؓ کا آیت کا پڑھنا ہے، جب کہ سنن ابی داود و ترمذی اور نسائی (کبری) میں اس حدیث میں آیت کی تلاوت رسول اکرم ﷺ نے ہی فرمائی ہے، اور حج کی جابر ؓ کی احادیث میں آیت کریمہ رسول اکرم ﷺ نے تلاوت فرمائی )
1009Sunan Ibne-Majah

قبلہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى، فَنَزَلَتْ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالیں (تو بہتر ہو) ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ (سورة البقرة: 125) ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) told that Umar said: "I said: O Messenger of Allah ﷺ , why do you not take the Maqam of Ibrahim as a place of prayer? Then the following was revealed: ,And take you (people) the Maqam of Ibrahim as a place of prayer. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٢ (٤٠٢)، تفسیر سورة البقرة ٥ (٤٩١٦)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة ٧ (٢٩٥٩، ٢٩٦٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣، ٢٤، ٣٦) (صحیح )
1010Sunan Ibne-Majah

قبلہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَصُرِفَتِ الْقِبْلَةُ إِلَى الْكَعْبَةِ بَعْدَ دُخُولِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِشَهْرَيْنِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ أَكْثَرَ تَقَلُّبَ وَجْهِهِ فِي السَّمَاءِ، وَعَلِمَ اللَّهُ مِنْ قَلْبِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَهْوَى الْكَعْبَةَ، فَصَعِدَ جِبْرِيلُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ وَهُوَ يَصْعَدُ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، يَنْظُرُ مَا يَأْتِيهِ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ سورة البقرة آية 144، فَأَتَانَا آتٍ فَقَالَ: إِنَّ الْقِبْلَةَ قَدْ صُرِفَتْ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَقَدْ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسٍ وَنَحْنُ رُكُوعٌ، فَتَحَوَّلْنَا، فَبَنَيْنَا عَلَى مَا مَضَى مِنْ صَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا جِبْرِيلُ، كَيْفَ حَالُنَا فِي صَلَاتِنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ مہینے تک بیت المقدس کی جانب منہ کر کے نماز ادا کی، اور آپ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے دو مہینہ بعد قبلہ خانہ کعبہ کی جانب تبدیل کردیا گیا، رسول اللہ ﷺ جب بیت المقدس کی جانب نماز پڑھتے تو اکثر اپنا چہرہ آسمان کی جانب اٹھاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دل کا حال جان لیا کہ آپ خانہ کعبہ کی جانب رخ کرنا پسند فرماتے ہیں، ایک بار جبرائیل (علیہ السلام) اوپر چڑھے، آپ ان کی طرف نگاہ لگائے رہے، وہ آسمان و زمین کے درمیان اوپر چڑھ رہے تھے، آپ انتظار میں تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) کیا حکم لاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: قد نرى تقلب وجهك في السماء (سورۃ البقرہ: ١٤٤ ) ، ہمارے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: قبلہ کعبہ کی طرف بدل دیا گیا، ہم دو رکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھ چکے تھے، اور رکوع میں تھے، ہم اسی حالت میں خانہ کعبہ کی جانب پھرگئے، ہم نے اپنی پچھلی نماز پر بنا کیا اور دو رکعتیں اور پڑھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل ہماری ان نماز کا کیا حال ہوگا جو ہم نے بیت المقدس کی جانب پڑھی ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: وما کان الله ليضيع إيمانکم اللہ تعالیٰ تمہاری نماز کو ضائع کرنے والا نہیں (سورة البقرة: 143) ١ ؎۔

