اقامت نماز اور اس کا طریقہ

Sunan Ibne-Majah · Chapter 7 · 630 hadiths · Page 18 of 32

1143Sunan Ibne-Majah

فجر سے پہلے دو رکعت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب صبح صادق روشن ہوجاتی تو دو رکعت پڑھتے۔

It was narrated from Ibn "Umar that when the dawn illuminated, the Prophet ﷺ wouid pray two Rakah. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٣٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦١٨)، التہجد ٢٩ (١١٧٣)، ٣٤ (١١٨١)، صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٣)، سنن النسائی/المواقیت ٣٨ (٥٨٤)، قیام اللیل ٥٧ (١٧٦١، ١٧٦٢)، ٦٠ (١٧٦٦) (صحیح )
1144Sunan Ibne-Majah

فجر سے پہلے دو رکعت

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے، گویا کہ آپ اقامت سن رہے ہوں ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ used to pray two Rakah before the morning (prayer), as if the Adhan were in his ears. would pray them briefly). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اقامت کے وقت جیسے جلدی ہوتی ہے، ویسی جلدی آپ ﷺ ان رکعتوں کے ادا کرنے میں کرتے، مطلب یہ ہے کہ ان رکعتوں میں طول نہ کرتے، مختصر سورتیں پڑھتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ٢ (٩٩٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٢ (٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١، ٤٥، ٧٨، ٨٨، ١٢٦) (صحیح )
1145Sunan Ibne-Majah

فجر سے پہلے دو رکعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا نُودِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الصَّلَاةِ.

ام المؤمنین حفصہ بنت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب نماز فجر کی نماز کی خبر دے دی جاتی تو آپ نماز کے لیے اٹھنے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔

It was narrated from Hafsah bint Umar that when the call for the Subh. prayer was given, the Messenger of Allah ﷺ would pray two short Rakuh before going to the prayer. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦١٨)، التہجد ٢٩ (١١٧٣)، ٣٤ (١١٨١)، صحیح مسلم/صلاة المسافرین ١٦ (٧٣٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٣ (٤٣٣)، سنن النسائی/المواقیت ٣٨ (٥٨٤)، قیام اللیل ٥٧ (١٧٦١)، ٦٠ (١٧٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦، ١٧، ١٤١، ٦/٢٨٣، ٢٨٣، ٢٨٤، ٢٨٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٦ (١٤٨٣، ١٤٨٤) (صحیح )
1146Sunan Ibne-Majah

فجر سے پہلے دو رکعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا تَوَضَّأَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب وضو کرتے تو دو رکعت پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکلتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When he performed ablution the Prophet ﷺ would pray two (short) Rakah and then go out for the prayer."(Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٣٧، ومصباح الزجاجة: ٤٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٧، ٨٧، ٩٨، ١١١، ١١٥) (صحیح) (سند میں ابو اسحاق السبیعی مدلس و مختلط راوی ہیں، لیکن اختلاط سے پہلے ان سے ابو الاحوص نے روایت کی ہے، چناچہ امام بخاری اور امام مسلم نے ابو الاحوص کے واسطہ سے روایت فرمائی ہے )
1147Sunan Ibne-Majah

فجر سے پہلے دو رکعت

حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْإِقَامَةِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اقامت کے وقت دو رکعت پڑھتے تھے۔

It was narrated that Ali said: "The Prophet ﷺ used to perform two Rakah at the time of the lqamah" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٠٥٤، ومصباح الزجاجة: ٤٠٩، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٧٧، ٨٧، ٩٨، ١١١، ١١٥) (ضعیف) (حارث الاعور ضعیف اور شریک سئی الحفظ ہیں )
1148Sunan Ibne-Majah

فجر کی سنتوں میں کو نسی وسور تیں پڑھے ؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْيَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھی۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that in the two Rakah before the Fair, the Prophet ﷺ used to recite: "Say: O you disbelievers, and: "Say: Allah is One:, (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٤ (٧٢٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٢ (١٢٥٦)، سنن النسائی/الافتتاح ٣٩ (٩٤٦)، (تحفةالأشراف: ١٣٤٣٨) (صحیح )
1149Sunan Ibne-Majah

فجر کی سنتوں میں کو نسی وسور تیں پڑھے ؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ، الْوَاسِطِيَّانِ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فَكَانَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک مہینہ تک غور سے دیکھا ہے کہ آپ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں: قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھا کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "I watched the Prophet ﷺ for a month, and in the two Rakah before Fajr he used to recite "Say: O you disbelievers and: "Say: Allah is One. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١٩٢ (٤١٧)، سنن النسائی/الافتتاح ٦٨ (٩٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٣٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٤، ٩٥، ٩٩) (صحیح )
1150Sunan Ibne-Majah

فجر کی سنتوں میں کو نسی وسور تیں پڑھے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَكَانَ يَقُولُ: نِعْمَ، السُّورَتَانِ هُمَا يُقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک: قل هو الله أحد دوسری قل يا أيها الکافرون۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ .B.U.H used to perform two Rakah before Fajr, and he used to say: The best two Surah to recite in the two Rakah of Fajr are: "Say: Allah is one" and "Say: O you disbelievers. " (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٢١٦، ومصباح الزجاجة: ٤١٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٢ (٦١٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٠ (١٢٥٥)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٠ (٩٤٧)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٥ (٢٩)، مسند احمد (٦/١٦٥، ١٨٣، ١٨٦، ٢٣٥) سنن الدارمی/الصلا ة ١٤٦ (١٤٨٢) (صحیح )
1151Sunan Ibne-Majah

جب تکبیر ہو تو اس وقت اور کوئی نماز نہیں سوائے فرض نماز کے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ. حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں ہوتی ۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی کے ہم مثل حدیث مروی ہے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Once the Iqamah has been called, there should be no prayer but the obligatory one." (Sahih) Another chain with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کے لیے تکبیر ہوجائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں، وہ سنت موکدہ ہی کیوں نہ ہوں، بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ اور الگ کیا ہے، لیکن یہ استثناء صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے، مزید وارد ہے قيل: يا رسول الله! ولا رکعتي الفجر؟ قال: ولا رکعتي الفجر اس کی تخریج ابن عدی نے یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے، اور اس کی سند کو حسن کہا ہے، اور ابوہریرہ ؓ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے، اور جس میں إلا رکعتي الفجر کا اضافہ ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں هذه الزيادة لا أصل لها یعنی یہ اضافہ بےبنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔ امام ابن ماجہ نے ایک تیسری سند سے مذکورہ روایت کی مثل بیان کیا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٤ (١٢٦٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٦ (٤٢١)، سنن النسائی/الإمامة ٦٠ (٨٦٦، ٨٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٣١، ٤٥٥، ٥١٧، ٥٣١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٩ (١٤٨٨) (صحیح )
1152Sunan Ibne-Majah

جب تکبیر ہو تو اس وقت اور کوئی نماز نہیں سوائے فرض نماز کے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَى رَجُلًا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ لَهُ: بِأَيِّ صَلَاتَيْكَ اعْتَدَدْتَ.

عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز فجر سے پہلے دو رکعت پڑھ رہا تھا، اس وقت آپ فرض پڑھ رہے تھے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اپنی دونوں نماز میں سے کس نماز کا تم نے اعتبار کیا؟ ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Sarjis that the Messenger of Allah ﷺ SAW saw a man performing the two Rakah belore the morning prayer while he himself was performing prayer. When he had finished praying he said to him: "Which of your two prayers did you intend to be counted (i.e. accepted)?" (Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی وہ جو تم نے اکیلے پڑھی یا وہ جو امام کے ساتھ پڑھی، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جب امام نماز کے لئے کھڑا ہو، تو اب فرض نماز کے علاوہ دوسری نماز نہ پڑھنی چاہیے، چاہے وہ فجر کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٤ (١٢٦٥)، سنن النسائی/الإمامة ٦١ (٨٦٩)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨٢) (صحیح )
1153Sunan Ibne-Majah

جب تکبیر ہو تو اس وقت اور کوئی نماز نہیں سوائے فرض نماز کے

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ، وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَكَلَّمَهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَحَطْنَا بِهِ نَقُولُ لَهُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: قَالَ لِي: يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ أَرْبَعًا.

