اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 8 of 32

943Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سترے کا یبان

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْث بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کرلے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "When anyone of you performs prayer, let him put something in front of him. If he cannot find anything then let him put a stick. If he cannot find one, then let him draw a line. Then it will not matter if anything passes in front of him." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٠٣ (٩٨٩، ٦٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/ ٢٤٩، ٢٥٤، ٢٦٦، ٣/٢٤٩، ٢٥٥، ٢٦٦) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو عمرو اور ان کے دادا حریث مجہول ہیں، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: ٧٨١ )
944Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سامنے سے گز رنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَرْسَلُونِي إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَأَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً، أَوْ شَهْرًا، أَوْ صَبَاحًا، أَوْ سَاعَةً؟.

بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد ؓ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے (نمازی) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: چالیس ... تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ سفیان بن عیینہ (راوی حدیث) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔

Busr bin Saeed said: "They sent me to Zaid bin Khalid to ask him about passing in front of one who is performing prayer. He told me that the Prophet ﷺ said: Waiting for forty is better than passing in front of one who is performing prayer:" (Sahih) (One of the narrators) Sufyan said: ·I do not know if he meant forty years, months, days, or hours."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٠١ (٥١٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٩ (٧٠١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٥ (٣٣٦)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٧)، مسند احمد (٤/١٦٩) (صحیح) (آگے کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
945Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سامنے سے گز رنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ، أَرْسَلَ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، يَسْأَلُهُ، مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ وَهُوَ يُصَلِّي؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ وَهُوَ يُصَلِّي، كَانَ لَأَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ عَامًا، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا، أَوْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ ذَلِكَ.

بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد ؓ نے ابوجہیم انصاری ؓ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو نمازی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس ... تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Busr bin Saeed that Zaid bin Khalid sent word to Abu Juhaim Al-Ansari asking him: "What did you hear from the Prophet ﷺ about a man who passes in front of another man when he is performing prayer?" He said: "I heard the Prophet ﷺ saying: If anyone of you knew (how great is the sin involved) when he passes in front of his brother who is performing prayer, then waiting for forty:" (one of the narrators) said: "I do not know if he meant forty years, forty months, or forty days, would be better for him than that." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: بہر حال نمازی کے سامنے سے گزرنا سخت گناہ ہے، بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب نمازی کے قریب سے گزرے، بعض نے کہا تین ہاتھ کے اندر، اور کسی نے کہا پانچ ہاتھ کے اندر، اور بعض لوگوں نے چالیس ہاتھ کی دوری کا ذکر کیا ہے، نیز بعض لوگوں نے کہا کہ سجدہ کے مقام پر دیکھے تو جہاں تک اس کی نظر جاتی ہو اس کے اندر سے گزرنا گناہ ہے، اس کے آگے گزرے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠١ (٥١٠)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٧)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٩ (٧٠١)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٥ (٣٣٦)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٧)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/١٦٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٠ (١٤٥٧) (صحیح )
946Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سامنے سے گز رنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ، كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخَطْوَةِ الَّتِي خَطَاهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اس گناہ کو جان لے جو اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت آڑے میں گزرنے سے ہے تو وہ ایک قدم اٹھانے سے سو سال کھڑے رہنا بہتر سمجھے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Prophet ﷺ said: If anyone of you knew (how great is the sin involved) In passing in front of his brother while he is performing prayer, waiting for one hundred years Id be better for him than one swteopu that he takes:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٤٨٩، ومصباح الزجاجة: ٣٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٧١) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں عبداللہ بن عبدالرحمن اور ان کے چچا عبید اللہ بن عبداللہ دونوں ضعیف ہیں )
947Sunan Ibne-Majah

جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ، فَجِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا عَنْهَا وَتَرَكْنَاهَا، ثُمَّ دَخَلْنَا فِي الصَّفِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مقام عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہوگئے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Prophet ﷺ Performing prayer at Arafat, and Fadl and I came riding a female donkey. We passed in front ofpart of the row, then we dismounted and left the donkey, and we came and joined the row." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ١٨ (٧٦)، الصلاة ٩٠ (٤٩٣)، الأذان ١٦١ (٨٦١)، جزاء الصید ٢٥ (١٨٥٧)، المغازي ٧٧ (٤٤١٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٧ (٥٠٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٣ (٧١٥)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٦ (٣٣٧)، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ١١ (٣٨)، مسند احمد (١/٢١٩، ٢٦٤، ٣٣٧، ٣٦٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٩ (١٤٥٥) (صحیح) (صحیح بخاری میں بمنى بدل بعرفة ہے، اور وہی محفوظ ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٧٠٩ )
948Sunan Ibne-Majah

جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ هُوَ قَاصُّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي حُجْرَةِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَمَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ، أَوْ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ، فَرَجَعَ، فَمَرَّتْ زَيْنَبُ بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَمَضَتْ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هُنَّ أَغْلَبُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: یہ عورتیں نہیں مانتیں ١ ؎۔

It was narrated that Umm e Salamah said: "The Prophet ﷺ was performing prayer in the house of Umm e Salamah, and Abdullah or Umar bin Abu SaIamah passed in front of him; he gestured with his hand, and he went back. Then Zainab bint Unun Salamah passed in front of him, and he gestured with his hand, but she kept going, When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said: These (women) are more stubborn:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنی جہالت اور نافہمی کی وجہ سے مردوں پر غالب آجاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٣، ومصباح الزجاجة: ٣٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٤) (ضعیف) (سند میں قیس والد محمد مجہول ہیں، اور بعض نسخوں میں عن أمہ آیا ہے، اور امام مزی نے عن امہ کو معتمد مانا ہے )
949Sunan Ibne-Majah

جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کالا کتا اور بالغ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں ١ ؎۔

It Was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "The prayer is severed by a black dog and a Woman who has reached the age of menstruation."(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب نمازی کے سامنے سے گزریں اور سترہ نہ ہو، یہ حدیث صحیح ہے، اس کا نسخ مخالفین جس حدیث سے بیان کرتے ہیں وہ ضعیف ہے، اور منسوخ ہونا قرین قیاس بھی نہیں ہے، اس لئے کہ یہ صحیح حدیث عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، اور انہوں نے بہت آخر زمانہ میں کم سنی میں نبی اکرم ﷺ سے حدیثیں سنی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١١٠ (٧٠٣)، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥٢)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٩)، مسند احمد (١/٣٤٧) (صحیح )
950Sunan Ibne-Majah

جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٢٩، ومصباح الزجاجة: ٣٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٢٥، ٢٩٩) (صحیح )
951Sunan Ibne-Majah

جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ: الْمَرْأَةُ، وَالْكَلْبُ، وَالْحِمَارُ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔

It was narrated from ‘Abdullâh bin Mughaffal that the Prophet ﷺ said ﷺ “The prayer is severed by a woman, a dog and a donkey.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٤، ومصباح الزجاجة: ٣٤٣)، مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٥٧) (صحیح )
952Sunan Ibne-Majah

جس چیز کے سامنے سے گز رنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيِ الرَّجُلِ مِثْلُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ: الْمَرْأَةُ، وَالْحِمَارُ، وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، قَالَ: قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ فقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي فَقَالَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نمازی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے اور کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے ١ ؎۔ عبداللہ بن صامت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ سے پوچھا کہ کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ٢ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullâh bin Sâmit from Abu Dharr, that the prophet ﷺ said: “The prayer is severed by a woman, a donkey, and a black dog, if there is not something like the handle of a saddle in front of a man.” I (‘Abdullâh) said: “What is wrong with a black dog and not a red one?” He (Abu Dharr) said: ‘I asked the Messenger of Allah ﷺ the same questiofl and he said: “The black dog is a Shaithn (satan).” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور نے ان روایتوں کی تاویل کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد توجہ بٹ جانے کی وجہ سے نماز میں نقص اور خلل کا پیدا ہونا ہے نہ کہ نماز کا فی الواقع ٹوٹ جانا ہے، اوپر کے حواشی میں اہل علم کی آراء کا ذکر آگیا ہے، جن علماء نے ان تینوں کے گزرنے سے نماز کے باطل ہونے کی بات کہی ہے، ان میں شیخ الإسلام ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن قدامہ اور ظاہر یہ ہیں، ان کے یہاں وہ روایات جن میں نماز کے نہ دہرانے کی بات ہے، وہ عام احادیث ہیں، جن میں سے مذکورہ تین چیزوں کو استثناء حاصل ہے، تو اب سابقہ حدیث عام مخصوص ہوگی اور ابوذر ؓ کی حدیث پر عمل ہوگا۔ ٢ ؎: یعنی شیطان کتے کی صورت اختیار کر کے نماز توڑنے کے لئے آتا ہے، یا خود کالا کتا شیطان ہوتا ہے، یعنی شریر اور منحوس ہوتا ہے، غرض نماز کا اس سے ٹوٹ جانا حکم شرعی ہے اس میں قیاس کو دخل نہیں، اور تعجب ہے کہ حنفیہ ایک ضعیف حدیث سے قہقہہ کو ناقص وضو جانتے ہیں، اور قیاس کو ترک کرتے ہیں اور یہاں صحیح حدیث کو قیاس کے خلاف نہیں مانتے، بعض لوگوں نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ شیطان کالے کتے کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کالا کتا دوسرے کتوں کے مقابل زیادہ ضرر رساں ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کہا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٠ (٥١٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٠ (٧٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣٧ (٣٣٨)، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥١)، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٩ ١، ١٥١، ١٥٥، ١٦٠، ١٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٨ (١٤٥٤) (صحیح )
953Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرے اس کو کہاں تک ہو سکے رو کے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى أَبُو الْمُعَلَّى، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ؟ فَذَكَرُوا: الْكَلْبَ، وَالْحِمَارَ، وَالْمَرْأَةَ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْجَدْيِ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُصَلِّي يَوْمًا، فَذَهَبَ جَدْيٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَبَادَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ.

حسن عرنی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، عبداللہ بن عباس ؓ نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ ﷺ جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے ١ ؎۔

It was narrated that Hasan AI-Urani said: "Mention was made in the presence of Ibn Abbas about what severs the prayer. They mentioned a dog, a donkey and a woman. He said: What do you say about kids (young goats)? The Messenger of Allah ﷺ was performing prayer one day, when a kid came and wanted to pass in front of him. The Messenger of Allah ﷺ preceded it toward the Qiblah. (to tighten the space and prevent it from passing in front of him). (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے تاکہ اسے گزرنے سے روک دیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٩٨، ومصباح الزجاجة: ٣٤٤)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١١١ (٧٠٩)، مسند احمد (١/٢٤٧، ٢٩١، ٣٠٨، ٣٤٣) (صحیح) (حسن العرنی اور ابن عباس ؓ کے مابین انقطاع کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، صحیح ابی داو د: ٧٠٢ ، نیز مصباح الزجاجة، موطا امام مالک/ الجامعہ الاسلامیہ: ٣٤٦ )
954Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرے اس کو کہاں تک ہو سکے رو کے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، وَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يَمُرُّ، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے، اور اس سے قریب کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے لڑے ١ ؎ کیونکہ وہ شیطان ہے ٢ ؎۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abu Sa eed that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you performs prayer, let him pray facing towards a Sutrah, and let him get close to it, and not let anyone pass in front of him. If someone comes and wants to pass in front of him, let him fight him, for he is a Shaitan (satan): " (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مقاتلہ سے مراد دفع کرنا اور روکنا ہے، لیکن اسلحے کا استعمال کسی سے بھی منقول نہیں ہے۔ ٢ ؎: یعنی عزی نامی شیطان ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٥)، سنن ابی داود/الصلاة ١٠٨ (٦٩٧، ٦٩٨)، سنن النسائی/القبلة ٨ (٧٥٨)، (تحفة الأشراف: ٤١١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١٠ (٣٣)، مسند احمد (٣/٣٤، ٤٣، ٤٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٥ (١٤٥١) (حسن صحیح )
955Sunan Ibne-Majah

نمازی کے سامنے سے جو چیز گزرے اس کو کہاں تک ہو سکے رو کے۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَالْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ، وقَالَ الْمُنْكَدِرِيُّ: فَإِنَّ مَعَهُ الْعُزَّى.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی (شیطان) ہے ۔ حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you is performing prayer, he should not let anyone pass in front of him. If he insists then let him fight him, lor he has a Qarin (devil, companion) with him." (Sahih) (One of the narrators) AI, Munkadiri said: "He has al-Uzza with him."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٨ (٥٠٦)، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٨٦، ٨٩) (صحیح )
956Sunan Ibne-Majah

جو نماز پڑھے جبلہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح آڑے لیٹی ہوتی تھی۔

It was narrated from Aisha (RA) : "The Prophet ﷺ used to pray at night, and I was laying between him and the prayer direction, as a (body for a) funeral horizontally.": (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٤٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ١٠٨ (٣٨٢، ٣٨٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١١٢ (٧١٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٢٠ (١٦٦)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ١ (٢)، مسند احمد (٦/٤٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٧ (١٤٥٣) (صحیح )
957Sunan Ibne-Majah

جو نماز پڑھے جبلہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْزَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ: كَانَ فِرَاشُهَا بِحِيَالِ مَسْجَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ ﷺ کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔

It was narrated from Zainab bint Umm Salamah that her mother said that her bed was in front of the place where the Messenger of Allah ﷺ prostrated. (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٥ (٤١٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٢٢) (صحیح )
958Sunan Ibne-Majah

جو نماز پڑھے جبلہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِيمَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا بِحِذَائِهِ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ.

