Sunan Ibne-Majah 979

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

979Sunan Ibne-Majah

امامت کا زیادہ حقدار کون ہے

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا الِانْصِرَافَ قَالَ لَنَا: إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا، وَأَقِيمَا، وَلْيَؤُمَّكُمَا أَكْبَرُكُمَا.

مالک بن حویرث ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، جب ہم واپس ہونے لگے تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہوجائے تو اذان و اقامت کہو، اور تم میں جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ١ ؎۔

It was narrated that Malik bin Huwairith said: "I came to the Prophet ﷺ with a friend of mine, and when we wanted to leave, he said to us: When the time for prayer comes, say the Adhan and lqamah, then let the older of you lead the prayer:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک اذان کہے اور دوسرا جواب دے، یا یہ کہا جائے کہ دونوں کی طرف اسناد مجازی ہے مطلب یہ ہے کہ تم دونوں کے درمیان اذان اور اقامت ہونی چاہیے جو بھی کہے، اذان اور اقامت کا معاملہ چھوٹے بڑے کے ساتھ خاص نہیں، البتہ امامت جو بڑا ہو وہ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٧ (٦٢٨)، ١٨ (٦٣٠)، ٣٥ (٦٥٨، ٦٨٥)، ٤٩ (٨١٩)، الجہاد ٤٢ (٢٨٤٨)، الادب ٢٧ (٦٠٠٨)، أخبار الآحاد ١ (٧٢٤٦)، صحیح مسلم/المساجد ٥٣ (٦٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٦١ (٥٨٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٣٧ (٢٠٥)، سنن النسائی/الأذان ٧ (٦٣٥)، ٨ (٦٣٦)، ٢٩ (٦٧٠)، الإمامة ٤ (٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٣٦، ٥/٥٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٢ (١٢٨٨) (صحیح )