جو لوگوں کا امام بنے تو وہ ہلکی نماز پڑھائے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: صَلَّى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْأَنْصَارِيُّ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَانْصَرَفَ رَجُلٌ مِنَّا، فَصَلَّى، فَأُخْبِرَ مُعَاذٌ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مُنَافِقٌ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ لَهُ مُعَاذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتُرِيدُ أَنْ تَكُونَ فَتَّانًا يَا مُعَاذُ، إِذَا صَلَّيْتَ بِالنَّاسِ فَاقْرَأْ ب: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ.
جابر ؓ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل ؓ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کردی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ ؓ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ ؓ کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو معاذ ؓ کی بات بتائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو والشمس وضحاها، سبح اسم ربک الأعلى والليل إذا يغشى اور اقرأ باسم ربك پڑھو ١ ؎۔
It was narrated that Jabir said: "Mu adh bin Jabal Al-Ansari led his companions in the Isha prayer and he made it long. A man among us went away and prayed by himself. Mu`adh was told about that and he said: He is a hypocrite. When the man heard about that, he went to the Messenger of Allah ﷺ and told him what Muadh had said to him. The Prophet ﷺ said: Do you want to be a cause of Fitnah (trial. tribulation), O Muadh? When you lead the people in prayer, recite "By the sun and its brightness," and "Glorify the Name of your Lord the Most High: and "By the night as it envelopes," and "Recite in the Name of your Lord. (Sahih)