It was narrated that Bara said: "We prayed with the Messenger of Allah ﷺ facing towards Baitul-Maqdis (Jerusalem) for eighteen months, then the Qiblah was changed to the Ka’bahh two months after the Prophet ﷺ entered Al-Madinah. When the Messenger of Allah ﷺ P..B.U.H prayed towards Baitul-Maqdis, he would often lift his face towards the heavens, and Allah knew what was in the heart of His Prophet ﷺ and how he longed to face the Ka’bahh (during prayer) . [ihril appeared (in the sky), and the Messenger of Allah ﷺ started watching him as he was descending between the heavens and the earth, waiting to See what he would bring. Then Allah revealed the words: Verily, We have seen the turning of your face towards the heaven. Surely, We shall tum you to a Qiblah that shall please you, so turn your face in the direction of Al-Masjid Al-Ha r a m (at Makkah). And wherever you people are, turn your faces (during prayer) in that direction. Then someone came to us and said: The Qiblah has been changed to the Ka’bahh. We had performed two Rakah facing towards Jerusalem. And we were bowing. So we turned around, and we continued our prayer The Messenger of Allah ﷺ said: O Jibril! What about our prayer facing towards Baitul-Maqdis? Then Allah revealed the words: "And Allah would never make Your faith to be lost. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ قبلہ کو کعبہ کی طرف ہونا پسند کرتے تھے، اس خیال سے کہ عربوں کی عبادت گاہ اور مرکز وہی تھا، اور اس میں اس بات کی امید اور توقع تھی کہ عرب جلد اسلام کو قبول کرلیں گے، اور یہودی رسول اکرم ﷺ کے سخت دشمن تھے، ان کا قبلہ بیت المقدس تھا، اس وجہ سے بھی آپ کو ان کی موافقت پسند نہیں تھی، اور یہ آپ کا کمال ادب تھا کہ اللہ تعالیٰ سے قبلے کے بدلنے کا سوال نہیں کیا، بلکہ دل ہی میں یہ آرزو لئے رہے، اس خیال سے کہ اللہ رب العزت دلوں کی بات بھی خوب جانتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩١٠، ومصباح الزجاجة: ٣٦٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التفسیر ١٢ (٤٤٩٢)، صحیح مسلم/المساجد ٢ (٥٢٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٨ (٣٤٠)، سنن النسائی/الصلاة ٢٢ (٤٨٩)، القبلة ١ (٧٤٣) (منکر) (سند میں ابوبکر بن عیاش سئ الحفظ ہیں، اس لئے تحویل قبلہ کے بارے میں ١٨ مہینہ کا ذکر اور یہ کہ مدینہ جانے کے دو ماہ بعد تحویل قبلہ ہوا، یہ چیز شاذ اور ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: فتح الباری ١ /٩٧، البانی صاحب نے بھی انہیں زیادات کی وجہ سے حدیث پر منکر کا حکم لگایا ہے، ورنہ اصل حدیث صحیحین میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بیت المقدس کے طرف ( ١٦ ) یا ( ١٧ ) مہینے تک صلاة پڑھی ... الخ، اسی واسطے بوصیری نے حدیث کے ابتدائی دو فقرے نقل کرنے کے بعد لکھا کہ اس کی سند صحیح ہے، اور رجال ثقات ہیں، اور بخاری و مسلم وغیرہ نے اس طریق سے مذکور نص کے علاوہ بقیہ حدیث روایت کی ہے )
1011Sunan Ibne-Majah

قبلہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مشرق (پورب) اور مغرب (پچھم) کے درمیان جو ہے وہ سب قبلہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: What is between the east and the west is the Qiblah (prayer direction)."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مدینہ والوں کے لئے ہے کیونکہ ان کا قبلہ جنوب کی طرف ہے، اور مشرق اور مغرب کے وہ درمیان ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٤٠ (٣٤٢)، (تحفة الأشراف: ١٥١٢٤) (صحیح )
1012Sunan Ibne-Majah

جو مسجد میں داخل ہو، نہ بیٹھے حتیٰ کہ دو رکعت پڑھ لے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو دو رکعت پڑھے بغیر نہ بیٹھے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you enters the Masjid, let him not sit down until he performs two Rokoh;" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تحیۃ المسجد کی دو رکعت پڑھ لے، اور اگر دوسری کوئی سنت یا فرض جاتے ہی شروع کر دے تو تحیۃ المسجد ادا ہوجائے گی، اب اس کو علیحدہ پڑھنے کی ضرورت نہ ہوگی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب مسجد میں جائے تو دو رکعت پڑھے، اور یہ ہر حالت کو عام اور شامل ہے، چناچہ اگر امام خطبہ دے رہا ہو اور اس وقت کوئی مسجد میں پہنچے تب بھی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے، سلیک غطفانی ؓ کی حدیث میں اس کی تصریح ہے، اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٥، ومصباح الزجاجة: ٣٦٤) (صحیح) (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مطلب بن عبداللہ، اور ابوہریرہ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: والإرواء: ٤٦٧، و صحیح ابی داود: ٤٨٦ )
1013Sunan Ibne-Majah

جو مسجد میں داخل ہو، نہ بیٹھے حتیٰ کہ دو رکعت پڑھ لے

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ.

