Sunan Ibne-Majah 973

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

973Sunan Ibne-Majah

دو آدمی جماعت ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ ؓ کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم ﷺ رات میں نماز (تہجد) کے لیے اٹھے، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کرلیا ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I stayed overnight with my maternal aunt Maimunah, and the Prophet ﷺ got up during the night to perform prayer. So I got up and stood on his left. He took me by the hand and made me stand on his right." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں، ایک یہ کہ نفلی نماز میں جماعت صحیح ہے، اور دوسرے یہ کہ ایک لڑکے کے ساتھ ہونے سے جماعت ہوجاتی ہے، تیسرے یہ کہ اگر مقتدی اکیلا ہو تو امام کے دائیں طرف کھڑے ہو، چوتھی یہ کہ جس نے امامت کی نیت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٢ (١١٧)، الأذان ٥٧ (٦٩٧)، ٥٩ (٦٩٩)، ٧٩ (٧٢٨)، اللباس ٧١ (٥٩١٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٦٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٦ (٧٦٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٠ (٦١٠)، سنن النسائی/الإمامة ٢٢ (٨٠٧)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٥٢، ٢٨٥، ٢٨٧، ٣٤١، ٣٤٧، ٣٥٤، ٣٥٧، ٣٦٠، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٣ (١٢٩٠) (صحیح )