عبداللہ بن شداد ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی، اور بسا اوقات جب آپ سجدہ فرماتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے چھو جاتا۔

Mairnunah, the wile of the Prophet ﷺ said: "The Prophet ﷺ used to perform prayer when I was opposite him, and his garment would sometimes touch me when he prostrated." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٩ (٣٧٩)، ٢١ (٣٨١)، ٧ (٥١٧)، ١٠ (٥١٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٥١ (٥١٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٩١ (٦٥٦)، سنن النسائی/المساجد ٤٤ (٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٣٠، ٣٣٥، ٣٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠١ (١٤١٣) (صحیح )
959Sunan Ibne-Majah

جو نماز پڑھے جبلہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز حائل ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُتَحَدِّثِ وَالنَّائِمِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بات چیت کرنے والے، اور سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade performing prayer behind one who is engaged in conversation or one who is sleeping." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت تنزیہی ہے یعنی بہتر ہے کہ اس طرح نماز نہ ادا کی جائے، یا اس حدیث کا مفہوم یہ کہ مسجد وسیع اور جگہ بہت ہو لیکن خواہ مخواہ قصداً ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھے جو باتیں کر رہا ہو، تو ایسا کرنا درست نہیں ہے، ورنہ اوپر حدیث میں گزرا کہ ام المومنین عائشہ ؓ آپ ﷺ کے آگے سوئی ہوتیں، اور آپ ﷺ نماز پڑھتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٠٦ (٦٩٤)، (تحفة الأشراف: ٦٤٤٨) (حسن) (تراجع الا ٔلبانی: رقم: ٢٥١ )
960Sunan Ibne-Majah

امام سے قبل رکوع، سجدہ میں جانا منع ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ لَا نُبَادِرَ الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور (فرماتے) جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Prophet ﷺ used to teach us not to bow or prostrate before the Imam; when he says the Takbir then say the Takbir, and when he prostrates, you should prostrate." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ مقتدی کو ہر ایک رکن امام کے بعد کرنا چاہیے، امام کے ساتھ ساتھ یا امام سے پہلے یا امام کے بعد زیادہ دیر سے کرنا درست نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤٤٧) (صحیح )
961Sunan Ibne-Majah

امام سے قبل رکوع، سجدہ میں جانا منع ہے

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Does not the one who raises his head before the Imam fear that Allah may turn his head into the head of a donkey? "(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گدھے کی طرح اس کو بیوقوف بنا دے، اور آخرت میں وہ گدھے کی طرح اٹھے، بعضوں نے کہا کہ دنیا میں بھی گدھے کی طرح مسخ ہوسکتا ہے، اس لئے کہ یہ مسخ خاص ہے اور اس امت میں وہ ہوسکتا ہے، البتہ مسخ عام نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٥ (٤٢٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٧٦ (٦٢٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٩٢ (٥٨٢)، سنن النسائی/الإمامة ٣٨ (٨٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٥٣ (٦٩١)، مسند احمد (٢/٢٦٠، ٢٧١، ٤٢٥، ٤٥٦، ٤٦٩، ٤٧٢، ٥٠٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٢ (١٣٥٥) (صحیح )
962Sunan Ibne-Majah

امام سے قبل رکوع، سجدہ میں جانا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْدَارِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ، فَإِذَا رَكَعْتُ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعْتُ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدْتُ فَاسْجُدُوا، وَلَا أُلْفِيَنَّ رَجُلًا يَسْبِقُنِي إِلَى الرُّكُوعِ وَلَا إِلَى السُّجُودِ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا بدن بھاری ہوگیا ہے، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے ۔

It was narrated that Abu Musa said: "The Messenger of Allah ﷺ said: I have gained weight, so when I bow, then bow and when I stand up, then stand up, and when I prostrate, then prostrate. I should never find anyone preceding me in bowing or prostration. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٩٤، ومصباح الزجاجة: ٣٤٥) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دارم مجہول ہیں، ملاحظہ: الصحیحة: ١٧٢٥ )