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت پڑھ لے ۔

It Was narrated from Abu Qatadah that the Prophet ﷺ said When one of you enters the masjid, let him perform two Rakah before he sits down . (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٠ (٤٤٤)، التہجد ٢٥ (١١٦٣)، صحیح مسلم/المسافرین ١١ (٧١٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١٩ (٤٦٧، ٤٦٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١١٩ (٣١٦)، سنن النسائی/المساجد ٣٧ (٧٣١)، (تحفة الأشراف: ١٢١٢٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١٨ (٥٧)، حم ٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٣، سنن الدارمی/الصلاة ١١٤ (١٤٣٣) (صحیح )
1014Sunan Ibne-Majah

جو لہسن کھائے تو وہ مسجد کے قریب بھی نہ آئے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا، أَوْ خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ: هَذَا الثُّومُ، وَهَذَا الْبَصَلُ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ كَانَ آكِلَهَا لَا بُدَّ فَلْيُمِتْهَا طَبْخًا.

معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ جمعہ کے دن خطیب کی حیثیت سے کھڑے ہوئے یا خطبہ دیا، تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: لوگو! تم دو درختوں کے پھل کھاتے ہو، اور میں انہیں خبیث ١ ؎ اور گندہ سمجھتا ہوں، وہ پیاز اور لہسن ہیں، میں دیکھتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جس شخص کے منہ سے اس کی بو آتی تھی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا تھا، لہٰذا جو کوئی اسے کھانا ہی چاہے تو اس کو پکا کر اس کی بو زائل کرلے ١ ؎۔

it was narrated from Madan bin Abu Talhah AI,Yamuri that Umar bin Khattab stood up one Friday to deliver a sermon, or, he delivered a sermon One Friday. He praised Allah, then he said: "O people, you eat two plants that I find are nothing but obnoxious; this garlic and this onion. At the time of the Messenger of Allah ﷺ , if a foul odor was detected from a man, I would see him seized by the arm and taken out to AI_Baqi, Whoever must eat them, let him cook them to death." (Sahih)….

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں خبیث اس اعتبار سے ہیں کہ انہیں کچا کھا کر مسجد میں جانا منع ہے، البتہ پک جانے کے بعد ان کا حکم بدل جائے گا، اور ان کا کھانا جائز ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٧)، سنن النسائی/المساجد ١٧ (٧٠٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٩) (صحیح )
1015Sunan Ibne-Majah

جو لہسن کھائے تو وہ مسجد کے قریب بھی نہ آئے

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ: الثُّومِ، فَلَا يُؤْذِينَا بِهَا فِي مَسْجِدِنَا هَذَا، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ أَبِي يَزِيدُ فِيهِ الْكُرَّاثَ وَالْبَصَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي: أَنَّهُ يَزِيدُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الثُّومِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اس پودے یعنی لہسن کو کھائے، وہ ہماری مسجد میں آ کر ہمیں تکلیف نہ پہنچائے ۔ ابراہیم کہتے ہیں: میرے والد سعد ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث میں گندنا (کراث ) ١ ؎ اور پیاز کا اضافہ کرتے تھے اور اسے بھی نبی اکرم ﷺ سے نقل کرتے تھے۔

It was narrated that Ahu Hurairahh said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Whoever eats from this plant; garlic, let him not annoy us with it in this mosque of ours.” (Sahih) Ibrahim said: My father used to add to it, on the authority of the Prophet ﷺ : Leek (Allium) and onion; i.e. he would add to the Hadith of Abu Hurairah (RA) concerning garlic.

Notes · وضاحت
١ ؎: گندنا (کراث): ایک تیز بو والی سبزی جس کی بعض قسمیں پیاز اور لہسن کے مشابہ ہوتی ہیں، اسی قسم کی ایک سبزی کر اث مصری و کر اث شامی کہلاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١١١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٣)، مسند احمد (٢/٢٦٤، ٢٦٦) (صحیح )
1016Sunan Ibne-Majah

جو لہسن کھائے تو وہ مسجد کے قریب بھی نہ آئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اس پودے (پیاز و لہسن) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever eats anything from this plant, let him not come to the masjid.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ دوسرے نمازیوں کو اس کی بدبو سے ایذا پہنچے گی، اور تکلیف ہوگی، یا فرشتوں کو تکلیف ہوگی، تمباکو، سگریٹ، بیڑی اور حقہ وغیرہ لہسن یا پیاز سے بھی زیادہ سخت بدبو والی چیزیں ہیں، اس لئے اس کے کھانے اور پینے سے پیدا ہونے والی بدبو کا حکم بھی پیاز اور لہسن ہی کا ہونا چاہیے، بلکہ اس سے بھی سخت۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٩٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٦٠ (٨٥٣)، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦١)، سنن ابی داود/الأطعمة ٤١ (٣٨٢٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢١ (٢٠٩٧) (صحیح )
1017Sunan Ibne-Majah

نمازی کو سلام کیا جائے تو وہ کیسے جواب دے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، فَجَاءَتْ رِجَالٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، فَسَأَلْتُصُهَيْبًا وَكَانَ مَعَهُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد قباء میں آ کر نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ کو سلام کرنے لگے، تو میں نے صہیب ؓ سے پوچھا جو آپ کے ساتھ تھے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے سلام کا جواب کیسے دیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ ہاتھ کے اشارے سے جواب دے رہے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ came to the masjid at Quba and performed prayer there. Some men of the Ansar came and greeted him. I asked Suhaib, who was with him: How did the Messenger of Allah ﷺ respond to them? He said: He gestured with his hand. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز سلام کا جواب زبان سے نہ دے ورنہ نماز فاسد ہوجائے گی، البتہ انگلی یا ہاتھ کے اشارے سے جواب دے سکتا ہے، اور اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/السہو ٦ (١١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٤٩٦٧) (صحیح )
1018Sunan Ibne-Majah

نمازی کو سلام کیا جائے تو وہ کیسے جواب دے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ أَدْرَكْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَشَارَ إِلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَانِي فَقَالَ: إِنَّكَ سَلَّمْتَ عَلَيَّ آنِفًا وَأَنَا أُصَلِّي.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مجھے کسی ضرورت کے تحت بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے اشارے سے جواب دیا، جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو مجھے بلایا، اور پوچھا: ابھی تم نے مجھے سلام کیا، اور میں نماز پڑھ رہا تھا ١ ؎۔

It was narrated that Jabir said: "The Prophet ﷺ sent me on an errand, then I caught up with him while he was performing prayer, and I greeted him. He gestured to me, then when he finished, he called me and said:You greeted me before, but I was performing prayer:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا کہ جابر ؓ کو جواب نہ دینے کی وجہ معلوم ہوجائے اور ان کے دل کو رنج نہ ہو، سبحان اللہ آپ کو اپنے صحابہ ؓ کا کس قدر خیال تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٧ (٥٤٠)، سنن النسائی/السہو ٦ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٣٤) (صحیح )
1019Sunan Ibne-Majah

نمازی کو سلام کیا جائے تو وہ کیسے جواب دے ؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ فَقِيلَ لَنَا: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے، پھر ہمیں ارشاد ہوا کہ نماز میں خود ایک مشغولیت ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "We would greet others during the prayer, and it was said to us: During the prayer one is preoccupied:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہیے، اور دوسرا کام نہیں کرنا چاہیے، وہ کام جس میں نمازی کو مصروف رہنا چاہیے اللہ تعالیٰ کی یاد ہے، اور اس سے خشوع کے ساتھ دل لگانا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٥٢٥، ومصباح الزجاجة: ٣٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العمل في الصلاة ٣ (١٢٠١)، ١٥ (١٢١٦)، المناقب ٣٧ (٣٨٧٥)، صحیح مسلم/ المساجد ٧ (٥٣٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٧٠ (٩٢٣)، مسند احمد (١/٣٧٦، ٤٠٩) (صحیح )
1020Sunan Ibne-Majah

لاعلمی میں قبلہ کے علاوہ کسی اور طرف نماز پڑھنے کا حکم

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَأَشْكَلَتْ عَلَيْنَا الْقِبْلَةُ، فَصَلَّيْنَا وَأَعْلَمْنَا، فَلَمَّا طَلَعَتِ الشَّمْسُ إِذَا نَحْنُ قَدْ صَلَّيْنَا لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّه: فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115.

عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آسمان پر بادل چھا گئے اور قبلہ کی سمت ہم پر مشتبہ ہوگئی، آخر ہم نے (اپنے ظن غالب کی بنیاد پر) نماز پڑھ لی، اور اس سمت ایک نشان رکھ دیا، جب سورج نکلا تو معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز نہیں پڑھی ہے، ہم نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو اللہ تعالیٰ نے فأينما تولوا فثم وجه الله جدھر تم رخ کرلو ادھر ہی اللہ کا چہرہ ہے (سورۃ البقرہ: ١١٥ ) نازل فرمائی۔

It was narrated from Abdullah bin Amir bin Rabiah that his father said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and the sky was overcast so it was difficult for us to determine the Qiblah. So we performed prayer, and we marked the location.! Later, when the sun reappeared, we realized that we had prayed facing a direction other than the Qiblah. We mentioned that to the Prophet ﷺ , then the Words were revealed: So wherever you turn there is the Face of Allah" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٤١ (٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ٥٠٣٥) (حسن) (اس کی سند میں اشعث بن سعید متروک ہے، لیکن شواہد کی وجہ ہے یہ حسن ہے )
1021Sunan Ibne-Majah

نمازی بلغم کس طرف تھوکے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنْ ابْزُقْ عَنْ يَسَارِكَ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِكَ.

طارق بن عبداللہ محاربی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھو تو اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکو، بلکہ اپنے بائیں جانب یا قدم کے نیچے تھوک لو ۔

It was narrated that Tariq bin Abdullah Al-Muharibi said: "The Prophet ﷺ said: When you perform prayer, do not spit in front of you or to your right, but spit to your left or beneath your feet:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢ (٤٧٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٤ (٥٧١)، سنن النسائی/المساجد ٣٣ (٧٢٧)، (تحفة الأشراف: ٤٩٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٩٦) (صحیح )
1022Sunan Ibne-Majah

نمازی بلغم کس طرف تھوکے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَهُ يَعْنِي: رَبَّهُ، فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ؟ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ لِيَقُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَاعِيل يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ يَدْلُكُهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی سمت بلغم دیکھا، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے آگے بلغم تھوکتے ہیں؟ کیا تم میں کا کوئی یہ پسند کرے گا کہ دوسرا شخص اس کی طرف منہ کر کے اس کے منہ پر تھوکے؟ جب کوئی شخص نماز کی حالت میں تھوکے تو اپنے بائیں جانب تھوکے، یا اپنے کپڑے میں اس طرح تھوک لے ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے مجھے اپنے کپڑے میں تھوک کر پھر مل کر دکھایا۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ saw some sputum in the direction of the Qiblah of the Masjid. He turned to the people and said: "What is wrong with one of you that he stands facing Him (meaning his Lord) and spits in front of Him? Would anyone like to be faced by someone who spits in his face? If anyone of you needs to spit, then let him spit to his left, or let him do like this in his garment:, (Sahih) Then Ismail showed me how he spat in his garment then rubbed it.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ المساجد ١٣ (٥٥٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٩٣ (٣١٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٥ (٤٠٨، ٤٠٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢ (٤٧٧)، مسند احمد (٢/٢٥٠، ٢٥١، ٢٦٠)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٨) (صحیح )