آداب کا بیان۔

Sunan Ibne-Majah · Chapter 34 · 170 hadiths · Page 5 of 9

3737Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم مبارک اور کنیت دونوں کا بیک وقت اختیار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلًا يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی: اے ابوالقاسم! آپ ﷺ اس کی جانب متوجہ ہوئے، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا، تب آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔

It was narrated that Anas said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) was in Baqi, and a man called out to another man: O Abul- Qasim! The Messenger of Allah( ﷺ saw) turned to him, and he said: I didnt mean you. The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Call yourselves by my name but do not call yourselves by my Kunyah.(Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٢٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٤٩ (٢١٢٠)، المناقب ٢٠ (٣٥٣٧)، صحیح مسلم/الآداب ١ (٢١٣١)، سنن الترمذی/الأدب ٦٨ (٢٨٤١) (صحیح )
3738Sunan Ibne-Majah

اولاد ہونے سے قبل ہی مرد کا کنیت اختیار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ، قَالَ لِصُهَيْبٍ: مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ؟ قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يَحْيَى.

حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے صہیب ؓ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابویحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت ابویحییٰ رکھی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Hamzah bin Suhaib that Umar said to Suhaib: "Why are you called Abu Yahya when you do not have a son?” He said, ‘The Messenger of Allah( ﷺ saw) gave me the Kunya of Abu Yahya. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ اولاد ہونے سے پہلے بھی آدمی کنیت رکھ سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٥٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٦) (حسن) (سند میں عبداللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہے، لیکن عمر ؓ کے ابوداود کے شاہد سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٣٣ )
3739Sunan Ibne-Majah

اولاد ہونے سے قبل ہی مرد کا کنیت اختیار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مَوْلًى لِلزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ أَزْوَاجِكَ كَنَّيْتَهُ غَيْرِي، قَالَ: فَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کی کنیت رکھی، صرف میں ہی باقی ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ام عبداللہ ہو ۔

It was narrated from Aisha (RA) that she said narrated to the Prophet(saw) "All of your wives have a Kunyah except me." He said: "You are Umm Abdullah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨١٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ٧٨ (٤٩٧٠) (صحیح )
3740Sunan Ibne-Majah

اولاد ہونے سے قبل ہی مرد کا کنیت اختیار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ،، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَأْتِينَا فَيَقُولُ لِأَخٍ لِي وَكَانَ صَغِيرًا: يَا أَبَا عُمَيْرٍ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، تو میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ اسے ابوعمیر کہہ کر پکارتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: "The Prophet(saw) used to come to us and say to a brother of mine, who was small: O Abu Umair’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: انہوں نے ہی نغیر نامی چڑیا پا لی ہوئی تھی آپ ﷺ دل لگی کے طور پر اس سے پوچھا کرتے اسے ابو عمیر نغیر چڑیا تمہاری کہاں ہے۔
Takhrij · تخریج
أنظرحدیث رقم: ٣٧٢٠، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢) (صحیح )
3741Sunan Ibne-Majah

القابات کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11، قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالرَّجُلُ مِنَّا لَهُ الِاسْمَانِ وَالثَّلَاثَةُ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا دَعَاهُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ، فَيُقَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا، فَنَزَلَتْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11.

ابوجبیرہ بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ ولا تنابزوا بالألقاب ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ جب ہمارے پاس (مدینہ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے دو دو، تین تین نام تھے، بسا اوقات نبی اکرم ﷺ انہیں ان کا کوئی ایک نام لے کر پکارتے، تو آپ سے عرض کیا جاتا: اللہ کے رسول! فلاں شخص فلاں نام سے غصہ ہوتا ہے، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ولا تنابزوا بالألقاب کسی کو برے القاب سے نہ پکارو ١ ؎۔

It was narrated that Abu Jabirah bin Dahhak said: (Allahs saying) "Nor insult one another by nicknames." was revealed concerning us, the Ansar. When the Prophet(saw) came to us, a man among us would have two or three names, and the Prophet(saw) might call him by one of those names, only to be told: "O Messenger of Allah, he does not like that name." Then: "Nor insult one another by nicknames." was revealed." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی برے القاب جن سے آدمی ناخوش ہو، اس سے مت پکارو کیونکہ یہ اپنے مسلمان بھائی کو ایذا دینا ہے، بعضوں نے کہا یہ آیت صفیہ ؓ کے بارے میں اتری، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ مجھ کو کہتے ہیں: اے یہودیہ، یہودیوں کی بیٹی، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا: میرے باپ ہاروں (علیہ السلام) ہیں، اور میرے چچا موسیٰ علیہ السلام، اور میرے شوہر محمد ﷺ ہیں، اللہ کی رحمت اترے ان پر اور سلام ہو سب پر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٧١ (٤٩٦٢)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٤٩ (٣٢٦٨)، (تحفة الأشراف: ١١٨٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦٩، ٢٦٠، ٥/٣٨٠) (صحیح )
3742Sunan Ibne-Majah

خوشامد کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ.

مقداد بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالنے کا حکم دیا ہے۔

It was narrated that Miqdad bin Amr said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) commanded us to throw dust in the faces of those who praise others." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١٤ (٣٠٠٢)، سنن ابی داود/الأدب ١٠ (٤٨٠٤)، سنن الترمذی/الزہد ٥٤ (٢٣٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٥٤٥) (صحیح )
3743Sunan Ibne-Majah

خوشامد کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْمَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ، فَإِنَّهُ الذَّبْحُ.

معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Muawiyah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ (saw) say: Beware of praising one another, for it is slaughtering (one another)." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ جب کسی کی منہ پر تعریف اور خوشامد کی جائے گی تو احتمال ہے کہ آدمی میں غرور تکبر پیدا ہوجائے، اور اپنے عیب کو ہنر سمجھے اور دوسرے مسلم بھائی کو حقیر جانے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٤١، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٢، ٩٣، ٩٨، ٩٩) (حسن) (سند میں معبد الجہنی ضعیف ہے، صحیحین میں ابوبکرہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
3744Sunan Ibne-Majah

خوشامد کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عن عكرمة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُهُ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک آدمی کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا: افسوس! تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ، اس جملہ کو آپ نے کئی بار دہرایا، پھر فرمایا: تم میں سے اگر کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف کرنا چاہے تو یہ کہے کہ میں ایسا سمجھتا ہوں، لیکن میں اللہ تعالیٰ کے اوپر کسی کو پاک نہیں کہہ سکتا ١ ؎۔

It was narrated from Abdur-Rahman bin Abu Bakrah that his father said: "A man praised another man in the presence of the Messenger of Allah( ﷺ saw). The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Woe to you, you have cut the neck of your companion, several times. Then he said: If anyone of you praises his brother, lethim say: "I think he is like this, but I do not sanctify anyone before Allah." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میں یہ نہیں جانتا کہ حقیقت میں اللہ کے نزدیک یہ کیسا ہے؟ میرے نزدیک تو اچھا ہے، حدیثوں کا یہی مطلب ہے کہ منہ پر کسی کی تعریف نہ کرے، یہ بھی اس وقت جب اس شخص کے غرور میں پڑجانے کا اندیشہ ہو، ورنہ صحیحین کی کئی حدیثوں سے منہ پر تعریف کرنے کا جواز نکلتا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے احد پہاڑ سے فرمایا: تھم جا، تیرے اوپر کوئی نہیں ہے مگر نبی اور صدیق اور شہید اور اس وقت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ حاضر تھے، اور بعضوں نے کہا: کراہت اس وقت ہے جب مدح میں مبالغہ کرے اور جھوٹ کہے، اور بعضوں نے کہا اس وقت مکروہ ہے جب اس سے دنیاوی کام نکالنا منظور ہو، اور یہ تعریف غرض کے ساتھ ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ١٦ (٢٦٦٢)، الأدب ٩٥ (٦١٦٢)، صحیح مسلم/الزہد ١٤ (٣٠٠٠)، سنن ابی داود/الأدب ١٠ (٤٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ١١٦٧٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤١، ٤٦، ٤٧، ٥٠) (صحیح )
3745Sunan Ibne-Majah

