عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ یا کسی بھی نماز سے ایک رکعت پا لی تو اس نے وہ نماز پا لی ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever catches one Rak ah of Friday prayer or other than it, then he has caught the prayer. (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المواقیت ٣٠ (٥٥٨) (صحیح )
ابوجعد ضمری ؓ (انہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دئیے، اس کے دل پہ مہر لگ گئی ١ ؎۔
It was narrated that Abu Jad Ad-Damri who was a Companion said that the Prophet ﷺ . said: "Whoever abandons Friday (prayer) three times, neglecting it, a seal will be placed over his heart." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا دل خیر اور ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم کردیا جائے گا۔ اس کے دل پر غفلت چھا جائے گی، اور عبادت کا ذوق و شوق جاتا رہے گا، اور بعض نے کہا: اس میں نفاق آجائے گا، اور ایمان کا نور جاتا رہے گا، نبی اکرم ﷺ نے پوری زندگی جمعہ کی نماز پابندی سے پڑھائی، اہل علم نے اس کے فرض عین ہونے پر اجماع کیا ہے، اس لیے فریضہ جمعہ کا ادا کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے تین جمعے بغیر کسی ضرورت کے چھوڑ دئیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پہ مہر لگا دے گا ۔
It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever abandons Friday (prayer) three times, for no necessary reason, Allah will place a seal over his heart. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ٢٣٦٣، ومصباح الزجاجة: ٤٠١)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة ٣ (١٣٧٣)، مسند احمد (٣/٣٣٢) (حسن صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سن لو! قریب ہے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک یا دو میل کے فاصلے پہ بکریوں کا ایک ریوڑ اکٹھا کرلے، وہاں گھاس ملنی مشکل ہوجائے تو دور چلا جائے، پھر جمعہ آجائے اور وہ واپس نہ آئے، اور نماز جمعہ میں شریک نہ ہو، پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، اور پھر جمعہ آئے اور وہ حاضر نہ ہو، بالآخر اس کے دل پہ مہر لگا دی جاتی ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "What if one of you were to take a flock of sheep and look for grass for them one or two rnlles away, but he cannot find any at that distance, so he goes further away? Then (the time for) Friday comes but he does not attend it, then (another) Friday comes but he does not attend it, and (another) Friday comes but he does not attend it, until Allah places a seal on his heart." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤١٤٨، ومصباح الزجاجة: ٤٠٢) (حسن) (سند میں معدی بن سلیمان ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث شاہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: ٧٣٣ )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے جمعہ جان بوجھ کر چھوڑ دیا، تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اور اگر ایک دینار نہ ہو سکے تو آدھا دینار ہی سہی ۔
It was narrated from Samurah bin Jundab that the Prophet ﷺ said: "Whoever abandons Friday deliberately, let him give a Dinar in charity, and if he cannot afford that, then (let him give) half a Dinar." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجمعة ٣ (١٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢١١ (١٠٥٣)، مسند احمد (٥/٨، ١٤) (ضعیف) (عقیقہ والی حدیث کے علاوہ حسن بصری کا سماع سمرہ بن جندب ؓ سے ثابت نہیں ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے، اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
It was narrated that when "Abdullah bin Umar had prayed Friday, he went and prayed two Rakah in his house. Then he said: "The Messenger of Allah ﷺ used to do that." (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If you pray after Friday, then pray four (Rakah).(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ کی اوپر والی احادیث میں جمعہ کے بعد دو رکعت سنت مذکور ہے اور اسی پر خود ان کا عمل رہا ہے، اور اس حدیث میں چار رکعت سنت کا ذکر ہے، تطبیق یوں ہوگی کہ آدمی مسجد میں پڑھے تو چار رکعت اور گھر جا کر پڑھے تو دو رکعت پڑھ لے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے مسجد میں حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ forbade sitting in circles in the Masjid on Fridays before the prayer. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جمعہ کے دن خطبہ سننا اور خاموش رہنا ضروری ہے، اور جب لوگ حلقہ بنا کر بیٹھیں گے تو خواہ مخواہ باتیں کریں گے، اس لئے حلقہ بنا کر بیٹھنے سے منع کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٠ (١٠٧٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢)، سنن النسائی/المساجد ٢٢ (٧١٥)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٩، ٢١٢) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Ihtibii on Fridays, meaning, when the Imam is delivering the sermon." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: احتباء: یعنی گوٹ مار کر بیٹھنے کی صورت یہ ہے کہ دونوں ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے باندھ کر کھڑا رکھا جائے، اور سرین (چوتڑ) پر بیٹھا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٠٣، ومصباح الزجاجة: ٤٠٤) (حسن) (اس حدیث کی سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ان کے شیخ مجہول ہیں، لیکن معاذ بن انس کے شاہد سے (جو ابوداود، اور ترمذی میں ہے، اور جس کی ترمذی نے تحسین اور ابن خزیمہ نے تصحیح کی ہے) تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠١٧ )
