Sunan Ibne-Majah 1089

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1089Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے روز غسل

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ.

ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed AI-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "Bath on Fridays is obligatory for every male who has reached the age of puberty." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کی ایک جماعت کے نزدیک جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے، اہل ظاہر کا یہی قول ہے، اور جمہور علماء کرام اس کو مستحب اور مسنون کہتے ہیں۔ شیخ الإسلام ابن تیمیہ نے فرمایا ہے کہ اگر آدمی کا جسم اور اس کا لباس صاف ستھرا ہو تو اس کے حق میں یہ غسل مسنون و مستحب ہے، اور جسم اور کپڑوں کے صاف نہ ہونے یا بدن میں بو موجود ہونے کی صورت میں یہ غسل واجب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٥٧)، الجمعة ٢ (٨٧٩)، ١٢ (٨٩٥)، الشہادات ١٨ (٢٦٦٥)، صحیح مسلم/الجمعة ١ (٨٤٦)، سنن ابی داود/الطہارة ١٢٩ (٣٤١)، سنن النسائی/الجمعة ٦ (١٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ٤١٦١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة ١ (٤)، مسند احمد (٣/٦) سنن الدارمی/الصلاة ١٩٠ (١٥٧٨) (صحیح )