Sunan Ibne-Majah 1032

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1032Sunan Ibne-Majah

سردی یا گرمی کی وجہ سے کپڑوں پر سجدہ کا حکم

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْأَشْهَلِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ مُتَلَفِّفٌ بِهِ يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَيْهِ يَقِيهِ بَرْدَ الْحَصَى.

ثابت بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسجد) بنو عبدالاشہل میں نماز پڑھی، آپ اپنے جسم پہ ایک کمبل لپیٹے ہوئے تھے، کنکریوں کی ٹھنڈک سے بچنے کے لیے اپنا ہاتھ اس پر رکھتے تھے۔

It was narrated from ‘Abdullâh bin ‘Abdur-Rahmân bin Thâbit bin Sâmit, from his father, from his grandfathers that the Messenger of Allah ﷺ performed prayer among Banu ‘Abdul-Ashhal, wearing a cloak in which he was wrapped and putting his hands on it to protect them from the cold of the pebbles. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٦١، ومصباح الزجاجة: ٣٧٠) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل الأشہل ضعیف اور منکر الحدیث ہیں، اور امام بخاری نے تاریخ کبیر میں عبد الرحمن بن ثابت کے بارے میں فرمایا کہ ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ٥ /٢٦٦ و الضعفاء الصغیرلہ: ٦٩ )