ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید (شاعر) کا یہ شعر ہے ألا کل شيء ما خلا الله باطل سن لو! اللہ کے علاوہ ساری چیزیں فانی ہیں اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) h(ra) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "The truest of words spoken by the poet are the words of Labid: "Everything except Allah is false.": And Umayyah bin Abu Salt nearly accepted Islam." (Sahih)
شرید ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے امیہ بن ابی صلت کے سو اشعار پڑھے، آپ ہر شعر کے بعد فرماتے جاتے: اور پڑھو ، اور آپ ﷺ نے فرمایا: قریب تھا کہ وہ مسلمان ہوجائے ۔
It was narrated from Amr bin Sharid that his father said: I recited one hundred verses of the poetry of Umayyah bin Abu Salt to the Messenger of Allah( ﷺ saw), and after every line he said, "More." And he said: "He nearly accepted Islam." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الشعر (٢٢٥٥)، سنن الترمذی/الشمائل (٢٤٩)، سنن النسائی/الیوم و للیلة (٩٩٨)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٨٨، ٣٨٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیماری کے سبب آدمی کے پیٹ کا مواد سے بھر جانا اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ١ ؎۔ حفص نے یریہ کا لفظ ذکر نہیں کیا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) h(ra) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "If a man were to fill his stomach completely with pus until it destroyed him, that would be better for him than filling (his mind) with poetry." (Sahih) Except that (one of the narrators) Hafs did not say: "until it destroyed him."
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایسے اشعار سے جس میں کفر، فسق یا مبالغہ و کذب کے مضامین ہوں۔
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پیٹ کا بیماری کے سبب پیپ (مواد) سے بھر جانا زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو ۔
It was narrated from Sad bin Abu Waqqas that the Prophet(saw) said: "If a man were to fill his stomach completely with pus until it destroyed him, that would better for him than filling (his mind)with poetry." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الشعر (٢٢٥٨)، سنن الترمذی/الأدب ٧١ (٢٨٥٢)، (تحفة الأشراف: ٣٩١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٧٥، ١٧٧، ١٨١) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے بڑا بہتان لگانے والا وہ شخص ہے جو کسی ایک شخص کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ اس کی ساری قوم کی ہجو و مذمت کرے، اور وہ شخص جو اپنے باپ کے علاوہ دوسرے کو باپ بنائے، اور اپنی ماں کو زنا کا مرتکب قرار دے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "The worst of all people in lying is a man who trades insults with another man, disparaging the entire tribe, and a man who denies his father and accuses his mother of adultery." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: جب باپ کو چھوڑ کر اپنے کو دوسرے کا بیٹا قرار دیا تو گویا اس نے اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگائی۔
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے چوسر کھیلا گویا اس نے اپنا ہاتھ سور کے گوشت اور خون میں ڈبویا ۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah from his father that the Prophet(saw) said: "Whoever plays backgammon, it is as if he dipped his hand in the flesh and blood of a pig." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک پرندہ کے پیچھے لگا ہوا تھا، یعنی اسے اڑا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: شیطان ہے، جو شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet(saw) looked at a man who was chasing a bird and said: "A devil chasing evil." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اڑانے والا اس لئے شیطان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے غافل اور بےپرواہ ہے، اور پرندہ اس لئے شیطان ہے کہ وہ اڑانے والے کی غفلت کا سبب بنا ہے۔ پرندوں کو کسی جائز مقصد کے لیے پالنا جائز ہے، تاہم اگر محض تفریح کے لیے ہوں اور وقت کے ضیاع کا باعث ہوں تو ان سے بچنا چاہیے۔ ہر وہ مشغلہ جس کو جائز حد سے زیادہ اہمیت دی جائے اور اس پر وقت اور مال ضائع کیا جائے وہ ممنوع ہے۔ کبوتر بازی کی طرح پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٢، ومصباح الزجاجة: ١٣١٦) (صحیح) (اس سند میں شریک ضعیف الحفظ ہیں، لیکن اگلی حدیث میں حماد بن سلمہ کی متابعت سے یہ صحیح ہے )
عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھ کر فرمایا: شیطان شیطانہ کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔
It was narrated from Uthman bin Affan that the Messenger of Allah( ﷺ saw) saw a man following a pigeon and said: "A male devil chasing a female devil." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٨٦، ومصباح الزجاجة: ١٣١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٥) (صحیح) (سند میں حسن بصری اور عثمان بن عفان ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھ کر فرمایا: شیطان شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) saw a man chasing a pigeon and said: A devil chasing a devil:" (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧١٧، ومصباح الزجاجة: ١٣١٨) (حسن) (سند میں ابوسعد الساعدی مجہول اور رواد بن جراح ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے یہ حسن ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کو تنہائی کی برائی اور خرابی معلوم ہوجاتی، تو وہ کبھی رات میں تنہا نہ چلتا ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "If anyone of you knew what is wrong with being alone, no one would travel at night by himself." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: غزوہ خندق کے موقع پر زبیر ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے جاسوسی کے لیے تنہا بھیجا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ کسی جنگی ضرورت کے پیش نظر اکیلے سفر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ مت چھوڑو ١ ؎۔
It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet(saw) said: "Do not leave fire in your houses when you go to sleep: (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ آگ چراغ کی شکل میں ہو یا سردیوں میں گرمی حاصل کرنے کی انگیٹھیاں، اور ہیٹر یا گیس کے سلنڈر ہوں تجربات و مشاہدات سے واضح ہے کہ ان کو جلتا ہوا چھوڑ کر سونا نہایت خطرناک ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ کا ایک گھر لوگوں سمیت جل گیا جب نبی اکرم ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک آگ تمہاری دشمن ہے، لہٰذا جب تم سونے لگو، تو آگ بجھا دیا کرو ۔
It was narrated that Abu Musa said: "A house burned down in Al-Madinah, with its occupants inside. The Prophet(saw) was told of what had happened, and he said: This fire is an enemy to you. When you go to sleep, extinguish it." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستئذان ٤٩ (٦٢٩٤)، صحیح مسلم/الأشربة ١٢ (٢٠١٦)، (تحفة الأشراف: ٩٠٤٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩٩) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بہت سی باتوں کا حکم دیا، اور بہت سی باتوں سے منع فرمایا: (ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ) آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (سوتے وقت) چراغ بجھا دیا کریں۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) commanded us (to do some things) and forbade us (to do some things), and he commanded us to extinguish our lamps." (Sahih)
عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین ؓ نے آپ ﷺ کا استقبال کیا، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔
Abdullah bin Iafar said: "Whenever the Messenger of Allah( ﷺ saw) came back from a journey, he would be met by us (children). (One day) he was met by me and Hasan or Husain. He made one of us ride in front of him and the other behind him, until we came to Al-Madinah." (Sahih)
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم خط لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈال دیا کرو، اس سے تمہاری مراد پوری ہوگی کیونکہ مٹی مبارک چیز ہے ۔
It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said; "put dust on your writings because It IS better, and dust is blessed (being humble in correspondence brings good results)." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٠١، ومصباح الزجاجة: ١٣١٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الاستئذان ٢٠ (٢٧١٣) (ضعیف) (سند میں بقیہ ضعیف و مدلس اور ابوحمد الدمشقی مجہول ہیں )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم تین آدمی ساتھ رہو تو تم میں سے دو آدمی تیسرے کو اکیلا چھوڑ کر باہم کانا پھوسی اور سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ اسے رنج و غم میں مبتلا کر دے گا ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ (saw) said: "When you are three, two should not converse (privately) to the exclusion of their companion, because that makes him sad." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سرگوشی اور کان میں بات کرنا اس کی وجہ یہ ہے کہ تیسرے آدمی کو رنج ہوگا، اور اس کے دل میں وسوسہ پیدا ہوگا کہ معلوم نہیں چپکے چپکے یہ کیا صلاح و مشورہ کرتے ہیں، البتہ اگر مجلس میں تین سے زائد آدمی ہوں تو دو آدمی باہم سرگوشی کرسکتے ہیں۔