خوشامد کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْمَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ، فَإِنَّهُ الذَّبْحُ.
معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Muawiyah said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ (saw) say: Beware of praising one another, for it is slaughtering (one another)." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ جب کسی کی منہ پر تعریف اور خوشامد کی جائے گی تو احتمال ہے کہ آدمی میں غرور تکبر پیدا ہوجائے، اور اپنے عیب کو ہنر سمجھے اور دوسرے مسلم بھائی کو حقیر جانے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٤٤١، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٢، ٩٣، ٩٨، ٩٩) (حسن) (سند میں معبد الجہنی ضعیف ہے، صحیحین میں ابوبکرہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )