جمعہ کے روز اذان
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: مَا كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ إِذَا خَرَجَ أَذَّنَ، وَإِذَا نَزَلَ أَقَام، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ كَذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ، وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى دَارٍ فِي السُّوقِ يُقَالُ لَهَا الزَّوْرَاءُ، فَإِذَا خَرَجَ أَذَّنَ وَإِذَا نَزَلَ أَقَامَ.
سائب بن یزید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صرف ایک ہی مؤذن تھے ١ ؎، جب آپ ﷺ (خطبہ کے لیے) نکلتے تو وہ اذان دیتے، اور جب منبر سے اترتے تو اقامت کہتے، ابوبکرو عمر ؓ کے زمانہ میں بھی ایسا ہی تھا، جب عثمان ؓ خلیفہ ہوئے اور لوگ زیادہ ہوگئے، تو انہوں نے زوراء نامی ٢ ؎ بازار میں ایک مکان پر، تیسری اذان کا اضافہ کردیا، چناچہ جب عثمان ؓ (خطبہ دینے کے لیے) نکلتے تو مؤذن (دوبارہ) اذان دیتا، اور جب منبر سے اترتے تو تکبیر کہتا ٣ ؎۔
It was narrated that Saib bin Yazid said: "The Messenger of Allah ﷺ had only one Muadhdhin. When he came out he would give the AdMIl and when he came down (from the pulpit) he would give the ludmal. Abu Bakr (RA) and Umar did likewise, but when "Uthman (became caliph) the numbers of people had increased, he added the third call from atop a house in the marketplace that was called Zawra. When he came out (the Muadh-dhill) would call the Adhiin, and when he came down from the pulpit, he would call the Iqamah. (Sahih)