اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 9 of 32

963Sunan Ibne-Majah

امام سے قبل رکوع، سجدہ میں جانا منع ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ، فَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ، إِذَا سَجَدْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ.

معاویہ بن ابی سفیان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم رکوع اور سجدے میں مجھ سے سبقت نہ کرو، اگر میں رکوع تم سے پہلے کروں گا تو تم مجھ کو پالو گے جب میں رکوع سے سر اٹھا رہا ہوں گا، اور اگر میں سجدہ میں تم سے پہلے جاؤں گا تو تم مجھ کو پالو گے جب میں سجدہ سے سر اٹھا رہا ہوں گا، کیونکہ میرا جسم بھاری ہوگیا ہے ۔

It was narrated that Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Do not bow or prostrate before me, No matter how far ahead of you I bow, you will catch up with me when I stand up, and no matter how far ahead of you I prostrate, you will catch up with me when I raise my head, I have become bulky. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٢٦، ومصباح الزجاجة: ٣٤٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٧٥ (٦١٩)، مسند احمد (٤/٩٢، ٩٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٢ (١٣٥٤) (حسن صحیح )
964Sunan Ibne-Majah

نماز کے مکر وہات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيُّ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ يُكْثِرَ الرَّجُلُ مَسْحَ جَبْهَتِهِ قَبْلَ الْفَرَاغِ مِنْ صَلَاتِهِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بدسلوکی اور بےرخی کی بات ہے کہ آدمی نماز ختم کرنے سے پہلے اپنی پیشانی پر باربار ہاتھ پھیرے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "It is impolite for a man to wipe his forehead a great deal before he finishes prayer." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧١، ومصباح الزجاجة: ٣٤٧) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ہارون ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٨٧٧ )
965Sunan Ibne-Majah

نماز کے مکر وہات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، وَإِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُفَقِّعْ أَصَابِعَكَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نماز میں اپنی انگلیاں نہ چٹخاؤ۔

It was narrated from Ali that the Messenger of Allah ﷺ "Do not crack your fingers during the prayer." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥٣، ومصباح الزجاجة: ٣٤٨) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث الا ٔعور ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣٧٨ )
966Sunan Ibne-Majah

نماز کے مکر وہات

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ فِي الصَّلَاةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade a man to Cover his mouth during the prayer." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٧٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٨٦ (١٠٠٥٣) (حسن )
967Sunan Ibne-Majah

نماز کے مکر وہات

حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ عَمْرٍو الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى رَجُلًا قَدْ شَبَّكَ أَصَابِعَهُ فِي الصَّلَاةِ، فَفَرَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں تشبیک کر رکھی ہے ١ ؎، آپ ﷺ نے اس کی انگلیاں الگ الگ کردیں۔

It was narrated from Kab bin Ujrah that the Messenger of Allah ﷺ saw a man who had interlocked his fingers during the prayer, so the Messenger of Allah ﷺ separated his fingers, (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنے کا نام تشبیک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة (٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ١١١٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٥٤، ٤/٢٤٢، ٢٤٣)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢١ (١٤٤٥) (ضعیف) (علقمہ اور ابوبکر بن عیاش کے ضعف کی وجہ سے یہ ضعیف ہے )
968Sunan Ibne-Majah

نماز کے مکر وہات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ، وَلَا يَعْوِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص جمائی لے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے اور آواز نہ کرے، اس لیے کہ شیطان اس سے ہنستا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When anyone of you yawns, let him put his hand over his mouth and not make a sound, because Satan laughs at him.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٨، ومصباح الزجاجة: ٣٤٩)، قد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ١١ (٣٢٨٩)، سنن ابی داود/الأدب ٩٧ (٥٠٢٨)، سنن الترمذی/الأدب ٧ (٢٧٤٨)، مسند احمد (٢/٣٩٧، ٣/٣١)، ومن غير ذكر: ولا يعوي (موضوع) (ولا يعوي کے لفظ کے ساتھ یہ حدیث موضوع ہے، اس کے بغیر صحیح ہے کما فی التخریج، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٤٢٠ ، ومصباح الز جاجہ ب تحقیق الشہری: ٣٥١ )
969Sunan Ibne-Majah

نماز کے مکر وہات

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبُزَاقُ، وَالْمُخَاطُ، وَالْحَيْضُ، وَالنُّعَاسُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ.

ثابت کے والد دینار ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نماز میں تھوکنا، رینٹ نکالنا، حیض کا آنا اور اونگھنا، شیطان کی جانب سے ہے ۔

It was narrated from Adi bin Thabit, from his father, from his grandfather, that the prophet ﷺ said: "Spitting, blowing ones nose, menstruating and drowsiness during the prayer are from Satan." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب (٢٧٤٨)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٣) (ضعیف) (اس کی سند میں ابو الیقظان عثمان بن عمیر البجلی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٣٣٧٩ )
970Sunan Ibne-Majah

جو شخص کسی جماعت کا امام بنے جبکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ: الرَّجُلُ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَالرَّجُلُ لَا يَأْتِي الصَّلَاةَ إِلَّا دِبَارًا يَعْنِي: بَعْدَ مَا يَفُوتُهُ الْوَقْتُ، وَمَنِ اعْتَبَدَ مُحَرَّرًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک تو وہ جو لوگوں کی امامت کرے جب کہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ جو نماز میں ہمیشہ پیچھے (یعنی نماز کا وقت فوت ہوجانے کے بعد) آتا ہو، اور تیسرا وہ جو کسی آزاد کو غلام بنا لے ۔

It was narrated that Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said:There are are three whose prayer are accepted: A man who leads peopIe while they do not like him;A man who does not come to prayer until its end — meaning after its time has expired — and one who enslaves a freedperson.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٦٣ (٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٣) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٩٢ ، صحیح أبی دواود: ٦٠٧ )
971Sunan Ibne-Majah

جو شخص کسی جماعت کا امام بنے جبکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ لَا تَرْتَفِعُ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُءُوسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی: ایک وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کی اور لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں، دوسرے وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، اور تیسرے وہ دو بھائی جنہوں نے باہم قطع تعلق کرلیا ہو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: "There are three whose prayer do not rise more than a hand span above their heads: A man who leads people (in prayer) when they do not like him; a woman who has spent the night with her husband angry with her; and two brothers who have severed contact with one another." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٣٥، ومصباح الزجاجة: ٣٥١) (منکر) (اس سیاق سے یہ حدیث منکر ہے، اخوان متصارمان کے بجائے العبدالآبق کے لفظ سے حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: غایة المرام: ٢٤٨ ، ومصباح الزجاجة: ٣٥٣ ، ب تحقیق الشہری )
972Sunan Ibne-Majah

دو آدمی جماعت ہیں

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرِو بْنِ جَرَاد، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو یا دو سے زیادہ لوگ جماعت ہیں ۔

It was narrated that Abu Musa AI-Ash ari said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Two or more people are a congregation. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٢١، ومصباح الزجاجة: ٣٥٢) (ضعیف) (اس کی سند میں ربیع اور ان کے والد بدر بن عمرو دونوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤٨٩ )
973Sunan Ibne-Majah

دو آدمی جماعت ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم ﷺ رات میں نماز (تہجد) کے لیے اٹھے، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah, and the Prophet ﷺ got up during the night to perform prayer. So I got up and stood on his left. He took me by the hand and made me stand on his right." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ نفلی نماز میں جماعت صحیح ہے، اور دوسرے یہ کہ ایک لڑکے کے ساتھ ہونے سے جماعت ہوجاتی ہے، تیسرے یہ کہ اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے دائیں طرف کھڑے ہو، چوتھی یہ کہ جس نے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٢ (١١٧)، الأذان ٥٧ (٦٩٧)، ٥٩ (٦٩٩)، ٧٩ (٧٢٨)، اللباس ٧١ (٥٩١٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦١٠)، سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٨٥، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٣ (١٢٩٠) (صحیح )
974Sunan Ibne-Majah

دو آدمی جماعت ہیں

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا ١ ؎۔

Shurahbil said: "I heard Jabir bin Abdullah say: The Messenger of Allah ﷺ was performing Maghrib, and I came and stood on his left, but he made me stand on his right." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس ؓ کو بھی آپ ﷺ نے اسی طرح دائیں طرف کرلیا، ایک ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے کی طرف سے گھما کر، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز اس قدر عمل کرنے سے فاسد نہیں ہوتی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٢٧٩، ومصباح الزجاجة: ٣٥٢/أ)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٨٢ (٦٣٤)، مسند احمد (١/٢٦٨، ٣٦٠، ٣/٣٢٦) (صحیح) (دوسرے شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں شرحبیل ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٥٢٩ ، و مصباح الزجاحة: ٣٥٥ ، ب تحقیق الشہری )
975Sunan Ibne-Majah

دو آدمی جماعت ہیں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ وَبِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَصَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَنَا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر کی ایک عورت اور میرے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا، اور عورت نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی ١ ؎۔

975. It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah ﷺ led a woman of his household and myself in prayer. I stood to his right and the woman stood behind us.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بھی نفل ہوگی کیونکہ فرض تو آپ مسجد میں ادا کرتے تھے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر مقتدی ایک عورت اور ایک لڑکا ہو تو لڑکا امام کے دائیں طرف کھڑا ہو، اور عورت پیچھے کھڑی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦٠٩)، سنن النسائی/الإمامة ٢١ (٨٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٧٨ (٧٢٧)، صحیح مسلم/المساجد ٤٨ (٦٦٠)، مسند احمد (٣/٢٥٨) (صحیح )
976Sunan Ibne-Majah

امام کے قریب کن لوگوں کا ہونا مستحب ہے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَر، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيَقُولُ: لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.

ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں ہمارے کندھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: الگ الگ نہ رہو، ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہوجائیں گے، اور تم میں جو عقل اور شعور والے ہیں وہ میرے نزدیک کھڑے ہوں، پھر وہ لوگ جو عقل و شعور میں ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ١ ؎۔

It was narrated that Abu Masud Al-Ansari said: "The Messenger of Allah ﷺ used to gently pat our shoulders (to make sure the row was straight) at the time of prayer, saying: Keep (the rows) straight; do not differ from one another lest your hearts should suffer from discord. Let those who are forbearing and wise stand closest to me, then those who are next to them, then those who are next to them."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اختلاف نہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ صف میں برابر کھڑے ہو کسی کا کندھا آگے پیچھے نہ رہے، کیونکہ روحانی طور پر اس کا اثر دلوں پر پڑے گا، اور صفوں میں آگے پیچھے ہونے سے لوگوں کے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا، جس سے مسلمانوں کی قوت و شوکت کمزور ہوجائے گی، اور دشمن کا تسلط و غلبہ بڑھے گا، اس سے معلوم ہوا کہ امام کو صفوں کی درستگی کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام کے ساتھ پہلی صف میں وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و فضل اور عقل و دانش میں ممتاز ہوں، پھر وہ جو ان سے کم ہوں، پھر وہ جو ان سے کم ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٦ (٦٧٤)، سنن النسائی/الإمامة ٢٣ (٨٠٨)، ٢٦ (٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٤) مسند احمد (٤/١٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٢) (صحیح )
977Sunan Ibne-Majah

امام کے قریب کن لوگوں کا ہونا مستحب ہے ؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَار لِيَأْخُذُوا عَنْهُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ آپ سے دین کی باتیں سیکھ سکیں ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah ﷺ liked the Muhajirun and Ansar to stand closest to him, so that they could learn from him." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ یہ عقل اور علم و فضل میں اور لوگوں سے آگے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٢، ومصباح الزجاجة: ٣٥٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٠٠، ١٩٩، ٢٦٣) (صحیح )
978Sunan Ibne-Majah

امام کے قریب کن لوگوں کا ہونا مستحب ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ: تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي، وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ، لَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ پیچھے کی صفوں میں رہتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: آگے آ جاؤ، اور نماز میں تم میری اقتداء کرو، اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتداء کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے رہا کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے کردیتا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed that the Messenger of Allah ﷺ saw that some of his Companions tended to stand in the rear" so he said: "Come forward and follow me, and let those who are behind you follow your lead. If people continue to lag behind, Allah will pu t them back." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آخرت میں وہ پیچھے رہ جائیں گے، اور جنت میں لوگوں کے بعد جائیں گے، یا دنیا میں ان کا درجہ گھٹ جائے گا، اور علم و عقل سے، اور اللہ تعالیٰ کی عنایت اور رحمت سے پیچھے رہیں گے، اس میں امام کے قریب کھڑے ہونے کی تاکید اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٨ (٦٨٠)، سنن النسائی/الإمامة ١٧ (٧٩٦)، (تحفة الأشراف: ٤٣٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٩، ٣٤، ٥٤) (صحیح )
979Sunan Ibne-Majah

امامت کا زیادہ حقدار کون ہے

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ لَنَا: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا، وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، جب ہم واپس ہونے لگے تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہوجائے تو اذان و اقامت کہو، اور تم میں جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ١ ؎۔

It was narrated that Malik bin Huwairith said: "I came to the Prophet ﷺ with a friend of mine, and when we wanted to leave, he said to us: When the time for prayer comes, say the Adhan and lqamah, then let the older of you lead the prayer:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہیے جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨)، ١٨ (٦٣٠)، ٣٥ (٦٥٨، ٦٨٥)، ٤٩ (٨١٩)، الجہاد ٤٢ (٢٨٤٨)، الادب ٢٧ (٦٠٠٨)، أخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦)، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٦١ (٥٨٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٧ (٢٠٥)، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥)، ٨ (٦٣٦)، ٢٩ (٦٧٠)، الإمامة ٤ (٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦، ٥/٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح )
980Sunan Ibne-Majah

