صفوں کو سید ھا کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَبِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ.
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنی صفیں برابر کرو، اس لیے کہ صفوں کی برابری تکمیل نماز میں داخل ہے ١ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Make your rows straight, for straightem.ng the rows is part of completing the prayer. (sahih)….
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ خود امامت کے وقت صفوں کو دیکھتے، اور جب اطمینان ہوجاتا کہ صفیں برابر ہوگئیں تو اس وقت تکبیر کہتے، اور کبھی اپنے ہاتھ سے صف میں لوگوں کو آگے اور پیچھے کرتے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ہر ایک امام کو بذات خاص صفوں کے برابر کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے، اور مقتدیوں کو دیکھنا چاہیے کہ وہ برابر کھڑے ہوئے ہیں یا آگے پیچھے ہیں، اور صف بندی میں یہ ضروری ہے کہ لوگ برابر کھڑے ہوں آگے پیچھے نہ ہوں، اور قدم سے قدم مونڈھے سے مونڈھا ملا کر کھڑے ہوں، اور جب تک پہلی صف پوری نہ ہو دوسری صف میں کوئی کھڑا نہ ہو، اسی طرح سے اخیر صف تک لحاظ رکھا جائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٧٤ (٧٢٣)، صحیح مسلم/الصلاة (٤٣٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٤ (٦٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٢٨ (٨١٦)، التطبیق ٦٠ (١١١٨)، مسند احمد (٢/٢٣٤، ٣١٩، ٥٠٥، ٣/١٧٧، ١٧٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٩ (١٢٩٩) (صحیح )