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صرف ایک ہی مؤذن تھے ١ ؎، جب آپ ﷺ (خطبہ کے لیے) نکلتے تو وہ اذان دیتے، اور جب منبر سے اترتے تو اقامت کہتے، ابوبکرو عمر ؓ کے زمانہ میں بھی ایسا ہی تھا، جب عثمان ؓ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہوگئے، تو انہوں نے زوراء نامی ٢ ؎ بازار میں ایک مکان پر، تیسری اذان کا اضافہ کردیا، چناچہ جب عثمان ؓ (خطبہ دینے کے لیے) نکلتے تو مؤذن (دوبارہ) اذان دیتا، اور جب منبر سے اترتے تو تکبیر کہتا ٣ ؎۔
It was narrated that Saib bin Yazid said: "The Messenger of Allah ﷺ had only one Muadhdhin. When he came out he would give the AdMIl and when he came down (from the pulpit) he would give the ludmal. Abu Bakr (RA) and Umar did likewise, but when "Uthman (became caliph) the numbers of people had increased, he added the third call from atop a house in the marketplace that was called Zawra. When he came out (the Muadh-dhill) would call the Adhiin, and when he came down from the pulpit, he would call the Iqamah. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جمعہ کے دن کے لئے ایک ہی مؤذن تھا، اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ ابن ام مکتوم ؓ بھی آپ ﷺ کے مؤذن تھے، کیونکہ وہ صرف فجر کی اذان دیا کرتے تھے، بلال ؓ کی اذان کے بعد، اور ابو محذورہ ؓ مکہ میں اذان دیتے تھے، اور سعد القرظ قبا میں اذان دیتے تھے، اور حارث صدائی کبھی کبھی سفر وغیرہ میں اذان دیا کرتے تھے، انہوں نے صرف اذان سیکھی تھی۔ ٢ ؎: زوراء: مدینہ کے ایک بازار کا نام تھا۔ ٣ ؎: تکبیر کو شامل کر کے یہ تیسری اذان ہوئی، اور یہ ترتیب میں پہلی اذان ہے جو خلیفہ راشد عثمان ؓ کی سنت ہے، دوسری اذان اس وقت ہوگی جب امام خطبہ دینے کے لئے منبر پر بیٹھے گا، اور تیسری اذان، اقامت (تکبیر) ہے، اگر کوئی اذان اور اقامت ہی پر اکتفا کرے تو اس نے نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ کے سنت کی اتباع کی۔
ثابت کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب منبر پر کھڑے ہوتے تو آپ کے صحابہ اپنا چہرہ آپ ﷺ کی جانب کرلیتے۔
It was narrated from Adi bin Thabit that his father said: "When the Prophet ﷺ stood on the pulpit, his Companions would tum to face him: (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٧٠، ومصباح الزجاجة: ٤٠٥) (صحیح) (اس کی سند میں عدی کے والد ثابت مجہول الحال ہیں، ان سے عدی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، ثابت صحابی نہیں ہیں، اس لئے یہ حدیث مرسل ہے، مجہول تابعی ثابت نے اس حدیث کو رسول اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، واسطہ غیر معلوم ہے اس لئے انقطاع کی وجہ سے یہ مرسل ہے، اور ابان بن تغلب کا ذکر سند میں غلط ہے، وہ ابان بن عبداللہ البجلی ہے، نیز حدیث کے شواہد ہیں، اس لئے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال ٤ /٣٨٥، و مصباح الزجاجة: ٤٠٥ وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٠٨٠ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان بندہ نماز پڑھتا ہوا اسے پالے، اور اس وقت اللہ تعالیٰ سے کسی بھلائی کا سوال کرے، تو اللہ اسے عطا فرماتا ہے ، اور آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارہ سے اس وقت کو بہت ہی مختصر بتایا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: On Friday there is a time when no Muslim man happens to stand in prayer at that time, asking Allah for good things, but He will give that to him." And he gestured with his hand to indicate how short that time is. (Sahih)
عمرو بن عوف مزنی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت (گھڑی) ہے کہ اس میں بندہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگے اس کی دعا قبول ہوگی، صحابہ کرام ؓ نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کے لیے اقامت کہی جانے سے لے کر اس سے فراغت تک ۔
Kathir bin Abdullah bin , Amr bin Awl Al-Muzani narrated from his father, that his grandfather said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: On Friday there is a time of the day during which no person asks Allah for something but He will give him what he asks for:" It was said: When is that time? He said: When the Iqamah for prayer (is called), until the prayer ends. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٧ (٤٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٣) (ضعیف جدا) (اس حدیث کی سند میں کثیر بن عبد اللہ متروک ہے )
عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا: ہم اللہ کی کتاب (قرآن) میں پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک ایسی ساعت (گھڑی) ہے کہ جو مومن بندہ نماز پڑھتا ہوا اس کو پالے اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو وہ اس کی حاجت پوری کرے گا، عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف اشارہ کیا کہ وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے میں نے کہا: آپ ﷺ نے سچ کہا، وہ ایک ساعت یا ایک ساعت کا کچھ حصہ ہے، میں نے پوچھا: وہ کون سی ساعت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دن کی آخری ساعت ہے میں نے کہا: یہ تو نماز کی ساعت نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں! بیشک مومن بندہ جب نماز پڑھتا ہے، پھر نماز ہی کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے، تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ١ ؎۔
. It was narrated that, Abdullah bin Salam said: "I said, when the Messenger of Allah ﷺ SAW was sitting: We find in the Book of Allah that on Friday there is an hour when no believing slave performs prayer and asks Allah for anything at that time, but Allah will fulfill his need. Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW pointed to me, saying: Or some part of an hour: I said: You are right, or some part of an hour.’ I said: What time is that? He said: It is the last hours of the day.’ I said: It is not the time of the prayer? He said: Yes (it is so), when a believing slave performs prayer and then sits with nothing but the prayer keeping him, he is still in a state of prayer:’ " (Hasan).
Notes · وضاحت
١ ؎: جمعہ کے دن دعا کی قبولیت کی ساعت کے سلسلہ میں متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نماز جمعہ کی اقامت سے فراغت نماز تک ہے، اور بعض سے پتہ چلتا ہے اخیر دن میں ہے، لیکن سب سے زیادہ صحیح حدیث اس باب میں ابوموسی اشعری ؓ کی ہے، جو صحیح مسلم میں ہے کہ یہ ساعت اس وقت ہے جب امام خطبہ کے لئے منبر پر بیٹھے نماز کی تکبیر ہونے تک ابن حجر فرماتے ہیں: عبداللہ بن سلام ؓ کا قول کہ وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے اس باب میں سب سے زیادہ مشہور ہے، اور ابوموسی اشعری ؓ کی روایت سب سے زیادہ صحیح ہے، واللہ اعلم، اس گھڑی کو پوشیدہ رکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ آدمی اس گھڑی کی تلاش میں پورے دن عبادت و دعا میں مشغول و منہمک رہے، والعلم عند الله
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٢، ومصباح الزجاجة: ٤٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٥٠، ٤٥١) (حسن صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص روزانہ پابندی کے ساتھ بارہ رکعات سنن موکدہ پڑھا کرے، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد، دو رکعت فجر سے پہلے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever persists in performing twelve Rak ah from the Sunnah, a house will be built for him in Paradise: four before the Zuhr, two Rakah after Zuhr, two Rakah after Maghrib. Two Rakah after the Ishd and two Rakah before Farj:" (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: فرض نماز سے پہلے یا اس کے بعد جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جس پر نبی اکرم ﷺ نے مداومت فرمائی ہے، بعض روایتوں میں ان کی تعداد دس بیان کی گئی ہے، اور بعض میں بارہ، اور بعض میں چودہ، انہیں سنن مؤکدہ، یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں کی ہے، انہیں نوافل یا غیر موکدہ کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مزید تقرب کے لیے نوافل یا سنن غیر موکدہ کی بھی بڑی اہمیت ہے، بہتر یہ کہ یہ سنتیں گھر میں ادا کی جائیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا یہی معمول تھا، ویسے مسجد میں بھی ادا کرنا جائز اور درست ہے۔
ام حبیبہ بنت ابی سفیان ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں ١ ؎، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔
It was narrated from Umm Habibah bint Abi Sufyiin that the Prophet ﷺ said: "Whoever performs twelve Rakah (of Sunnah) during the day and night. a house will be built for him in Paradise." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وہی ١٢ رکعتیں ہیں جن کا ذکر ام المومنین عائشہ ؓ کی اوپر کی حدیث میں ہوا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا: دو رکعت فجر سے پہلے، دو رکعت ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، غالباً آپ نے یہ بھی فرمایا: دو رکعت عصر سے پہلے، اور دو رکعت مغرب کے بعد، اور یہ بھی فرمایا: دو رکعت عشاء کے بعد ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: Whoever performs twelve Rakah (of Sunnah) each day a house will be built for him in Paradise: two Rakah before Fajr, two Rak’ah before the Zuhr, two Rakah after Zuhr, two Rakah, I think he said, before ‘Asr, two Rakah after Maghrib, And I think he said two Rakah after the ‘Isha’.(Daif).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٧٤٧، ومصباح الزجاجة: ٤٠٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل ٥٧ (١٨١٢) مختصرا علی قولہ من صلی فی یوم ۔۔۔ (ضعیف) (اس کی سند محمد بن سلیمان بن اصبہانی ضعیف ہیں، لیکن واربع رکعات قبل الظہر ظہر سے پہلے چار رکعت کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے ملاحظہ ہو: ٢٣٤٧ )