Sunan Ibne-Majah 1016

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1016Sunan Ibne-Majah

جو لہسن کھائے تو وہ مسجد کے قریب بھی نہ آئے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ شَيْئًا، فَلَا يَأْتِيَنَّ الْمَسْجِدَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو اس پودے (پیاز و لہسن) سے کچھ کھائے تو مسجد میں ہرگز نہ آئے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever eats anything from this plant, let him not come to the masjid.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ دوسرے نمازیوں کو اس کی بدبو سے ایذا پہنچے گی، اور تکلیف ہوگی، یا فرشتوں کو تکلیف ہوگی، تمباکو، سگریٹ، بیڑی اور حقہ وغیرہ لہسن یا پیاز سے بھی زیادہ سخت بدبو والی چیزیں ہیں، اس لئے اس کے کھانے اور پینے سے پیدا ہونے والی بدبو کا حکم بھی پیاز اور لہسن ہی کا ہونا چاہیے، بلکہ اس سے بھی سخت۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٩٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٦٠ (٨٥٣)، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦١)، سنن ابی داود/الأطعمة ٤١ (٣٨٢٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢١ (٢٠٩٧) (صحیح )