ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی ؓ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہوگا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہوگا ۔
It was narrated from Abu Ali Al-Hamdáni that he went out in a ship in which ‘Uqbah bin Amir Al’-Juhani was present. The time for prayer came, and we told to lead us in prayer and said to him: “You are the most deserving of that you were the Companion of the Messenger of Muhammad ﷺ But he refused and “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Whoever leads the people and gets it right, the prayer will be for him and for them ,but if he falls short, then will be counted against turn not against them.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٥٩ (٥٨٠)، (تحفة الأشراف: ٩٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٤، ١٥٦، ٢٠١) (صحیح )
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں فلاں شخص کی وجہ سے فجر کی نماز میں دیر سے جاتا ہوں، اس لیے کہ وہ نماز کو بہت لمبی کردیتا ہے، ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اتنا سخت غضبناک کبھی بھی کسی وعظ و نصیحت میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو! تم میں کچھ لوگ نفرت دلانے والے ہیں، لہٰذا تم میں جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے ہلکی پڑھائے، اس لیے کہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند سبھی ہوتے ہیں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Masud said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah ﷺ I stay behind and do not perform the morning prayer (in congregation) because of so-and-so, for he makes it too long for us. I never saw the Messenger of Allah ﷺ Preaching with such anger as he did that day. He said: O people! There are among you those who repel others. Whoever among you leads others in prayer, let him keep it short, for among them are those who are weak and elderly, and those who have pressing needs.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تین صورتیں آپ ﷺ نے ایسی فرمائیں کہ اس میں سارے معذور لوگ آگئے، اب جس قدر سوچیں کوئی معذور ایسا نہیں ملے گا جو ان تین سے خارج ہو، اس حدیث سے آپ کا کمال رحم اور کرم بھی ثابت ہوتا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ used to make his prayer brief but perfect." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: مختصر تو اس طور سے ہوتی کہ سورتیں بہت لمبی نہ پڑھتے، اور پوری اس طرح سے ہوتی کہ سجدہ اور قیام اور قعدہ اچھے طور سے ادا کرتے، کم سے کم سجدہ اور رکوع میں پانچ یا تین تسبیحوں کے برابر ٹھہرتے، اسی طرح رکوع سے اٹھ کر سیدھا کھڑے ہوتے، اور سمع الله لمن حمده ربنا ولک الحمد حمدا کثيرا طيبا مبارکا فيه کہتے۔
جابر ؓ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کردی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ ؓ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ ؓ کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو معاذ ؓ کی بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو والشمس وضحاها، سبح اسم ربک الأعلى والليل إذا يغشى اور اقرأ باسم ربك پڑھو ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "Mu adh bin Jabal Al-Ansari led his companions in the Isha prayer and he made it long. A man among us went away and prayed by himself. Mu`adh was told about that and he said: He is a hypocrite. When the man heard about that, he went to the Messenger of Allah ﷺ and told him what Muadh had said to him. The Prophet ﷺ said: Do you want to be a cause of Fitnah (trial. tribulation), O Muadh? When you lead the people in prayer, recite "By the sun and its brightness," and "Glorify the Name of your Lord the Most High: and "By the night as it envelopes," and "Recite in the Name of your Lord. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں ہے بروج یا وانشقت پڑھو، یہ سب سورتیں قریب قریب برابر کی ہیں، عشاء کی نماز میں جب جماعت سے ہو تو یہی سورتیں پڑھنا مسنون ہے، اور آپ ﷺ نے عشاء کی نماز میں والتين بھی پڑھی۔
مطرف بن عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن ابی العاص ؓ کو کہتے سنا کہ جب نبی اکرم ﷺ نے مجھ کو طائف کا امیر بنایا، تو آپ نے میرے لیے آخری نصیحت یہ فرمائی: عثمان! نماز ہلکی پڑھنا، اور لوگوں (عام نمازیوں) کو اس شخص کے برابر سمجھنا جو ان میں سب سے زیادہ کمزور ہو، اس لیے کہ لوگوں میں بوڑھے، بچے، بیمار، دور سے آئے ہوئے اور ضرورت مند سبھی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
It was narrated that Mutarrif bin ‘Abdullâh bin Shikhkhir said: “I heard ‘Uthmân bin Abul-’As say: ‘The last thing that the Prophet ﷺ enjoined on me when he appointed me governor of Tâ’if was that he said: “O ‘Uthmân! Be tolerable in prayer and estimate the people based upon the weakest among them, for among them are the elderly, the young, the sick, those who live far from the Masjid, and those who have pressing needs.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٠ (٥٣١)، سنن النسائی/الأذان ٣٢ (٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢١٨) (حسن صحیح )
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری بات جو مجھ سے کہی وہ یہ تھی: لوگوں کی جب امامت کرو تو نماز ہلکی پڑھاؤ۔
‘Uthmân bin Abul-’As narrated that the last thing the Messenger of Allah ﷺ enjoined on him was that he said: “When you lead people, keep it short for them.” (Sahih)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نماز شروع کرتا ہوں اور لمبی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز اس خیال سے مختصر کردیتا ہوں کہ بچے کی ماں کو اس کے رونے کی وجہ سے تکلیف ہوگی ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Istart prayer and I want to make it long, but then I hear an infant crying, so I make my prayer short, because I know the distress caused to the mother by his crying:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عہد نبوی میں عورتیں مسجد میں آ کر نماز باجماعت ادا کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ بچوں کی رعایت کرتے ہوئے نماز کو مختصر پڑھاتے، تاکہ بچوں کے رونے سے ماؤں کی نماز میں خلل نہ ہو، لہذا آج بھی جن مساجد میں عورتوں کے نماز پڑھنے کا انتظام ہے، ان میں عورتیں اپنے اسلامی شعار کا لحاظ کرتے ہوئے جائیں اور نماز باجماعت ادا کریں، یہ حدیث ہر زمانے اور ہر جگہ کے لئے عام ہے۔
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس کو لمبی کروں، اتنے میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اس ڈر سے نماز ہلکی کردیتا ہوں کہ اس کی ماں پریشان نہ ہوجائے ۔
It was narrated from Abdullah bin Abu Qatadah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: I get up to perform prayer and I intend to make it long. but then I hear an infant crying. so Imake it short, because I do not like to cause distress to his mother:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: سبحان اللہ آپ ﷺ کا رحم و کرم بےانتہا تھا، نماز ایسی عبادت میں بھی آپ ﷺ ادنیٰ ادنیٰ عورتوں تک کا خیال رکھتے، اور یہ منظور نہ ہوتا کہ کسی امتی پر سختی گزرے، ایسا مہربان نبی جو ہم کو ماں باپ سے بھی زیادہ چاہتا ہے، اور کس امت کو ملا ہے۔
جابر بن سمرہ سوائی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اس طرح صفیں کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کس طرح صف باندھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پہلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں، اور صف میں ایک دوسرے سے خوب مل کر کھڑے ہوتے ہیں ۔
It was narrated that Jabir bin Samurah As-Suwai said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Will you not form your rows as the angels form their rows before their Lord? We said: How do the angels form their rows before their Lord? He said: They complete the first row and they stand close of one another in the line (leaving no gaps between one another). "
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفیں برابر کرو، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Make your rows straight, for straightem.ng the rows is part of completing the prayer. (sahih)….
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ خود امامت کے وقت صفوں کو دیکھتے، اور جب اطمینان ہوجاتا کہ صفیں برابر ہوگئیں تو اس وقت تکبیر کہتے، اور کبھی اپنے ہاتھ سے صف میں لوگوں کو آگے اور پیچھے کرتے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ہر ایک امام کو بذات خاص صفوں کے برابر کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے، اور مقتدیوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ برابر کھڑے ہوئے ہیں یا آگے پیچھے ہیں، اور صف بندی میں یہ ضروری ہے کہ لوگ برابر کھڑے ہوں آگے پیچھے نہ ہوں، اور قدم سے قدم مونڈھے سے مونڈھا ملا کر کھڑے ہوں، اور جب تک پہلی صف پوری نہ ہو دوسری صف میں کوئی کھڑا نہ ہو، اسی طرح سے اخیر صف تک لحاظ رکھا جائے۔
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نیزہ یا تیر کی طرح صف سیدھی کرتے تھے، ایک بار آپ ﷺ نے ایک شخص کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا دیکھا تو فرمایا: اپنی صفیں برابر کرو، یا اللہ تمہارے چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا ١ ؎۔
Simak bin Harb narrated that he heard Nu’mân bin Bashir say: “The Messenger of Allah ﷺ used to straighten the rows until he made them like a spear or an arrow-shaft. Once he saw a man’s chest (sticking out) so the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Make your rows straight or Allah will create division among you.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: چہروں کے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا، کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے درمیان پھوٹ ڈال دے گا، جس کی وجہ سے افتراق و انتشار عام ہوجائے گا، اور بعضوں نے کہا ہے کہ اس کے حقیقی معنی مراد ہیں، یعنی تمہارے چہروں کو گدّی کی طرف پھیر کر انھیں بدل اور بگاڑ دے گا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں پہ اپنی رحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں جو صفیں جوڑتے ہیں، اور جو شخص صف میں خالی جگہ بھر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah and His angels send blessings Upon those who complete the rows, and whoever fills a gap, Allah will raise him one degree in status thereby.(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٧٦٤، ومصباح الزجاجة: ٣٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٩) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عیاش ہیں، اور ان کی اہل حجاز سے روایت ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٨٩٢ ، ٢٥٣٢ ، ومصباح الزجاجة: ٣٥٨ ، ب تحقیق عوض الشہری )
عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلی صف کے لیے تین بار اور دوسری صف کے لیے ایک بار مغفرت کی دعا کرتے تھے۔
It was narrated from Irbad bin Sariyah that the Messenger of Allah ﷺ used to ask for forgiveness for the first row three times and for the second row twice. (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٢٩ (٨١٨)، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٦، ١٢٧، ١٢٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٠ (١٣٠٠) (صحیح )
براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر اپنی صلاۃ بھیجتا یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی اس کے حق میں دعا کرتے ہیں ۔
Bara bin Azib (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Allah and the angels send blessings upon the first row.(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠، ومصباح الزجاجة: ٣٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٨٥، ٢٩٦، ٢٩٧، ٢٩٨، ٢٩٩، ٣٠٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٩ (١٢٩٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ پہلی صف میں کتنا (ثواب) ہے تو اس کو پانے کے لیے قرعہ اندازی ہو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If they knew what (goodness) there is in the first row, they would cast lots for It.(Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧١، ٣٠٣، ٣٧٤) (صحیح )
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پہ اپنی صلاۃ یعنی رحمت نازل فرماتا ہے، اور فرشتے صلاۃ بھیجتے یعنی دعا کرتے ہیں ۔
It was narrated from Ibrahim bin Abdur Rahman bin Awf that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Allah and the angels send blessings upon the first row:" (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کی سب سے بہتر صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے خراب صف ان کی اگلی صف ہے ١ ؎، مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے ٢ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best rows for women are the back rows, and the worst are the front rows, and the best rows for men are the front rows, and the worst are the back rows:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگلی صف سے مراد امام کے پیچھے والی صف ہے، سب سے اچھی صف پہلی صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ دوسری صفوں کی بہ نسبت اس میں خیر و بھلائی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ جو صف امام سے قریب ہوتی ہے تو جو لوگ اس میں ہوتے ہیں وہ امام سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں، تلاوت قرآن اور تکبیرات سنتے ہیں، اور عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے نماز میں خلل انداز ہونے والے وسوسوں اور برے خیالات سے عام طور سے محفوظ رہتے ہیں، اور سب سے بری صف ان مردوں کی آخری صف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں خیر و بھلائی دوسری صفوں کی بہ نسبت کم ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس میں جو لوگ ہوں گے وہ برے ہوں گے۔ ٢ ؎: عورتوں کی آخری صف اس لئے بہتر ہے کہ وہ مردوں سے دور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ فتنوں سے محفوظ رہتی ہیں، اور عورتوں کی اگلی صف سب سے خراب صف اس لئے ہے کہ وہ مردوں سے قریب ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ شیطان کے وسوسوں اور فتنوں سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
حدیث العلاء عن أبیہ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٠٨٣)، وحدیث سہیل عن أبیہ قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٤١)، سنن الترمذی/الصلاة ٥٢ (٢٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٧٠١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٩٨ (٦٧٨)، سنن النسائی/الإمامة ٣٢ (٨٢١)، مسند احمد (٢/٢٤٧، ٣٣٦، ٣٤٠، ٣٦٦، ٤٨٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٢ (١٣٠٤) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردوں کی سب سے اچھی صف ان کی اگلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی پچھلی صف ہے، عورتوں کی سب سے اچھی صف ان کی پچھلی صف ہے، اور سب سے بری صف ان کی اگلی صف ہے ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The best rows for men are the front rows and the worst are the back rows, and the best rows for women are the back rows and the worst are the front rows."(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٧١، ومصباح الزجاجة: ٣٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٩٣، ٣٣١، ٣٨٧) (حسن صحیح) (یہ سند حسن ہے اور دوسرے شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملا حظہ ہو: مصباح الزجاجة: ٣٦٢ ، ب تحقیق الشہری، و صحیح ابی داود: ٦٨١ )
قرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ١ ؎۔
It was narrated from Muawiyah bin Qurrah that his father said: "We were forbidden to form a row between two pillars at the time of the Messenger of Allah ﷺ and we would be repelled from them forcefully. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: ستونوں (کھمبوں) کے بیچ میں صف باندھنے سے منع کئے جاتے تھے کیونکہ ان کے بیچ میں حائل ہونے کی وجہ سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٨٥، ومصباح الزجاجة: ٣٦٠) (حسن صحیح) (سند میں ہارون بن مسلم مستور ہیں، اور ان سے تین ثقات نے روایت کی ہے، اس لئے اس سند کی شیخ البانی نے تحسین فرمائی ہے، اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣٥ ، صحیح ابی داود: ٦٧٧ ، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣٥ )