انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابوالقاسم! آپ ﷺ اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔
It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) was in Baqi, and a man called out to another man: O Abul- Qasim! The Messenger of Allah( ﷺ saw) turned to him, and he said: I didnt mean you. The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Call yourselves by my name but do not call yourselves by my Kunyah.(Sahih)
حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے صہیب ؓ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Hamzah bin Suhaib that Umar said to Suhaib: "Why are you called Abu Yahya when you do not have a son?” He said, ‘The Messenger of Allah( ﷺ saw) gave me the Kunya of Abu Yahya. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اولاد ہونے سے پہلے بھی آدمی کنیت رکھ سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٦) (حسن) (سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہے، لیکن عمر ؓ کے ابوداود کے شاہد سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کی کنیت رکھی، صرف میں ہی باقی ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ام عبداللہ ہو ۔
It was narrated from Aisha (RA) that she said narrated to the Prophet(saw) "All of your wives have a Kunyah except me." He said: "You are Umm Abdullah." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ٧٨ (٤٩٧٠) (صحیح )
ابوجبیرہ بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ ولا تنابزوا بالألقاب ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ جب ہمارے پاس (مدینہ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے دو دو، تین تین نام تھے، بسا اوقات نبی اکرم ﷺ انہیں ان کا کوئی ایک نام لے کر پکارتے، تو آپ سے عرض کیا جاتا: اللہ کے رسول! فلاں شخص فلاں نام سے غصہ ہوتا ہے، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ولا تنابزوا بالألقاب کسی کو برے القاب سے نہ پکارو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Jabirah bin Dahhak said: (Allahs saying) "Nor insult one another by nicknames." was revealed concerning us, the Ansar. When the Prophet(saw) came to us, a man among us would have two or three names, and the Prophet(saw) might call him by one of those names, only to be told: "O Messenger of Allah, he does not like that name." Then: "Nor insult one another by nicknames." was revealed." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی برے القاب جن سے آدمی ناخوش ہو، اس سے مت پکارو کیونکہ یہ اپنے مسلمان بھائی کو ایذا دینا ہے، بعضوں نے کہا یہ آیت صفیہ ؓ کے بارے میں اتری، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ مجھ کو کہتے ہیں: اے یہودیہ، یہودیوں کی بیٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا: میرے باپ ہاروں (علیہ السلام) ہیں، اور میرے چچا موسیٰ علیہ السلام، اور میرے شوہر محمد ﷺ ہیں، اللہ کی رحمت اترے ان پر اور سلام ہو سب پر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٧١ (٤٩٦٢)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٩ (٣٢٦٨)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦٩، ٢٦٠، ٥/٣٨٠) (صحیح )
معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Muawiyah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ (saw) say: Beware of praising one another, for it is slaughtering (one another)." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ جب کسی کی منہ پر تعریف اور خوشامد کی جائے گی تو احتمال ہے کہ آدمی میں غرور تکبر پیدا ہوجائے، اور اپنے عیب کو ہنر سمجھے اور دوسرے مسلم بھائی کو حقیر جانے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٤١، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٢، ٩٣، ٩٨، ٩٩) (حسن) (سند میں معبد الجہنی ضعیف ہے، صحیحین میں ابوبکرہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا ١ ؎۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Abu Bakrah that his father said: "A man praised another man in the presence of the Messenger of Allah( ﷺ saw). The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Woe to you, you have cut the neck of your companion, several times. Then he said: If anyone of you praises his brother, lethim say: "I think he is like this, but I do not sanctify anyone before Allah." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں یہ نہیں جانتا کہ حقیقت میں اللہ کے نزدیک یہ کیسا ہے؟ میرے نزدیک تو اچھا ہے، حدیثوں کا یہی مطلب ہے کہ منہ پر کسی کی تعریف نہ کرے، یہ بھی اس وقت جب اس شخص کے غرور میں پڑجانے کا اندیشہ ہو، ورنہ صحیحین کی کئی حدیثوں سے منہ پر تعریف کرنے کا جواز نکلتا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے احد پہاڑ سے فرمایا: تھم جا، تیرے اوپر کوئی نہیں ہے مگر نبی اور صدیق اور شہید اور اس وقت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ حاضر تھے، اور بعضوں نے کہا: کراہت اس وقت ہے جب مدح میں مبالغہ کرے اور جھوٹ کہے، اور بعضوں نے کہا اس وقت مکروہ ہے جب اس سے دنیاوی کام نکالنا منظور ہو، اور یہ تعریف غرض کے ساتھ ہو، واللہ اعلم۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے عجم کے ممالک فتح ہوں گے، تو وہاں تم کچھ ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات (عمومی غسل خانے) کہا جاتا ہوگا، تو مرد ان میں بغیر تہہ بند کے داخل نہ ہوں، اور عورتوں کو اس میں جانے سے روکو، سوائے اس عورت کے جو بیمار ہو، یا نفاس والی ہو ۔
It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: You will conquer the lands of the non- Arabs, where you will find houses called Hammamat (bathhouses) . Men should only enter them wearing a waist wrap, and do not let women enter them unless they are sick or bleeding following childbirth." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحمام ١ (٤٠١١)، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٧) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن زیاد اور عبد الرحمن بن رافع دونوں ضعیف ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (پہلے) مردوں اور عورتوں دونوں کو حمام میں جانے سے منع کیا تھا، پھر مردوں کو تہبند پہن کر جانے کی اجازت دی، اور عورتوں کو اجازت نہیں دی ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet(saw) forbade men and women to enter bathhouses, then he allowed men to enter them wearing a waist wrap, but he did not make the same allowance for women.(Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٣١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحمام ١ (٤٠٠٩)، سنن الترمذی/الأدب ٤٣ (٢٨٠٢)، ولم یذکرا: ولم يرخص للنساء مسند احمد (٦/١٣٢، ١٣٩، ١٧٩) (ضعیف) (ابوعذرہ مجہول راوی ہیں، ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے )
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Malih AI-Hudhali that some women from the people of Hims asked permission to enter upon Aisha (RA) . She said: "Perhaps you are among those (women) who enter bathhouses? I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: Any woman who takes off her clothes anywhere but in her husbands house, has torn the screen that was between her and Allah." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: حمص: جو ملک شام میں ایک مشہور شہر کا نام ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پاک عورتوں کو تقویٰ پرہیز گاری اور عصمت کا جو پردہ اڑھایا ہے، وہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگاتے تو پہلے آپ اپنی شرمگاہ پر ملتے، پھر باقی بدن پر آپ کی ازواج مطہرات ؓن ملتیں۔
It was narrated from Umm Salamah that when the Prophet(saw) would apply (it), he began with his private area, coating it with hair removing chemical. And his wife would do the remainder of his body. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٤٦، ومصباح الزجاجة: ١٣١١) (ضعیف) (سند میں حبیب بن أبی ثابت اور ام سلمہ ؓ کے مابین انقطاع ہے، اس لئے کہ حبیب نے ام سلمہ ؓ سے سنا نہیں ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "No one tells stories to the people (for the purpose of exhortation) except a ruler, one appointed by a ruler, or a show-off." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ریاکار وہ ہے جو لوگوں میں اپنی ناموری اور شہرت کے لئے وعظ کہتا ہے، اور لوگوں کو بری بات سے منع کرتا ہے، اور خود سب سے زیادہ برے کاموں میں پھنسا رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨، ١٨٣)، سنن الدارمی/الرقاق ٦٣ (٢٨٢١) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن عامر الاسلمی ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے تقو یت پاکر یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں یہ قصہ گوئی نہ رسول ﷺ کے زمانہ میں تھی، اور نہ ابوبکرو عمر ؓ کے زمانہ میں۔
It was narrated that Ibn Urnar said: "Stories (for the purpose of exhorta tion) were unknown at the time of the Messenger of Allah( ﷺ saw), the time of AbuBakr and the time of "Umar." (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٣١٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمرالعمری ضعیف ہیں )