Sunan Ibne-Majah 1134

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1134Sunan Ibne-Majah

جمعہ کے روز نماز سے قبل حلقہ بنا کر بیٹھنا اور جب امام خطبہ دے رہا ہو تو گوٹ مار کر بیٹھنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْالِاحْتِبَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، يَعْنِي: وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Ihtibii on Fridays, meaning, when the Imam is delivering the sermon." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: احتباء: یعنی گوٹ مار کر بیٹھنے کی صورت یہ ہے کہ دونوں ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے باندھ کر کھڑا رکھا جائے، اور سرین (چوتڑ) پر بیٹھا جائے، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے، اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٠٣، ومصباح الزجاجة: ٤٠٤) (حسن) (اس حدیث کی سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ان کے شیخ مجہول ہیں، لیکن معاذ بن انس کے شاہد سے (جو ابوداود، اور ترمذی میں ہے، اور جس کی ترمذی نے تحسین اور ابن خزیمہ نے تصحیح کی ہے) تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١٠١٧ )