جس سے مشورہ طلب جائے وہ بمنزلہ امانت دار ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے (لہٰذا وہ ایمانداری سے مشورہ دے) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "One who is consulted is entrusted. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٢٣ (٥١٢٨)، سنن الترمذی/الأدب ٥٧ (٨٨٢٢)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٩) (صحیح )
3746Sunan Ibne-Majah

جس سے مشورہ طلب جائے وہ بمنزلہ امانت دار ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ.

ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس سے مشورہ لیا جائے وہ امانت دار ہے (لہٰذا وہ دیانتداری سے مشورہ دے) ۔

It was narrated from Abu Masud that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "One who is consulted is entrusted." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٩٨٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٧٤)، سنن الدارمی/السیر ١٣ (٢٤٩٣) (صحیح )
3747Sunan Ibne-Majah

جس سے مشورہ طلب جائے وہ بمنزلہ امانت دار ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَشَارَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُشِرْ عَلَيْهِ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے، تو اسے مشورہ دینا چاہیئے ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "If one of you consults his brother, then let him advise him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٩) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں )
3748Sunan Ibne-Majah

حمام میں جانا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْإِفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْأَعَاجِمِ، وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا: الْحَمَّامَاتُ، فَلَا يَدْخُلْهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِإِزَارٍ، وَامْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَدْخُلْنَهَا إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے لیے عجم کے ممالک فتح ہوں گے، تو وہاں تم کچھ ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات (عمومی غسل خانے) کہا جاتا ہوگا، تو مرد ان میں بغیر تہہ بند کے داخل نہ ہوں، اور عورتوں کو اس میں جانے سے روکو، سوائے اس عورت کے جو بیمار ہو، یا نفاس والی ہو ۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) said: You will conquer the lands of the non- Arabs, where you will find houses called Hammamat (bathhouses) . Men should only enter them wearing a waist wrap, and do not let women enter them unless they are sick or bleeding following childbirth." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحمام ١ (٤٠١١)، (تحفة الأشراف: ٨٨٧٧) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن زیاد اور عبد الرحمن بن رافع دونوں ضعیف ہیں )
3749Sunan Ibne-Majah

حمام میں جانا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامَاتِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (پہلے) مردوں اور عورتوں دونوں کو حمام میں جانے سے منع کیا تھا، پھر مردوں کو تہبند پہن کر جانے کی اجازت دی، اور عورتوں کو اجازت نہیں دی ١ ؎۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet(saw) forbade men and women to enter bathhouses, then he allowed men to enter them wearing a waist wrap, but he did not make the same allowance for women.(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٩٨، ومصباح الزجاجة: ١٣١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحمام ١ (٤٠٠٩)، سنن الترمذی/الأدب ٤٣ (٢٨٠٢)، ولم یذکرا: ولم يرخص للنساء مسند احمد (٦/١٣٢، ١٣٩، ١٧٩) (ضعیف) (ابوعذرہ مجہول راوی ہیں، ترمذی نے حدیث کو غریب یعنی ضعیف کہا ہے )
3750Sunan Ibne-Majah

حمام میں جانا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهَلْ حِمْصَ اسْتَأْذَنَّ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: لَعَلَّكُنَّ مِنَ اللَّوَاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا، فَقَدْ هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ.

ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Malih AI-Hudhali that some women from the people of Hims asked permission to enter upon Aisha (RA) . She said: "Perhaps you are among those (women) who enter bathhouses? I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) say: Any woman who takes off her clothes anywhere but in her husbands house, has torn the screen that was between her and Allah." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حمص: جو ملک شام میں ایک مشہور شہر کا نام ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پاک عورتوں کو تقویٰ پرہیز گاری اور عصمت کا جو پردہ اڑھایا ہے، وہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحمام ١ (٤٠١٠)، سنن الترمذی/الأدب ٤٣ (٢٨٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ١٧٣، ١٩٨، سنن الدارمی/الاستئذان ٢٣ (٢٦٩٣) (صحیح )
3751Sunan Ibne-Majah

بال صفا پاؤ ڈر استعمال کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَإِذَا اطَّلَى، بَدَأَ بِعَوْرَتِهِ فَطَلَاهَا بِالنُّورَةِ، وَسَائِرَ جَسَدِهِ أَهْلُهُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگاتے تو پہلے آپ اپنی شرمگاہ پر ملتے، پھر باقی بدن پر آپ کی ازواج مطہرات ؓن ملتیں۔

It was narrated from Umm Salamah that when the Prophet(saw) would apply (it), he began with his private area, coating it with hair removing chemical. And his wife would do the remainder of his body. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٤٦، ومصباح الزجاجة: ١٣١١) (ضعیف) (سند میں حبیب بن أبی ثابت اور ام سلمہ ؓ کے مابین انقطاع ہے، اس لئے کہ حبیب نے ام سلمہ ؓ سے سنا نہیں ہے )
3752Sunan Ibne-Majah

بال صفا پاؤ ڈر استعمال کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاطَّلَى وَوَلِيَ عَانَتَهُ بِيَدِهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی شرمگاہ پر اپنے ہاتھ سے خود بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگایا۔

It was narrated from Umm Salamah that the Prophet(saw) would coat (with hair removing chemical) and remove the pubic hairs with his hand. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٣١٢) (ضعیف) (حبیب بن أبی ثابت اور ام سلمہ ؓ کے درمیان انقطاع کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے )
3753Sunan Ibne-Majah

وعظ کہنا اور قصے بیان کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ، إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "No one tells stories to the people (for the purpose of exhortation) except a ruler, one appointed by a ruler, or a show-off." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور ریاکار وہ ہے جو لوگوں میں اپنی ناموری اور شہرت کے لئے وعظ کہتا ہے، اور لوگوں کو بری بات سے منع کرتا ہے، اور خود سب سے زیادہ برے کاموں میں پھنسا رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨، ١٨٣)، سنن الدارمی/الرقاق ٦٣ (٢٨٢١) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن عامر الاسلمی ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے تقو یت پاکر یہ صحیح ہے )
3754Sunan Ibne-Majah

وعظ کہنا اور قصے بیان کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمْ يَكُنِ الْقَصَصُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا زَمَنِ أَبِي بَكْرٍ، وَلَا زَمَنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں یہ قصہ گوئی نہ رسول ﷺ کے زمانہ میں تھی، اور نہ ابوبکرو عمر ؓ کے زمانہ میں۔

It was narrated that Ibn Urnar said: "Stories (for the purpose of exhorta tion) were unknown at the time of the Messenger of Allah( ﷺ saw), the time of AbuBakr and the time of "Umar." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٣٨، ومصباح الزجاجة: ١٣١٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمرالعمری ضعیف ہیں )
3755Sunan Ibne-Majah

شعر کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِكْمَةً.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک کچھ شعر حکمت و دانائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔

It was narrated from Ubayy bin Kab that the Messenger of Allah ﷺ (saw) said: "In some poetry there is wisdom."(Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٩٠ (٦١٤٥)، سنن ابی داود/الأدب ٩٥ (٥٠٠٩، ٥٠١٠)، (تحفة الأشراف: ٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/ ١٢٥، ١٢٦)، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٨ (٢٧٤٦) (صحیح )
3756Sunan Ibne-Majah

شعر کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكَمًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے: بعض اشعار میں حکمت و دانائی کی باتیں ہوتی ہیں ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet(saw) said: "In some poetry there is wisdom." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٩٥ (٥٠١١)، سنن الترمذی/الأدب ٦٩ (٢٨٤٥)، (تحفة الأشراف: ٦١٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٦٩، ٢٧٣، ٣٠٣، ٣٠٩، ٣١٣، ٣٢٧، ٣٣٢) (حسن صحیح )