Sunan Ibne-Majah 970

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

970Sunan Ibne-Majah

جو شخص کسی جماعت کا امام بنے جبکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ: الرَّجُلُ يَؤُمُّ الْقَوْمَ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، وَالرَّجُلُ لَا يَأْتِي الصَّلَاةَ إِلَّا دِبَارًا يَعْنِي: بَعْدَ مَا يَفُوتُهُ الْوَقْتُ، وَمَنِ اعْتَبَدَ مُحَرَّرًا.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک تو وہ جو لوگوں کی امامت کرے جب کہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ جو نماز میں ہمیشہ پیچھے (یعنی نماز کا وقت فوت ہوجانے کے بعد) آتا ہو، اور تیسرا وہ جو کسی آزاد کو غلام بنا لے ۔

It was narrated that Abdullah bin ‘Amr said: “The Messenger of Allah ﷺ said:There are are three whose prayer are accepted: A man who leads peopIe while they do not like him;A man who does not come to prayer until its end — meaning after its time has expired — and one who enslaves a freedperson.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٦٣ (٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٠٣) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: ٩٢ ، صحیح أبی دواود: ٦٠٧ )