امامت کا زیادہ حقدار کون ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَوْسَ بْنَ ضَمْعَجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُود، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانَتِ الْهِجْرَةُ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤَمَّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنٍ أَوْ بِإِذْنِهِ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو لوگوں میں قرآن زیادہ جانتا ہو، اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو امامت وہ کرے جس نے ہجرت پہلے کی ہو ١ ؎، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو امامت وہ کرے جو عمر کے لحاظ سے بڑا ہو، اور کوئی شخص کسی شخص کے گھر والوں میں اور اس کے دائرہ اختیار و منصب کی جگہ میں امامت نہ کرے ٢ ؎، اور کوئی کسی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پہ بغیر اس کی اجازت کے نہ بیٹھے ٣ ؎۔

Abu Masud said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The people should be lead by the one who is most well-Versed in recitation of the Book of Allah. If they are equal in recitation, then they should be led by the one who emigrated first. If they are equal in emigration, then they should be led by the eldest. A man should not be led among his family or in his place of authority; no one should be sat in his place of honor in his house without per miss io n, or without his permission. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ابومسعود ؓ کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر قراءت میں برابر ہوں تو جس کو سنت کا علم زیادہ ہو وہ امامت کرے، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو جس کی ہجرت پہلے ہوئی ہو وہ امامت کرے، یعنی قرآن زیادہ جانتا ہو یا قرآن کو اچھی طرح پڑھتا ہو، یہ حدیث صحیح ہے، محدثین نے اسی کے موافق یہ حکم دیا ہے کہ جو شخص قرآن زیادہ جانتا ہو وہی امامت کا حق دار ہے اگرچہ نابالغ یا کم عمر ہو، اور اسی بناء پر صحابہ کرام ؓ نے عمر بن ابی سلمہ کو امام بنایا تھا، حالانکہ ان کی عمر چھ یا سات برس کی تھی۔ ٢ ؎: یعنی مہمان میزبان کی امامت نہ کرے، الا یہ کہ وہ اس کی اجازت دے، اسی طرح کوئی کسی جگہ کا حکمران ہو تو اس کی موجودگی میں کوئی اور امامت نہ کرے۔ ٣ ؎: مثلاً کسی کی کوئی مخصوص کرسی یا مسند وغیر ہو تو اس پر نہ بیٹھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٦١ (٥٨٢، ٥٨٣، ٥٨٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٦٠ (٢٣٥)، سنن النسائی/الإمامة ٣ (٧٨١)، ٦ (٧٨٤)، (تحفة الأشراف: ٩٩٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١١٨، ١٢١، ١٢٢) (صحیح )
981Sunan Ibne-Majah

امام پر کیا واجب ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخُو فُلَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: كَانَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِهِ يُصَلُّونَ بِهِمْ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْإِمَامُ ضَامِنٌ، فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ، وَإِنْ أَسَاءَ، يَعْنِي: فَعَلَيْهِ، وَلَا عَلَيْهِمْ.

ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ساعدی ؓ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھاتے وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے، کسی نے سہل ؓ سے کہا: آپ جوانوں کو نماز کے لیے آگے بڑھاتے ہیں، حالانکہ آپ کو سبقت اسلام کا بلند رتبہ حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے، اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کے لیے بھی ثواب ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر خراب طریقے سے پڑھائے تو اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں ١ ؎۔

Abu Hazim said: "Sahl bin Sad As-SaIdi used to give preference to the young to lead his people in prayer. It was said to him: "Do you do that, when you have such seniority (in Islam)?" He said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The Imam is responsible. If he does well, then he will have the reward and so will they, but if he does badly, then that will be counted against him but not against them. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ضامن ہے کا مطلب یہ کہ اگر وہ اچھی طرح سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا اجر و ثواب اس کو اور مقتدیوں دونوں کو ملے گا، اور اگر خراب طریقے سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، نہ کہ مقتدیوں پر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٧٠٠، ومصباح الزجاجة: ٣٥٤) (صحیح) (دوسرے شواہد کے بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الحمید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٦٧ )
982Sunan Ibne-Majah

امام پر کیا واجب ہے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُمِّ غُرَابٍ، عَنْ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: عَقِيلَةُ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّأُخْتِ خَرَشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُومُونَ سَاعَةً لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ.

خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر ؓ کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے ۔

It was narrated that Salamah bint Hurr, the sister of Kharashah said: "I heard the Prophet ﷺ say; A time. will come when the people will stand for a long time and Will not be able to find any lmam to lead them in prayer." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٦٠ (٥٨١)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٨١) (ضعیف) (اس کی سند میں عقیلہ مجہول ہیں )