عبداللہ بن مالک بن بحینہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا، اور نماز فجر کے لیے اقامت کہی جا رہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے گرد یہ پوچھنے کے لیے جمع ہوگئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: قریب ہے کہ اب تم میں سے کوئی فجر کی نماز چار رکعت پڑھے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Malik bin Buhainah said: "The Prophet ﷺ passed by a man who was praying when the Iqiimah for Subh prayer had been called, and he said something to him, I do not know what he said. When he finished, we surrounded the man and asked him: What did the Messenger of Allah ﷺ say to you? He said: He said to me: "Soon one of you will pray Fajr with four Rakah. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: فجر کی چار رکعت پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اقامت کے بعد وہ دو رکعت سنت پڑھتا ہے، جبکہ وہ فرض نماز کا محل ہے، گویا کہ اس نے فرض کو چار رکعت پڑھ ڈالا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٨ (٦٦٣)، صحیح مسلم/المسافرین ٩ (٧١١)، سنن النسائی/الإمامة ٦٠ (٨٦٨)، (تحفة الأشراف: ٩١٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٥، ٣٤٦)، دی/الصلاة ١٤٩ (١٤٩٠) (صحیح )
1154Sunan Ibne-Majah

جس کی فجر کی سنتیں فوت ہوجائیں تو وہ کب ان کی قضاء کرے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْقَيْسِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَاةَ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

قیس بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو نماز فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا نماز فجر دو بار پڑھ رہے ہو؟ ، اس شخص نے کہا: میں نماز فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ١ ؎۔

It was narrated that Qais bin Amr said: "The Prophet ﷺ saw a man praying two Rakah after the Subh prayer and said, Is the Subh prayer to be offered twice? The man said to him: I did not pray the two Rakah before it, so I prayed them (now). The Messenger of Allah ﷺ remained silent." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٥ (١٢٦٧، ١٢٦٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٩٧ (٤٢٢)، (تحفة الأشراف: ١١١٠٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٤٧) (صحیح )
1155Sunan Ibne-Majah

جس کی فجر کی سنتیں فوت ہوجائیں تو وہ کب ان کی قضاء کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضاء سورج نکلنے کے بعد کی۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ slept and missed the two Rakah before Fajr, so he made them up after the sun had risen. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت کی قضا سورج نکلنے کے بعد بھی جائز ہے، یہی ثوری، احمد، اسحاق، اور ابن مبارک کا مذہب ہے، امام محمد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک زوال تک ان کی قضا پڑھ لینا بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٤٦١، ومصباح الزجاجة: ٤١١) (صحیح )
1156Sunan Ibne-Majah

ظہر سے قبل چار سنتیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي إِلَى عَائِشَةَ، أَيُّ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟، قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ، وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ.

قابوس اپنے والد (ابوظبیان) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس (یہ پوچھنے کے لیے) بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ (ان سنتوں میں سے) کس سنت پر مداومت پسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، ان میں قیام لمبا، اور رکوع و سجود اچھی طرح کرتے تھے۔

It was narrated from Qabus that his father said: "My father sent word to Aisha (RA) , asking which prayer the Prophet ﷺ most liked to perform regularly. She said: He used to perform four Rakah before the Zuhr, in which he would stand for a long time and bow and prostrate perfectly. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٠، ومصباح الزجاجة: ٤١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣) (ضعیف) (اس کی سند میں قابوس بن ابی ظبیان ضعیف ہیں، ابو ظبیان حصین بن جندب تابعی ہیں، انہوں نے جو واسطہ ذکر کیا ہے، مبہم ہے، ملاحظہ ہو: الترغیب و الترہیب للمنذری ١ / ٤٠٠ )
1157Sunan Ibne-Majah

ظہر سے قبل چار سنتیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ، وَقَالَ: إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ.

ابوایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے، اور فرماتے: سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔

It was narrated from Abu Ayyub that the Prophet ﷺ used to perform four Rakah before the Zuhr when the sun had passed its zenith. and he did not separate them with a Taslim. He said, "The gates of heaven are opened when the sun passes its zenith." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٦ (١٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ٣٤٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤١٧٥، ٤٢٠) (صحیح) (حدیث میں وارد لفظ لا يفصل بينهن بتسليم منکر اور ضعیف ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ١٢٥ )
1158Sunan Ibne-Majah

جس کی ظہر سے پہلے کی سنتیں فوت ہو جوئیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا فَاتَتْهُ الْأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ، صَلَّاهَا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا قَيْسٌ، عَنْ شُعْبَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ظہر سے پہلے چار رکعتیں فوت ہوجاتیں تو آپ ان کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتوں کے بعد پڑھ لیتے۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع نے شعبہ سے روایت کی ہے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "If the Messenger of Allah ﷺ missed the four Rak ah before the Zuhr, he would perform them after the two Rakah which come after the Zuhr," (Daif) Abu Abdullah (Ibn Majah): No one narrated it except Qais on the authority of Shubah

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٠١ (٤٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٢٠٨) (ضعیف) (اس باب میں صحیح حدیث کریب کی ہے، جو ام سلمہ اور عائشہ ؓ سے مروی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٢٠٨ )
1159Sunan Ibne-Majah

جس کی ظہر کے بعد دو رکعتیں فوت ہوجائیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ، فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّهْرِ، وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا، وَكَثُرَ عِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ، وَكَانَ قَدْ أَهَمَّهُ شَأْنُهُمْ إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِهِ، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ.

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ ؓ نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ ؓ سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں نماز ظہر کے لیے وضو کر رہے تھے، اور آپ ﷺ نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے، آپ ﷺ عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے، پھر آپ میرے گھر میں داخل ہوئے، اور دو رکعت پڑھی، اور فرمایا: صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کردیا تھا، اب نماز عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں ۔

It was narrated that Abdullah bin Harith said: "Muawiyah sent word to Umm Salamah, and I went with his envoy who put the question to Umm Salamah. She said: While the Messenger of Allah ﷺ was performing ablution for the Zuhr in my house and he had sent a Sai the Muhajirin gathered around him in large numbers, and he was busy dealing with them. When a knock on the door came, he went out and performed the Zuhr, then he sat and distributed what had been brought to him. She said: He continued doing that until the Asr. Then he came into my house and performed two Rakah. Then he said: "The matter of the sa; kept me from praying them after Zuhr, so I prayed them after Asr." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٧١ ومصباح الزجاجة: ٤١٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/السہو ٨ (١٢٣٣)، المغازي ٦٩ (٤٣٧٠)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٤ (٨٣٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٨ (١٢٧٣)، سنن النسائی/المواقیت ٣٥ (٥٨٠)، مسند احمد (٦/٣٠٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٣ (١٤٧٦) (منکر) (یزید بن ابی زیاد القرشی الہاشمی ضعیف ہیں، بڑھاپے کی وجہ سے حافظہ میں فرق آگیا تھا، اور تلقین قبول کرنے لگے تھے، نیز شیعہ تھے، ابن حجر کے الفاظ ہیں: ضعيف كبر فتغير وصار يتلقن وکان شيعياً (خت م ٤ ) تہذیب الکمال ٣٢؍ ١٤٠ ، والتقریب)، بخاری نے تعلیقاً اور مسلم نے دوسرے راوی کے ساتھ ان سے حدیث روایت کی ہے، صحیحین وغیرہ میں دوسرے سیاق کے ساتھ یہ حدیث موجود ہے، اوپر کی تخریج ملاحظہ ہو )
1160Sunan Ibne-Majah

ظہر سے پہلے اور بعد چار چار سنتیں پڑھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ.

ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا ۔

It was narrated from Umm Habibah that the Prophet ﷺ said: "Whoever prays four Rakah before the Zuhr and four afterwards, Allah will forbid him to the Fire." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٠١ (٤٢٧)، سنن النسائی/قیام اللیل ٥٧ (١٨١٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٥٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٦ (١٧٦٩)، مسند احمد (٦/٣٢٦) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٣٧٦ )
1161Sunan Ibne-Majah

دن میں جو نو افل مستحب میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَأَلْنَاعَلِيًّا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا اسْتَطَعْنَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا صَلَّى الْفَجْرَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ بِمِقْدَارِهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَا هُنَا، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمُؤْمِنِينَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَتِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، وَقَلّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا، قَالَ وَكِيعٌ: زَادَ فِيهِ أَبِي، فَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَاق، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَذَا ذَهَبًا.

عاصم بن ضمرہ سلولی کہتے ہیں کہ ہم نے علی ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے دن کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم ان کو ادا نہ کرسکو گے، ہم نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے، ہم ان میں سے جتنی ادا کرسکیں گے اتنی لے لیں گے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ فجر پڑھنے کے بعد رکے رہتے یہاں تک کہ جب سورج مشرق (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا کہ عصر کے وقت مغرب (پچھم) کی جانب سے ہوتا ہے تو کھڑے ہوتے اور دو رکعت پڑھتے، ١ ؎ پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ جب سورج (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب (پچھم) کی طرف سے بلند ہوتا ہے، تو آپ کھڑے ہوتے اور چار رکعت پڑھتے، ٢ ؎ اور جب سورج ڈھل جاتا تو نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور چار رکعت عصر سے پہلے جن میں ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے۔ علی ؓ نے کہا: یہ سب سولہ رکعتیں ہوئیں جو نبی اکرم ﷺ دن میں بطور نفل پڑھتے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جو پابندی کے ساتھ انہیں پڑھتے رہیں۔ راوی حدیث وکیع کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابواسحاق سے کہا کہ اے ابواسحاق! اگر اس حدیث کے بدلے مجھے تمہاری اس مسجد بھر سونا ملتا تو میں پسند نہیں کرتا۔

It was narrated that Asim bin Damrah As-Saluli said: "We asked Ali about the voluntary (prayer) of Allahs Messenger ﷺ during the day. He said: You will not be able: We said: Inform us of it, we will do what we can of it? So he said: When he prayed the Fajr he would delay praying any more. When the sun appeared over there (west) - like it appears here, meaning in the direction of the east, about the amount for the Asr prayer from there, meaning in the direction of the west, meaning before the Maghrib - he would stand and perform two RakalPI then he would delay praying until the sun appeared over there (west), meaning in the direction of the east, about the amount of the Zuhr prayer from there, then he would stand and perform four . And, four before the Zuhr when the sun passed the zenith, and two Rakah after it, and, four before the Asr, separating between every two Rakah with Taslim upon the angels that are close (to Allah), the Prophets, and those who follow them among the Muslims and the believers:" Ali said: "That is sixteen Rakah of voluntary prayer which Allahs Messenger ﷺ performed during the day. And there are very few who offer them regularly." (Hasan) Waki said: "My father added: Habib bin Abu Thabit said: O Abu Ishaq, this Masjid filled with gold would not be dearer to me than this Hadith of yours:"

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اشراق کی نماز ہوتی۔ ٢ ؎: یہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣٠١ (٥٩٨، ٥٩٩)، سنن النسائی/الإمامة ٦٥ (٨٧٥، ٨٧٦)، (تحفةالأشراف: ١٠١٣٧)، مسند احمد (١/٨٥) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٢٣٧ )
1162Sunan Ibne-Majah

مغرب سے قبل دو رکعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: اس کے لیے جو چاہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: Between every two Adhans there is a prayer. He said it three times, and on the third time he said, For those who wish. (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت کے درمیان نفلی نماز ہے، اور یہ نفل ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان ہے، اس پر صحابہ کرام ؓ کا عمل ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤ (٦٢٤)، ١٦ (٦٢٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٦ (٨٣٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢ (١٨٥)، سنن النسائی/الاذان ٣٩ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٥٤، ٥٦، ٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥ (١٤٨٠) (صحیح )