Sunan Ibne-Majah 1002

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1002Sunan Ibne-Majah

ستونوں کے درمیان صف بنا کر نماز ادا کرنا

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ أَبُو طَالِبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْمُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُنْهَى أَنْ نَصُفَّ بَيْنَ السَّوَارِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا.

قرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے روکا جاتا تھا، اور سختی سے وہاں سے ہٹایا جاتا تھا ١ ؎۔

It was narrated from Muawiyah bin Qurrah that his father said: "We were forbidden to form a row between two pillars at the time of the Messenger of Allah ﷺ and we would be repelled from them forcefully. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: ستونوں (کھمبوں) کے بیچ میں صف باندھنے سے منع کئے جاتے تھے کیونکہ ان کے بیچ میں حائل ہونے کی وجہ سے صف ٹوٹ جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٨٥، ومصباح الزجاجة: ٣٦٠) (حسن صحیح) (سند میں ہارون بن مسلم مستور ہیں، اور ان سے تین ثقات نے روایت کی ہے، اس لئے اس سند کی شیخ البانی نے تحسین فرمائی ہے، اور شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣٥ ، صحیح ابی داود: ٦٧٧ ، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣٥ )